Connect with us

Today News

ایپسٹین کا لڑکیوں کی اسمگلنگ کیلیے برطانوی ایئر فورس کے اڈوں کا استعمال؛ ہوشربا انکشاف

Published

on


کم عمر لڑکیوں اور خواتین کا جنسی ریکٹ چلانے والے بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے مجرم جیفری ایپسٹین نے ممکنہ طور پر برطانوی ایئربیس کا بھی استعمال کیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ جیفری ایپسٹین اپنے نجی طیاروں کے ذریعے خواتین کو برطانیہ لاتا تھا اور ممکنہ طور پر رائل ایئر فورس کے اڈوں پر لینڈنگ بھی کی ہو۔

ان رپورٹس کے مطابق ایک اہم واقعہ دسمبر 2000 کا بتایا جا رہا ہے جب ایپسٹین کا نجی گلف اسٹریم جیٹ برطانیہ کے علاقے نورفوک میں واقع ایک فوجی ایئر بیس پر اترا تھا۔

اس کے بعد ایپسٹین نے برطانیہ کے شہزادے پرنس اینڈریو کے ساتھ شاہی رہائش گاہ سندرنگھم ہاؤس کا دورہ کیا تھا۔

ان رپورٹس کے سامنے آنے پر برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے جیفری ایپسٹین کے خواتین اور کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے لیے برٹش رائل ایئر فورس (RAF) کے اڈے استعمال کرنے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیدیا۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع نے گزشتہ دو دہائیوں کے ریکارڈ کی مکمل جانچ کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے اور ہر ممکن ثبوت تلاش کیا جائے۔

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم گورڈن براؤن نے بھی مطالبہ کیا کہ پولیس اس بات کی چھان بین کرے کہ آیا شہزادہ اینڈریو نے سرکاری فنڈز سے چلنے والی پروازوں یا برطانوی ایئر فورس کے اڈوں کو ایپسٹین سے ملاقاتوں کے لیے استعمال کیا تھا۔

یاد رہے کہ شہزادہ اینڈریو کو حال ہی میں سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور برطانوی تجارتی نمائندہ کام کرتے ہوئے خفیہ سرکاری دستاویزات ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔

ادھر برطانیہ کی انٹیلی جنس و سکیورٹی کمیٹی نے کہا ہے کہ وہ جلد ایسی دستاویزات جاری کرے گی جن سے یہ واضح ہو سکے گا کہ سابق وزیر پیٹر مینڈلسن کو وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے امریکا میں برطانیہ کا سفیر کیوں مقرر کیا جب کہ ایپسٹین سے ان کے تعلقات پہلے سے سامنے آچکے تھے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کے دوران پیٹر مینڈلسن کو مختصر طور پر گرفتار بھی کیا تھا تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔

دوسری جانب یورپی یونین کے انسدادِ فراڈ ادارے نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ پیٹر مینڈلسن نے 2004 سے 2008 کے دوران یورپی کمیشن میں تجارتی کمشنر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے کہیں ایپسٹین سے متعلق کوئی غیر قانونی سرگرمی تو نہیں کی۔

 

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

وقت اور خلا کی نئی تصویر، توانائی کے بہاؤ کی بصیرت

Published

on


ایک نئی سوچ، ایک نیا زاویہ

سائنس داں ہمیشہ سے یہی تلاش کرتے آئے ہیں کہ کائنات کے سب سے بنیادی اجزاء کون سے ہیں؟ کلاسیکی طبیعیات نے ایک طرف مادّہ (matter) کے ذرات جیسے الیکٹران، پروٹون، نیوٹران کو بنیادی مانا، اور دوسری طرف توانائی کو طولانی موجیں کہہ کر بیان کیا۔ مگر بیسویں صدی میں کوانٹم تھیوری نے یہ ثابت کیا کہ ذرات اور موجیں ہمیشہ صاف الگ نہیں ہوتیں؛ روشنی اور دیگر ذرات کبھی ذرات کی طرح اور کبھی موج کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔

اب ایک نئی تھیوری سامنے آئی ہے جس کے مطابق شاید ان ذرات اور موجوں کے پیچھے بھی ایک اور بنیادی حقیقت موجود ہے یعنی توانائی کے ٹکڑے (Fragments of Energy) جو ساری کائنات کا حقیقی تعمیراتی بلاک ہو سکتے ہیں۔

 نظریے کا بنیادی خیال: توانائی کے بہاؤ اور ٹکڑے

نئی تھیوری کے خالقوں لاری سلوربرگ اور جیفری ایچن کے مطابق توانائی سارا عرصہ خلا اور وقت میں بہتی رہتی ہے۔ اس تصور کے مطابق:

توانائی خلا اور وقت کے اندر ایک مسلسل بہاؤ کی صورت میں ہوتی ہے۔ یہ بہاؤ لکیروں کی طرح ہے جو خلا میں کہیں سے شروع نہیں ہوتا، نہ ختم ہوتا ہے، اور ایک دوسرے کو کبھی کراس نہیں کرتے،

ان بہاؤ کی لکیروں کے اندر جو مرکوز، توانائی سے بھرپور حصہ ہوتا ہے، اسے توانائی کا ٹکڑا (Fragments of Energy) کہا جاتا ہے۔

یہ ٹکڑے نہ صرف ذرات کی طرح توانائی کو ایک نقطے کی صورت میں رکھتے ہیں بلکہ موجوں کی طرح وقت اور خلا میں پھیلے رہتے ہیں یعنی وہ ذرات اور موج دونوں کے صفات کا امتزاج ہیں۔

یہ ایک انقلابی فکر ہے۔ اب مادّہ صرف نقطے پر موجود ذرات سے بنایا نہیں جا رہا، بلکہ توانائی کے پوشیدہ بہاؤ اور ان کی مرکوز شکلوں سے سمجھا جا رہا ہے۔

 نظریاتی پس منظر: تاریخی سے دورِجدید تک

 ارسطو سے نیوٹن تک

قدیم یونانی فلسفہ کے مطابق کائنات پانچ بنیادی عناصر زمین، پانی، ہوا، آگ اور آسمانی ایتھر پر مبنی تھی۔ ارسطو کا یہ خیال تقریباً دو ہزار سال تک فزکس کا حصہ رہا۔ بعد میں سائنس نے مواد کو ذرات کی صورت میں دیکھا خصوصاً رابرٹ بوائل اور آئزک نیوٹن نے مادہ کو نقاط میں منقسم تصور کیا، جس نے کلاسیکی طبیعیات کا مرکز بنایا۔

 کوانٹم انقلاب

بیسویں صدی میں کوانٹم میکانیات نے ثابت کیا کہ روشنی اور مادّہ کبھی لہریں اور کبھی ذرات کی طرح عمل دکھاتے ہیں۔ ڈبل سلٹ تجربے نے اس حقیقت کو واضح طور پر ثابت کیا کہ ذرات اور موجیں دو قطعی الگ حیثیتیں نہیں رکھتیں۔

اسی دوران آئن اسٹائن نے عام نظریہ اضافیت پیش کیا، جس کے مطابق وقت اور خلا خمیدہ ہیں یعنی کشش ثقل خود وقت اور خلاء کے ڈھانچے کو موڑتی ہے۔

توانائی کے ٹکڑے: ذرات اور موجوں کا سنہری ملاپ

بنیادی تصور

سلوربرگ اور ایچن نے سوچا کہ شاید ذرات اور موجیں دونوں ہی توانائی کے بہاؤ کے اندر کی ساختیں ہیں۔ ان کے مطابق:

وہ حصہ جو توانائی کی لائن میں زیادہ مرکوز ہو اور مرکز سے باہر توانائی کم ہوتی جائے، وہ توانائی کا ٹکڑا ہے۔ یہ ٹکڑا ذرات اور موج دونوں ہی کی صفات کا حامل ہوسکتا ہے۔ یعنی جزوی طور پر پھیلا ہوا (موج کی طرح) اور جزوی طور پر مرکوز (ذرے کی طرح)۔

یہ تصور توانائی کو بنیادی جزو کے طور پر پیش کرتا ہے، جس سے مادّہ اور توانائی دونوں بْنے ہوئے ہیں۔

اس نظریے کے سائنسی اطلاقات اور جائزے

 مرکری کی مدار کی چھوٹی تبدیلی

آئن اسٹائن نے جنرل ریلیٹی کے ذریعے مرکری کے مدار کے چھوٹے مگر مسلسل تغیر (Precession) کی پیش گوئی کی تھی۔ نئے نظریے میں، سورج کو ایک بڑا توانائی کا ٹکڑا اور مرکری کو ایک چھوٹا توانائی کا ٹکڑا ماڈل کر کے وہی نتائج حاصل ہوئے جو آئن اسٹائن نے پیش کیے تھے۔

روشنی کے خم کا حساب

اسی طرح نئی تھیوری نے روشنی کے خم (یعنی سورج کے قریب سے گزرتی روشنی کا خم کھانا) کے تجرباتی مشاہدات کو بھی حل کیا۔ وہاں سورج کو توانائی کا ٹکڑا سمجھا گیا، اور روشنی (Photon) کو ایک نہایت معمولی توانائی کے ٹکڑے کے طور پر ماڈل کر کے وہی خم حاصل ہوا جو جنرل ریلیٹی نے دیا تھا۔

یہ دونوں مشاہداتی عوامل ثابت کرتے ہیں کہ اگرچہ یہ نظریہ بالکل متفقہ نہیں ہوا، پھر بھی اس کا اطلاق معروف سائنسی نتائج پر ہو سکتا ہے، جو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

 عالمی پس منظر: دیگر جدید نظریات سے تقابل

سٹرنگ تھیوری اور کوانٹم کشش ثقل

ایک اور معروف نظریہ اسٹرنگ تھیوری ہے، جس کے مطابق کائنات کے بنیادی اجزاء توانائی کی لرزتی اسٹرنگز ہیں جو مختلف حالتوں میں لرز کر مختلف ذرات اور قوتیں پیدا کرتی ہیں۔

اسی طرحHorava–Lifshitz gravity جیسا نظریہ اسپیس ٹائم میں کوانٹم درجے پر وقت اور خلا کے مختلف رویوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

نئی نظریے کا امتیاز یہ ہے کہ وہ توانائی کے بہاؤ کو بنیادی سمجھتا ہے اور ذرات و موجوں کی دوہری فطرت کو ایک ساتھ ضم کرتا ہے، جو روایتی ماڈلز میں واضح طور پر تقسیم ہوتی ہے۔

سائنسی اور فلسفیانہ گہرائی

نئے نظریے کے مطابق توانائی کا تصور محض جوہری قوت نہیں بلکہ سارا طبیعیاتی ڈھانچا ایک مربوط توانائی کے بہاؤ کا نقشہ ہے۔ یہ سوچ ہمیں بتاتی ہے:

ذرات وہ نہیں جو نقطہ نما باشندے ہوں بلکہ توانائی کے مستقل بہاؤ میں مستحکم شکلیں ہیں۔

توانائی کبھی نہیں پیدا ہوتی یا ختم ہوتی وہ صرف بہتی ہے۔

وقت اور خلا خود توانائی کے بہاؤ کے اندر معنی پاتے ہیں یعنی وقت کا وجود بھی توانائی کی حرکت کے تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔

یہ نظریہ کائنات کی بنیادی حقیقت کو ایک سادہ مگر گہرائی میں معنی خیز فریم ورک میں پیش کرتا ہے، جو فلسفۂ طبیعات کو بھی وسعت دیتا ہے۔

مستقبل کے امکانات اور چیلینجز

تجرباتی جانچ

ابھی تک یہ نظریہ ریاضی اور حسابی ماڈلز میں قابلِ عمل دکھائی دیتا ہے، مگر اسے تجرباتی طور پر ثابت کرنا ایک بڑا چیلینج ہے۔ کوانٹم کشش ثقل، تاریک مادّہ و انرجی، اور ابتدائی کائنات کے ارتقاء جیسے موضوعات میں اس کی جانچ مستقبل کی تحقیق کا حصہ ہوسکتی ہے۔

 سائنسی کمیونٹی کی رائے

ہر نیا نظریہ سائنسی کمیونٹی میں بحث و تمحیص کے بعد اپنا مقام بناتا ہے۔ اس نظریہ پر بھی مختلف ماہرین نے مختلف انداز سے تبصرہ کیا ہے، اور اسے مزید تحقیق اور تجرباتی شواہد درکار ہیں۔

توانائی کے ٹکڑے اور کائنات کی نئی تصویر

یہ نئی تھیوری ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات صرف ذرات اور موجوں سے نہیں بلکہ توانائی کے بہاؤ اور ان کی مرکوز شکلوں سے بنی ہے۔ یہ نظریہ کلاسیکی طبیعیات، کوانٹم میکانیات، اور عمومی اضافیت کے درمیان ایک پْل بنانے کی کوشش کرتا ہے ایک ایسی کوشش جس سے سائنسی دنیا میں نئے سوالات اور نئے جوابات جنم لے رہے ہیں۔

اگرچہ ابھی یہ نظریہ روایتی ماڈلز کی طرح ساری دنیا میں مستند نہیں ہوا، مگر اس نے سوچنے کا ایک نیا زاویہ ضرور پیش کیا ہے جس سے قدرت، توانائی، وقت اور خلا کو دیکھا جا سکتا ہے ایسے تناظرات میں جو پہلے کبھی سامنے نہیں آئے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

بازار میں خاتون سے نازیبا حرکات کرنے والا گرفتار

Published

on



لاہور پولیس نے بازار میں خریداری کیلیے آئی خاتون کے ساتھ نازیبا حرکتیں کرنے والے ملزم کو چند گھٹوں میں گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق داتا دربار میں خریداری کیلیے آئی ہوئی خاتون کے ساتھ ملزم نے نازیبا حرکات کیں جس کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

ویڈیو وائرل ہونے پر ڈی آئی جی آپریشنز کامران نے نوٹس لیا اور ملزم کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی۔ 

جس کے بعد پولیس نے دیگر کیمروں سے فوٹیج نکال کر ملزم کو شناخت کیا اور پھر اُسے گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا۔

اس حوالے سے ایس پی سی ٹی نے بتایا کہ داتا دربار پولیس نے کاروائی کرتے ملزم ارسلان کو چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا، اوباش ملزم نے خریداری کرتی خاتون کے ساتھ فحش حرکت کی اور فرار ہو گیا۔

ایس پی سٹی کے مطابق ویڈیو میں ملزم کو فحش حرکات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا، جو کو ایس ایچ او عثمان یونس نے ٹیم کے ہمراہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا۔

ایس پی سٹی نے بتایا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایس پی نے بروقت کاروائی اور اوباش ملزم کی گرفتاری پر ایس ایچ او داتا دربار اور ٹیم کو شاباش دی اور کہاکہ خواتین کو ہراساں اور تنگ کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی ہے۔ 



Source link

Continue Reading

Today News

افغانستان میں اس وقت غیرقانونی حکومت ہے طالبان نے زبردستی قبضہ کیا ہوا ہے، عطا تارڑ

Published

on



اسلام آباد:

 

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان میں اس وقت غیرقانونی حکومت ہے اور طالبان نے زبردستی حکومت پر قبضہ کیا ہوا ہے، اسلام آباد کچہری اور ترلائی حملے میں افغانی ملوث تھے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے، پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی، افغانستان میں خواتین، بچے اور اقلیت محفوظ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اس وقت غیرقانونی حکومت ہے اور طالبان نے زبردستی حکومت پر قبضہ کیا ہوا ہے، اسلام آباد کچہری اور ترلائی حملے میں افغانی ملوث تھے، وہاں سے پاکستان میں دہشت گرد آرہے ہیں، پاکستان نے افغان جارحیت پر جوابی کارروائی کی اور انہیں موثر جواب دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں خواتین، بچے اور اقلیتیں بھی محفوظ نہیں، افغانستان میں خواتین کو حقوق نہیں دیے جارہے، وہاں 13 سال کی عمر کے بعد لڑکی کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں، ہائر سیکنڈری کے بعد وہ داخلہ نہیں لےسکتی، وہ کوئی ملازمت نہیں کرسکتی، وہ کوئی پیشہ اختیار نہیں کرسکتی، وہ عوام مقامات پر نہیں جاسکتیں اور جہاں وہ جاسکتی ہیں وہاں ان کے بولنے پر پابندی ہے اس کے لیے 3 ہزار افراد کی فورس بنائی گئی ہے کہ وہ موقع پر ہی خواتین کے خلاف کارروائی کرے۔





Source link

Continue Reading

Trending