Today News
پاک افغان کشیدگی اور دہشت گردی کا چیلنج
افغان طالبان نے ایک بار پھر سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ کی جس پر سکیورٹی فورسز نے فوری اور بھرپور جواب دیا، پاک فوج کے غضب للحق کے تحت آپریشن میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور اب تک 133 افغان طالبان ہلاک اور 200 سے زائد کارندے زخمی ہیں، جب کہ متعدد چیک پوسٹوں کو نشانہ بناکر تباہ کیا جاچکا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی سر زمین پر ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری افغان سرزمین سے کی جا رہی ہے۔ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا مسئلہ کوئی نیا نہیں، مگر حالیہ برسوں میں اس میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستانی حکام نے متعدد مواقع پر افغان عبوری حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ کالعدم تنظیمیں افغانستان میں کھلے عام سرگرم ہیں، تربیتی مراکز چلا رہی ہیں اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ سفارتی سطح پر مذاکرات، مشترکہ کمیشنوں کے اجلاس اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے باوجود خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔
افغان حکام کی جانب سے مسلسل انکار یا خاموشی نے نہ صرف شکوک و شبہات کو بڑھایا بلکہ عوامی سطح پر بھی بے چینی پیدا کی۔ پاکستانی عوام کے لیے یہ صورتحال مزید تکلیف دہ اس وقت ہو جاتی ہے جب وہ ماضی کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں۔ افغانستان کی جنگوں کے دوران پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، معاشی بوجھ برداشت کیا اور عالمی دباؤ کے باوجود ہمسایہ ملک کو تنہا نہیں چھوڑا۔ اس پس منظر میں اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو تو اسے احسان فراموشی سے کم نہیں سمجھا جا سکتا۔ بین الاقوامی تعلقات میں مستقل دوستیاں یا دشمنیاں نہیں ہوتیں، مفادات ہوتے ہیں، مگر ہمسائیگی کا تقاضا ہے کہ کم از کم ایک دوسرے کی سلامتی کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
افغانستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دی ہے، جو پاکستان میں تشویش کے ساتھ دیکھی جا رہی ہے۔ جنوبی ایشیا کی سیاست میں بھارت کا کردار اور پاکستان کے ساتھ اس کی کشیدگی کسی سے پوشیدہ نہیں، اگر کابل نئی دہلی کے ساتھ اس نوعیت کا تعاون بڑھاتا ہے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے، تو یقیناً اسلام آباد اسے نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اسی تناظر میں اسرائیل کی یاترا کے موقع پر نیتن یاہو اور مودی کے بیانات نے خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، اگرچہ ہر ملک کو اپنی خارجہ پالیسی بنانے کا حق حاصل ہے، لیکن علاقائی حساسیتوں کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں۔ افغانستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جس خطے میں واقع ہے وہاں طاقتوں کی کشمکش پہلے ہی پیچیدہ ہے، کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے کا تاثر خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے۔
افغان طالبان نے اگست 2021 میں کابل کا اقتدار سنبھالا تو پاکستان میں عمومی تاثر یہ تھا کہ اب دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ سرحدی نظم و نسق بہتر ہوگا، دہشت گردی کے خلاف تعاون میں اضافہ ہوگا اور باہمی اعتماد کی فضا پروان چڑھے گی، لیکن تین برس گزرنے کے بعد حالات اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں اور تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار ہیں۔
پاکستان نے طالبان حکومت کے قیام کے بعد عالمی برادری میں افغانستان کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اسلام آباد کا مؤقف تھا کہ افغانستان کو تنہا چھوڑ دینا مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے انسانی بحران مزید سنگین ہوگا۔ پاکستان نے انسانی امداد، خوراک، ادویات اور سفارتی سطح پر سہولت کاری کے ذریعے ہمسایہ ملک کا ساتھ دیا۔ لاکھوں افغان مہاجرین پہلے ہی پاکستان میں مقیم تھے اور نئی لہر کے خدشات کے باوجود پاکستان نے سرحد مکمل طور پر بند نہیں کی۔ اس پس منظر میں اسلام آباد کی یہ توقع بجا تھی کہ کابل کی عبوری حکومت پاکستان کی سلامتی کے خدشات کو سنجیدگی سے لے گی۔تاہم زمینی حقائق نے اس امید کو دھندلا دیا۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا اور حکام کی جانب سے بارہا یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری افغان سرزمین سے ہو رہی ہے۔ کالعدم تنظیموں کی موجودگی، تربیتی مراکز اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کو گہرا کیا۔ پاکستان نے متعدد سفارتی رابطوں، پرچم ملاقاتوں اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے ذریعے افغان عبوری حکومت کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرائی، مگر اسلام آباد کا شکوہ ہے کہ کابل نے ان خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ دہشت گردی ایک ایسا ناسور ہے جو کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا۔ افغانستان خود بھی دہائیوں سے بدامنی اور شدت پسندی کا شکار رہا ہے، اگر کوئی گروہ افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان کو نشانہ بنا رہا ہے تو اس کے اثرات بالآخر افغانستان کے داخلی امن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ توقع کرنا غیر منطقی نہیں کہ کابل حکومت ایسے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے گی جو خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
سرحدی کشیدگی کے تناظر میں عالمی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے بیان میں دونوں ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون، خصوصاً بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں۔ یہ بیان اس امر کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ کشیدگی محض دو ممالک کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات وسیع تر علاقائی اور عالمی استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں سیکیورٹی اہلکار اور شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اور سماجی ڈھانچے پرگہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایسے میں سرحد پار سے کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو برداشت کرنا ریاست کے لیے ممکن نہیں۔
افغان عبوری حکومت کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے۔ اسے داخلی استحکام، معاشی بحران، انسانی حقوق کے سوالات اور عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کے چیلنجز درپیش ہیں، اگر وہ اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کرتی ہے تو اس کے سفارتی اور معاشی مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان افغانستان کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور زمینی راستوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کا کلیدی ذریعہ بھی۔ دونوں ممالک کی معیشتیں کسی نہ کسی درجے میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اس لیے تصادم کا راستہ کسی کے مفاد میں نہیں۔
عوامی سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط موجود ہیں۔ سرحد کے آرپار آباد قبائل، مشترکہ ثقافتی ورثہ اور مذہبی ہم آہنگی اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ دشمنی مستقل حل نہیں ہو سکتی۔ سرحدی جھڑپوں کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ نقل مکانی، مکانات کی تباہی، کاروبار کی بندش اور تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل انسانی المیے کو جنم دیتا ہے۔ اسی لیے بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری اور شہریوں کا تحفظ محض رسمی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی ذمے داری بھی ہے۔خطے کی بڑی طاقتیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ افغانستان کی جغرافیائی اہمیت اسے ہمیشہ عالمی سیاست کا مرکز بناتی رہی ہے۔
اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو بیرونی قوتیں اپنے مفادات کے لیے اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔پاکستان کے لیے سب سے اہم ترجیح اپنی داخلی سلامتی ہے، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو اس کے خلاف کابل حکومت کو واضح اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں مدد دے گی بلکہ افغانستان کے اپنے مفاد میں بھی ہوگی۔ عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے اور معاشی بحالی کے لیے بھی یہ قدم ناگزیر ہے۔ افغانستان کو دہشت گرد عناصر کی سرپرستی سے مکمل لاتعلقی کا واضح پیغام دینا ہوگا ۔ جغرافیہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا، ہمسائیگی ایک مستقل حقیقت ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اس حقیقت کو دشمنی کے بجائے تعاون کی بنیاد بنایا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال خطے میں زندگی گزار سکیں۔
Today News
اورکزئی میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی اور آپریشن غضب للحق کی حمایت میں عوامی ریلی کا انعقاد
