Connect with us

Today News

امریکا کی اپنے سفارتی عملے کو پہلی دستیاب پرواز سے فوری اسرائیل چھوڑنے کی ہدایت

Published

on


اسرائیل میں تعینات امریکی سفارت خانے کے عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر وہ ملک چھوڑنا چاہتے ہیں تو آج ہی روانہ ہو جائیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ ہدایت اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہیکبی نے اپنے عملے کو ایک ای میل کے ذریعے دی ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی سفیر نے سفارت خانے کے عملے کو ای میل بھیجی جس میں کہا گیا کہ جو ملازمین یا ان کے اہل خانہ اسرائیل سے نکلنا چاہتے ہیں وہ آج ہی روانہ ہونے کا بندوبست کریں۔

ای میل میں کہا گیا کہ سفارت خانے کی جانب سے غیر ضروری سرکاری عملے اور ان کے اہل خانہ کو رضاکارانہ طور پر اسرائیل چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے ممکن ہے کہ آج فلائٹس میں نشستیں کم پڑ جائیں۔

عملے کو یہ ہدایت بھی دی گئی کہ وہ بن گوریون ایئرپورٹ سے کسی بھی دستیاب پرواز پر جگہ حاصل کرنے کی کوشش کریں تاکہ پہلے مرحلے میں ہی ملک سے باہر نکل سکیں۔ 

سفیر نے ای میل میں یہ بھی لکھا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں تاہم جو لوگ جانا چاہتے ہیں انہیں بہتر ہے کہ جلد از جلد روانگی کا منصوبہ بنائیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سفارتی عملے کو فوری روانگی کی ہدایت اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ موجود ہے۔

یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایک سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی خدشات کے باعث اسرائیل میں تعینات غیر ہنگامی امریکی عملے اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔ 

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کوئی فوجی کارروائی ہوتی ہے تو ایران یا اس کے اتحادی جوابی حملے کرسکتے ہیں۔ 

رپورٹس کے مطابق اسی پس منظر میں امریکا کی جانب سے خطے میں فوجی تیاریوں اور سفارتی عملے کی حفاظت سے متعلق اقدامات بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

وزیراعظم سے چینی سفیر کی ملاقات، پاکستان کی خودمختاری کی بھرپور حمایت کا اعادہ

Published

on



وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان میں تعینات چینی سفیر جیانگ زیڈونگ نے ملاقات کی اور پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے چین کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان میں تعینات عوامی جمہوریہ چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کی اور اس دوران وزیراعظم نے پاکستان اور چین کے درمیان پائیدار  تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کا اعادہ کیا، جس کی خصوصیت گہرا باہمی اعتماد، فولاد کی طرح مضبوط دوستی اور مشترکہ مفادات پر باہمی تعاون کا مشترکہ عزم ہے۔

وزیر اعظم نے چین کے صدر شی جن پنگ، وزیراعظم لی کیانگ، چینی قیادت اور عوام کو نئے چینی سال کے پرمسرت موقع پر اپنی پرتپاک مبارک باد اور نیک خواہشات کا پیغام دیا۔

انہوں نے اقتصادی، سلامتی اور ترقیاتی محاذوں پر پاکستان کے لیے چین کی مسلسل اور ثابت قدم حمایت کی تعریف کی اور خاص طور پر بیلٹ اینڈ روڈ انیشئیٹو کا ایک اہم منصوبہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا ذکر کیا۔

 سی پیک کے تحت جاری  منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے زراعت، آئی ٹی، کان کنی اور معدنیات میں تعاون مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے پاکستان میں چینی اہلکاروں، سرمایہ کاری اور اداروں کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے پاکستان کے عزم پر بھی زور دیا۔

چینی  سفیر جیانگ زیڈونگ نے وزیراعظم کو چین اور پاکستان کے تعلقات میں حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا اور چینی قیادت کا نیک خواہشات کا پیغام دیا۔

انہوں نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے چین کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔

دونوں اطراف نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا، خطے اور اس سے باہر امن، استحکام اور خوش حالی میں کردار ادا کرنے کے لیے قریبی رابطہ کاری اور مشاورت کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

تھلاپتی وجے کی ازدواجی زندگی میں دراڑ، اہلیہ نے 25 سال بعد طلاق کی درخواست دائر کردی

Published

on



جنوبی بھارت کے معروف اداکار اور سیاست دان تھلاپتی وجے کی ازدواجی زندگی مشکلات کا شکار ہوگئی ہے، جہاں ان کی اہلیہ سنگیتا سورنالنگم نے 25 سالہ رفاقت کے بعد عدالت سے طلاق کی درخواست دے دی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سماجی کارکن اور کاروباری شخصیت سنگیتا سورنالنگم نے ریاست تمل ناڈو کے ضلع چینگلپٹو کی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے شادی کے باقاعدہ خاتمے کی استدعا کی ہے۔

انہوں نے عدالت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ طلاق کے بعد انہیں مستقل نان و نفقہ دیا جائے اور وہ ازدواجی گھر میں ہی رہائش جاری رکھ سکیں۔

رپورٹس کے مطابق وجے اور سنگیتا کی شادی کو طویل عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران ان کے ہاں دو بچے بھی پیدا ہوئے۔ تاہم اب تک اس درخواست پر اداکار کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس کے باعث شوبز اور سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب وجے ان دنوں اپنی آئندہ تامل فلم جنا نیاگن کی ریلیز کے منتظر ہیں، جسے ان کے فلمی کیریئر کی آخری فلم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی سیاسی جماعت تملگا ویٹری کژگم کے پلیٹ فارم سے آئندہ تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں باقاعدہ سیاسی میدان میں قدم رکھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات میں 40 فیصد تدریسی اور انتظامی آسامیاں خالی ہونے کا انکشاف

Published

on



ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات میں تقریباً 40 فیصد تدریسی اور انتظامی آسامیاں خالی ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے سخت نوٹس لیتے ہوئے جامعات کے وائس چانسلرز اور ریکٹرز کو فوری سلیکشن بورڈز اور بھرتیوں کا عمل مکمل کرنے کے لیے 15 اگست تک مہلت دے دی ہے اور غیر ضروری تاخیر پر متعلقہ اداروں کے خلاف انتظامی کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پرو وائس چانسلر، رجسٹرار، ڈین، کنٹرولر امتحانات اور اساتذہ کی بڑی تعداد میں اسامیاں طویل عرصے سے خالی پڑی ہیں، جس کے باعث تعلیمی و انتظامی امور متاثر ہو رہے ہیں۔

ہائرایجوکیشن کمیشن نے وائس چانسلرز کو فوری طور پر خالی عہدوں پر تقرریوں کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

مراسلے کے مطابق ایڈہاک اور عارضی تقرریوں کے باعث جامعات میں فیصلہ سازی، تعلیمی منصوبہ بندی، تحقیق اور طلبہ کی معاونت کا نظام کمزور پڑ رہا ہے۔

ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ میرٹ پر شفاف بھرتیوں کا عمل ہر صورت 15 اگست 2026 تک مکمل کیا جائے۔

چیئرمین ایچ ای سی نے تمام پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے ریکٹرز، وائس چانسلرز اور پرو وائس چانسلرز کو خطوط ارسال کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ سلیکشن بورڈز باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں اور بھرتیوں میں کسی قسم کی سستی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

کمیشن نے جامعات کو اعلیٰ انتظامی معیار، میرٹ پر مبنی گورننس اور ادارہ جاتی جواب دہی یقینی بنانے کا بھی حکم دیا ہے۔

مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ تقرریوں میں غیر ضروری تاخیر پر متعلقہ اداروں کے خلاف انتظامی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب بعض جامعات میں اہم عہدوں پر تعیناتیاں طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں، شہید ذوالفقار علی بھٹو شہید یونیورسٹی میں رجسٹرار کی تعیناتی عرصہ دراز سے زیر التوا ہے جبکہ پمز میں ڈین کے عہدے پر مسلسل تین بار مدت ملازمت میں توسیع کی جا چکی ہے، جس پر متعلقہ حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ خالی آسامیوں اور عارضی انتظامات کے باعث اعلیٰ تعلیم کا نظام دباؤ کا شکار ہے اور فوری اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں۔



Source link

Continue Reading

Trending