Today News
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے شروع، محمود اچکزئی اور رانا ثنا اللہ کے درمیان ملاقات
اسلام آباد:
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کا باضابطہ آغاز ہوگیا اور پہلا رابطہ بھی سامنے آگیا، جس میں محمود خان اچکزئی اور رانا ثنا اللہ کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں تفصیلی ملاقات ہوئی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات پارلیمنٹ ہاؤس کی لائبریری میں ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں نے موجودہ سیاسی صورتحال، اپوزیشن اتحاد کے مطالبات اور ممکنہ مذاکراتی فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گفتگو کے دوران وزیراعظم پاکستان اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ممکنہ ملاقات کے ایجنڈے پر بھی مشاورت کی گئی۔ اس سلسلے میں باہمی اعتماد سازی، سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور پارلیمنٹ کے فورم کو مؤثر بنانے پر اتفاقِ رائے کی کوشش کی گئی۔
ملاقات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق امور اور ان کے علاج و سہولیات کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے اس معاملے پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جبکہ حکومتی نمائندے نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس موقع پر قومی اسمبلی کے چیف وہپ طارق فضل چوہدری بھی موجود تھے، جنہوں نے دونوں اطراف کے مؤقف کو قریب لانے میں کردار ادا کیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں اعلیٰ سطح ملاقات متوقع ہے جس میں باقاعدہ مذاکراتی ایجنڈا طے کیے جانے کا امکان ہے۔
Today News
غزہ کا لڑکھڑاتا ہوا رمضان
غزہ میں کم ازکم یہ رمضان ایک ایسے وقت آیا ہے جب وہاں لگاتار بم نہیں برس رہے۔مگر باقی زمینی مصائب جوں کے توں ہیں۔وہ الگ بات کہ جنگ بندی کے دھوکے میں آنے والے میڈیا کی توجہ ان مسائل سے کسی حد تک ہٹ سی گئی ہے باوجودیکہ ہر دوسرے تیسرے دن دس بارہ لوگ اسرائیلی حملوں میں مر رہے ہیں۔
آج بھی تئیس لاکھ میں سے کم ازکم چودہ لاکھ افراد اپنی ہی زمین پر دربدر ہو کر لگ بھگ ایک ہزار مقامات پر ہجومی انداز میں زندگی گذار رہے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ شائد زندگی انھیں گذار رہی ہے۔
یو این نیوز نے غزہ میں رمضان کی انسانی تصویر کھینچی ہے۔ مثلاً ولید العاصی غزہ شہر کے وسطی الذرقا محلے میں اپنے ہی گھر کے ملبے پر کپڑے اور پلاسٹک شیٹوں سے اٹھائی گئی جھونپڑی میں کنبے کے ساتھ شب و روز کاٹ رہے ہیں۔ولید نے بتایا کہ میں نے اپنی پوتی سے وعدہ کیا تھا کہ رمضان شروع ہوتے ہی تمہیں بازار گھمانے لے جاؤں گا۔آج میں اسے سیر پر لے گیا۔بہت سی چیزیں دیکھ کے اس ننھی سی بچی کا دل للچایا مگر اسے بھی شائد اندازہ ہے کہ ہم میں کچھ بھی خریدنے کی سکت نہیں لہذا وہ چپ چاپ میری انگلی پکڑ کے چلتی رہی۔ میں بھی اسے ادھر ادھر کی باتوں میں لگا کر واپس لے آیا۔مگر تب سے ایک طرح کے احساسِ ندامت سے گذر رہا ہوں۔
کچھ ہی فاصلے پر ایک اور جھونپڑی میں رہنے والی خاتون امل السامری اور ان کے شوہر نے تین بچوں کی خاطر رمضان کا ’’ ماحول ‘‘ محسوس کروانے کے لیے اچھے سے جھونپڑی کی صفائی کی اور پانی کی شدید قلت کے باوجود یکم رمضان کو بچوں کو دھلے ہوئے کپڑے پہنائے۔
امل السامری کو تین برس پہلے کا پرامن رمضان ایسے لگتا ہے گویا تین صدیوں پہلے کی بات ہو۔تب کیسے سب مل کے بازار جاتے تھے۔آرائشی قمقمے خریدتے تھے۔رمضان میں ہی بننے والی روائیتی مٹھائیاں کھاتے بھی تھے اور رشتے داروں کو بھی بھیجتے تھے۔ فجر کی اذان تک چہل پہل اور پھر آرام۔پچھلے ماہ طوفانی بارشیں جھونپڑی اڑا لے گئیں۔نئی بنانے میں بہت وقت لگا۔بجلی اور صاف پانی تو مدت سے ایک خواب ہیں۔روایتی قمقموں کی قیمت دوگنی تگنی ہے۔پھر بھی اکا دکا تباہ شدہ گھروں اور خیموں کے باہر گھپ اندھیرے میں اپنی چمکیلی پٹیوں کے سبب یہ قمقمے روشنی کا گمان پیدا کرتے ہیں۔اردگرد کے بچے ان کے گرد پتنگوں کی طرح جمع ہو جاتے ہیں اور کچھ دیر کے لیے اپنا آپ بھول جاتے ہیں۔ جو بھی چھوٹا موٹا بازار ان خیمہ بستیوں اور کھنڈروں کے درمیان پیدا ہو گیا ہے۔بچے وہاں کا چکر لگا کے من بہلا لیتے ہیں۔
غزہ میں کرسمس ہو یا رمضان ، خوشیاں مشترک ہیں۔ماہر ترزی فلسطینی مسیحی ہیں اور عمر کی پچھتر چھہتر بہاریں دیکھ چکے ہیں۔وہ شام گئے زاویہ مارکیٹ میں نکل آتے ہیں۔بچے ان کو گھیر لیتے ہیں اور پھر سب مل کے گیت گاتے ہیں ’’ کیسی خوبصورت روشن رات ہے ، ستاروں کے جھرمٹ میں چاند بھی مسکرا رہا ہے…
ماہر ترزی کہتے ہیں کہ زندگی میں اتنا کچھ دیکھ لیا ہے کہ اب کسی بات پر حیرت نہیں ہوتی۔ زندہ رہنا شرط ہے۔یہ دن بھی گذر ہی جائیں گے۔
غزہ میں بنیادی خوراک کے نرخ نامے کا ڈھائی سال پہلے سے موازنہ کیا جائے تو تصویر واضح ہو جائے گی کہ رمضان کیسا گزر رہا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق مرغی کا گوشت اسی فیصد ، فروزن مچھلی ایک سو نوے فیصد ، فروزن بیف پچھتر فیصد ، انڈہ ایک سو ستر فیصد ، کھیرا تین سو فیصد ، ٹماٹر سو فیصد ، آلو سڑسٹھ فیصد ، چاول پچاس فیصد ، زرد پنیر سو فیصد اور خوردنی تیل اسرائیل کے مقابلے میں غزہ میں سو فیصد مہنگا ہے۔یعنی چھ نفوس پر مشتمل کنبے کو مناسب افطار تیار کرنے کے لیے پچاس ڈالر کے مساوی رقم درکار ہے۔یہ بجٹ ڈھائی برس پہلے کے مقابلے میں نوے فیصد زائد ہے۔
لوگوں کی قوتِ خرید کی کیا حالت ہے ؟ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر دو ہزار تئیس تک فی کس سالانہ آمدنی ساڑھے بارہ سو ڈالر تھی جو اب ایک سو اکسٹھ ڈالر ہے۔کاروبار ، ماہی گیری اور زراعت برباد ہو چکے لہذا بے روزگاری کا تناسب پچانوے فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ غالباً دنیا میں سب سے زیادہ ۔مگر لوگ روزگار کے امکانات بھول بھال کر اس فکر میں ہیں کہ کل بچوں کے لیے کچھ کھانے کو ملے گا کہ نہیں۔
غزہ کو اس وقت خوراک اور رسد سے بھرے کم ازکم ایک ہزار مال بردار ٹرک روزانہ درکار ہیں۔دس اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کے مطابق اسرائیل چھ سو ٹرکوں کو اجازت دینے کا پابند ہے۔مگر روزانہ دو سو سے ڈھائی سو ٹرک ہی غزہ میں داخل ہو پا رہے ہیں ۔ صرف دس مقامی تاجروں کو چار اسرائیلی کمپنیوں سے سامانِ خورد و نوش اور روزمرہ استعمال کا سامان خریدنے کی اجازت ہے۔اب یہ اجارہ دار کمپنیاں اور تاجر جتنی چاہیں قیمت وصول کریں کوئی پوچھنے والا نہیں۔
اسرائیل بار بار کے بین الاقوامی مطالبات کے باوجود پانچ مہینے سے غزہ کی گذرگاہیں پوری طرح نہیں کھول رہا۔کیونکہ پھر رسد کی مقدار بڑھ جائے گی اور مسابقت کے سبب چیزیں سستی ہوں گی۔جب فلسطینیوں کا پیٹ بھرے گا تو وہ زیادہ شدت سے آزادی اور غلامی کا موازنہ کرنے لگیں گے اور فلسطینیوں کی گردن پر گرفت ذرا بھی ڈھیلی پڑ جائے ، یہ نہ تو اسرائیل کو منظور ہے اور نہ ہی اس کے مددگاروں کو۔ان حالات میں اہلِ غزہ کی عید کیسے گذرے گی۔یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں۔مگر خودداری کا یہ عالم ہے کہ غزہ کے سماج میں بے سروسامانی کے باوجود جو حرکتیں قابِل نفرین سمجھی جاتی ہیں ان میں سب سے اوپر بھکاریوں کی طرح کسی کا کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا ہے۔ان بے آسرا بستیوں کے رمضان میں شائد ہی کہیں ایسا کوئی منظر نظر آئے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
پاک ترکیہ زرعی تعاون اور کسانوں کی امید
پاکستان، ترکیہ زرعی معاہدہ بہ ظاہر ایک روشن تصویر ہے، ترکیہ کا زرعی تجربہ واقعی قابل رشک ہے۔ گرین ہاؤس فارمنگ، ڈرپ ایری گیشن، ہائی ویلیو سبزیاں، فوڈ پروسیسنگ، کولڈ اسٹوریج اور یورپی معیارکی برآمدات اور بہت کچھ ترکیہ کی زراعت کے پاس ہے اور پاکستان کے پاس زمین تو ہے زرخیز، مگر ناکافی پانی کے ساتھ اور کبھی شدید پانی کی طلب کے ساتھ محنت ہے لیکن وہ صحیح جگہ استعمال نہیں ہو رہی۔ غیر پیداواری کاموں میں محنت ضایع ہو رہی ہے اور پاکستان میں زراعت کا مسئلہ کم پیداوار نہیں بلکہ کم انصاف یا ناانصافی ہے، یہاں فصل کسان پیدا کرتا ہے اور آڑھتی اس کی قیمت طے کرتا ہے۔ یہاں گندم وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے لیکن مافیا کے میدان میں قید ہو جاتی ہے۔ کہیں سرکاری گوداموں میں ضایع ہو جاتی ہے، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں، اکثر چھوٹی سی خبر چھپ جاتی ہے کہ اتنے ہزار ٹن گندم بارش کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے یا نامعلوم وجہ سے ضایع ہوگئی۔
ہم زراعت کو ریڑھ کی ہڈی توکہتے ہیں مگر حقیقت میں یہ ریڑھ کی ہڈی اب جھک گئی ہے کیونکہ اس کے اوپر قرضوں کا بوجھ لدا ہوا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں غریب کسانوں کی زندگی کا حساب یوں عذاب میں بدل چکا ہے یعنی بیج، قرض، کھاد، قرض، ڈیزل، ٹیوب ویل، فصل کی قیمت آڑھتی طے کرے گا اور منافع جس کا خواب اب اگلے سال کے لیے کسان دیکھے گا اور کسان کے پاس حسرت ناکامی ہے۔
البتہ پاک ترکیہ زرعی تعاون کی باتوں سے اسے کامیابی کی امید نظر آنے لگی ہے،کیونکہ ترکیہ کی جدید زرعی ٹیکنالوجی پاکستانی کسانوں کے لیے ایک موقعہ ہے لیکن اس کے ساتھ ایک خدشہ بھی ہے اگر یہ ٹیکنالوجی صرف بڑے زمینداروں کے پاس رہی تو یہ موقع ایک نئی طبقاتی دیوار بن جائے گا،کیونکہ یہاں جو بھی نئی ٹیکنالوجی آئے گی اس کے لیے سرمایہ چاہیے، بڑی رقم چاہیے وہ غریب کسان کے پاس ہے نہیں۔ اس کے ہاتھ خالی ہیں، ایسے میں پھر سرمایہ دار اس کا حق چھین کر لے جائے گا۔ یہ تعاون کا منصوبہ بہت زیادہ احتیاط طلب کرتا ہے کیونکہ بڑے زمیندار سرمایہ کی بدولت جدید فارمنگ کریں گے۔ ملکی پیداوار تو بڑھے گی لیکن چھوٹا زمیندار پرانی کھیتی کرتا رہ جائے گا۔ اس کی پیداوار کم ہوگی اور زرعی عدم مساوات بڑھ جائے گی، لہٰذا حکومت کو اس جانب توجہ دینا ہوگی کہ احتیاط کا دامن نہ چھوٹے اور اصلاح احوال کس طرح کی جائے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں زرعی مارکیٹ کا آزاد نظام نہیں بلکہ ایک طاقتور گروپ کے ہاتھ میں ہے۔ یہاں قیمتوں کا تعین ڈیمانڈ، سپلائی سے نہیں بلکہ گودام کی چابی سے زیادہ طے کی جاتی ہے۔ ترکیہ کے ساتھ زرعی تعاون کے نتیجے میں پیداوار میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور خوراک کی مہنگائی کم ہو سکتی ہے لیکن ذخیرہ اندوزی برقرار رہی تو مہنگائی برقرار رہے گی۔ پاکستان اس وقت خام مال زیادہ بیچ رہا ہے اور کم ڈالر کما رہا ہے۔ پاکستان اپنی سبزیوں پھلوں وغیرہ کو ویلیو ایڈڈ میں تبدیل کرکے برآمد کرے۔ ترکیہ اس میدان میں ماہر ہے اگر پاکستان نے اس سے سیکھ لیا تو یہ معاہدہ ڈالر کمانے کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس زرعی منصوبے کو ترقیاتی منصوبہ کہا جائے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بڑے لوگ زیادہ فائدے میں رہیں گے۔ سرمایہ کے بل بوتے پر مشینری کی درآمد بڑھے گی اور چند گروہ فائدے میں رہیں گے اور کسان کی فصل، سبزیاں، پھل وغیرہ کی قیمتیں وہی طے کریں گے جو پہلے کرتے تھے۔
پاکستان کا کسان موسم کی سختی، پانی کی کمی بیشی، کھاد کے کم یا زیادہ ڈالنے، بیج ناقص ہو یا اصلی ہو، وہ صرف اس بات سے ڈرتا ہے کہ فصل کم ہو یا زیادہ قیمت کا تعین کرنے والا اپنا فائدہ دیکھتے دیکھتے اسے شدید نقصان سے دوچار کرجاتے ہیں کیونکہ یہاں کا نظام بے حس ہو چکا ہے۔
پاکستان ترکیہ زرعی تعاون کو جب ہی چھوٹے کسانوں کے لیے فائدہ مند سمجھا جائے گا جب یہ معاملہ صرف ٹیکنالوجی کا نہ ہو بلکہ انصاف کا معاملہ ہو۔ یہ زرعی پیداوار بڑھانے کے ساتھ دیہی معیشت کی بقا سے جڑا ہوا ہو۔ برآمدات میں اضافے کے ساتھ عوام کے لیے مہنگائی میں کمی بھی لے کر آئے، اگر حکومت نے اسے عوام دوست اور کسان کے لیے فائدے کی شکل میں ڈھال دیا تو چھوٹے کسانوں کی حالت بدلی جا سکتی ہے، اگر یہ منصوبہ دیگر مافیاز کے پاس چلا گیا تو قوم کو صرف ایک اعلان ملے گا اور کسان کے سر پر مزید قرض کا بوجھ۔ لہٰذا مجوزہ پاک ترکیہ زرعی تعاون کو بہت زیادہ چھوٹے کسان دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں زیادہ عمل دخل سرمائے کا ہے، لہٰذا چھوٹے کسانوں کے فائدے کے لیے جب ہی ڈھالا جا سکتا ہے جب ان تمام مسائل کا حل نکالا جائے۔ یہ تعاون ایک شاہکار تعاون میں اسی وقت بدل سکتا ہے جب مہنگائی بھی کم ہو اور کسان جو امید لگائے بیٹھا ہے اس کی امید بھی پوری ہو۔
یہ معاہدہ صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں، غریب کسانوں کے لیے ایک نئی صبح کا پیغام ہے جہاں کھیتوں سے امید کی کرن پھوٹے گی اور خوشحالی کے سبز خواب حقیقت کا روپ دھاریں گے۔ یہ ان تھکے ہارے ہاتھوں کو تھامنے والا سہارا ہے۔ اب انھیں ترکیہ کے ساتھ مل کر پیداوار سے بھرپور ایک روشن صبح کی امید نظر آ رہی ہے لیکن خدشات بھی بہت ہیں شاید وہ حکومت کو نظر آ جائیں۔
Today News
سوات؛ غیرقانونی مقیم افغان مہاجرین کیخلاف کریک ڈاؤن، 79 افراد کو حراست میں لیا گیا
سوات میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف ضلعی پولیس نے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران مختلف علاقوں سے 79 غیرقانونی مقیم افغان مہاجرین کو حراست میں لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد قانونی دستاویزات کے بغیر ضلع میں مقیم تھے۔
پولیس نے بتایا کہ گرفتار افراد کے خلاف فارن ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
حکام کے مطابق زیرحراست افغان مہاجرین اور ان کے اہلخانہ کو قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد ملک بدر کیا جائے گا جبکہ ضلع بھر میں غیرقانونی مقیم افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Entertainment5 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News1 week ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Tech1 week ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models