Today News
بے چارا سچ گیا پانی میں
کسی کا ایک خوبصورت شعر ہے
سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے
جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں
کیا کمال کی شے ہے یہ جھوٹ بھی۔بلکہ یوں کہیے کہ یہ وہ سکہ ہے جو ہر ملک،ہرشہر،ہربازار،ہر مارکیٹ اور ہر دکان میں چلتا ہے بلکہ یہ واحد سکہ ہے جو ہر دور ہر زمانے میں بھی چلتا ہے اور نہ کبھی پرانا ہوا ہے نہ کھوٹا ہوا ہے تاریخ میں بھی چلتا ہے اور جغرافیے میں بھی چلتا ہے، تاریخ اور جغرافیہ کا حدود اربعہ وجہ تسمیہ جنرل نالج، معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان میں بھی رواں دواں ہے۔
دین ومذہب،صنعت وتجارت اور کھیتوں کھلیانوں میں بھی چلتا ہے، گلی کوچوں اور بالاخانوں، چوباروں میں چلتا ہے، چوروں ڈاکوؤں میں بھی چلتا ہے اور ان کے مخالفوں یعنی کوتوالوں، قاضیوں اور قوانین اور دساتیر میں بھی چلتا ہے صرف ڈالروں میں چلتا نہیں ہے بلکہ دوڑتا ہے اور سیاست میں تو ڈالر سے بھی زیادہ چلتا ہے جب کہ جمہوریت میں یہ صرف پیروں سے ہی نہیں چلتا بلکہ’’پروں‘‘ سے اڑتا ہے گوروں،کالوں زردوں میں سرخوں اور سبزوں میں مطلب جدھر دیکھیے جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا یہ ہی یہ ہے۔یکساں طور پر محوخرام رہتا ہے مطلب یہ کہ
ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں
اگر آپ ہمیں کوئی ایک ایسی جگہ بتائیں جہاں یہ مقبول عام سکہ نہ چلتا ہو تو ہم آپ کو’’کولمبس‘‘قرار دیں گے اور اس کے مقابل اس کا سوتیلہ بھائی سچ۔ آخ تھو ۔خود اس پر بھی اور اس منہ پر بھی۔جس سے یہ نکلے پشتو میں اسے ماں کی گالی کہا گیا ہے اور سچ کہا گیا ہے بلکہ ماں بہن کے علاوہ پوتی دادی بیوی، خالہ پھوپھی ،چچی ممانی کی بھی گالی ہے۔اب اگر آپ کسی کو گالی دیں گے تو کیا ’’سردار‘‘ خوش ہوگا شاباشی دے گا؟نہیں بلکہ لٹھ لے کر آپ کے پیچھے دوڑے گا ۔
اور جھوٹ
زباں پہ بارخدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زبان کے لیے
اور بوسے کی قابل ہے بھی وہ زبان۔جس سے یہ امرت یہ آب حیات یہ شیروشکر اور یہ امرت دھارا نکلتا ہو اس میں یار جیسی خاصیت بھی ہے
ہر غنچہ کہ گل دگرے غنچہ نہ گردد
قرباں زلب یار گہے غنچہ گہے گل
ویسے تو بہت سارے علما و فضلا دانا دانشوروں اور سالکوں نے اس کی مدح سرائیاں کی ہیں قصیدے لکھے ہیں لیکن ایک صاحب نے اس کے بارے میں فرمایا ہے
کوئی جھنکار ہے نغمہ ہے صدا ہے ؟ کیا ہے
تو کرن ہے کہ کلی ہے کہ ضیا ہے،کیا ہے
نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے
تو تسلی ہے دلاسہ ہے دعا ہے کیا ہے
اگر یہ اپنی صنف بدل لے اور مذکر سے مونث ہوجائے تو اسے حسینہ عالم،مس ورلڈ،مس یونیورس بلکہ مس کاسموس بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ویسے تو ہر ہر جگہ ہر ہر مقام پر اس کا بول بالا ہے لیکن سنا ہے کہ ایک مملکت ناپرساں عالی شان میں اس کی بہت چلن اور آؤ بھگت ہے بلکہ اس مملکت کا اصل حکمران کہیے تو بجا ہوگا کہ یہ وہاں کا آئین بھی ہے قانون بھی یہ ہے سماج بھی ہے رواج بھی اور سرتاج بھی ہے۔
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد
اس مملکت میں اس کے ہزار رنگ ہزار روپ ہیں
تیری آنکھوں میں کئی رنگ جھلکتے دیکھے
سادگی ہے کہ چھچک ہے کہ حیا ہے کیا ہے
ہم نے ایک دانا دانشور سے پوچھا کہ مملکت ناپرسان عالی شان میں اس کثیر الفوائد کثیرالجہت اور کثیرالمقاصد اور کثیرالاستعمال نعمت کی اتنی زیادہ پذیرائی کی وجہ کیا ہے تو فرمایا کہ اس کی ایک الگ کہانی ہے۔کہ جب یہ مملکت وجود میں آئی جس میں ہر طرف ہر جگہ ہر مقام پر مواقع ہی مواقع تھے تو یہ مژدہ جاں فزا جھوٹ اور سچ نام کے دو سوتیلے بھائیوں نے بھی سنا جو ایک گاؤں میں رہتے تھے اور آپس میں دونوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ اس نئی مملکت میں جاکر روزگار ڈھونڈا جائے چنانچہ چل پڑے۔چلتے چلتے راستے کے کنارے ایک تالاب دکھائی دیا تو جھوٹ نے سچ سے کہا بھائی کیوں نہ اس تالاب میں ڈوبکیاں لگاکر فریش ہوا جائے، سچ نے کہا ٹھیک ہے پھر دونوں نے ایک درخت کے نیچے کپڑے اتارے اور تالاب میں اتر گئے۔
دونوں نہانے لگے تیرنے لگے۔ڈبکیاں لگانے لگے اور مستیاں کرنے لگے، تھوڑی دیر بعد سچ نے دیکھا کہ جھوٹ دکھائی نہیں دے رہا ہے، اس نے پورے تالاب پر نظر دوڑائی لیکن جھوٹ دکھائی نہیں دیا، تشویش ہوئی کہ کہیں ڈوب تو نہیں گیا۔کافی انتظار کے بعد جب کنارے کی طرف دیکھا تو جھوٹ کے کپڑے پڑے ہوئے تھے لیکن سچ کا لباس ندارد تھا پھر کافی دیر بعد اس کی سمجھ میں آگیا کہ جھوٹ اپنا ہاتھ کرگیا ہے وہ سچ کا لباس پہن کر بھاگ گیا ہے۔بیچارا سچ سن ہوکر رہ گیا کہ اگر جھوٹ کا لباس پہن کر جاؤں گا تو لوگ مجھے جھوٹ سمجھیں گے اور ایسے ہی ننگا لنگوٹ نکلوں گا تو لوگ دیوانہ سمجھ کر پتھر ماریں گے۔ دوسری طرف جھوٹ سچ کے لباس میں مملکت ناپرسان کی راج دھانی اکرام آباد پہنچ گیا تو اس کی زبردست پذیرائی کی گئی لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔اہلاً و سھلاً و مرحبا۔تو ہوا جلوہ گر مبارک ہو۔
اسے سرآنکھوں پر بٹھایا گیا اور جھوٹ مزے اڑانے لگا۔مسند پر بٹھادیا گیا اور سارے لوگوں نے اس کی بیعت کرلی خاص طور پر سیاست دانوں، پارٹیوں اور لیڈروں نے تو اسے ہم پیالہ و ہم نوالہ بنالیا۔ اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ کیا بیچارا سچ کبھی تالاب سے نکل پائے گا یا پانی میں اس کی’’جل سمادھی‘‘ ہوجائے گی؟
Today News
NASA scientist makes surprising claim of existence of aliens
امریکی خلائی ادارے NASA کے ایک سینئر سائنسدان نے کہا ہے کہ وسیع و عریض کائنات میں خلائی مخلوق کے وجود کے امکانات خاصے مضبوط ہیں، تاہم اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ کسی خلائی مخلوق نے زمین کا دورہ کیا ہو۔
1968 سے ناسا سے وابستہ ڈاکٹر جینٹری لی نے ایک سائنسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ آج تک کسی بھی تحقیق یا مشاہدے میں ایسی شہادت نہیں ملی جو یہ ظاہر کرے کہ کسی خلائی مخلوق یا اس کی کسی ٹیکنالوجی نے زمین پر قدم رکھا ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے پھیلائی جانے والی بیشتر باتیں غلط فہمی یا گمراہ کن معلومات پر مبنی ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر لی کا کہنا تھا کہ کائنات کی وسعت کو مدنظر رکھا جائے تو یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ کہیں نہ کہیں زندگی ضرور موجود ہوسکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں انسان کسی نہ کسی شکل میں زمین سے باہر زندگی کے آثار دریافت کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق امریکی صدر بارک اوباما کی ایک پرانی گفتگو دوبارہ زیر بحث ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ خلائی مخلوق کے حوالے سے کئی راز موجود ہیں، تاہم بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ اپنے دورِ صدارت میں انہیں زمین پر کسی غیر زمینی مخلوق کی موجودگی کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔
دوسری جانب موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ یو ایف اوز اور ممکنہ خلائی سرگرمیوں سے متعلق سرکاری فائلوں کی تفصیلات عام کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
ماہرین فلکیات کے مطابق خلائی حیات کی تلاش کے لیے ایسے سیاروں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جہاں زمین جیسی فضا اور ماحول موجود ہو۔ اسی تناظر میں زمین کے حجم سے ملتے جلتے ایک سیارے کو ممکنہ طور پر زندگی کے لیے موزوں قرار دیا جا رہا ہے، جو زمین سے تقریباً 40 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
Today News
ہم ہمسائے کی اوقات جانتے ہیں، اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہو گی، خواجہ آصف
اسلام آباد:
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی ہے، ہم تمہارے ہمسائے ہیں تمہاری اوقات جانتےہیں۔ ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ، اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے، اب دما دم مست قلندر ہو گا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام می کہا کہ پاک فوج سمندر پار کسی ملک کی نہیں ہے، یہ ہماری بہادر افواج ہے جو بھارت کی مرضی و منشا سے چلنے والی پراکسی اور افغان جارحیت رگڑنا جانتی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عالمی ممالک نیٹو افواج کی افغانستان سے انخلا کے بعد یہ امید کر رہے تھے کہ اب امن ہو گا اور اقتدار کی مسند پر بیٹھنے والے طالبان مفاد عامہ کے لیے کام کریں گے، مگر طالبان بھارت کا بغلی بچہ بن گیا۔
طالبان نے دنیا بھر کے دہشت گردوں کو اپنے ملک میں جمع کیا اور پھر اس کی آبیاری کے بعد ایکسپورٹ شروع کر دی، طالبان نے خود اپنی عوام کو بھی بنیادی حقوق سے محروم رکھا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ آج جب ہمیں جارحیت کا نشانہ بنایا گیا تو پاک فوج نے بھرپور اور موثر جواب دیا
Today News
پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان کے سول آبادی پر حملے
گزشتہ رات بلا اشتعال فائرنگ کے بعد جب پاک فوج نے بھرپور اور موثر کارروائی کی تو افغان طالبان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، سیکیورٹی فورسز کے جاری کامیاب آپریشن ضرب للحق میں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی پر حملے شروع کر دیئے۔
گزشتہ رات باجوڑ کے سرحدی علاقوں لغڑئی اور گرد و نواح میں سرحد پار سے فائر کیے گئے مارٹر گولے گرنے کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر خار اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
شیلنگ کے باعث ایک مقامی مسجد کی چھت اور دیگر حصوں کو بھی نقصان پہنچا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج سرحدی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ جارحیت یا خلاف ورزی کے جواب کیلئے دفاعی اقدامات جاری ہیں۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment4 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News1 week ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Today News1 week ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا