Connect with us

Today News

قرض کی عدالت میں ایک لرزتی ہوئی معیشت

Published

on


آئی ایم ایف کے تیسرے اقتصادی جائزہ مشن کی آمد اب محض ایک سفارتی دورہ نہیں رہا۔ یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک امتحان کی گھڑی ہے کیونکہ اب چھ ماہ کی کارکردگی کا ایک ایک ہندسہ کٹہرے میں ہوگا۔ ہر وعدہ ترازو میں تولا جائے گا اور ہرکمزوری بے رحم سوالوں کے نرغے میں آ جائے گی،کیونکہ آئی ایم ایف ایک ایسے مہمان کی طرح آتا ہے جو دروازہ تو کھٹکھٹاتا ہے تو سلام نہیں جواب مانگے گا۔

ان کی آمد کا سن کر حکام اپنے معاشی کپڑوں کی سلوٹیں درست کرنے لگ جاتے ہیں۔ اپنی معاشی کمزوریوں کو زبان کے پھولوں میں چھپا لیتے ہیں۔ اپنے نہ پورے کیے گئے وعدوں کو گراف اور چارٹ میں سجا کر ایک ایسے ادارے کے سامنے رکھ دیتے ہیں جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد ’’ معالج معیشت‘‘ بنا کر پیش کیا گیا تھا۔ معالج نے خوب علاج کیا، لیکن یورپ کی شکستہ معیشت کا۔ لیکن جب باری آئی پاکستان اور کئی ترقی پذیر افریقی ممالک کی تو پھر طریق علاج میں تبدیلی آ گئی۔

کئی افریقی ممالک نے تو جلد ہی ان کے ہاتھ سے اپنی نبض چھڑا لی تھی۔ اب طے کیا گیا ہے کہ مشن کی آمد 25 فروری کو ہوگی اور وہ پاکستان کی معیشت کی نبض کو ٹٹولیں گے۔آئی ایم ایف جب بھی آتا ہے تو صرف وفد نہیں آتا فیصلے آتے ہیں، مذاکرات کی میز پر بیٹھتا ہے تو عوام کے مستقبل کی قیمت رکھی جاتی ہے، آئی ایم ایف سوال کرتا ہے تو جواب میں صرف وزیر نہیں بولتے مہنگائی بولتی ہے۔ بے روزگاری، چیخیں مارتی ہے، مزدور اپنا سر پیٹتا ہے جو مزدوری میں سے بہت کچھ بچا کر بجلی کا بل ادا کرتا ہے۔ وفد نے جولائی سے دسمبر تک کی کارکردگی کو دیکھنا ہی نہیں ٹٹولنا ہے، پرکھنا ہے۔

اگر وہ معیشت کو غور سے دیکھے تو معیشت کے چہرے کی جھریاں جو چھپی ہوئی ہیں اسے پھر بھی نظر نہیں آتیں۔ یہ وہ چھ ماہ ہیں جن میں حکومتی تقریروں میں کامیابی کے پھول کھلے ہیں اور بازاروں میں قیمتوں کے کانٹے بڑھے وہ چھ ماہ جن میں فائلوں میں نظم و ضبط لکھا گیا اور عوام کی جیب میں بے بسی۔ پاکستان میں اعداد و شمار بھی کبھی کبھی باادب بن جاتے ہیں۔ وہ سچ بولتے ہیں مگر ایسے انداز میں کہ حکمران اس سے تعریف کشید کر لیتے ہیں اور عوام ان سے خوف۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق پرائمری بجٹ سرپلس حاصل کیا گیا۔ یہ اصلاح سننے میں ایسے ہے جیسے حکومت نے اپنے سارے اخراجات پورے کر لیے۔ کاغذ پر کامیابی ہی کامیابی ہے لیکن کاغذ کی دنیا اور گلی کی دنیا میں یہ فرق ہے کہ کاغذ میں خوشحالی کا گراف نمایاں ہوتے ہیں اور گلی کے بچوں کی بھوک پوشیدہ ہوتی ہے۔پرائمری سرپلس کا جشن مناتے وقت ایک سوال دب کر رہ جاتا ہے۔

یہ سرپلس کس قیمت پر آیا؟ کہیں ایسا تو نہیں یہ سرپلس عوام کی سانسیں کم کر کے حاصل کیا گیا ہو۔ کہیں یہ سرپلس اسکول کی مرمت روک کر، اسپتالوں کی دوا کم کر کے، اور یہ بات حقیقت بھی ہے۔ ایک پنشنر کا کہنا ہے کہ اسپتال میں پہلے باقاعدگی سے انسولین، دیگر ادویات اور شوگر چیک کرنے کی اسٹرپس مل جایا کرتی تھیں، لیکن اب چھ، چھ ماہ دوا نہیں ملتی۔ کم از کم اسپتالوں کو مکمل فنڈ مہیا کیا جائے اور ادویات کے بارے میں چیکنگ کا درست نظام نافذکیا جانا چاہیے۔ کیونکہ جب ادویات کی کمی ہو جاتی ہے تو شاید سرپلس کی رپورٹ صحت سے کھیل کر بنائی گئی ہو۔

پھر وہ عدد سامنے آتا ہے کہ 329 ارب روپے کا ٹیکس شارٹ فال۔ یہ محض مالیاتی اصطلاح نہیں۔ یہ ایک چیخ ہے جو بجٹ کی میز کے نیچے دب گئی ہے۔ 329 ارب روپے وہ رقم ہے جو اگر ریاست کے خزانوں میں ہوتی تو ہزاروں نوجوانوں کی تعلیم کا بندوبست ہو سکتا تھا۔ ان کو آئی ٹی کی تعلیم مفت فراہم کی جا سکتی تھی۔

