Connect with us

Today News

وقت اور خلا کی نئی تصویر، توانائی کے بہاؤ کی بصیرت

Published

on


ایک نئی سوچ، ایک نیا زاویہ

سائنس داں ہمیشہ سے یہی تلاش کرتے آئے ہیں کہ کائنات کے سب سے بنیادی اجزاء کون سے ہیں؟ کلاسیکی طبیعیات نے ایک طرف مادّہ (matter) کے ذرات جیسے الیکٹران، پروٹون، نیوٹران کو بنیادی مانا، اور دوسری طرف توانائی کو طولانی موجیں کہہ کر بیان کیا۔ مگر بیسویں صدی میں کوانٹم تھیوری نے یہ ثابت کیا کہ ذرات اور موجیں ہمیشہ صاف الگ نہیں ہوتیں؛ روشنی اور دیگر ذرات کبھی ذرات کی طرح اور کبھی موج کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔

اب ایک نئی تھیوری سامنے آئی ہے جس کے مطابق شاید ان ذرات اور موجوں کے پیچھے بھی ایک اور بنیادی حقیقت موجود ہے یعنی توانائی کے ٹکڑے (Fragments of Energy) جو ساری کائنات کا حقیقی تعمیراتی بلاک ہو سکتے ہیں۔

 نظریے کا بنیادی خیال: توانائی کے بہاؤ اور ٹکڑے

نئی تھیوری کے خالقوں لاری سلوربرگ اور جیفری ایچن کے مطابق توانائی سارا عرصہ خلا اور وقت میں بہتی رہتی ہے۔ اس تصور کے مطابق:

توانائی خلا اور وقت کے اندر ایک مسلسل بہاؤ کی صورت میں ہوتی ہے۔ یہ بہاؤ لکیروں کی طرح ہے جو خلا میں کہیں سے شروع نہیں ہوتا، نہ ختم ہوتا ہے، اور ایک دوسرے کو کبھی کراس نہیں کرتے،

ان بہاؤ کی لکیروں کے اندر جو مرکوز، توانائی سے بھرپور حصہ ہوتا ہے، اسے توانائی کا ٹکڑا (Fragments of Energy) کہا جاتا ہے۔

یہ ٹکڑے نہ صرف ذرات کی طرح توانائی کو ایک نقطے کی صورت میں رکھتے ہیں بلکہ موجوں کی طرح وقت اور خلا میں پھیلے رہتے ہیں یعنی وہ ذرات اور موج دونوں کے صفات کا امتزاج ہیں۔

یہ ایک انقلابی فکر ہے۔ اب مادّہ صرف نقطے پر موجود ذرات سے بنایا نہیں جا رہا، بلکہ توانائی کے پوشیدہ بہاؤ اور ان کی مرکوز شکلوں سے سمجھا جا رہا ہے۔

 نظریاتی پس منظر: تاریخی سے دورِجدید تک

 ارسطو سے نیوٹن تک

قدیم یونانی فلسفہ کے مطابق کائنات پانچ بنیادی عناصر زمین، پانی، ہوا، آگ اور آسمانی ایتھر پر مبنی تھی۔ ارسطو کا یہ خیال تقریباً دو ہزار سال تک فزکس کا حصہ رہا۔ بعد میں سائنس نے مواد کو ذرات کی صورت میں دیکھا خصوصاً رابرٹ بوائل اور آئزک نیوٹن نے مادہ کو نقاط میں منقسم تصور کیا، جس نے کلاسیکی طبیعیات کا مرکز بنایا۔

 کوانٹم انقلاب

بیسویں صدی میں کوانٹم میکانیات نے ثابت کیا کہ روشنی اور مادّہ کبھی لہریں اور کبھی ذرات کی طرح عمل دکھاتے ہیں۔ ڈبل سلٹ تجربے نے اس حقیقت کو واضح طور پر ثابت کیا کہ ذرات اور موجیں دو قطعی الگ حیثیتیں نہیں رکھتیں۔

اسی دوران آئن اسٹائن نے عام نظریہ اضافیت پیش کیا، جس کے مطابق وقت اور خلا خمیدہ ہیں یعنی کشش ثقل خود وقت اور خلاء کے ڈھانچے کو موڑتی ہے۔

توانائی کے ٹکڑے: ذرات اور موجوں کا سنہری ملاپ

بنیادی تصور

سلوربرگ اور ایچن نے سوچا کہ شاید ذرات اور موجیں دونوں ہی توانائی کے بہاؤ کے اندر کی ساختیں ہیں۔ ان کے مطابق:

وہ حصہ جو توانائی کی لائن میں زیادہ مرکوز ہو اور مرکز سے باہر توانائی کم ہوتی جائے، وہ توانائی کا ٹکڑا ہے۔ یہ ٹکڑا ذرات اور موج دونوں ہی کی صفات کا حامل ہوسکتا ہے۔ یعنی جزوی طور پر پھیلا ہوا (موج کی طرح) اور جزوی طور پر مرکوز (ذرے کی طرح)۔

یہ تصور توانائی کو بنیادی جزو کے طور پر پیش کرتا ہے، جس سے مادّہ اور توانائی دونوں بْنے ہوئے ہیں۔

اس نظریے کے سائنسی اطلاقات اور جائزے

 مرکری کی مدار کی چھوٹی تبدیلی

آئن اسٹائن نے جنرل ریلیٹی کے ذریعے مرکری کے مدار کے چھوٹے مگر مسلسل تغیر (Precession) کی پیش گوئی کی تھی۔ نئے نظریے میں، سورج کو ایک بڑا توانائی کا ٹکڑا اور مرکری کو ایک چھوٹا توانائی کا ٹکڑا ماڈل کر کے وہی نتائج حاصل ہوئے جو آئن اسٹائن نے پیش کیے تھے۔

روشنی کے خم کا حساب

اسی طرح نئی تھیوری نے روشنی کے خم (یعنی سورج کے قریب سے گزرتی روشنی کا خم کھانا) کے تجرباتی مشاہدات کو بھی حل کیا۔ وہاں سورج کو توانائی کا ٹکڑا سمجھا گیا، اور روشنی (Photon) کو ایک نہایت معمولی توانائی کے ٹکڑے کے طور پر ماڈل کر کے وہی خم حاصل ہوا جو جنرل ریلیٹی نے دیا تھا۔

یہ دونوں مشاہداتی عوامل ثابت کرتے ہیں کہ اگرچہ یہ نظریہ بالکل متفقہ نہیں ہوا، پھر بھی اس کا اطلاق معروف سائنسی نتائج پر ہو سکتا ہے، جو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

 عالمی پس منظر: دیگر جدید نظریات سے تقابل

سٹرنگ تھیوری اور کوانٹم کشش ثقل

ایک اور معروف نظریہ اسٹرنگ تھیوری ہے، جس کے مطابق کائنات کے بنیادی اجزاء توانائی کی لرزتی اسٹرنگز ہیں جو مختلف حالتوں میں لرز کر مختلف ذرات اور قوتیں پیدا کرتی ہیں۔

اسی طرحHorava–Lifshitz gravity جیسا نظریہ اسپیس ٹائم میں کوانٹم درجے پر وقت اور خلا کے مختلف رویوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

نئی نظریے کا امتیاز یہ ہے کہ وہ توانائی کے بہاؤ کو بنیادی سمجھتا ہے اور ذرات و موجوں کی دوہری فطرت کو ایک ساتھ ضم کرتا ہے، جو روایتی ماڈلز میں واضح طور پر تقسیم ہوتی ہے۔

سائنسی اور فلسفیانہ گہرائی

نئے نظریے کے مطابق توانائی کا تصور محض جوہری قوت نہیں بلکہ سارا طبیعیاتی ڈھانچا ایک مربوط توانائی کے بہاؤ کا نقشہ ہے۔ یہ سوچ ہمیں بتاتی ہے:

ذرات وہ نہیں جو نقطہ نما باشندے ہوں بلکہ توانائی کے مستقل بہاؤ میں مستحکم شکلیں ہیں۔

توانائی کبھی نہیں پیدا ہوتی یا ختم ہوتی وہ صرف بہتی ہے۔

وقت اور خلا خود توانائی کے بہاؤ کے اندر معنی پاتے ہیں یعنی وقت کا وجود بھی توانائی کی حرکت کے تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔

یہ نظریہ کائنات کی بنیادی حقیقت کو ایک سادہ مگر گہرائی میں معنی خیز فریم ورک میں پیش کرتا ہے، جو فلسفۂ طبیعات کو بھی وسعت دیتا ہے۔

مستقبل کے امکانات اور چیلینجز

تجرباتی جانچ

ابھی تک یہ نظریہ ریاضی اور حسابی ماڈلز میں قابلِ عمل دکھائی دیتا ہے، مگر اسے تجرباتی طور پر ثابت کرنا ایک بڑا چیلینج ہے۔ کوانٹم کشش ثقل، تاریک مادّہ و انرجی، اور ابتدائی کائنات کے ارتقاء جیسے موضوعات میں اس کی جانچ مستقبل کی تحقیق کا حصہ ہوسکتی ہے۔

 سائنسی کمیونٹی کی رائے

ہر نیا نظریہ سائنسی کمیونٹی میں بحث و تمحیص کے بعد اپنا مقام بناتا ہے۔ اس نظریہ پر بھی مختلف ماہرین نے مختلف انداز سے تبصرہ کیا ہے، اور اسے مزید تحقیق اور تجرباتی شواہد درکار ہیں۔

توانائی کے ٹکڑے اور کائنات کی نئی تصویر

یہ نئی تھیوری ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات صرف ذرات اور موجوں سے نہیں بلکہ توانائی کے بہاؤ اور ان کی مرکوز شکلوں سے بنی ہے۔ یہ نظریہ کلاسیکی طبیعیات، کوانٹم میکانیات، اور عمومی اضافیت کے درمیان ایک پْل بنانے کی کوشش کرتا ہے ایک ایسی کوشش جس سے سائنسی دنیا میں نئے سوالات اور نئے جوابات جنم لے رہے ہیں۔

اگرچہ ابھی یہ نظریہ روایتی ماڈلز کی طرح ساری دنیا میں مستند نہیں ہوا، مگر اس نے سوچنے کا ایک نیا زاویہ ضرور پیش کیا ہے جس سے قدرت، توانائی، وقت اور خلا کو دیکھا جا سکتا ہے ایسے تناظرات میں جو پہلے کبھی سامنے نہیں آئے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آپریشن غضب للحق، خیبرپختونخوا میں ہائی الرٹ، مساجد انتظامیہ کیساتھ رضاکار ٹیمیں بنانے کی ہدایت

Published

on



پاک افغان کشیدگی کے دوران امن و امان کو برقرار رکھنے کیلیے خیبر پختونخوا پولیس کو ہائی الرٹ کردیا گیا جبکہ آئی جی نے  رمضان میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے صوبہ بھر کے ریجنل پولیس افسران اور ضلعی پولیس افسران کو ہدایت کی ہے کہ امن و امان کو درپیش موجودہ چیلنجز اور رمضان المبارک کے دوران ممکنہ خطرات کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت، مربوط اور مؤثر بنایا جائے۔

انہوں نے سنٹرل پولیس آفس پشاور سے جاری احکامات میں کہا کہ دہشت گرد عناصر مایوسی کے عالم میں پرامن عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، تاہم پولیس ہر قیمت پر ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنائے گی اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

آئی جی پی نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ خود فیلڈ میں مو جود رہ کر اپنی ٹیموں کی قیادت کریں، سرحد پار کشیدگی اور حالیہ واقعات کے تناظر میں جامع حکمت عملی ترتیب دیں اور ممکنہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات اٹھائیں۔

انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران مساجد کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر رضا کار ٹیمیں تشکیل دینے، نماز، تراویح اور جمعہ کے اجتماعات کے موقع پر داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی سخت کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔

آئی جی نے ہائی الرٹ پیٹرولنگ، موبائل اور پیدل گشت میں اضافے، چیک پوسٹوں پر تعینات اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ سے لیس کرنے، اہم شاہراہوں اور افطاری کے اوقات میں خصوصی گشت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے ایس ڈی پی اوز کو رش کے اوقات میں خود نگرانی کرنے اور عوامی و تفریحی مقامات پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

آئی جی پی نے مزید ہدایت کی کہ اہم تنصیبات، عبادت گاہوں، بازاروں، ہسپتالوں، پیٹرول پمپوں، بینکوں، مالیاتی اداروں اور دیگر حساس مقامات کی خصوصی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے جبکہ ہوٹلوں، سراؤں اور گیسٹ ہاؤسز کی باقاعدہ چیکنگ کا عمل تیز کیا جائے۔

انہوں نے عوام سے قریبی رابطہ رکھنے، مشتبہ سرگرمی یا اشیاء کی فوری اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دینے اور کمیونٹی پولیسنگ کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔

ذوالفقار حمید کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکی ہے اور اس بار بھی دشمن کو ذلت آمیز شکست دے کر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوائے گی۔

انہوں نے شہداء کو قوم کے محسن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس کا ہر جوان ان کی قربانیوں کو مشعل راہ بنا کر امن دشمنوں اور دہشت گردی کے عفریت کا جڑ سے خاتمہ کرے گا۔



Source link

Continue Reading

Today News

حکومت کا ہفتہ وار مہنگائی میں کمی کا دعویٰ

Published

on



وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں ایک ہفتے اضافے کے بعد پھر سے مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح میں کمی ہوگئی ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے ہفتہ وار مہنگائی میں 0.54 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور سالانہ بنیاد پر بھی مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح 5.19 فیصد سے کم ہوکر 4.23فیصد ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے 13 اشیائے ضروریہ مہنگی، 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی جبکہ 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق انڈے 3.43 فیصد، پیاز 7.44فیصد، آلو 10.62 فیصد، ٹماٹر29.67 فیصد، چکن 9.03 فیصد، چینی کی قیمت میں 0.79 فیصد، بریڈ کی قیمت میں 1.12 فیصد اور آٹے کی قیمتوں میں 1.39 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق لہسن کی قیمت میں 0.81 فیصد، لانگ کلاتھ کی قیمت میں 0.70 فیصد، دال ماش کی قیمت میں 0.40 فیصد، مٹن کی قیمت میں 0.63 فیصد، بیف کی قیمت میں 0.25 فیصد، پاؤڈر دودھ کی قیمت میں 0.26 فیصد، کیلے کی قیمت میں 4.49 فیصد اور دہی کی قیمت میں 0.25 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیاد پر 17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.71 فیصد کمی کے ساتھ 4.37 فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.68 فیصد کمی کے ساتھ 5.66 فیصد اور 22 ہزار 889 روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.60فیصد کمی کے ساتھ4.58فیصد رہی۔

اسی طرح 29 ہزار 518 روپے سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.59 فیصد کمی کے ساتھ 3.76 فیصد اور 44 ہزار 176 روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.47 فیصد کمی کے ساتھ تین فیصد رہی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے شروع، محمود اچکزئی اور رانا ثنا اللہ کے درمیان ملاقات

Published

on



اسلام آباد:

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کا باضابطہ آغاز ہوگیا اور پہلا رابطہ بھی سامنے آگیا، جس میں محمود خان اچکزئی اور رانا ثنا اللہ کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں تفصیلی ملاقات ہوئی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات پارلیمنٹ ہاؤس کی لائبریری میں ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں نے موجودہ سیاسی صورتحال، اپوزیشن اتحاد کے مطالبات اور ممکنہ مذاکراتی فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گفتگو کے دوران وزیراعظم پاکستان اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ممکنہ ملاقات کے ایجنڈے پر بھی مشاورت کی گئی۔ اس سلسلے میں باہمی اعتماد سازی، سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور پارلیمنٹ کے فورم کو مؤثر بنانے پر اتفاقِ رائے کی کوشش کی گئی۔

ملاقات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق امور اور ان کے علاج و سہولیات کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے اس معاملے پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جبکہ حکومتی نمائندے نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس موقع پر قومی اسمبلی کے چیف وہپ طارق فضل چوہدری بھی موجود تھے، جنہوں نے دونوں اطراف کے مؤقف کو قریب لانے میں کردار ادا کیا۔

ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں اعلیٰ سطح ملاقات متوقع ہے جس میں باقاعدہ مذاکراتی ایجنڈا طے کیے جانے کا امکان ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending