Connect with us

Today News

ہم ہمسائے کی اوقات جانتے ہیں، اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہو گی، خواجہ آصف

Published

on



اسلام آباد:

 وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی ہے، ہم تمہارے ہمسائے ہیں تمہاری اوقات جانتےہیں۔  ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ، اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے، اب دما دم مست قلندر ہو گا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام می کہا کہ پاک فوج سمندر پار کسی ملک کی نہیں ہے، یہ ہماری بہادر افواج ہے جو بھارت کی مرضی و منشا سے چلنے والی پراکسی اور افغان جارحیت رگڑنا جانتی ہے۔  

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عالمی ممالک نیٹو افواج کی افغانستان سے انخلا کے بعد یہ امید کر رہے تھے کہ اب امن ہو گا اور اقتدار کی مسند پر بیٹھنے والے طالبان مفاد عامہ کے لیے کام کریں گے، مگر طالبان بھارت کا بغلی بچہ بن گیا۔

طالبان نے دنیا بھر کے دہشت گردوں کو اپنے ملک میں جمع کیا اور پھر اس کی آبیاری کے بعد ایکسپورٹ شروع کر دی، طالبان نے خود اپنی عوام کو بھی بنیادی حقوق سے محروم رکھا۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ آج جب ہمیں جارحیت کا نشانہ بنایا گیا تو پاک فوج نے بھرپور اور موثر جواب دیا





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی مزید 2 مقدمات میں ضمانت منظور

Published

on



اسلام آباد:

انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی مزید 2 مقدمات میں ضمانت منظور کرلی۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پانچ پانچ ہزار روپے مچلکوں کے عوض دو مقدمات میں ضمانت منظور کی۔ ایک کیس ہائیکورٹ کے باہر لڑائی جھگڑے اور دوسرا پریس کلب کے باہر احتجاج کا ہے۔

ہائیکورٹ کے باہر لڑائی جھگڑے کیس میں گزشتہ روز مدعی صدر ہائیکورٹ بار واجد گیلانی نے بیان حلفی جمع کرایا تھا۔ 

متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان اور ہادی کی ضمانت ابھی تک منظور نہیں ہوئی جس کی وجہ سے اُنکی رہائی ممکن نہیں۔ مذکورہ کیس میں سزا معطلی کی درخواستیں ابھی ہائیکورٹ میں مقرر بھی نہیں ہوئیں۔

دریں اثنا اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس محمد آصف نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواست جلد مقرر کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔ اسلام آباد بار کے وکلا ریاست علی آزاد ، ظفر کھوکھر ، اشرف گجر ودیگر عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے کہا تھا کیس جلد مقرر ہو جائے گا، فیصل صدیقی صاحب ہمارے وکیل ہیں انہوں نے کراچی سے آنا ہے کوئی تاریخ دے دیں۔

جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ پالیسی کے مطابق کیسز لگتے  ہیں، کیسز کی سماعت ختم ہو جائے پھر آپ کو تاریخ بتا دیتے ہیں۔

ریاست علی آزاد نے کہا کہ سزا معطلی میں ریکارڈ کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، ہمارا کیس ہی یہ ہے کہ ٹرائل کورٹ فیصلے کو قانون کے مطابق تبدیل نہیں کر سکتی، دست بستہ استدعا ہے عید سے پہلے کی کوئی تاریخ دے دیں۔

ظفر کھوکھر ایڈووکیٹ نے کہا کہ سزا معطلی کی ہمیشہ جلد سماعت ہونا ہوتی ہے، جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ سزا زیادہ ہے دس سال ہے، سات سال سے کم ہوتی تو دیکھ لیتے۔ 

ریاست علی آزاد نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے اپیل مقرر کریں صرف سزا معطلی مقرر کرنے کی استدعا کر رہے ہیں، ادب سے دوبارہ درخواست کر رہا ہوں عید سے پہلے کیس مقرر کر دیں۔