اورکزئی میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی اور آپریشن غضب للحق کی حمایت میں عوامی ریلی کا انعقاد کیا گیا، افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف اورکزئی کے عوام مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے ریلی میں مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں سمیت عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی، شرکاء نے قومی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری، سرحدی سلامتی اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
شرکاء نے پاک فوج کے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور پاک فوج کےشانہ بشانہ کھڑے رہنے کےعزم کا اظہار کیا، اس اجتماع کے ذریعے دشمن کو پاکستان کی قومی یکجہتی اور عزم کا واضح پیغام دیا گیا۔
Source link
Today News
کراچی سینٹرل جیل کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ، مین گیٹ بند کر کے کنکریٹ بلاکس نصب
کراچی میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کراچی سینٹرل جیل کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ جیل کے گرد و نواح میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جیل کے اطراف کھڑی تمام گاڑیوں کو ہٹا دیا گیا ہے جبکہ علاقے میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ داخلی اور خارجی راستوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
حکام کے مطابق افغان۔پاکستان کشیدہ حالات کے تناظر میں سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں سینٹرل جیل کے مین گیٹ کو بند کر کے اس کے سامنے کنکریٹ کے بلاکس رکھ دیے گئے ہیں جبکہ آمد و رفت کے لیے عارضی گیٹ کھولا گیا ہے۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ جیل کے اطراف ترقیاتی کام بھی جاری ہے اور سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
Source link
Today News
بھارتی مصنوعی ذہانت کا میلہ یا نظم و نسق کا امتحان؟
عصرِ حاضر میں اقوام کی برتری کا پیمانہ صرف عسکری قوت یا معاشی حجم نہیں رہا بلکہ علم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی میں سبقت نے عالمی قیادت کا معیار متعین کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایشیا سے یورپ تک ہر ریاست اس جستجو میں مصروف ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور اختراعی صنعتوں کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرے۔ مگر کسی بھی بین الاقوامی ٹیکنالوجی سمٹ کی کامیابی محض دلکش نعروں، بلند آہنگ اعلانات اور معروف شخصیات کی موجودگی سے وابستہ نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل بنیاد منظم حکمتِ عملی، شفاف نظم و نسق، پیشہ ورانہ تیاری اور اعتماد کی فضا پر استوار ہوتی ہے۔
حالیہ بھارتی اے آئی سمٹ کے حوالے سے عالمی خبر رساں ادارے Reuters کی رپورٹنگ نے کئی ایسے پہلو نمایاں کیے جنہوں نے اس تقریب کی انتظامی استعداد پر سوالات اٹھا دیے۔ سب سے نمایاں واقعہ اس وقت پیش آیا جب عالمی سطح کی ممتاز شخصیات نے عین آخری لمحوں میں اپنی شرکت منسوخ کر دی۔
Bill Gates، جو مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور ٹیکنالوجی دنیا کی ایک بااثر آواز سمجھے جاتے ہیں، نے اپنے طے شدہ کلیدی خطاب سے چند گھنٹے قبل عدم شرکت کا اعلان کیا۔ اس کے بعد Jensen Huang کی منسوخی کی خبر بھی منظرِ عام پر آئی۔ ایسے بڑے ناموں کی غیر موجودگی کسی بھی عالمی فورم کے لیے محض علامتی دھچکا نہیں بلکہ ساکھ، توجہ اور سرمایہ کارانہ اعتماد پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ جب اسٹیج پر قیادت کی نمائندگی کمزور پڑ جائے تو پورا ایونٹ اپنی معنوی قوت کھو بیٹھتا ہے۔
علاوہ ازیں رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا کہ انتظامی سطح پر متعدد کوتاہیاں رہیں۔ نمائشی ہالوں کو اچانک بند کرنا، شرکت کرنے والی کمپنیوں کو بروقت اور واضح معلومات فراہم نہ کرنا، اور بعض اسٹالز کا غیر متوقع طور پر ہٹا لیا جانا،یہ سب ایسے عوامل ہیں جو منصوبہ بندی کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ خاص طور پر ایک روبوٹک کتے کے تنازع کے بعد گالگوٹیا کی جانب سے اسٹال ہٹانے کا واقعہ اس امر کی علامت بن گیا کہ بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی کمزور تھی۔ جب نمائش کنندگان، جو اپنی تحقیق، مصنوعات اور خواب لے کر آتے ہیں، غیر یقینی کیفیت کا شکار ہوں تو یہ مستقبل کے شراکت داروں کے لیے بھی منفی پیغام بن جاتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا میں ایک اور پہلو نے خاصی توجہ حاصل کی اور وہ مبینہ طور پر نقل شدہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہے جس میں ایک چینی روبوٹ کے استعمال کا ذکر کیا گیا۔ مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں اصل تحقیق، دانشورانہ دیانت اور اختراعی خودمختاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کسی پلیٹ فارم کے بارے میں یہ تاثر ابھرے کہ وہاں جدت کی بجائے نقالی یا غیر شفاف ذرائع سے کام لیا جا رہا ہے تو اس کا اثر صرف ایک تقریب تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے ٹیکنالوجی ایکوسسٹم پر پڑتا ہے۔انتظامی چیلنجز صرف نمائش گاہ تک محدود نہ رہے۔
