Today News
عالمی قیادت، بیانیہ اور بدلتا توازن
عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت، بیانیہ اور حقیقت کے درمیان خلیج روز بروز وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ ایک جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کانگریس سے طویل ترین اسٹیٹ آف دی یونین خطاب ہے جس میں دعوؤں کی بھرمار دکھائی دیتی ہے، تو دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل کا دورہ اور غیر مشروط حمایت کا اعلان، جو عالمی سفارتی توازن کے لیے کئی نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان دونوں تقاریر اور اقدامات کو محض سیاسی بیانات سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ اس بدلتی ہوئی عالمی ترتیب کی عکاسی کرتے ہیں جہاں طاقت کی سیاست، قومی مفاد اور داخلی سیاسی تقاضے بین الاقوامی اصولوں پر غالب آتے دکھائی دیتے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں یہ دعویٰ کیا کہ انھوں نے اپنے پہلے دس ماہ میں آٹھ جنگیں ختم کیں، پاک بھارت ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکا، ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی، ملکی معیشت کو تاریخ کی مضبوط ترین سطح پر پہنچایا، مہنگائی کو کم کیا اور روزگار کو ریکارڈ سطح تک بڑھایا۔ بظاہر یہ ایک فاتحانہ بیانیہ ہے، مگر تحقیقی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ان دعوؤں کی نوعیت، شواہد اور عملی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
سب سے اہم دعویٰ پاک بھارت ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکنے سے متعلق تھا۔ جنوبی ایشیا دو ایٹمی طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا خطہ ہے جہاں معمولی سرحدی جھڑپ بھی سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے، اگر واقعی واشنگٹن نے کسی سفارتی مداخلت کے ذریعے تناؤ کم کیا تو اس کی تفصیلات، بیک چینل رابطوں، عالمی دباؤ اور علاقائی کرداروں کا تجزیہ ضروری ہے۔ عالمی سفارت کاری میں اکثر ایسی کوششیں پسِ پردہ ہوتی ہیں، مگر جب انھیں سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا جائے تو شفافیت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں توازنِ طاقت کا دارومدار صرف بیرونی مداخلت پر نہیں بلکہ داخلی سیاسی استحکام، عسکری حکمت عملی اور عوامی بیانیے پر بھی ہوتا ہے۔
ایران کے حوالے سے امریکی صدر نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا معاہدے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ تہران واضح ضمانت دے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ ایران کا جوہری پروگرام برسوں سے عالمی سیاست کا محور رہا ہے۔ 2015 کا جوہری معاہدہ، جو عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے پایا، بعد ازاں امریکی پالیسی میں تبدیلی کے باعث متاثر ہوا۔ آج اگر دوبارہ مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ نئی حکمت عملی ہے یا سابقہ دباؤ کی پالیسی کا تسلسل؟ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو یورپی ممالک اور خطے میں امریکی اڈوں کے لیے خطرہ قرار دینا ایک اہم نکتہ ہے، مگر اس مسئلے کا حل صرف پابندیوں اور دھمکیوں میں نہیں بلکہ اعتماد سازی، علاقائی سلامتی کے فریم ورک اور باہمی ضمانتوں میں پوشیدہ ہے۔
امریکی معیشت کے حوالے سے کیے گئے دعوے بھی گہرے تجزیے کے متقاضی ہیں۔ بے روزگاری کی شرح، افراطِ زر کے اعداد و شمار، شرحِ نمو اور صنعتی پیداوار جیسے عوامل کسی بھی معیشت کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ انتخابی سیاست میں معاشی کامیابیاں ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتی ہیں اور ہر حکومت اپنی کارکردگی کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔ تاہم معاشی استحکام صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کا اثر متوسط طبقے کی قوتِ خرید، صحت اور تعلیم کی سہولیات اور سماجی مساوات پر بھی پڑتا ہے، اگر معاشی ترقی کے ثمرات وسیع پیمانے پر عوام تک نہ پہنچیں تو مضبوطی کا دعویٰ محض رسمی رہ جاتا ہے۔خارجہ پالیسی کے میدان میں وینز ویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کارروائی کا ذکر، منشیات کی اسمگلنگ کے خاتمے اور صومالی برادری پر اربوں ڈالر کے فراڈ کا الزام ایک سخت گیر بیانیے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ لاطینی امریکا میں امریکی کردار ہمیشہ متنازع رہا ہے۔ اسی طرح داخلی سطح پر کسی مخصوص کمیونٹی کے بارے میں عمومی الزامات معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایک ذمے دار قیادت کے لیے ضروری ہے کہ داخلی اتحاد کو کمزور کیے بغیر قانون کی بالادستی قائم کی جائے۔