سرکاری اسپتالوں میں انسولین، اسٹرپس، بی پی کی گولیوں اور دیگر ادویات پنشن لینے والوں کو دی جا سکتی تھی۔ٹیکس وہ نقطہ ہے جہاں پاکستان کی معیشت کا پرانا راز بار بار کھلتا ہے۔ ٹیکس انصاف سے نہیں وصول کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جن کے زیادہ ٹیکس بنتے ہوں ان کو ٹیکس کم ادا کرنے کی راہ دکھا دی جاتی ہے۔ کچھ ان کا فائدہ کچھ ان کی جیب کا فائدہ۔ زیادہ تر ٹیکس دینے والا تنخواہ دار طبقہ ہوتا ہے۔ صارف ہوتا ہے جو ہر چیز خریدتے وقت پہلے ٹیکس ادا کرتا ہے اور جو اشرافیہ طاقتور اور مافیاز ہیں وہ خود کو ان سے ملا کر ٹیکس بچا لیتے ہیں۔ انھیں اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ قرض کی عدالت میں ایک لرزتی ہوئی معیشت اپنی کیا صفائی پیش کرے گی؟





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

NASA scientist makes surprising claim of existence of aliens

Published

on


امریکی خلائی ادارے NASA کے ایک سینئر سائنسدان نے کہا ہے کہ وسیع و عریض کائنات میں خلائی مخلوق کے وجود کے امکانات خاصے مضبوط ہیں، تاہم اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ کسی خلائی مخلوق نے زمین کا دورہ کیا ہو۔

1968 سے ناسا سے وابستہ ڈاکٹر جینٹری لی نے ایک سائنسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ آج تک کسی بھی تحقیق یا مشاہدے میں ایسی شہادت نہیں ملی جو یہ ظاہر کرے کہ کسی خلائی مخلوق یا اس کی کسی ٹیکنالوجی نے زمین پر قدم رکھا ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے پھیلائی جانے والی بیشتر باتیں غلط فہمی یا گمراہ کن معلومات پر مبنی ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر لی کا کہنا تھا کہ کائنات کی وسعت کو مدنظر رکھا جائے تو یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ کہیں نہ کہیں زندگی ضرور موجود ہوسکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں انسان کسی نہ کسی شکل میں زمین سے باہر زندگی کے آثار دریافت کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق امریکی صدر بارک اوباما کی ایک پرانی گفتگو دوبارہ زیر بحث ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ خلائی مخلوق کے حوالے سے کئی راز موجود ہیں، تاہم بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ اپنے دورِ صدارت میں انہیں زمین پر کسی غیر زمینی مخلوق کی موجودگی کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔

دوسری جانب موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ یو ایف اوز اور ممکنہ خلائی سرگرمیوں سے متعلق سرکاری فائلوں کی تفصیلات عام کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ماہرین فلکیات کے مطابق خلائی حیات کی تلاش کے لیے ایسے سیاروں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جہاں زمین جیسی فضا اور ماحول موجود ہو۔ اسی تناظر میں زمین کے حجم سے ملتے جلتے ایک سیارے کو ممکنہ طور پر زندگی کے لیے موزوں قرار دیا جا رہا ہے، جو زمین سے تقریباً 40 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ہم ہمسائے کی اوقات جانتے ہیں، اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہو گی، خواجہ آصف

Published

on



اسلام آباد:

 وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی ہے، ہم تمہارے ہمسائے ہیں تمہاری اوقات جانتےہیں۔  ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ، اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے، اب دما دم مست قلندر ہو گا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام می کہا کہ پاک فوج سمندر پار کسی ملک کی نہیں ہے، یہ ہماری بہادر افواج ہے جو بھارت کی مرضی و منشا سے چلنے والی پراکسی اور افغان جارحیت رگڑنا جانتی ہے۔  

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عالمی ممالک نیٹو افواج کی افغانستان سے انخلا کے بعد یہ امید کر رہے تھے کہ اب امن ہو گا اور اقتدار کی مسند پر بیٹھنے والے طالبان مفاد عامہ کے لیے کام کریں گے، مگر طالبان بھارت کا بغلی بچہ بن گیا۔

طالبان نے دنیا بھر کے دہشت گردوں کو اپنے ملک میں جمع کیا اور پھر اس کی آبیاری کے بعد ایکسپورٹ شروع کر دی، طالبان نے خود اپنی عوام کو بھی بنیادی حقوق سے محروم رکھا۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ آج جب ہمیں جارحیت کا نشانہ بنایا گیا تو پاک فوج نے بھرپور اور موثر جواب دیا





Source link

Continue Reading

Today News

پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان کے سول آبادی پر حملے

Published

on


گزشتہ رات بلا اشتعال فائرنگ کے بعد جب پاک فوج نے بھرپور اور موثر کارروائی کی تو افغان طالبان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، سیکیورٹی فورسز کے جاری کامیاب آپریشن ضرب للحق میں ہزیمت  اٹھانے کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی پر حملے شروع کر دیئے۔

گزشتہ رات باجوڑ کے سرحدی علاقوں لغڑئی اور گرد و نواح میں سرحد پار سے فائر کیے گئے مارٹر گولے گرنے کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر خار اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

شیلنگ کے باعث ایک مقامی مسجد کی چھت اور دیگر حصوں کو بھی نقصان پہنچا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج سرحدی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ جارحیت یا خلاف ورزی کے جواب کیلئے دفاعی اقدامات جاری ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending