Connect with us

Today News

مستحق خاندانوں کو مالی معاونت کی تقسیم کا عمل پنجاب اور وفاقی حکومت کی جانب سے شروع

Published

on


ماہِ رمضان میں مستحق خاندانوں کو مالی معاونت کی تقسیم کا عمل پنجاب اور وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کر دیا گیا ہے، تاہم اہلیت کے معیار اور طریقۂ کار پر سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ سرکاری دعوؤں کے باوجود بعض کم آمدن گھرانے فہرستوں سے باہر رہ گئے ہیں جبکہ کچھ ایسے افراد کو بھی ادائیگیاں ہونے کی اطلاعات ہیں جو مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔

پنجاب حکومت کے رمضان نگہبان پروگرام کے تحت تقریباً 47 ارب روپے 42 لاکھ خاندانوں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں، ہر خاندان کو 10 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح وفاقی حکومت 38 ارب روپے 1 کروڑ 21 لاکھ خاندانوں میں تقسیم کرے گی، فی خاندان 13 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق رقوم کی ادائیگی بینک اکاؤنٹس، برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس اور اے ٹی ایم نیٹ ورک کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

تاہم زمینی سطح پر بعض بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ لاہور کے رہائشی محمد طاہر، جو دیہاڑی دار مزدور ہیں اور چار بچوں کے کفیل ہیں، نے بتایا کہ گزشتہ سال بھی انہیں امداد نہیں ملی اور اس سال بھی ان کے گھر کوئی سروے ٹیم نہیں آئی۔

اسی طرح جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے محمد انصر، جو لاہور میں ویٹر کے طور پر کام کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ اپنی معذور بیٹی کے علاج کے اخراجات کے باوجود انہیں اس سال بھی امداد نہیں ملی۔

محمد انصر کے مطابق جب انہوں نے ہیلپ لائن پر رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ادائیگیاں سروے رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی ہیں اور ان کے گھر دوبارہ سروے کیا جائے گا، تاہم اس کے لیے کوئی مدت نہیں بتائی گئی۔
دوسری جانب لاہور کے ایک شہری آصف نے بتایا کہ گزشتہ سال انہیں یونین کونسل کی جانب سے 10 ہزار روپے کا چیک وصول کرنے کے لیے فون کیا گیا، حالانکہ ان کی ماہانہ آمدن ایک لاکھ روپے سے زائد ہے اور انہوں نے کبھی امداد کے لیے درخواست بھی نہیں دی۔ اس مثال نے مستحقین کی نشاندہی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی نائب چیئرپرسن جہاں آرا وٹو کے مطابق اہلیت کا تعین نیشنل سوشو اکنامک رجسٹری اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر کیا گیا۔ کم آمدن خاندانوں کو غربت اسکور کے تحت ترجیح دی گئی جبکہ ضلعی سطح پر اسسٹنٹ کمشنرز اور متعلقہ افسران نے فہرستوں کی تصدیق کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ عمومی معیار میں سرکاری ملازمت نہ ہونا، قابل ذکر جائیداد کا مالک نہ ہونا اور نادرا میں درست اندراج شامل ہے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سیکرٹری عامر علی احمد نے کہا کہ شفاف ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی کی جائے گی اور گزشتہ سال کے مقابلے میں امدادی رقم میں اضافہ کیا گیا ہے۔

تاہم ماہرین معاشیات نے موجودہ طریقۂ کار پر محتاط تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق سوشل رجسٹری پر انحصار سے عمل تیز ہو جاتا ہے، لیکن پرانا یا غیر اپ ڈیٹ شدہ ڈیٹا شمولیت اور اخراج کی غلطیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورت میں حقیقی مستحق خاندان فہرست سے باہر رہ سکتے ہیں جبکہ کچھ غیر مستحق افراد شامل ہو سکتے ہیں۔

معاشی ماہر اور آڈٹ اسپیشلسٹ کوکب زبیری کا کہنا ہے کہ صرف شناختی کارڈ یا رجسٹری ڈیٹا کی بنیاد پر تصدیق کافی نہیں۔ ان کے مطابق زمین کی ملکیت، آمدن اور ملازمت کی حیثیت کی جانچ کے ساتھ فیلڈ ویریفکیشن کو مؤثر بنایا جانا ضروری ہے۔

انہوں نے پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری کے ڈیٹا کو فوری اپ ڈیٹ کرنے، مختلف ذرائع کے ڈیٹا کو باہم ملا کر جانچنے اور مؤثر شکایات ازالہ نظام فعال کرنے کی تجویز دی۔

ماہرین نے یہ بھی کہا کہ نقد امداد کے ساتھ ساتھ منڈیوں میں قیمتوں کے استحکام اور ہدفی سبسڈی جیسے اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ حقیقی فائدہ مستحق خاندانوں تک پہنچ سکے اور مجموعی ریلیف مؤثر ثابت ہو سکے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایرانی حملے پر خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کا مشترکا اعلامیہ جاری

Published

on


خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک نے ایرانی جارحیت کے تناظر میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کریں گے اور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، قطر اور کویت کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ رکن ممالک اپنی علاقائی خودمختاری، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔

بیان میں ایران کی جانب سے مبینہ جارحانہ اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ خطے کے امن و استحکام کو کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت، متعدد یونیورسٹیز میں تدریسی عمل آج معطل رہے گا

Published

on


کراچی کی موجودہ صورتحال اور ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر اظہارِ تعزیت کے طور پر وفاقی اردو یونیورسٹی نے آج طلبہ کے لیے جامعہ بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

رجسٹرار کے مطابق آج جامعہ کے تینوں کیمپسز میں تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے شہر کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر چھٹی کا باقاعدہ اعلان جاری کر دیا ہے۔

دوسری جانب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے موجودہ حالات کے پیش نظر آج تمام کلاسز آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق تمام لیکچرز گوگل میٹ کے ذریعے منعقد ہوں گے اور فیکلٹی ممبران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آن لائن کلاسز کے انعقاد کو یقینی بنائیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق ڈینز، چیئرپرسنز اور انتظامی عملہ معمول کے مطابق کیمپس میں موجود رہے گا تاکہ دفتری امور جاری رہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر اظہارِ تعزیت اور سوگ کے طور پر آج کراچی اور حیدرآباد میں اقراء یونیورسٹی میں بھی تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر سلمان علی آغا کا کپتانی چھوڑنے سے متعلق اہم اعلان

Published

on



پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کپتانی سے متعلق اہم اعلان کر دیا۔

پاکستان سپر ایٹ مرحلے کے اپنے آخری میچ میں سری لنکا کو شکست دینے کے باوجود سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی نہ کر سکا جس کے بعد ٹیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے۔

میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا کہ بطور کپتان ناکامی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے کوچ کے ساتھ مشاورت سے کیے گئے، سلیکشن میں بھی ہم شامل تھے اور پلیئنگ الیون بھی ہم نے ہی میدان میں اتاری۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹیم دباؤ میں اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔ سلمان آغا کے مطابق بیٹنگ لائن میں صاحبزادہ فرحان کے علاوہ کوئی بھی بلے باز توقعات پر پورا نہیں اتر سکا۔

کپتانی چھوڑنے سے متعلق سوال کے جواب میں سلمان علی آغا نے کہا کہ اس وقت جذبات میں آ کر کوئی فیصلہ کرنا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وطن واپسی کے بعد دو سے چار روز میں مشاورت کے بعد کپتانی کے حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے۔



Source link

Continue Reading

Trending