Today News
ڈن ڈم – ایکسپریس اردو
جووا پرارے ڈی سوزا (Joao Pereira De Souza) ایک مزدور تھا۔پوری زندگی اس نے مچھیروں کے ساتھ کام کیا تھا۔ ساتھ ساتھ جہاں بھی اینٹ روڑے کا کام ہو ‘ کرتا رہتا تھا۔ 2011ء تک ریٹائر ہو چکا تھا۔ مگر پھر بھی‘ ساتھی مچھیروں کے ساتھ کبھی کبھی ‘ کشتی پر سوار ہو کر مچھلیاں پکڑتا تھا۔ معمولی سا گھر‘ پرووٹا ساحل (Proverta beach) کے نزدیک تھا۔بلکہ ساحل سمندر کے عین کنارے پر تھا۔ برازیل کی جس ریاست میں جووا رہتا تھا۔ اس کا نام Rio de Janeiro تھا۔ اہلیہ‘ ماریا‘ بھی ایک حد درجہ متوسط سی زندگی بسر کر رہی تھی ۔ ڈی سوزا کے ساتھ‘ ایک دکھ بھرا حادثہ ہو ا تھا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا جو تقریباً دس برس کا تھا۔ جس دن‘ بیٹے کی سالگرہ تھی۔ اس نے بہت ضد کی‘ اور ڈی سوزا کو مجبور کیا ‘ کہ سمندر کی سیر کروائی جائے۔
ڈی سوزا نے بہت سمجھایا کہ آج طوفانی لہریں بہت ہیں۔ لہٰذا جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایسے ہی ہوا۔ باپ بیٹا‘ سمندر کی سیر کر رہے تھے کہ طاقتور لہروںنے کشتی کو الٹا دیا۔ بیٹا ڈوب کر زندگی سے بہت دور نکل گیا۔ ڈی سوزا اور اس کی بیوی کے لیے‘ یہ صدمہ بہت مہیب تھا۔ جس سے پوری زندگی باہر نہیں نکل سکے۔ وقت گزرتا گیا۔ دونوں بوڑھے ہوتے چلے گئے۔ ڈی سوزاء زیادہ تر خاموش رہتا تھا۔ میاں بیوی میں بات کم ہی ہوتی تھی۔ مئی2011ء میں ڈی سوزا‘ اکیلا کشتی میں بیٹھا تھا ۔ارادہ‘ مچھلیاں پکڑنے کا بالکل نہیں تھا۔ خاموشی سے سمندر کو دیکھ رہاتھا جس نے اس کے سب سے قیمتی اثاثے کو نگل لیا تھا۔ اچانک نظر‘ ایک پینگوئن پر پڑی‘ جو پانی میں تیرنے کی بجائی خاموشی سے سطح سمندر پر لیٹی ہوئی تھی۔
قریب جانے پر معلوم ہوا کہ کہیں سے تیل کا اخراج ہوا ہے۔ پینگوئن کی بدقسمتی‘ کہ پوری کی پوری ‘ تیل میں بھیگ گئی تھی۔ اس میں تیرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی۔ تقریباً ڈوبنے والی تھی۔ ڈی سوزا‘ نے فوری طور پر پینگوئن کو اٹھایا ۔ اسے گھر لے گیا۔ جمی تیل کی تہہ کو صاف کرنے میں سات آٹھ دن لگ گئے۔ ڈی سوزا ‘ پینگوئن کو تولیے میں لپیٹ کر رکھتا تھا۔ اسے کھانے کے لیے چھوٹی چھوٹی خشک مچھلیاں دیتا رہتا تھا۔ دو ہفتے میں ‘ پینگوئن بالکل صحت مند ہو گئی۔ ڈی سوزا‘ ایک دن کچھ خریدنے کے لیے بازار گیا۔ تو وہ جانور‘ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا‘ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ لوگ حیران رہ گئے کیونکہ کسی نے کبھی بھی ‘ پینگوئن کو انسان کے ساتھ اتنی انسیت رکھتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ دونوں کے اردگرد‘ ایک ہجوم جمع ہو گیا۔
مجمع میں ایک چھوٹی سی بچی بھی تھی‘ جو حیرت سے پینگوئن کو دیکھ رہی تھی۔ ڈی سوزا سے پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے۔ ڈی سوزا نے کہا کہ ابھی تک کوئی نام نہیں رکھا۔ بچی نے زور سے کہا کہ اس کا نام ڈن ڈم ہے۔ ایسا ہی ہوا۔ پینگوئن کا نام‘ یہی پڑ گیا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تھوڑے عرصے میں یہ نام پوری دنیا میں گونجے گا۔ اسی بھیڑ میں‘ ایک نوجوان ‘ موبائل فون کے کیمرے سے ویڈیو فلم اور تصویر بنا رہا تھا۔ اور انھیں‘ سوشل میڈیا پر لوڈ کر رہا تھا۔