شہری سطح پر بھی مشکلات کی اطلاعات سامنے آئیں۔ وی آئی پیز کی نقل و حرکت کے باعث سڑکوں کی بندش، ٹریفک کا شدید دباؤ، اور شرکاء کو ٹیکسی یا شٹل کی عدم دستیابی کے سبب طویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے،یہ سب ایسے مسائل ہیں جو کسی بھی عالمی کانفرنس کے تجربے کو متاثر کرتے ہیں۔ جب شرکاء بنیادی سہولیات کے حصول میں الجھ جائیں تو علمی مباحث، کاروباری روابط اور تحقیقی تبادلے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
ابتدائی ہجوم کے بعد مقامِ تقریب کا نسبتاً خالی نظر آنا بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا سیشنز میں تسلسل کی کمی تھی؟ کیا مقررین کا انتخاب اور موضوعات کی گہرائی شرکاء کو مکمل دورانیے تک متوجہ رکھنے میں ناکام رہی؟ عالمی معیار کے سمٹس میں مواد کی سنجیدگی، مکالمے کی وسعت اور نیٹ ورکنگ کے بامعنی مواقع وہ عناصر ہوتے ہیں جو حاضرین کو اختتام تک وابستہ رکھتے ہیں۔ اگر پروگرام کی ساخت میں ربط نہ ہو تو جوش و خروش وقتی ثابت ہوتا ہے۔مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے جڑے توانائی اور وسائل کے مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اے آئی انفراسٹرکچر، ڈیٹا سینیٹرز اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے لیے درکار بھاری بجلی اور پانی مستقبل میں دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ معاملہ محض ایک ایونٹ کا نہیں بلکہ قومی پالیسی، پائیدار توانائی حکمتِ عملی اور آبی نظم و نسق سے جڑا ہوا ہے۔ اگر گرڈ کی مضبوطی، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور وسائل کے مؤثر استعمال پر ہمہ گیر توجہ نہ دی جائے تو ٹیکنالوجی کے بلند بانگ عزائم عملی رکاوٹوں سے ٹکرا سکتے ہیں۔
سیاسی سطح پر بھی اس سمٹ نے بحث کو جنم دیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے انتظامی نقائص پر تنقید اور انجینئرز و شرکاء کو طویل فاصلہ پیدل چلنے پر مجبور کیے جانے کے بیانات نے اس تقریب کو داخلی سیاست کا موضوع بنا دیا۔ جب کوئی بین الاقوامی پروگرام توقعات پر پورا نہ اترے تو وہ محض ٹیکنالوجی کانفرنس نہیں رہتا بلکہ حکومتی کارکردگی کی علامت سمجھا جانے لگتا ہے۔ مزید یہ کہ ای میل انکشافات اور اعلیٰ شخصیات کی شرکت سے متعلق متضاد اطلاعات نے اعتماد کے مسئلے کو گہرا کیا۔ کسی بھی بڑے ایونٹ میں بروقت، شفاف اور ہم آہنگ ابلاغ بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے، اگر معلومات میں تضاد ہو یا آخری لمحوں کی تبدیلیوں کو مؤثر انداز میں نہ سنبھالا جائے تو افواہیں جنم لیتی ہیں اور ساکھ مجروح ہوتی ہے۔
ان تمام پہلوؤں کو یکجا کیا جائے تو تصویر یہ بنتی ہے کہ بھارتی اے آئی سمٹ انتظامی ہم آہنگی، پیشگی منصوبہ بندی، بحران مینجمنٹ اور مؤثر مواصلات کے میدان میں نمایاں آزمائش سے دوچار رہا۔ بھارت جیسے ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی مرکز کے لیے یہ واقعہ محض تنقید کا باب نہیں بلکہ سیکھنے کا موقع بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ان خامیوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے، احتساب کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور آیندہ کے لیے اصلاحی اقدامات متعارف کرائے جائیں تو یہی تجربہ مستقبل کی کامیابیوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔ عالمی اے آئی دوڑ میں سبقت کا انحصار صرف وژن اور بیانیے پر نہیں بلکہ اس وژن کو مؤثر حکمتِ عملی، دیانت دارانہ طرزِ عمل اور عملی مہارت کے ساتھ نافذ کرنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ قومیں خوابوں سے نہیں، نظم و ضبط اور مسلسل بہتری سے ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Entertainment5 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News1 week ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Tech1 week ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models