Connect with us

Today News

قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں، ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے، وزیراعظم شہباز شریف

Published

on



اسلام آباد:

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی عوام اور مسلح افواج ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں اور وطن عزیز کے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

افغان جارحیت کے خلاف جاری آپریشن ضرب للحق کے حوالے سے وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ افواج پاکستان کا عزم ہے کہ ملک کے امن اور تحفظ پر کسی صورت آنچ نہیں آنے دی جائے گی، جبکہ افواج کسی بھی جارحانہ عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان قومی جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں، اعلیٰ تربیت اور مؤثر دفاعی حکمتِ عملی سے لیس ہیں۔

وزیراعظم کے مطابق افواج پاکستان اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں جبکہ پاکستان نے ہمیشہ امن کو فروغ دیا ہے لیکن ملکی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی اور ہر جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے متحد ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

افغانستان اور دہشت گردی – ایکسپریس اردو

Published

on


وزیراعظم میاں شہباز شریف کا دورہ قطر خاصی اہمیت کا حامل ہے۔قطر کئی اعتبار سے مشرق وسطیٰ ‘جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے امور میں اسٹریٹیجک نوعیت کے معاملات میں بھی شریک رہا ہے۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں عرصہ دراز تک افغان طالبان کا دفتر قائم رہا ہے اور دوحہ میں ہی افغان طالبان کے نمائندوں اور امریکی نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میںدوحہ معاہدہ عمل میں آیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ہی افغان طالبان کا کابل پر کنٹرول ہوا اور وہ افغانستان میں اپنا اقتدار قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔

گو ان امور میں پاکستان بھی شریک رہا ہے جب کہ دیگر ممالک کا بھی کچھ نہ کچھ کردار رہا ہے ‘یہ حقیقت ہے کہ یہ سارے معاملات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہی طے ہوئے ہیں۔ قطر کے پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات بھی ہیں۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو وزیراعظم کا دورہ قطر خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ اخباری اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران پاکستان اور قطر نے دو طرفہ اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط کرنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف سے دوحہ میں قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر مملکت دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن الثانی نے ملاقات کی ہے جس میں دفاع اور سیکیورٹی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان جاری تعاون پر اظہاراطمینان کیا اور دفاعی تعاون مزید مضبوط اور تعاون کو وسعت دینے کے لیے پاکستان کے عزم کااعادہ کیا۔ملاقات میں علاقائی امور بالخصوص ایران اور افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

 افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے ،عالمی قیادت اس صورت حال سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ افغانستان دہشت گردی کا ایپی سینٹر بن چکا ہے ،افغانستان میں مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والے گروہ بھی آپریٹ کر رہے ہیں ‘قوم پرستی کے نام پر دہشت گردی کرنے والے گروہ بھی موجود ہیں جب کہ جرائم پیشہ گینگز اور مافیاز بھی اس ملک میں آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں جو گروہ برسراقتدارہے ‘ اس کے اقتدار کا سارا دارومدار ان دہشت گرد گروہوں کے مرہون منت ہے۔

یہ دہشت گرد گروہ سرمائے کا غیرقانونی نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہیں جس کے ذریعے عالمی بلیک مارکیٹ سے جدید اسلحہ خریدا جاتا ہے ‘پٹرولیم مصنوعات بھی اسی پیسے سے خرید کر افغانستان منتقل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے طالبان حکومت کے زیر نگرانی کام کرنے والے ادارے ،اور گروہ کی نقل و حمل ممکن ہو رہی ہے۔ دہشت گرد گروہ بھی اپنی ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اور تنخواہیں ‘اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی ذرائع سے کمائی گئی دولت سے پورا کرتے ہیں۔

ادھراگلے روز خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میںشکردرہ روڈ پر فتنہ الخوارج کے پولیس موبائل پر بزدلانہ حملے میں ڈی ایس پی اور 4 اہلکاروں سمیت 6 افراد شہید اور 3 اہلکار زخمی ہوگئے۔ دہشت گرد تسلسل سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں،دہشت گردوں نے سانحہ کرک کی طرز پرکوہاٹ میں بھی پولیس کی گاڑی کو آگ لگا کے ایک زخمی پولیس اہلکار کو زندہ جلا کے شہید کیا ۔دہشت گردی کی اس واردات میں پولیس کی زیرِ حراست ملزم بھی مارا گیا ، ڈی ایس پی لاچی اسد محمود اور ریڈر وہاب علی جھلس کر جب کہ ڈرائیور مدثر، اہلکار سید عامر عباس، سب انسپکٹر انار گل، اور راہگیر سمیع اللہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔

پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس ٹیم زیرِ حراست ملزم کو تفتیش کے لیے لے جا رہی تھی۔ دہشت گردی کے اس واقعے کے علاوہ جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے اعظم ورسک میں نامعلوم افراد نے گورنمنٹ گرلز اسکول کو بارودی مواد سے تباہ کر دیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اسکول کی عمارت مکمل طور پر ناقابل استعمال ہو گئی ،ادھر جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے پولیس کانسٹیبل عطاء اللہ کو شہید کر دیا۔ایک جانب یہ صورت حال ہے تو دوسری جانب پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جھڑپیں سرحدی علاقوں بازار ذخہ خیل، وراغہ، مارو سر اور شاکوٹ میں ہو رہی ہیں ، دونوں جانب سے بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔

 ان سطور کے لکھے جانے تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم بتایا جا رہا ہے کہ صورتحال کشیدہ اور سیکیورٹی فورسز الرٹ ہیں۔پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے طورخم اور تیراہ میں ’بلااشتعال‘ فائرنگ کی ہے۔بی بی سی کے مطابق منگل کو ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے اس فائرنگ کا فوری جواب دیا اور ’طالبان کی جارحیت‘ کو روک دیااورکسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔

افغانستان کی اشتعال انگیزیاں نئی نہیں ہیں‘ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے ‘پاکستان کے لیے اس وقت بھارت اور افغانستان ایک ہیں اور متحد ہو کر انٹی پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ ہونے کے بعد طالبان حکومت اور دہشت گرد مل کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ افغانستان کی طالبان رجیم کی اعلانیہ جنگ کا مکمل قومی عزم اور ملی یگانگت سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور ایسا کیا بھی جا رہا ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسزکودہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مکمل عوامی تائید حاصل ہے۔ادھر میڈیا میں ذرائع پاک فورسزکے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں ایف سی قافلے پر حملہ آور جوانوں کو جلایا جانا،کوہاٹ میں ڈی ایس پی اسد محمود کی شہادت اور بھکر میں خودکش حملہ، افغانستان کی طرف سے ریاست پاکستان کے خلاف ایک کُھلی جنگ ہے۔

پاکستان کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی روکنے کی مسلسل ڈیمانڈ اور اس پر عمل درآمد کے بجائے، افغان طالبان رجیم کی پاکستان کے خلاف ننگی جارحیت پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف یہ جنگ اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر افغانستان اور ہندوستان کی سرپرستی میں ہونے والی اس دہشت گردی کا مقابلہ کریں۔قومی سلامتی ، وقار اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری سیاست اور اجتماعی و انفرادی مفادات سے مقدم ہے۔

انسانیت اور اسلام کے دشمن خوارج کی سرکوبی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ادھر روسی وزارتِ خارجہ کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں 20ہزار سے23ہزار دہشت گردوں پر مشتمل ملیشیا موجود ہے جن میں نصف سے زائد غیر ملکی ہیں۔افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق داعش خراسان کے تقریباً3ہزار جب کہ ٹی ٹی پی کے 5 سے 7 ہزار دہشت گرد افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ ٹی ٹی پی افغانستان سے پاکستان میں حملوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ القاعدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں،افغانستان القاعدہ کے لیے علاقائی روابط اور تربیت کا اہم مرکز بنا ہوا ہے، القاعدہ کے تربیتی مراکز غزنی، لغمان، کنڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور ارزگان سمیت مختلف صوبوں میں موجود ہیں۔داعش خراسان، افغانستان کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں مضبوط نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہے۔ اس کا طویل المدتی ہدف وسطی ایشیا تک پھیلاؤ ہے۔رپورٹ میں افغانستان میں مصنوعی منشیات کی تیاری میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ منشیات افغانستان سے بیرونِ ملک سب سے زیادہ اسمگل کی جا رہی ہیں۔ان دہشتگرد گروہوں کی وجہ سے افغانستان میں سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال تاحال پیچیدہ ہے جو خطے کے امن و استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔

افغانستان میں طالبان رجیم کی مخالفت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔افغانستان کے ہمسائے ہی دہشت گردی سے تنگ نہیں ہیں بلکہ افغانستان کے عوام بھی دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے ڈیفیکٹو اقتدار سے تنگ ہیں۔ افغانستان میں بسنے والی مختلف قومیتیں‘لسانی اور ثقافتی اکائیاں ملک میں طالبانائزیشن کے سخت خلاف ہیں اور وہ افغان ملت کے تصور کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔اس حوالے سے افغانستان میں جدوجہد بھی جاری ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

افغان چیک پوسٹ پر قبضے کے بعد سپاہی کی سبز ہلالی پرچم لہرا کر دشمن کو للکارنے کی ویڈیو وائرل

Published

on


سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقے میں مؤثر کارروائی کرتے ہوئے درجنوں افغان چوکیوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

آپریشن ضرب للحق کے دوران افغان طالبان رجیم کی ایک چیک پوسٹ پر قبضے بعد پاک فوج کے بہادر سپاہی نے وہاں قومی پرچم لہرایا اور دشمن کو للکارا جس کی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے۔

سپاہی نے افغان طالبان کو پشتو زبان میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم نے کس سے پنگا لیا ہے۔

یہ چیک پوسٹ بھی ہم نے اپنے قبضے میں لے لی ہے اور اس پر جھنڈا بھی خود لگایا ہے، سپاہی نے کہا کہ ہم اسی طرح آئیں گے اور کابل بھی تم سے فتح کریں گے اور تمہیں بتائیں گے کہ 40 سال ہم نے تم کو پالا ہے اور اب تم ہم سے ہی پنگا لے رہے ہو۔

سپاہی نے مزید کہا کہ اب تم کو اپنی اوقات کا پتہ چل جائے گا، پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاک فوج افغان سرحد پر بھرپور اور مؤثر جواب دے رہی ہے اور آئندہ بھی دے گی، عطاء اللہ تارڑ

Published

on



اسلام آباد:

عطاء اللہ تارڑ نے پاک-افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی کے حوالے سے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے اور آئندہ بھی دیا جاتا رہے گا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغان طالبان رجیم اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے جھوٹا اور بے بنیاد پراپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں جبکہ خوش فہمیوں پر مبنی افواہیں عملی میدان میں شکست کے بعد خفت مٹانے کیلئے پھیلائی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان طالبان رجیم کو جھوٹ کے پیچھے چھپنے نہیں دے گا اور پاکستان کی پیشہ ورانہ افواج حملہ آوروں کے عزائم کو خاک میں ملا رہی ہیں۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق مصدقہ اطلاعات کے تحت پاک فوج کی کارروائی میں افغان طالبان رجیم کے 36 کارندے ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

وطن کا دفاع کرتے ہوئے پاک فوج کے دو جوان شہادت کے مرتبے پر فائز اور تین زخمی ہوئے۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان نے حالیہ دنوں خطے خصوصاً ملک میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے فتنہ الخوارج دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کیں، جبکہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے سرحدی علاقوں میں فائرنگ دہشتگردوں کی پشت پناہی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کو ماضی کی پسپائیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے ہر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جاتا رہے گا۔

علاوہ ازیں عطاء اللہ تارڑ نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کا مظاہرہ کیا گیا، جس کا پاکستان کی مسلح افواج نے انتہائی مستعدی اور مضبوط انداز میں جواب دیا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستانی افواج نے پیشہ ورانہ مہارت اور صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرتے ہوئے مادرِ وطن کا دفاع یقینی بنایا اور جوابی کارروائی میں افغان طالبان کو پسپا کر دیا، جس کے باعث وہ بے یقینی کی صورتحال سے دوچار ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مربوط اور مضبوط ردعمل کے بعد افغان طالبان سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے، جبکہ ایک بین الاقوامی نیوز چینل کو بھی اپنی پوسٹ حذف کرنا پڑی۔

عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ کارروائیوں کے دوران 72 افغان طالبان ہلاک اور 120 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ 16 پوسٹیں تباہ اور 7 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا۔

مزید بتایا گیا کہ ایک بڑا اسلحہ ڈپو اور بٹالین ہیڈکوارٹر تباہ کیا گیا، جبکہ 36 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور آرمڈ پرسنز کیریئرز (اے پی سیز) بھی تباہ کیے گئے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق پاک فضائیہ نے افغانستان کے قندھار، کابل اور پکتیا میں دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جہاں قندھار میں دو بریگیڈ ہیڈکوارٹر اور کابل میں ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت یا مذموم عزائم سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کے بروقت اور جراتمندانہ ردعمل کو سراہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان میں حملوں کیلئے استعمال ناقابل قبول ہے اور بلا اشتعال جارحیت کا اسی انداز میں جواب دیا جاتا رہے گا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغان سرزمین پر تربیت حاصل کرنے والے دہشت گرد پاکستان میں کارروائیوں میں ملوث ہیں، جبکہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Trending