ظفر کھوکھر ایڈووکیٹ نے کیس مقرر کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ پوری بار آپ کے سامنے کھڑی ہے جس پر جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ انشاء اللہ ہم دیکھتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

امیر جماعت اسلامی پاکستان کا پاک افغان کشیدہ صورتحال پر اظہار تشویش

Published

on



امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے پاک افغان کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی ممالک سے اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس اہم اور نازک موقع پر قومی مشاورت سے گریز ناقابل فہم ہے، فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کا باقاعدہ جنگ کی طرف بڑھنا انتہائی تشویش ناک ہے۔ دو ہمسایہ اسلامی ممالک کے درمیان ایسی صورتحال دونوں اطراف کے عوام کے لیے تکلیف دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور دفاع 25 کروڑ پاکستانیوں کی ترجیح اول ہے۔ ان کے مطابق پاک افغان کشیدگی ایک ایسے وقت شدت اختیار کر رہی ہے جب تل ابیب میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان قربت بڑھ رہی ہے، جو عالم اسلام کے لیے خطرناک ہوسکتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ افغان قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ بھارت ان کا دوست نہیں ہو سکتا اور پاکستان و افغانستان کے درمیان کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف کارروائی کے لیے جواز تلاش کر رہا ہے اور غزہ میں ہونے والے واقعات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے افغان قیادت پر زور دیا کہ وہ ایسا کوئی راستہ اختیار نہ کرے جس سے وہ عالم اسلام سے الگ تھلگ ہو جائیں اور مخالف قوتوں کو فائدہ پہنچے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ عالم اسلام کے جید علما آگے آئیں اور پاکستان و افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کریں۔ ا

نہوں نے چین، ترکی، قطر اور سعودی عرب سے بھی اپیل کی کہ وہ ماضی کی طرح دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری رکھیں اور اس موقع پر دوبارہ فعال کردار ادا کریں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاک سعودی عرب دفاعی تعاون بعض قوتوں کے لیے ناقابل قبول ہے اور عالم اسلام کے اتحاد کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرنا مخصوص ایجنڈے کا حصہ ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

لاہور میں 30 سالہ خاتون کا قتل، صوبائی حکومت کا فوری نوٹس

Published

on


لاہور کے علاقے شادمان میں 30 سالہ بختاور کے قتل کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے مقتولہ کے گھر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مقتولہ کے والد اور اہلِ خانہ سے ملاقات کر کے تعزیت اور دعائے مغفرت کی اور انصاف کی یقین دہانی کروائی۔

حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ ملزم نے دورانِ تفتیش اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ حاصل کر لی گئی ہے اور شواہد فرانزک لیب بھجوا دیے گئے ہیں۔

حنا پرویز بٹ نے کہا کہ ملزم نے شیشے کے گلاس کا ٹکڑا تین بار بیوی کے گلے پر مار کر اسے قتل کیا۔ ملزم آئس کے نشے کا عادی تھا۔ گاڑی کی فروخت کے معاملے پر میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوا.

انہوں نے بتایا کہ بیوی گاڑی فروخت نہیں کرنا چاہتی تھی جبکہ شوہر گاڑی بیچنے پر بضد تھا۔

حنا پرویز بٹ نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سے کیس کی اپڈیٹڈ اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔انہوں نے کہا کہ میں خود اس کیس کی نگرانی کر رہی ہوں اور ہر پیش رفت کا جائزہ لے رہی ہوں۔ متاثرہ خاندان کو مکمل قانونی معاونت فراہم کی جائے گی اور انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ بیٹیوں پر ظلم کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، ملزم کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ خواتین کے لیے محفوظ پنجاب ہمارا عزم ہے۔

متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بیٹی کو عرصہ دراز سے مالی دباؤ اور جھگڑوں کا سامنا تھا۔ شادی کو 12 سال ہو چکے تھے، مقتولہ تین بچوں کی ماں تھی۔





Source link

Continue Reading

Trending