Connect with us

Today News

غزہ کا لڑکھڑاتا ہوا رمضان

Published

on


غزہ میں کم ازکم یہ رمضان ایک ایسے وقت آیا ہے جب وہاں لگاتار بم نہیں برس رہے۔مگر باقی زمینی مصائب جوں کے توں ہیں۔وہ الگ بات کہ جنگ بندی کے دھوکے میں آنے والے میڈیا کی توجہ ان مسائل سے کسی حد تک ہٹ سی گئی ہے باوجودیکہ ہر دوسرے تیسرے دن دس بارہ لوگ اسرائیلی حملوں میں مر رہے ہیں۔

 آج بھی تئیس لاکھ میں سے کم ازکم چودہ لاکھ افراد اپنی ہی زمین پر دربدر ہو کر لگ بھگ ایک ہزار مقامات پر ہجومی انداز میں زندگی گذار رہے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ شائد زندگی انھیں گذار رہی ہے۔

یو این نیوز نے غزہ میں رمضان کی انسانی تصویر کھینچی ہے۔ مثلاً ولید العاصی غزہ شہر کے وسطی الذرقا محلے میں اپنے ہی گھر کے ملبے پر کپڑے اور پلاسٹک شیٹوں سے اٹھائی گئی جھونپڑی میں کنبے کے ساتھ شب و روز کاٹ رہے ہیں۔ولید نے بتایا کہ میں نے اپنی پوتی سے وعدہ کیا تھا کہ رمضان شروع ہوتے ہی تمہیں بازار گھمانے لے جاؤں گا۔آج میں اسے سیر پر لے گیا۔بہت سی چیزیں دیکھ کے اس ننھی سی بچی کا دل للچایا مگر اسے بھی شائد اندازہ ہے کہ ہم میں کچھ بھی خریدنے کی سکت نہیں لہذا وہ چپ چاپ میری انگلی پکڑ کے چلتی رہی۔ میں بھی اسے ادھر ادھر کی باتوں میں لگا کر واپس لے آیا۔مگر تب سے ایک طرح کے احساسِ ندامت سے گذر رہا ہوں۔

کچھ ہی فاصلے پر ایک اور جھونپڑی میں رہنے والی خاتون امل السامری اور ان کے شوہر نے تین بچوں کی خاطر رمضان کا ’’ ماحول ‘‘ محسوس کروانے کے لیے اچھے سے جھونپڑی کی صفائی کی اور پانی کی شدید قلت کے باوجود یکم رمضان کو بچوں کو دھلے ہوئے کپڑے پہنائے۔

امل السامری کو تین برس پہلے کا پرامن رمضان ایسے لگتا ہے گویا تین صدیوں پہلے کی بات ہو۔تب کیسے سب مل کے بازار جاتے تھے۔آرائشی قمقمے خریدتے تھے۔رمضان میں ہی بننے والی روائیتی مٹھائیاں کھاتے بھی تھے اور رشتے داروں کو بھی بھیجتے تھے۔ فجر کی اذان تک چہل پہل اور پھر آرام۔پچھلے ماہ طوفانی بارشیں جھونپڑی اڑا لے گئیں۔نئی بنانے میں بہت وقت لگا۔بجلی اور صاف پانی تو مدت سے ایک خواب ہیں۔روایتی قمقموں کی قیمت دوگنی تگنی ہے۔پھر بھی اکا دکا تباہ شدہ گھروں اور خیموں کے باہر گھپ اندھیرے میں اپنی چمکیلی پٹیوں کے سبب یہ قمقمے روشنی کا گمان پیدا کرتے ہیں۔اردگرد کے بچے ان کے گرد پتنگوں کی طرح جمع ہو جاتے ہیں اور کچھ دیر کے لیے اپنا آپ بھول جاتے ہیں۔ جو بھی چھوٹا موٹا بازار ان خیمہ بستیوں اور کھنڈروں کے درمیان پیدا ہو گیا ہے۔بچے وہاں کا چکر لگا کے من بہلا لیتے ہیں۔

غزہ میں کرسمس ہو یا رمضان ، خوشیاں مشترک ہیں۔ماہر ترزی فلسطینی مسیحی ہیں اور عمر کی پچھتر چھہتر بہاریں دیکھ چکے ہیں۔وہ شام گئے زاویہ مارکیٹ میں نکل آتے ہیں۔بچے ان کو گھیر لیتے ہیں اور پھر سب مل کے گیت گاتے ہیں ’’ کیسی خوبصورت روشن رات ہے ، ستاروں کے جھرمٹ میں چاند بھی مسکرا رہا ہے…

ماہر ترزی کہتے ہیں کہ زندگی میں اتنا کچھ دیکھ لیا ہے کہ اب کسی بات پر حیرت نہیں ہوتی۔ زندہ رہنا شرط ہے۔یہ دن بھی گذر ہی جائیں گے۔

غزہ میں بنیادی خوراک کے نرخ نامے کا ڈھائی سال پہلے سے موازنہ کیا جائے تو تصویر واضح ہو جائے گی کہ رمضان کیسا گزر رہا ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق مرغی کا گوشت اسی فیصد ، فروزن مچھلی ایک سو نوے فیصد ، فروزن بیف پچھتر فیصد ، انڈہ ایک سو ستر فیصد ، کھیرا تین سو فیصد ، ٹماٹر سو فیصد ، آلو سڑسٹھ فیصد ، چاول پچاس فیصد ، زرد پنیر سو فیصد اور خوردنی تیل اسرائیل کے مقابلے میں غزہ میں سو فیصد مہنگا ہے۔یعنی چھ نفوس پر مشتمل کنبے کو مناسب افطار تیار کرنے کے لیے پچاس ڈالر کے مساوی رقم درکار ہے۔یہ بجٹ ڈھائی برس پہلے کے مقابلے میں نوے فیصد زائد ہے۔

لوگوں کی قوتِ خرید کی کیا حالت ہے ؟ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر دو ہزار تئیس تک فی کس سالانہ آمدنی ساڑھے بارہ سو ڈالر تھی جو اب ایک سو اکسٹھ ڈالر ہے۔کاروبار ، ماہی گیری اور زراعت برباد ہو چکے لہذا بے روزگاری کا تناسب پچانوے فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ غالباً دنیا میں سب سے زیادہ ۔مگر لوگ روزگار کے امکانات بھول بھال کر اس فکر میں ہیں کہ کل بچوں کے لیے کچھ کھانے کو ملے گا کہ نہیں۔

غزہ کو اس وقت خوراک اور رسد سے بھرے کم ازکم ایک ہزار مال بردار ٹرک روزانہ درکار ہیں۔دس اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کے مطابق اسرائیل چھ سو ٹرکوں کو اجازت دینے کا پابند ہے۔مگر روزانہ دو سو سے ڈھائی سو ٹرک ہی غزہ میں داخل ہو پا رہے ہیں ۔ صرف دس مقامی تاجروں کو چار اسرائیلی کمپنیوں سے سامانِ خورد و نوش اور روزمرہ استعمال کا سامان خریدنے کی اجازت ہے۔اب یہ اجارہ دار کمپنیاں اور تاجر جتنی چاہیں قیمت وصول کریں کوئی پوچھنے والا نہیں۔

اسرائیل بار بار کے بین الاقوامی مطالبات کے باوجود پانچ مہینے سے غزہ کی گذرگاہیں پوری طرح نہیں کھول رہا۔کیونکہ پھر رسد کی مقدار بڑھ جائے گی اور مسابقت کے سبب چیزیں سستی ہوں گی۔جب فلسطینیوں کا پیٹ بھرے گا تو وہ زیادہ شدت سے آزادی اور غلامی کا موازنہ کرنے لگیں گے اور فلسطینیوں کی گردن پر گرفت ذرا بھی ڈھیلی پڑ جائے ، یہ نہ تو اسرائیل کو منظور ہے اور نہ ہی اس کے مددگاروں کو۔ان حالات میں اہلِ غزہ کی عید کیسے گذرے گی۔یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں۔مگر خودداری کا یہ عالم ہے کہ غزہ کے سماج میں بے سروسامانی کے باوجود جو حرکتیں قابِل نفرین سمجھی جاتی ہیں ان میں سب سے اوپر بھکاریوں کی طرح کسی کا کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا ہے۔ان بے آسرا بستیوں کے رمضان میں شائد ہی کہیں ایسا کوئی منظر نظر آئے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان کیساتھ مذاکرات کے خواہاں ہیں؛ ترجمان طالبان حکومت

Published

on


افغانستان کی طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حالیہ کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کابل حکومت بارہا اس بات پر زور دے چکی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل کا پُرامن اور سفارتی حل تلاش کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے متعدد بار پُرامن حل پر زور دیا اور اب بھی چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ ہم اب بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔

طالبان حکومت کے ترجمان نے کہا کہ افغان حکومت خطے میں استحکام اور امن کی خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو ہی بہترین راستہ سمجھتی ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ ہم ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری کو بارہا یقین دلاتے رہے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور ہم اب بھی اس عزم پر قائم ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان سے دراندازی کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا ہے جس میں طالبان رجیم کے سیکڑوں اہلکار مارے گئے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

ملک بھر میں ڈرون کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی

Published

on



وزارت داخلہ نے ملک بھر میں ڈرون کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزارت داخلہ نے چیف کمشنر اسلام آباد سمیت تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو مراسلہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈرون اور کواڈ کاپٹرز کی فلائنگ پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی گئی ہے، خلاف ورزی پر فوری طور پر کارروائی کی جائے گی۔

وزارت داخلہ نے کہا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا جائے، حساس اور عوامی تنصیبات کے قریب ڈرون اور کواڈ کاپٹرز استعمال نہیں ہوگا۔
 



Source link

Continue Reading

Today News

غضب للحق کا مطلب کیا ہے اور افغانستان کیخلاف اس آپریشن کو یہ نام کیوں دیا گیا؟

Published

on



پاک افغان جنگ کے دوران پاکستان نے جو فوجی کارروائی شروع کی ہے اسے آپریشن غضب للحق کا نام دیا گیا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس آپریشن غضب للحق کا مطلب کیا ہے اور افغانستان کے خلاف پاکستان کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی کو یہ نام کیوں دیا گیا؟

گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستانی فوج کی جانب سے کیے جانے والے اکثر آپریشنز کے نام مذہبی یا عربی زبان سے لیے گئے جس کا مقصد اس آپریشن کو اخلاقی یا نظریاتی پس منظر دینا بھی ہے، تاہم اس دوران پاکستان کی جانب سے ایک آپریشن ایسا بھی کیا گیا جس کا نام انگریزی زبان سے لیا گیا۔

افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں 15 جون 2014 کو عسکریت پسندوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کو 'ضربِ عضب' کا نام  دیا گیا جو عربی زبان کا لفظ ہے۔ ضرب عضب دو الفاظ کا مرکب ہے، ضرب جس کا مطلب ہے وار اور دوسرا لفظ عضب ہے جس کا مطلب ہے نبی پاک ﷺ کی تلوار۔ اس طرح ضربِ عضب کا مطلب حق کی تلوار کا وار ہے۔

 پاک فوج نے فروری 2017ء میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ملک کے چاروں صوبوں میں تلاشی کی کارروائیاں کیں اور کئی افراد کو حراست میں لیا اس آپریشن کو رد الفساد  کا نام دیا گیا جس کا مطلب فساد کو رد کرنا یا فساد یعنی دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔

پاک بھارت کشیدگی کے دوران 2019 میں بھارتی فضائی حملے کے جواب میں پاکستان نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں بھارتی پائلٹ ابھینندن کو بھی گرفتار کیا گیاتھا۔ یہ نام انگزیری زبان سے لیا گیا، سوئفٹ کا مطلب تیز اور ریٹارٹ کا مطلب جواب یا ردعمل ہے یعنی سوئفٹ ریٹارٹ کا مطلب فوری جواب ہے۔

گزشتہ سال مئی کے دوران بھی پاکستان نے بھارت کے خلات آپریشن بنیان مرصوص کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں بھارت کے رافیل طیاروں کو مار گرایا گیا تھا اور متعدد بھارتی فوجی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے، بنیان مرصوص کا لفظ بھی قرآن کی آیت سے لیا گیا جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی دیوار۔

اسی طرح رواں ماہ میں پاک فوج نے افغانستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے سیکڑوں طالبان مارے، افغانستان کی متعدد پوسٹیں تباہ کیں اور کئی چوکیوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا پرچم لہرا دیا۔

افغانستان کے خلاف اس آپریشن کو غضب للحق کا نام دیا گیا، غضب للحق تین الفاظ کا مرکب ہے یعنی غضب جس کا مطلب ہے غصہ یا ردعمل، دوسرا لفظ لل ہے جس کا مطلب ہے کے لیے یا کی خاطر جبکہ تیسرا لفظ حق ہے جس کا مطلب سچائی ہے۔ یعنی غضب للحق کا مطلب حق یا سچائی کے لیے غصہ یا ردعمل ہے اور یہ محض جذباتی غصہ نہیں بلکہ حق کے دفاع کی خاطر کیا جانے والا ردعمل ہے۔

افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا گیا، 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب پاک فوج نے افغانستان میں قائم فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان رجیم نے اسے بنیاد بناکر خیبرپختونخوا میں پاک افغان سرحد کے 15 سیکٹر میں 53مقامات پر فائرنگ کی جس کے جواب میں پاک فوج نے حق کے دفاع کی خاطر آپریشن غضب للحق کا آغاز کر دیا۔



Source link

Continue Reading

Trending