ڈی سوزا کو تو خیر معلوم ہی نہیں تھا کہ سوشل میڈیا کیا ہے۔ اب آپ اتفاقات کا سلسلہ دیکھے۔ Joao Paulo krajewski نام کے ایک سائنسدان نے ڈی ڈم کی تمام تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھیں۔ وہ بنیادی طور پر پینگوئنز پر تحقیق کر رہا تھا۔ گلوب ٹی وی کے ساتھ بھی منسلک تھا۔ پائلو کو یقین ہی نہیںآیا کہ ایسے ہو سکتا ہے۔ وہ ارجنٹینا میں ایک جزیرے میں تجربے کر رہا تھا جہاں پینگوئن افزائش نسل کے لیے ہر سال آتے تھے۔ اور پھر چند ماہ بعد نامعلوم مقامات پر واپس چلے جاتے تھے۔ پائلو نے ٹی وی کی ایک تجزیاتی ٹیم‘ ڈی سوزا کے گھر بھجوائی ۔ ڈی سوزا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی ٹی وی سے منسلک ٹیم‘ انٹرویو کے لیے اس کے گھر آئے گی۔ حد درجہ گھبرا گیا۔ بیوی کے اسرار پر ٹیم کے سربراہ کو انٹرویو دینے کی حامی بھر لی۔ سارا کچھ بتایا کہ کیسے ڈن ڈم اسے تیل میں بھیگا ہو ا ملا تھا اور کس طر ح اب گھر میں ایک فرد کی حیثیت سے رہ رہا ہے۔ یہ انٹرویو پوری دنیا کے تمام چینلز پر دیکھا گیا۔
سائنسدانوں کے لیے یہ ایک ناقابل یقین امر تھا کہ پینگوئن جیسا شرمیلا جانور‘ کیونکر ایک انسان کے ساتھ منسلک ہو سکتا ہے۔ تھوڑے دن بعد ڈن ڈم سمندر میں کسی نامعلوم جگہ پر چلا گیا ۔ قدرت کا حسن دیکھئے کہ یہ وہی جزیرہ تھا جہاں پائلو تجربات کر رہا تھا ۔ اس کی ٹیم نے پینگوئن کوپہچانا اور اس کے جسم پر ایک ٹیگ لگا دیا ۔ یاد رہے کہ یہ جزیرہ ڈی سوزا کے گھر سے پانچ ہزار کلو میٹر دور تھا ۔ چار ماہ گزرنے کے بعد ڈن ڈم واپس ڈی سوزا کے گھر پہنچ گیا ۔ دنیا کے چوٹی کے سائنسدان اس غریب مزدور کے گھر پہنچے ۔ ٹیگ کے نمبر کو پڑھا اور انھیں یقین ہو گیا کہ یہ وہی پینگوئن ہے جو پانچ ہزار کلو میٹر کا سفر طے کر کے واپس آئی ہے۔اب ہوتا یہ تھا کہ ڈن ڈم ‘ ڈی سوزا کے ساتھ بیٹھا رہتا تھا ۔ جب بھوک لگتی تو ڈی سوزا کو بتاتا کہ اسے کھانے کی ضرورت ہے۔
اسے فوری طور پر خشک چھوٹی چھوٹی مچھلی کھانے کے لیے چاہیں۔ پینگوئن اور انسان کے درمیان یہ رشتہ سائنسدانوں کے لیے ایک عجوبہ بن کر رہ گیا۔ چھ سال گزر گئے ۔ ڈن ڈم چھ مہینے ڈی سوزا کے گھر میں رہتا اور پھر سمندر میں چھ ماہ کے لیے اسی پرانے جزیرے پر پہنچ جاتا جہاں سائنسدان تحقیق کر رہے تھے۔ اسی اثناء میں پائلو نے ڈن ڈم کو پکڑا اور ایک لیبارٹری میں تجزیئے کے لیے لے جانے کی کوشش کی مگر پینگوئن موقع پا کر جیپ سے باہر نکل گئی ۔ اسے سمندر تک پہنچنے کا راستہ معلوم نہیں تھا۔ حد درجہ مشکل سے وہ سمندر تک پہنچی مگر اس کوشش میں اس کا جسمانی نقصان کافی زیادہ ہوا۔ یہی وہ وقت تھا جب ڈن ڈم ‘ اپنے دوست کے گھر برازیل پہنچ جاتا تھا۔ جن دنوں میں اس کی متوقع آمد تھی ۔ اس تمام دورانیہ میں پورا قصبہ اور لاتعداد ٹی وی چینل کیمرے لے کر اس کے آنے کا انتظار کرتے رہے ۔ مگر متعین وقت پر ڈن ڈم گھر نہ پہنچ پائی۔ڈی سوزا سمجھ گیا کہ اس کے دوست کو کوئی حادثہ پیش آ چکا ہے۔ لہٰذا اس نے مچھیروں کے ساتھ مل کر سمندر میں پینگوئن کو تلاش کرنا شروع کر دیا ۔
بڑی مشکل سے ڈن ڈم پانی میں زخمی حالت میں ملا ۔ اس کے تیرنے کی صلاحیت زخموں کی وجہ سے ختم ہو چکی تھی۔ ڈی سوزا اسے گھر لے کر آیا اور اس کا مکمل علاج کیا ۔ پینگوئن بالکل ٹھیک ہو گئی ۔ چند ماہ دونوں دوست اکٹھے رہے ۔ اس کے بعد حسب معمول ڈن ڈم ‘ طویل سفر پر روانہ ہو گئی۔ یہ سلسلہ پورے آٹھ سال چلتا رہا۔ معینہ مدت میں ڈن ڈم ‘ اپنے دوست کے گھر رہنے آ جاتا اور پھر واپس چلا جاتا ۔ اس پورے عرصے میں سائنسدانوں کی ٹیم بڑی ریاضت سے تحقیق کرتی رہی کہ ایک پینگوئن کیسے انسان کے ساتھ رہ سکتی ہے۔سی این این نے اس کے اوپر پوری ایک ڈاکومنٹری بنائی ۔ اور وہ بھی پوری دنیا کے سامنے نشر کی گئی ۔ یہ بھی ایک سچ تھا کہ ڈن ڈم ‘ قطعاً ڈی سوزا کی قید میں نہیں رہتی تھی بلکہ گھر کے پیچھے یا صحن میں جس میں کسی قسم کی کوئی دیوار نہیں تھی۔ اس میں ایک مخصوص جگہ پر رہائش گاہ سی بنا رکھی تھی۔ وہ مکمل طور پر آزاد تھی ۔ اس طرح سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں آسانی ہو گئی کہ جانور اور پرندوں کی آزاد دنیا اور انسانوں میں رابطہ ممکن ہے۔
اس سچی کہانی نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہمارے ملک میں جانوروں اور پرندوں کو بہت کرختگی سے رکھا جاتا ہے۔ پرندوں کی تو ویسے ہی شامت آئی رہتی ہے ۔ کیونکہ چند لوگ ان کاشکار کر کے اپنی کسی نامعلوم حس کی تسکین کرتے نظر آتے ہیں۔یہی حال جانوروں کا ہے ۔ جن علاقوں میں ہرن ‘ اڑیال اور دیگر جانور پائے جاتے ہیں۔ وہاں ان کا استحصال مسلسل جاری و ساری رہتا ہے ۔ دراصل ہم انسانوں سے اچھا سلوک نہیں کرتے تو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ ہمارا برتاؤ کیا خاک اچھا ہو گا ؟ ہمارے جیسے سماج میں جہا ں انسانوں کے پاس کوئی سنجیدہ حقوق موجود نہیں ہیں ۔ جہاں قتل و غارت کا دور دورہ ہے ۔ جہاں ملک کے پیشتر حصے میں بھاری ہتھیاروں سے حملوں کی روایت موجود ہے ۔ وہاں بے زبان مخلوق کا کیا ذکر کرنا ۔پتہ نہیں کہ مجھے یہ کہنا بھی چاہیے یا نہیں ؟ کہ جو معاشرہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے عاری ہے۔ وہاں اس نے اپنے اردگرد دیگرمخلوق سے کیا بہتر برتاؤ کرنا ہو ۔ زبانی جمع خرچ تو خیر بہت ہے ۔ مگر عملاً ہم ایک جنگل میں رہ رہے ہیں۔ جہاں طاقت ہی سب کچھ ہے۔ اگر آپ کو اتفاق سے کوئی پرندہ یا جانور مل جائے تو ڈی سوزا کی طرح ڈن ڈم کے ساتھ اچھے سلوک کو یاد ضرور رکھیے گا۔
Today News
یکم مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا امکان
حکومت کی جانب سے مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری کرلی ہے اور یکم مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا امکان ہے۔
حکومتی ذرائع نے بتایا کہ آئل اینڈ گیس ریگیولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق ورکنگ مکمل کرلی ہے اور یکم مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6 روپے 88 پیسے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پیٹرول کی قیمت 4 روپے 58 پیسے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 73 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 6 روپے 88 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی باقاعدہ منظوری کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔
Source link
Today News
پاک افغان جنگ پر امریکی صدر ٹرمپ کا ردعمل سامنے آگیا
امریکی صدر ٹرمپ نے پاک افغان جنگ سے متعلق ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھا کر رہا ہے مداخلت نہیں کروں گا اوراس معاملے میں پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جنگ میں مداخلت کریں گے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں مداخلت کر سکتا ہوں، تاہم پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ پاکستان نہایت شاندار انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور افغانستان کے ساتھ معاملات کو بہتر طریقے سے سنبھال رہا ہے، اس لیے وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے۔
امریکی صدر نے پاکستان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک عظیم وزیرِاعظم اور جنرل ہیں اور یہ دونوں وہ شخصیات ہیں جن کی میں بے حد عزت کرتاہوں۔ پاکستان میں مضبوط قیادت موجود ہے جو معاملات کو احسن انداز میں چلا رہی ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا اور وہ ایران کی موجودہ پالیسیوں سے خوش نہیں ہیں، تاہم جمعے تک مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتا لیکن بعض اوقات حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ طاقت استعمال کرنا پڑتی ہے۔
Today News
اورکزئی میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی اور آپریشن غضب للحق کی حمایت میں عوامی ریلی کا انعقاد
اورکزئی میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی اور آپریشن غضب للحق کی حمایت میں عوامی ریلی کا انعقاد کیا گیا، افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف اورکزئی کے عوام مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے ریلی میں مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں سمیت عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی، شرکاء نے قومی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری، سرحدی سلامتی اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
شرکاء نے پاک فوج کے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور پاک فوج کےشانہ بشانہ کھڑے رہنے کےعزم کا اظہار کیا، اس اجتماع کے ذریعے دشمن کو پاکستان کی قومی یکجہتی اور عزم کا واضح پیغام دیا گیا۔
Source link
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Entertainment5 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Tech1 week ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models