ادھر بھارتی وزیر اعظم کا اسرائیل کا دورہ بھی عالمی سفارت کاری میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد بھارت نے کھل کر اسرائیل سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت ہر اس جان کے ضیاع پر تعزیت پیش کرتا ہے جو اس حملے میں ہوئی اور بھارت مکمل یقین کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ تاہم غزہ میں جاری جنگ کے دوران ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا واضح ذکر نہ ہونا عالمی مبصرین کے لیے قابلِ توجہ تھا۔اسرائیلی اور غزہ کی موجودہ صورتِ حال بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور علاقائی استحکام کے تناظر میں انتہائی حساس ہے۔ حماس کے حملے کی مذمت اپنی جگہ، مگر جنگ کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں پر خاموشی ایک سفارتی توازن کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہے۔ بھارت کی تاریخی خارجہ پالیسی غیر جانبداری اور فلسطینی حقِ خود ارادیت کی حمایت پر مبنی رہی ہے، اگر اس پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے تو اس کے اسباب، علاقائی مفادات اور اسٹرٹیجک شراکت داریوں کا تجزیہ ضروری ہے۔بھارت اور اسرائیل کے تعلقات گزشتہ دو دہائیوں میں دفاعی، تکنیکی اور زرعی شعبوں میں مضبوط ہوئے ہیں۔ جدید دفاعی سازوسامان، انٹیلی جنس تعاون اور انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں اشتراک دونوں ممالک کو قریب لایا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس اسٹرٹیجک قربت کے نتیجے میں بھارت اپنی روایتی سفارتی توازن کی پالیسی سے دور ہو رہا ہے؟ اپوزیشن جماعتوں کی تنقید اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب غزہ میں انسانی بحران پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے، غیر مشروط حمایت بھارت کی اخلاقی پوزیشن کو کمزور کرسکتی ہے۔
عالمی سیاست میں امریکا اور بھارت کا ابھرتا ہوا اسٹرٹیجک اشتراک بھی اس تناظر میں اہم ہے۔ بحرِ ہند و بحرالکاہل کی حکمت عملی، چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ اور دفاعی تعاون کے معاہدے دونوں ممالک کو قریب لا رہے ہیں۔ ایسے میں اسرائیل کے ساتھ بھارت کی قربت اور ایران کے بارے میں امریکا کا سخت مؤقف خطے میں ایک نئی صف بندی کا اشارہ دیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور یورپ کے درمیان طاقت کا توازن نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔
یہ تمام عوامل مل کر ایک بڑے سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا موجودہ عالمی قیادت طاقت کے مظاہرے کو سفارت کاری پر فوقیت دے رہی ہے؟ اگر’’ امن بزورِ طاقت‘‘ ہی اصول بن جائے تو کیا عالمی ادارے، کثیرالجہتی مذاکرات اور بین الاقوامی قانون اپنی افادیت برقرار رکھ سکیں گے؟ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز کا کردار اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب بڑی طاقتیں انھیں کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کریں۔تحقیقی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو موجودہ عالمی بیانیہ زیادہ تر داخلی سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ امریکا میں انتخابی ماحول، بھارت میں قومی سلامتی کا بیانیہ، اسرائیل میں داخلی سیاسی چیلنجز اور مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی رقابتیں، یہ سب عوامل تقاریر اور بیانات کو متاثرکرتے ہیں۔ جب خارجہ پالیسی داخلی سیاسی ضرورت بن جائے تو اس کا عالمی استحکام پر اثر پڑتا ہے۔
پاکستان کے تناظر میں یہ تمام پیش رفت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں کسی بھی قسم کی کشیدگی براہِ راست پاکستان کی سلامتی، معیشت اور سفارتی پوزیشن کو متاثر کرتی ہے، اگر امریکا پاک بھارت کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے، مگر خطے کا مستقل امن صرف بیرونی ثالثی سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد، مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور اقتصادی تعاون سے ممکن ہے۔اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اثر عالمی توانائی منڈیوں اور معیشت پر پڑتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ترقی پذیر ممالک پر ہوتا ہے۔ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے یا تصادم کے نتائج عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ طاقت کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔آخرکار، عالمی قیادت کا اصل امتحان خطابات کی طوالت یا دعوؤں کی شدت میں نہیں بلکہ عملی نتائج میں ہے، اگر جنگیں واقعی ختم ہو رہی ہیں، معیشت مضبوط ہو رہی ہے اور عالمی امن کو فروغ مل رہا ہے تو یہ دنیا کے لیے خوش آیند ہے، اگر بیانیہ حقیقت سے متصادم ہو تو اس کے اثرات دیرپا اور نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔دنیا کو اس وقت ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو طاقت اور ذمے داری کے درمیان توازن قائم کر سکیں، جو داخلی سیاست کے تقاضوں کو عالمی اصولوں پر غالب نہ آنے دیں اور جو سفارت کاری، انصاف اور انسانی وقار کو اپنی پالیسیوں کا محور بنائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت عارضی ہو سکتی ہے، مگر انصاف اور توازن ہی پائیدار امن کی بنیاد بنتے ہیں، اگر عالمی قیادت اس اصول کو پیشِ نظر رکھے تو موجودہ بحرانوں سے نکل کر ایک زیادہ مستحکم اور منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل ممکن ہے۔
Today News
پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان کے سول آبادی پر حملے
گزشتہ رات بلا اشتعال فائرنگ کے بعد جب پاک فوج نے بھرپور اور موثر کارروائی کی تو افغان طالبان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، سیکیورٹی فورسز کے جاری کامیاب آپریشن ضرب للحق میں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی پر حملے شروع کر دیئے۔
گزشتہ رات باجوڑ کے سرحدی علاقوں لغڑئی اور گرد و نواح میں سرحد پار سے فائر کیے گئے مارٹر گولے گرنے کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر خار اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
شیلنگ کے باعث ایک مقامی مسجد کی چھت اور دیگر حصوں کو بھی نقصان پہنچا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج سرحدی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ جارحیت یا خلاف ورزی کے جواب کیلئے دفاعی اقدامات جاری ہیں۔
Today News
افغانستان اور دہشت گردی – ایکسپریس اردو
وزیراعظم میاں شہباز شریف کا دورہ قطر خاصی اہمیت کا حامل ہے۔قطر کئی اعتبار سے مشرق وسطیٰ ‘جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے امور میں اسٹریٹیجک نوعیت کے معاملات میں بھی شریک رہا ہے۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں عرصہ دراز تک افغان طالبان کا دفتر قائم رہا ہے اور دوحہ میں ہی افغان طالبان کے نمائندوں اور امریکی نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میںدوحہ معاہدہ عمل میں آیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ہی افغان طالبان کا کابل پر کنٹرول ہوا اور وہ افغانستان میں اپنا اقتدار قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔
گو ان امور میں پاکستان بھی شریک رہا ہے جب کہ دیگر ممالک کا بھی کچھ نہ کچھ کردار رہا ہے ‘یہ حقیقت ہے کہ یہ سارے معاملات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہی طے ہوئے ہیں۔ قطر کے پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات بھی ہیں۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو وزیراعظم کا دورہ قطر خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ اخباری اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران پاکستان اور قطر نے دو طرفہ اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط کرنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے دوحہ میں قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر مملکت دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن الثانی نے ملاقات کی ہے جس میں دفاع اور سیکیورٹی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان جاری تعاون پر اظہاراطمینان کیا اور دفاعی تعاون مزید مضبوط اور تعاون کو وسعت دینے کے لیے پاکستان کے عزم کااعادہ کیا۔ملاقات میں علاقائی امور بالخصوص ایران اور افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے ،عالمی قیادت اس صورت حال سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ افغانستان دہشت گردی کا ایپی سینٹر بن چکا ہے ،افغانستان میں مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والے گروہ بھی آپریٹ کر رہے ہیں ‘قوم پرستی کے نام پر دہشت گردی کرنے والے گروہ بھی موجود ہیں جب کہ جرائم پیشہ گینگز اور مافیاز بھی اس ملک میں آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں جو گروہ برسراقتدارہے ‘ اس کے اقتدار کا سارا دارومدار ان دہشت گرد گروہوں کے مرہون منت ہے۔
یہ دہشت گرد گروہ سرمائے کا غیرقانونی نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہیں جس کے ذریعے عالمی بلیک مارکیٹ سے جدید اسلحہ خریدا جاتا ہے ‘پٹرولیم مصنوعات بھی اسی پیسے سے خرید کر افغانستان منتقل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے طالبان حکومت کے زیر نگرانی کام کرنے والے ادارے ،اور گروہ کی نقل و حمل ممکن ہو رہی ہے۔ دہشت گرد گروہ بھی اپنی ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اور تنخواہیں ‘اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی ذرائع سے کمائی گئی دولت سے پورا کرتے ہیں۔
ادھراگلے روز خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میںشکردرہ روڈ پر فتنہ الخوارج کے پولیس موبائل پر بزدلانہ حملے میں ڈی ایس پی اور 4 اہلکاروں سمیت 6 افراد شہید اور 3 اہلکار زخمی ہوگئے۔ دہشت گرد تسلسل سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں،دہشت گردوں نے سانحہ کرک کی طرز پرکوہاٹ میں بھی پولیس کی گاڑی کو آگ لگا کے ایک زخمی پولیس اہلکار کو زندہ جلا کے شہید کیا ۔دہشت گردی کی اس واردات میں پولیس کی زیرِ حراست ملزم بھی مارا گیا ، ڈی ایس پی لاچی اسد محمود اور ریڈر وہاب علی جھلس کر جب کہ ڈرائیور مدثر، اہلکار سید عامر عباس، سب انسپکٹر انار گل، اور راہگیر سمیع اللہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔
پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس ٹیم زیرِ حراست ملزم کو تفتیش کے لیے لے جا رہی تھی۔ دہشت گردی کے اس واقعے کے علاوہ جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے اعظم ورسک میں نامعلوم افراد نے گورنمنٹ گرلز اسکول کو بارودی مواد سے تباہ کر دیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اسکول کی عمارت مکمل طور پر ناقابل استعمال ہو گئی ،ادھر جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے پولیس کانسٹیبل عطاء اللہ کو شہید کر دیا۔ایک جانب یہ صورت حال ہے تو دوسری جانب پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جھڑپیں سرحدی علاقوں بازار ذخہ خیل، وراغہ، مارو سر اور شاکوٹ میں ہو رہی ہیں ، دونوں جانب سے بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ان سطور کے لکھے جانے تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم بتایا جا رہا ہے کہ صورتحال کشیدہ اور سیکیورٹی فورسز الرٹ ہیں۔پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے طورخم اور تیراہ میں ’بلااشتعال‘ فائرنگ کی ہے۔بی بی سی کے مطابق منگل کو ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے اس فائرنگ کا فوری جواب دیا اور ’طالبان کی جارحیت‘ کو روک دیااورکسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔
افغانستان کی اشتعال انگیزیاں نئی نہیں ہیں‘ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے ‘پاکستان کے لیے اس وقت بھارت اور افغانستان ایک ہیں اور متحد ہو کر انٹی پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ ہونے کے بعد طالبان حکومت اور دہشت گرد مل کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ افغانستان کی طالبان رجیم کی اعلانیہ جنگ کا مکمل قومی عزم اور ملی یگانگت سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور ایسا کیا بھی جا رہا ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسزکودہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مکمل عوامی تائید حاصل ہے۔ادھر میڈیا میں ذرائع پاک فورسزکے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں ایف سی قافلے پر حملہ آور جوانوں کو جلایا جانا،کوہاٹ میں ڈی ایس پی اسد محمود کی شہادت اور بھکر میں خودکش حملہ، افغانستان کی طرف سے ریاست پاکستان کے خلاف ایک کُھلی جنگ ہے۔
پاکستان کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی روکنے کی مسلسل ڈیمانڈ اور اس پر عمل درآمد کے بجائے، افغان طالبان رجیم کی پاکستان کے خلاف ننگی جارحیت پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف یہ جنگ اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر افغانستان اور ہندوستان کی سرپرستی میں ہونے والی اس دہشت گردی کا مقابلہ کریں۔قومی سلامتی ، وقار اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری سیاست اور اجتماعی و انفرادی مفادات سے مقدم ہے۔
انسانیت اور اسلام کے دشمن خوارج کی سرکوبی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ادھر روسی وزارتِ خارجہ کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں 20ہزار سے23ہزار دہشت گردوں پر مشتمل ملیشیا موجود ہے جن میں نصف سے زائد غیر ملکی ہیں۔افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق داعش خراسان کے تقریباً3ہزار جب کہ ٹی ٹی پی کے 5 سے 7 ہزار دہشت گرد افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ ٹی ٹی پی افغانستان سے پاکستان میں حملوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ القاعدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں،افغانستان القاعدہ کے لیے علاقائی روابط اور تربیت کا اہم مرکز بنا ہوا ہے، القاعدہ کے تربیتی مراکز غزنی، لغمان، کنڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور ارزگان سمیت مختلف صوبوں میں موجود ہیں۔داعش خراسان، افغانستان کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں مضبوط نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہے۔ اس کا طویل المدتی ہدف وسطی ایشیا تک پھیلاؤ ہے۔رپورٹ میں افغانستان میں مصنوعی منشیات کی تیاری میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ منشیات افغانستان سے بیرونِ ملک سب سے زیادہ اسمگل کی جا رہی ہیں۔ان دہشتگرد گروہوں کی وجہ سے افغانستان میں سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال تاحال پیچیدہ ہے جو خطے کے امن و استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔
افغانستان میں طالبان رجیم کی مخالفت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔افغانستان کے ہمسائے ہی دہشت گردی سے تنگ نہیں ہیں بلکہ افغانستان کے عوام بھی دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے ڈیفیکٹو اقتدار سے تنگ ہیں۔ افغانستان میں بسنے والی مختلف قومیتیں‘لسانی اور ثقافتی اکائیاں ملک میں طالبانائزیشن کے سخت خلاف ہیں اور وہ افغان ملت کے تصور کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔اس حوالے سے افغانستان میں جدوجہد بھی جاری ہے۔
Today News
افغان چیک پوسٹ پر قبضے کے بعد سپاہی کی سبز ہلالی پرچم لہرا کر دشمن کو للکارنے کی ویڈیو وائرل
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقے میں مؤثر کارروائی کرتے ہوئے درجنوں افغان چوکیوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔
آپریشن ضرب للحق کے دوران افغان طالبان رجیم کی ایک چیک پوسٹ پر قبضے بعد پاک فوج کے بہادر سپاہی نے وہاں قومی پرچم لہرایا اور دشمن کو للکارا جس کی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے۔
سپاہی نے افغان طالبان کو پشتو زبان میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم نے کس سے پنگا لیا ہے۔
یہ چیک پوسٹ بھی ہم نے اپنے قبضے میں لے لی ہے اور اس پر جھنڈا بھی خود لگایا ہے، سپاہی نے کہا کہ ہم اسی طرح آئیں گے اور کابل بھی تم سے فتح کریں گے اور تمہیں بتائیں گے کہ 40 سال ہم نے تم کو پالا ہے اور اب تم ہم سے ہی پنگا لے رہے ہو۔
سپاہی نے مزید کہا کہ اب تم کو اپنی اوقات کا پتہ چل جائے گا، پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment4 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News1 week ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Today News1 week ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا