Today News
پشاور، تھانے پر دہشتگردوں کا حملہ، پولیس کی بروقت کارروائی
متنی تھانے پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تاہم پولیس نے حملے کو پسپا کردیا تاہم فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
پولیس کے مطابق پشاور کے متنی تھانے پر دہشت گردوں نے حملہ کیا جبکہ پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ پسپا کر دیا۔
پولیس نے بتایا کہ پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
اس سے قبل پشاور کے تھانہ بڈھ بیر پرنامعلوم افراد نے دستی بم حملہ کیا جہاں نامعلوم افراد ہینڈ گرنیڈ پھینک کر فرار ہو گئے۔
پولیس نے بتایا کہ اس واقعے میں ایک کانسٹیبل زخمی ہوا ہے۔
Today News
بھارتی مصنوعی ذہانت کا میلہ یا نظم و نسق کا امتحان؟
عصرِ حاضر میں اقوام کی برتری کا پیمانہ صرف عسکری قوت یا معاشی حجم نہیں رہا بلکہ علم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی میں سبقت نے عالمی قیادت کا معیار متعین کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایشیا سے یورپ تک ہر ریاست اس جستجو میں مصروف ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور اختراعی صنعتوں کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرے۔ مگر کسی بھی بین الاقوامی ٹیکنالوجی سمٹ کی کامیابی محض دلکش نعروں، بلند آہنگ اعلانات اور معروف شخصیات کی موجودگی سے وابستہ نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل بنیاد منظم حکمتِ عملی، شفاف نظم و نسق، پیشہ ورانہ تیاری اور اعتماد کی فضا پر استوار ہوتی ہے۔
حالیہ بھارتی اے آئی سمٹ کے حوالے سے عالمی خبر رساں ادارے Reuters کی رپورٹنگ نے کئی ایسے پہلو نمایاں کیے جنہوں نے اس تقریب کی انتظامی استعداد پر سوالات اٹھا دیے۔ سب سے نمایاں واقعہ اس وقت پیش آیا جب عالمی سطح کی ممتاز شخصیات نے عین آخری لمحوں میں اپنی شرکت منسوخ کر دی۔
Bill Gates، جو مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور ٹیکنالوجی دنیا کی ایک بااثر آواز سمجھے جاتے ہیں، نے اپنے طے شدہ کلیدی خطاب سے چند گھنٹے قبل عدم شرکت کا اعلان کیا۔ اس کے بعد Jensen Huang کی منسوخی کی خبر بھی منظرِ عام پر آئی۔ ایسے بڑے ناموں کی غیر موجودگی کسی بھی عالمی فورم کے لیے محض علامتی دھچکا نہیں بلکہ ساکھ، توجہ اور سرمایہ کارانہ اعتماد پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ جب اسٹیج پر قیادت کی نمائندگی کمزور پڑ جائے تو پورا ایونٹ اپنی معنوی قوت کھو بیٹھتا ہے۔
علاوہ ازیں رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا کہ انتظامی سطح پر متعدد کوتاہیاں رہیں۔ نمائشی ہالوں کو اچانک بند کرنا، شرکت کرنے والی کمپنیوں کو بروقت اور واضح معلومات فراہم نہ کرنا، اور بعض اسٹالز کا غیر متوقع طور پر ہٹا لیا جانا،یہ سب ایسے عوامل ہیں جو منصوبہ بندی کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ خاص طور پر ایک روبوٹک کتے کے تنازع کے بعد گالگوٹیا کی جانب سے اسٹال ہٹانے کا واقعہ اس امر کی علامت بن گیا کہ بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی کمزور تھی۔ جب نمائش کنندگان، جو اپنی تحقیق، مصنوعات اور خواب لے کر آتے ہیں، غیر یقینی کیفیت کا شکار ہوں تو یہ مستقبل کے شراکت داروں کے لیے بھی منفی پیغام بن جاتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا میں ایک اور پہلو نے خاصی توجہ حاصل کی اور وہ مبینہ طور پر نقل شدہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہے جس میں ایک چینی روبوٹ کے استعمال کا ذکر کیا گیا۔ مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں اصل تحقیق، دانشورانہ دیانت اور اختراعی خودمختاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کسی پلیٹ فارم کے بارے میں یہ تاثر ابھرے کہ وہاں جدت کی بجائے نقالی یا غیر شفاف ذرائع سے کام لیا جا رہا ہے تو اس کا اثر صرف ایک تقریب تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے ٹیکنالوجی ایکوسسٹم پر پڑتا ہے۔انتظامی چیلنجز صرف نمائش گاہ تک محدود نہ رہے۔
شہری سطح پر بھی مشکلات کی اطلاعات سامنے آئیں۔ وی آئی پیز کی نقل و حرکت کے باعث سڑکوں کی بندش، ٹریفک کا شدید دباؤ، اور شرکاء کو ٹیکسی یا شٹل کی عدم دستیابی کے سبب طویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے،یہ سب ایسے مسائل ہیں جو کسی بھی عالمی کانفرنس کے تجربے کو متاثر کرتے ہیں۔ جب شرکاء بنیادی سہولیات کے حصول میں الجھ جائیں تو علمی مباحث، کاروباری روابط اور تحقیقی تبادلے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
ابتدائی ہجوم کے بعد مقامِ تقریب کا نسبتاً خالی نظر آنا بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا سیشنز میں تسلسل کی کمی تھی؟ کیا مقررین کا انتخاب اور موضوعات کی گہرائی شرکاء کو مکمل دورانیے تک متوجہ رکھنے میں ناکام رہی؟ عالمی معیار کے سمٹس میں مواد کی سنجیدگی، مکالمے کی وسعت اور نیٹ ورکنگ کے بامعنی مواقع وہ عناصر ہوتے ہیں جو حاضرین کو اختتام تک وابستہ رکھتے ہیں۔ اگر پروگرام کی ساخت میں ربط نہ ہو تو جوش و خروش وقتی ثابت ہوتا ہے۔مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے جڑے توانائی اور وسائل کے مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اے آئی انفراسٹرکچر، ڈیٹا سینیٹرز اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے لیے درکار بھاری بجلی اور پانی مستقبل میں دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ معاملہ محض ایک ایونٹ کا نہیں بلکہ قومی پالیسی، پائیدار توانائی حکمتِ عملی اور آبی نظم و نسق سے جڑا ہوا ہے۔ اگر گرڈ کی مضبوطی، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور وسائل کے مؤثر استعمال پر ہمہ گیر توجہ نہ دی جائے تو ٹیکنالوجی کے بلند بانگ عزائم عملی رکاوٹوں سے ٹکرا سکتے ہیں۔
سیاسی سطح پر بھی اس سمٹ نے بحث کو جنم دیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے انتظامی نقائص پر تنقید اور انجینئرز و شرکاء کو طویل فاصلہ پیدل چلنے پر مجبور کیے جانے کے بیانات نے اس تقریب کو داخلی سیاست کا موضوع بنا دیا۔ جب کوئی بین الاقوامی پروگرام توقعات پر پورا نہ اترے تو وہ محض ٹیکنالوجی کانفرنس نہیں رہتا بلکہ حکومتی کارکردگی کی علامت سمجھا جانے لگتا ہے۔ مزید یہ کہ ای میل انکشافات اور اعلیٰ شخصیات کی شرکت سے متعلق متضاد اطلاعات نے اعتماد کے مسئلے کو گہرا کیا۔ کسی بھی بڑے ایونٹ میں بروقت، شفاف اور ہم آہنگ ابلاغ بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے، اگر معلومات میں تضاد ہو یا آخری لمحوں کی تبدیلیوں کو مؤثر انداز میں نہ سنبھالا جائے تو افواہیں جنم لیتی ہیں اور ساکھ مجروح ہوتی ہے۔
ان تمام پہلوؤں کو یکجا کیا جائے تو تصویر یہ بنتی ہے کہ بھارتی اے آئی سمٹ انتظامی ہم آہنگی، پیشگی منصوبہ بندی، بحران مینجمنٹ اور مؤثر مواصلات کے میدان میں نمایاں آزمائش سے دوچار رہا۔ بھارت جیسے ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی مرکز کے لیے یہ واقعہ محض تنقید کا باب نہیں بلکہ سیکھنے کا موقع بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ان خامیوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے، احتساب کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور آیندہ کے لیے اصلاحی اقدامات متعارف کرائے جائیں تو یہی تجربہ مستقبل کی کامیابیوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔ عالمی اے آئی دوڑ میں سبقت کا انحصار صرف وژن اور بیانیے پر نہیں بلکہ اس وژن کو مؤثر حکمتِ عملی، دیانت دارانہ طرزِ عمل اور عملی مہارت کے ساتھ نافذ کرنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ قومیں خوابوں سے نہیں، نظم و ضبط اور مسلسل بہتری سے ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔
Today News
پشاور، بنوں اور ہنگو میں پولیس چوکیوں پر دہشتگردوں کے حملے، جوابی کارروائی میں حملہ آور فرار
خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں پشاور، بنوں اور ہنگو میں پولیس چوکیوں اور تھانوں پر دہشتگردوں نے حملے کیے تاہم پولیس کی بروقت جوابی کارروائی کے نتیجے میں حملہ آوروں کو فرار ہونے پر مجبور کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق پشاور میں تھانہ بڈھ بیر اور متنی سرہ خوارہ پولیس چوکی پر دستی بموں سے حملے کیے گئے۔ پہلے حملے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا جبکہ دوسرے حملے میں ایک اہلکار سمیت سات افراد زخمی ہوئے۔ اس طرح مجموعی طور پر دو پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد زخمی ہوئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرہ خوارہ چوکی میں اس وقت جرگہ جاری تھا جب دستی بم حملہ کیا گیا۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے بھرپور جوابی فائرنگ کی جس پر ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ادھر بنوں میں کاشو پُل پولیس چوکی پر بھی دہشتگردوں نے حملہ کیا جسے ناکام بنا دیا گیا۔ کنگر پولیس چوکی پر بھی فائرنگ کی گئی تاہم پولیس کی مؤثر جوابی کارروائی کے باعث حملہ آور فرار ہوگئے۔
ڈی پی او یاسر آفریدی کے مطابق بنوں شہر میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ تمام اہم شاہراہوں اور چوکوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
ہنگو میں قاضی تالاب کے مقام پر پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ ڈی پی او کے مطابق پولیس نے فوری ردعمل دیتے ہوئے حملہ پسپا کر دیا اور دہشتگرد فرار ہوگئے۔
مزید برآں کوہاٹ میں بھی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور شہر کے تمام داخلی راستوں پر پولیس چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
Source link
Today News
سیاہ انقلاب ، سفید انقلاب اورسرخ انقلاب
نام تو ان کا کوئی اورتھا لیکن لالہ کے نام سے مشہور تھا ، میں اسے کامریڈلالہ کہتا تھا، ہمیشہ ایک خاکی رنگ کا تھیلا اس کے کاندھے پرلٹکا ہوتا تھا یا کہیں جاتے ہوئے یاکہیں سے آتے ہوئے پوچھا جاتا کہ لالہ کہاں جارہے یا کہاں سے آرہے ہو، کہتا تنظیم کے کام سے جا رہا ہوں۔ تنظیم کے بارے میں پوچھا جاتا تو مسکرا کرکہتے ، بہت جلد دیکھ لوگے جب سرخ انقلاب آئے گا ، تھیلے میں اکثر اقوال ماوزئے تنگ اورمارکس و لینن یا انگلز سٹالن کے اقوال کے چھوٹے چھوٹے کتابچے ہوتے ، یہ وہ دن تھے جب فیشن ایبل سوشلزم کا فلو یا کرونا زوروں پر تھا ، روسی کتابوں کے اردو تراجم کی بھر مارتھی اورترقی پسند مصنفین بے تحاشا مزاحمتی ادب تخلیق کرنے میں لگے ہوئے تھے ،اکثر فارغ البال قسم کے سرمایہ دار وکیل، صحافی ،شاعر اورکالجوں کے اسٹوڈنٹ اس بخارمیں مبتلا تھے ، فیض اورساحر کے اشعار زبان زد خاص وعام تھے ۔
لالہ ایک ایسے محکمے میں ملازم تھے جس میں تنخواہ کے دن حاضری دیتے تھے ، آدھی تنخواہ لے کر آجاتا تھا اورباقی ’’حقدار ‘‘ آپس میں تقسیم کرلیتے ، ایسے ملازموں کو محکمے کی اصطلاح میں شش وپنج کہتے تھے ۔دوسری طرف لالہ کی بیوی نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ سنگل پھیرہ ہرگز نہیں لگائے گی چنانچہ تھوڑے ہی عرصے میں کرکٹ ٹیم پوری کرلی تھی ، ایسے لوگ جب اولاد کی ضرورتیں پوری نہیں کر پاتے تو لاڈلے پن کا مظاہرہ یوں کرتے ہیں کہ انھیں بے مہار چھوڑ دیتے ہیں چنانچہ لالہ کے بیٹے بھی ہر وہ کام کرتے اورسیکھنے لگے جو کرنے کے ہرگز نہیں ہوتے اورہر وہ ہنرسیکھتے رہے جو سیکھنے کے نہیں ہوتے ۔
پھر لالہ کی زندگی میں اچانک ایک انقلاب آگیا جو سرخ انقلاب تو نہیں تھا البتہ کالا انقلاب اسے ضرورکہہ سکتے ہیں، لالہ کی بیوی کسی دوسرے گاؤں کی تھی جہاں اس کا باپ اپنے باپ سے پہلے مرگیا تھا اس لیے چچاؤں نے اسے وراثت میں کچھ نہیں دیا ، اس کی ماں اسے لے کر یہاں آگئی اورمحنت مزدوری کر کے اسے پالا، پھر اس کی شادی لالہ سے ہوگئی، لالہ کو بھی کوئی اوراپنی بیٹی دینے کو تیار نہیں تھا، لیکن جب ایوب خان کے عائلی قوانین نافذ ہوگئے تو اس کے رشتہ داروں میں کچھ خداترس اوراچھے لوگ بھی پیدا ہوگئے اورانہوں نے خود ان سے کہا کہ آکراپنے حصے کی جائیداد لے لیں۔
لالہ گیا اس کاخیال تھا کہ تھوڑی زمین ہوگی لیکن وہ بہت بڑی جائیداد نکلی، اوپر سے بارانی کی جگہ اب نہری بھی ہوگئی تھی چنانچہ لالہ نے ایک ٹکڑا بیچ ڈالا جس کا اتنا روپیہ ملا کہ گھر کا سب کچھ بلکہ مکمل گھر بھی تیار ہوگیا اورایک بھینس بھی خرید لی، بھینس کاکچھ دودھ فالتو ہوجاتا تھا تو اسے بیچنے لگے ، دودھ کی آمدنی دیکھ کر ایک اوربھینس خریدی پھر چارہوگئیں تو اچھی خاصی آمدنی ہونے لگی ،چند بیٹے بڑے ہوگئے تھے اس لیے بھینس چرانے ، چارہ لانے اوردیکھ بھال کرنے کا بھی کوئی مسئلہ نہ تھا ، مسئلہ تھا تو جگہ کی تنگی کا چنانچہ لالہ نے اس زمین کا ایک اورٹکڑا بیچ کر گاؤں کے باہر زمین خرید لی اورچاردیواری ڈال کر فارم بنا لیااوربھینسوں کی تعداد بڑھاناشروع کردی کچھ ہی عرصے میں بھینسوں کی تعداد بیس پھر تیس پھر چالیس یہاںتک کہ اسی(80) ہوگئی، اتنا دودھ گاؤں میں تو کھپتا نہیں، اس لیے شہرکے دکانداروں کو بھی دودھ سپلائی کرنے لگے اوراس کام کے لیے ایک پک اپ بھی خرید لی ، پک اپ کا ڈرائیور بھی اپنا بیٹا تھا، ایک بیٹے کو جانوروں کا ڈاکٹر بھی بنایا۔ اب چونکہ گاؤں کے دوسرے سرے پر فارم کے ساتھ ہی گھر بنا کر رہنے لگے تھے اس لیے لالہ سے ملاقات کم ہوتی تھی لیکن اس کی دن دونی رات چوگنی ترقی کے بارے میں سنتا رہتا تھا ۔ ایک دن دیکھا تو لالہ ایک شاندار کار میں بیٹھا تھا ، خاکی تھیلے کی بجائے ہاتھ میں کالابریف کیس تھا ،بے رنگ کپڑوں کی سفید براق لباس میں تھا\ پوچھا تو بولا کہ فارم کا باقی کام تو بیٹے سنبھالے ہوئے ہیں اورلالہ کے ذمے شہر کے دکانداروں کے ساتھ حساب کتاب اور وصولی کرنا تھا اورکھل بورا وغیرہ پہنچانا تھا ۔ کلین شیو کی جگہ داڑھی نے لے لی تھی۔
پھر کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ مسجد کا خزانچی اورمتولی بھی ہوگیا ہے، اذان بھی دینے لگا اورعشاء کی نماز کے بعد لاوڈ اسپیکر کھول کر رشد وہدایت کے مسائل بھی بیان کرنے لگا ہے ، پھر اتفاقاً ملاقات ہوگئی تو ہاتھ میں سو دانے کی تسبیح، سر پر مخروطی ٹوپی جیب میں مسواک۔ پوچھا ، لالہ یہ کیا؟ بولا باقی تو خدا کا فضل ہے لیکن آخرت کی بھی فکر کرنی چاہیے بلکہ ساتھ ہی مجھے نماز کی تلقین بھی کی اورمیں حیران ہو رہا تھا، یہی لالہ تھا جو ہر وقت قسمت کا رونا روتا رہتا اور خدا کی ناشکری کرتا تھا ، دین اوردینی شعائر سے کوسوں دور تھااورآج وہ آخرت کی بات کررہا تھا اورمجھے اس نماز کی تلقین کررہا تھا جس سے وہ خود دور تھا۔
لیکن پھر بھی اس کی تبدیلی کے بارے میں سن سن کر خوش ہوجاتے تھے ، صبح کابھولا شام سے پہلے گھرآئے تو اسے بھولا نہیں کہتے، پھر سنا کہ حج بھی کرلیا ہے اوراپنے ایک بیٹے کو دینی مدرسے میں بھی داخل کیا ہوا ہے اوراس لیے داخل کیا ہے کہ اپنا ایک دینی مدرسہ کھولنا چاہتا ہے جس کے لیے سڑک کے کنارے زمین بھی خرید لی ہے ۔ یہ سن کر خوشی ہوئی کہ دولت آنے پر بھٹکا نہیں بلکہ اوربھی زیادہ دیندار ہوگیا ہے پھر کچھ دن بعد اس کی بیوی فوت ہوگئی ، تجہیز وتکفین میں تو عام لوگوں کی طرح حصہ لیا تھا لیکن سوچا اتنا عرصہ ایک محلے میں رہے ہیں اچھے تعلقات رہے ہیں تو خصوصی طورپر بھی تعزیت کے لیے جاناچاہیے ۔ بہت بڑا وسیع فارم تھا جس سے لگے ہوئے کھیت بھی تھے جن میں مختلف چارے کے کھیت بھی تھے اوراس کے دوبیٹے ان میں چارہ کاٹ رہے تھے ۔فارم کے گیٹ پر جو چوکیدار تھا وہ اپنے پرانے محلے کاتھا اس کی رہنمائی میں چل پڑا تو ایک وسیع وعریض احاطے میں چاروں طرف برآمدے اورکمرے تھے جن میں مختلف عمروں اوررنگوں کی بھینسیں کھڑی تھی اورچوکیدار مجھے بتا رہا تھا وہ دودھیل بھینس ہیں ، وہ سوکھی ہیں ایک طرف مختلف عمروں کی کٹڑیاں بھی تھیں ، کل تین سو بھینس تھیں ، اس احاطے کے پہلو میں ایک دروازہ تھا جو آدمیوں کے لیے، ضروری سامان کے لیے اورفارم سے متعلق آلات وغیرہ کے لیے، اس حصے میں تو برآمدے ہیں ، لالہ ایک پرتکلف چارپائی پر بیٹھا تسبیح پھیر رہا تھا اوربرآمدے کے دوسرے سرے پر کام کرتے ہوئے بیٹوں کو دیکھ رہا تھا ، وہ لوگ بڑے ٹبوں میں پانی اورکچھ چیزیں ملا کر ایک بڑی واشنگ مشین میں ڈال رہے تھے اورپھر واشنگ مشین سے نکلتا ہوا ’’دودھ‘‘ برتنوں میں بھر رہے تھے ، علیک سلیک اورعذر معذرت سے فارغ ہوئے تو میں نے اشارہ کرکے پوچھا لالہ یہ کیا ہے ، ہنس کر بولا دراصل مارکیٹ میں دودھ کی مانگ بڑھ گئی تو بھینس پورا نہیں کرپارہی ہیں اوراس میں کوئی خراب چیز نہیں ہے ،صاف پانی ہے اورکچھ مسالے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں۔ طبیعت خراب ہوئی لیکن کچھ کہے بغیر اٹھ آیا، راستے میں دودھیل بھینسوں کابرآمدہ تھا ، برآمدے کے سامنے دو خون آلود بوریاں پڑی تھیں ، چوکیدار سے پوچھاکیا کوئی بھینس مرگئی ہے ؟ بولا نہیں یہ وہ کٹڑے ہیں جو پیدا ہوتے ہی ذبح کردئیے جاتے ہیں صرف مادہ کٹڑیاں زندہ رکھی جاتی ہیں ، ان کٹڑوں کے حصے کا دودھ بھی بچ جاتا ہے اورکٹڑے بھی فروخت کیے جاتے ہیں جو بازاروں اورہوٹلوں میں ’’چھوٹا گوشت ‘‘کے طورپر بیچے جاتے ہیں ۔
میں نے دل میں سوچا۔ پہلے بھینسوں کا سیاہ انقلاب پھر دودھ کا سفید انقلاب اوراب یہ سرخ انقلاب۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Entertainment5 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News1 week ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Tech1 week ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models