Today News
چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے
خدیجہ چھ بچوں کی ماں ہے، بڑی بیٹی پندرہ سال کی ہے، جو اس کے ساتھ ہی کام پر آتی ہے اور گھروں میں جھاڑو پونچھا کرتی ہے، برتن دھوتی ہے، دونوں ماں بیٹیاں صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کام کرتی ہیں، مختلف گھروں سے انھیں کھانا وغیرہ مل جاتا ہے جو وہ شام کو لے کر گھر جاتی ہیں۔ خدیجہ کا دوسرے نمبرکا بیٹا ایک موٹر مکینک کے پاس کام کرتا ہے، اس کا شوہر نشئی ہے۔
تینوں افراد کل ملا کر پینتالیس ہزار کما لیتے ہیں، شوہر خدیجہ سے مار پیٹ کر رقم نشے کے لیے چھین لیتا ہے، برسوں سے کام نہیں کرتا، بس بچے پیدا کیے ہیں یا بیوی کو مارتا ہے، دس ہزار گھر کا کرایہ چلا جاتا ہے، گیس بجلی کے بل الگ ہیں، خدیجہ روز ہی پٹتی ہے لیکن شوہر سے طلاق نہیں لیتی کہ برادری والے کیا کہیں گے۔ میں نے ایک بار اس سے کہا کہ وہ پولیس سے نشئی شوہر کی شکایت کر دے اور یہ بتائے کہ وہ اس کو مارتا پیٹتا ہے تو یہ سن کر خدیجہ رو پڑی اور بولی کہ ’’ باجی! میں یہ نہیں کر سکتی کیونکہ برادری میں ہر تیسرا آدمی نشئی ہے۔‘‘ خدیجہ اور اس کے بچے مل کر کام کر رہے ہیں، لیکن غربت ان کا مقدر ہے،کمانے والے تین اور کھانے والے آٹھ۔ اگر گھروں سے کھانا نہ ملے تو ان کو فاقہ کرنا پڑے، مہنگائی نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔
کریم، چالیس سال کا ہے، چار بچے ہیں، کل چھ افراد ہیں اور کمانے والا ایک۔ گھر کرائے کا ہے، کریم بولٹن مارکیٹ پر ایک دکان پرکام کرتا ہے، جہاں سے اسے پندرہ سو روپے روزانہ ملتے ہیں، گھر میں نہ بستر ہیں نہ ہی بیڈ، ننگے فرش پر ایک پلاسٹک بچھا ہے، اس پر ایک پتلا سا گدا، تمام افراد اسی پر سوتے ہیں۔ اگر دکھ بیماری کی وجہ سے کریم کو چھٹی کرنی پڑ جائے تو تنخواہ نہیں ملتی، کسی اور وجہ سے اگر وہ ملازمت پر نہ پہنچ سکے تب بھی تنخواہ نہیں ملتی۔ گھر کا کرایہ اور گیس بجلی کے بل دے کر کھانے کو اتنا نہیں بچتا کہ پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہو، کریم آدھے پیٹ کھانا کھاتا ہے تاکہ بچے بھوکے نہ رہیں۔ مہنگائی نے جینا عذاب کر دیا ہے، بنیادی چیزیں مہنگی ہیں، کہاں سے خریدیں؟ آٹا، چاول، دال، سبزی، کوکنگ آئل، لہسن ادرک، دھنیا، مرچیں، ہلدی، پیاز یہ سب بنیادی چیزیں ہیں جن کی ضرورت ہر گھر میں ہوتی ہے، کم آمدنی والے کہاں سے خریدیں اور کہاں سے کھائیں؟
دانش صاحب ریٹائرڈ پروفیسر ہیں، گھر میں بیوی کے علاوہ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہیں، پنشن میں گزارا مشکل سے ہوتا ہے۔ ان کا گھر اپنا ہے لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ان کے بھی چھکے چھڑا دیے ہیں، ہر چیز مہنگی، گوشت، چکن، مچھلی اور مٹن ہر شے مہنگی ہو گئی ہے۔ ہر مارکیٹ میں قیمتیں مختلف، دکاندار سے کہو کہ پچھلی دکان والا تو آلو بخارا تین سو ساٹھ روپے کا ڈھائی سو گرام دے رہا ہے اور آپ چار سو روپے کا دے رہے ہیں تو وہ منہ پھاڑ کر کہتا ہے ’’ تو وہیں سے لے لیں، میں تو اتنے میں ہی بیچوں گا۔‘‘
اسی طرح ڈرائی فروٹ کی قیمتیں ہر دکان پر الگ الگ ہیں، کوئی چیک کرنے والا نہیں۔ گوشت، سبزی اور دیگر اشیا کے نرخ ہر دکان پر الگ الگ ہیں، وہ زمانے کیا ہوئے جب فوڈ انسپکٹر مارکیٹ میں اشیا کے نرخ چیک کرنے آیا کرتے تھے اور مقررکردہ نرخ سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے چالان بھی کرتے تھے لیکن اب سب کچھ ختم ہوگیا ہے ۔ بانی پی ٹی آئی جب اقتدار میں آئے تو ہر روز وہ یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ (ن) لیگ اور پی پی کے لوگ جو دولت باہر لے گئے ہیں وہ لوٹی ہوئی دولت ملک میں واپس لائیں گے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا، البتہ ان کی عادتوں نے انھیں جیل پہنچا دیا، ان پر اور ان کی اہلیہ پر تحائف خرد برد کرنے کے جرم میں وہ پابجولاں ہوگئے۔
اسلام کے نام پر بنے ہوئے ملک میں ہر طرف ظلم و ستم کا بازار گرم ہے، مہنگائی کا جن کئی برسوں سے بوتل سے باہر ہے۔ ملک کا خدا ہی حافظ ہے، کسی کو بھی اس ملک سے محبت نہیں۔ ہر طرف لوٹ مار ہے، حکمرانوں کے خزانے بھرے ہوئے ہیں، سیاستدانوں، ایم پی ایز، ایم این ایز، مقتدر طبقے اور امیروں کے لیے زندگی ایک سنہرا خواب ہے اور باقی لوگوں کے لیے ایک بھیانک سپنا ہے۔
اس ملک میں قیادت کا فقدان ہے۔ جب اقتدار میں رہ کر لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں تو ان سے نہ کوئی پوچھنے والا نہ روکنے والا، اور جب وہ اپوزیشن میں آتے ہیں تو حکومت پہ تنقید کرنے لگتے ہیں۔ ہمارے ملک میں میوزیکل چیئر کا یہ کھیل آخر کب تک کھیلا جائے گا؟ ایک سیاستدان نے سیاسی بیان دیا ہے کہ ملک کے اگلے وزیر اعظم بلاول ہوں گے، یعنی میوزیکل چیئر تبدیل ہونے والی ہے۔ طے کر دیا گیا ہے کہ کب اور کون اگلی بار وزیر اعظم بنے گا۔ ساتھ میں امریکا کی آشیر واد بھی ضروری ہے۔ موجودہ منظرنامہ دیکھ لیجیے، زرداری صاحب مقتدرہ کی عنایت سے صدر بن گئے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ عوام کا حافظہ بہت کمزور ہے، لیکن پیکا ایکٹ نہ ہوتا، صحافیوں اور کالم نگاروں کی زبان بندی نہ ہوتی تو آپ دیکھتے کہ کیسے کیسے اداریے لکھے جاتے اور کیسے کیسے کالم لکھے جاتے۔ عام آدمی کو نہ حکومت سے دلچسپی ہے نہ حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ سے سروکار، انھیں تو دو وقت کی روٹی درکار ہے۔
حکومت نے مہنگائی اس لیے بڑھا دی ہے کہ عام آدمی اپنے روز و شب میں الجھ کر رہ جائے، دنیا بھر میں انقلاب ہمیشہ متوسط طبقہ لے کر آتا ہے کیونکہ اس کے پاس عقل اور سمجھ دونوں ہوتی ہیں، وہ تعلیم یافتہ بھی ہوتا ہے، اس لیے غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ غریب اپنی روزی روٹی کے چکر سے نہیں نکل سکتا اور امیر طبقہ اپنی عیاشیوں میں مگن رہتا ہے لیکن پیکا ایکٹ نے سب کی زبانیں کاٹ دی ہیں، سوچ پر پہرے بٹھا دیے ہیں۔
گزشتہ پانچ سال سے مہنگائی اس شدت سے بڑھی ہے کہ غریب اب مرنے کو ترجیح دینے لگا ہے، حکمرانوں کو کوئی یہ سبق دے کہ اگر آپ کو من مانی کرنی ہے، لوٹ کھسوٹ کرنی ہے، چور بازاری کرنی ہے، مال بنانا ہے، ایک فیکٹری سے کئی فیکٹریاں بنانی ہیں، لندن میں فلیٹ خریدنے ہیں، سرے محل خریدنا ہے، دانت کے درد کا علاج لندن میں کرانا ہے، نزلہ زکام کا علاج امریکا اورکینیڈا میں کروانا ہے، قومی خزانہ خالی کرکے اپنے خزانے بھرنے ہیں، لوٹ مارکرنی ہے، تو ضرور کیجیے۔ صرف مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کر دیجیے اور پھر ساری زندگی عیاشی کیجیے۔
مزدور مر رہا ہے، روزانہ اجرت پرکام کرنے والا مصیبت کا شکار ہے، ملک میں ڈکیتیاں بڑھ گئی ہیں، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جب سیدھی طرح گھی نہ نکلتا ہو تو انگلیوں کو ٹیڑھا کرنا پڑتا ہے۔ بڑھتے ہوئے جرائم کے پیچھے یہی ٹیڑھی انگلیاں ہیں۔ مہنگائی کا جن چیختا چنگھاڑتا، شور مچاتا اور دھاڑتا ہوا آ چکا ہے اور انسانوں کو جیتے جی مار رہا ہے۔ مہنگائی کی یہ آگ کسی دشمن نے نہیں بلکہ حکومت نے خود لگائی ہے۔ ریاستی بے حسی نے اس پر جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، یہ سارے ارکان اسمبلی جنھیں شاید ڈیسک بجانے کے بھی بھرپور پیسے ملتے ہیں۔ یہ بجٹ تقاریر کے دوران شور و غوغا بہت کرتے ہیں، لیکن عوام کے لیے ان کے اندر کوئی نرم گوشہ نہیں ہوتا۔ سب اپنے مفادات کا کھیل ہے، حکمرانوں کی بے حسی، مفاد پرستی اور ناعاقبت اندیشی سے عوام پر مسلط کی گئی مہنگائی پورے معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اس سماج میں صرف، ڈاکٹر، قصائی اور سیاستدان عیش کر رہے ہیں، معاشرے کا دو فی صد طبقہ ہر طرح کے عیش و عشرت کا حق دار ہے، بقیہ اٹھانوے فی صد کی مہنگائی کی تلوار سے نسل کشی کی جا رہی ہے۔ مہنگائی کے اس طوفان نے تعلیم کو بھی متاثر کیا ہے۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی لاکھوں میں فیس نے ذہین طلبا پر تعلیم کا شعبہ بھی بند کر دیا ہے۔ ماں باپ روکھی سوکھی کھا کر بچوں کی فیسیں ادا کرتے ہیں، پرائیویٹ اسکول والے بھی الٹی چھری سے والدین کو ذبح کر رہے ہیں۔ کسی کی کوئی پکڑ نہیں ہے۔ غریب کا بچہ اسکول نہیں جاتا بلکہ کسی موٹر مکینک کے ہاں ’’چھوٹا‘‘ بن جاتا ہے جو استاد کو پانا اٹھا کردیتا ہے۔ سرکاری اسپتال قصائی گھر بن گئے ہیں، غریب آدمی علاج بھی نہیں کروا سکتا۔ سرکاری اسپتالوں میں رشوت اور سفارش کے بغیر علاج ممکن نہیں ہوتا۔ یہ حکمران اگر صرف مہنگائی کم کروا دیں تو بے شک عیش کریں، انھیں کوئی کچھ نہ کہے گا۔ کاش! ہمارے نام نہاد حکمران جن کے پاس اربوں روپیہ مال دولت، سونا، ہیرے جواہرات ہیں، اس لیے ان سے کوئی امید رکھنا حماقت ہے۔ شاید کبھی قدرت کو رحم آ جائے اور کوئی سچا اور کھرا حکمران پاکستان کو بھی میسر آ جائے لیکن جن لوگوں نے قائد اعظم پہ رحم نہیں کیا وہ ایمان دار حاکم کو کیسے برداشت کریں گے۔
Today News
پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان کے سول آبادی پر حملے
گزشتہ رات بلا اشتعال فائرنگ کے بعد جب پاک فوج نے بھرپور اور موثر کارروائی کی تو افغان طالبان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، سیکیورٹی فورسز کے جاری کامیاب آپریشن ضرب للحق میں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی پر حملے شروع کر دیئے۔
گزشتہ رات باجوڑ کے سرحدی علاقوں لغڑئی اور گرد و نواح میں سرحد پار سے فائر کیے گئے مارٹر گولے گرنے کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر خار اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
شیلنگ کے باعث ایک مقامی مسجد کی چھت اور دیگر حصوں کو بھی نقصان پہنچا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج سرحدی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ جارحیت یا خلاف ورزی کے جواب کیلئے دفاعی اقدامات جاری ہیں۔
Today News
افغانستان اور دہشت گردی – ایکسپریس اردو
وزیراعظم میاں شہباز شریف کا دورہ قطر خاصی اہمیت کا حامل ہے۔قطر کئی اعتبار سے مشرق وسطیٰ ‘جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے امور میں اسٹریٹیجک نوعیت کے معاملات میں بھی شریک رہا ہے۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں عرصہ دراز تک افغان طالبان کا دفتر قائم رہا ہے اور دوحہ میں ہی افغان طالبان کے نمائندوں اور امریکی نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میںدوحہ معاہدہ عمل میں آیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ہی افغان طالبان کا کابل پر کنٹرول ہوا اور وہ افغانستان میں اپنا اقتدار قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔
گو ان امور میں پاکستان بھی شریک رہا ہے جب کہ دیگر ممالک کا بھی کچھ نہ کچھ کردار رہا ہے ‘یہ حقیقت ہے کہ یہ سارے معاملات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہی طے ہوئے ہیں۔ قطر کے پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات بھی ہیں۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو وزیراعظم کا دورہ قطر خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ اخباری اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران پاکستان اور قطر نے دو طرفہ اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط کرنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے دوحہ میں قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر مملکت دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن الثانی نے ملاقات کی ہے جس میں دفاع اور سیکیورٹی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان جاری تعاون پر اظہاراطمینان کیا اور دفاعی تعاون مزید مضبوط اور تعاون کو وسعت دینے کے لیے پاکستان کے عزم کااعادہ کیا۔ملاقات میں علاقائی امور بالخصوص ایران اور افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے ،عالمی قیادت اس صورت حال سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ افغانستان دہشت گردی کا ایپی سینٹر بن چکا ہے ،افغانستان میں مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والے گروہ بھی آپریٹ کر رہے ہیں ‘قوم پرستی کے نام پر دہشت گردی کرنے والے گروہ بھی موجود ہیں جب کہ جرائم پیشہ گینگز اور مافیاز بھی اس ملک میں آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں جو گروہ برسراقتدارہے ‘ اس کے اقتدار کا سارا دارومدار ان دہشت گرد گروہوں کے مرہون منت ہے۔
یہ دہشت گرد گروہ سرمائے کا غیرقانونی نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہیں جس کے ذریعے عالمی بلیک مارکیٹ سے جدید اسلحہ خریدا جاتا ہے ‘پٹرولیم مصنوعات بھی اسی پیسے سے خرید کر افغانستان منتقل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے طالبان حکومت کے زیر نگرانی کام کرنے والے ادارے ،اور گروہ کی نقل و حمل ممکن ہو رہی ہے۔ دہشت گرد گروہ بھی اپنی ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اور تنخواہیں ‘اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی ذرائع سے کمائی گئی دولت سے پورا کرتے ہیں۔
ادھراگلے روز خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میںشکردرہ روڈ پر فتنہ الخوارج کے پولیس موبائل پر بزدلانہ حملے میں ڈی ایس پی اور 4 اہلکاروں سمیت 6 افراد شہید اور 3 اہلکار زخمی ہوگئے۔ دہشت گرد تسلسل سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں،دہشت گردوں نے سانحہ کرک کی طرز پرکوہاٹ میں بھی پولیس کی گاڑی کو آگ لگا کے ایک زخمی پولیس اہلکار کو زندہ جلا کے شہید کیا ۔دہشت گردی کی اس واردات میں پولیس کی زیرِ حراست ملزم بھی مارا گیا ، ڈی ایس پی لاچی اسد محمود اور ریڈر وہاب علی جھلس کر جب کہ ڈرائیور مدثر، اہلکار سید عامر عباس، سب انسپکٹر انار گل، اور راہگیر سمیع اللہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔
پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس ٹیم زیرِ حراست ملزم کو تفتیش کے لیے لے جا رہی تھی۔ دہشت گردی کے اس واقعے کے علاوہ جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے اعظم ورسک میں نامعلوم افراد نے گورنمنٹ گرلز اسکول کو بارودی مواد سے تباہ کر دیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اسکول کی عمارت مکمل طور پر ناقابل استعمال ہو گئی ،ادھر جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے پولیس کانسٹیبل عطاء اللہ کو شہید کر دیا۔ایک جانب یہ صورت حال ہے تو دوسری جانب پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جھڑپیں سرحدی علاقوں بازار ذخہ خیل، وراغہ، مارو سر اور شاکوٹ میں ہو رہی ہیں ، دونوں جانب سے بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ان سطور کے لکھے جانے تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم بتایا جا رہا ہے کہ صورتحال کشیدہ اور سیکیورٹی فورسز الرٹ ہیں۔پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے طورخم اور تیراہ میں ’بلااشتعال‘ فائرنگ کی ہے۔بی بی سی کے مطابق منگل کو ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے اس فائرنگ کا فوری جواب دیا اور ’طالبان کی جارحیت‘ کو روک دیااورکسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔
افغانستان کی اشتعال انگیزیاں نئی نہیں ہیں‘ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے ‘پاکستان کے لیے اس وقت بھارت اور افغانستان ایک ہیں اور متحد ہو کر انٹی پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ ہونے کے بعد طالبان حکومت اور دہشت گرد مل کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ افغانستان کی طالبان رجیم کی اعلانیہ جنگ کا مکمل قومی عزم اور ملی یگانگت سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور ایسا کیا بھی جا رہا ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسزکودہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مکمل عوامی تائید حاصل ہے۔ادھر میڈیا میں ذرائع پاک فورسزکے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں ایف سی قافلے پر حملہ آور جوانوں کو جلایا جانا،کوہاٹ میں ڈی ایس پی اسد محمود کی شہادت اور بھکر میں خودکش حملہ، افغانستان کی طرف سے ریاست پاکستان کے خلاف ایک کُھلی جنگ ہے۔
پاکستان کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی روکنے کی مسلسل ڈیمانڈ اور اس پر عمل درآمد کے بجائے، افغان طالبان رجیم کی پاکستان کے خلاف ننگی جارحیت پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف یہ جنگ اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر افغانستان اور ہندوستان کی سرپرستی میں ہونے والی اس دہشت گردی کا مقابلہ کریں۔قومی سلامتی ، وقار اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری سیاست اور اجتماعی و انفرادی مفادات سے مقدم ہے۔
انسانیت اور اسلام کے دشمن خوارج کی سرکوبی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ادھر روسی وزارتِ خارجہ کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں 20ہزار سے23ہزار دہشت گردوں پر مشتمل ملیشیا موجود ہے جن میں نصف سے زائد غیر ملکی ہیں۔افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق داعش خراسان کے تقریباً3ہزار جب کہ ٹی ٹی پی کے 5 سے 7 ہزار دہشت گرد افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ ٹی ٹی پی افغانستان سے پاکستان میں حملوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ القاعدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں،افغانستان القاعدہ کے لیے علاقائی روابط اور تربیت کا اہم مرکز بنا ہوا ہے، القاعدہ کے تربیتی مراکز غزنی، لغمان، کنڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور ارزگان سمیت مختلف صوبوں میں موجود ہیں۔داعش خراسان، افغانستان کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں مضبوط نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہے۔ اس کا طویل المدتی ہدف وسطی ایشیا تک پھیلاؤ ہے۔رپورٹ میں افغانستان میں مصنوعی منشیات کی تیاری میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ منشیات افغانستان سے بیرونِ ملک سب سے زیادہ اسمگل کی جا رہی ہیں۔ان دہشتگرد گروہوں کی وجہ سے افغانستان میں سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال تاحال پیچیدہ ہے جو خطے کے امن و استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔
افغانستان میں طالبان رجیم کی مخالفت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔افغانستان کے ہمسائے ہی دہشت گردی سے تنگ نہیں ہیں بلکہ افغانستان کے عوام بھی دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے ڈیفیکٹو اقتدار سے تنگ ہیں۔ افغانستان میں بسنے والی مختلف قومیتیں‘لسانی اور ثقافتی اکائیاں ملک میں طالبانائزیشن کے سخت خلاف ہیں اور وہ افغان ملت کے تصور کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔اس حوالے سے افغانستان میں جدوجہد بھی جاری ہے۔
Today News
افغان چیک پوسٹ پر قبضے کے بعد سپاہی کی سبز ہلالی پرچم لہرا کر دشمن کو للکارنے کی ویڈیو وائرل
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقے میں مؤثر کارروائی کرتے ہوئے درجنوں افغان چوکیوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔
آپریشن ضرب للحق کے دوران افغان طالبان رجیم کی ایک چیک پوسٹ پر قبضے بعد پاک فوج کے بہادر سپاہی نے وہاں قومی پرچم لہرایا اور دشمن کو للکارا جس کی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے۔
سپاہی نے افغان طالبان کو پشتو زبان میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم نے کس سے پنگا لیا ہے۔
یہ چیک پوسٹ بھی ہم نے اپنے قبضے میں لے لی ہے اور اس پر جھنڈا بھی خود لگایا ہے، سپاہی نے کہا کہ ہم اسی طرح آئیں گے اور کابل بھی تم سے فتح کریں گے اور تمہیں بتائیں گے کہ 40 سال ہم نے تم کو پالا ہے اور اب تم ہم سے ہی پنگا لے رہے ہو۔
سپاہی نے مزید کہا کہ اب تم کو اپنی اوقات کا پتہ چل جائے گا، پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment4 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News1 week ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Today News1 week ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا