Today News
الخوارزمی ! الجبرا اور الگورتھم کا معمار
انسانی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جو صدیوں بعد بھی علم، تحقیق اور تہذیبی ارتقا کی علامت بنے رہتے ہیں۔ انھی میں ایک درخشاں نام محمد بن موسیٰ الخوارزمی کا ہے۔
وہ عالم جس نے نہ صرف الجبراکی بنیاد رکھی بلکہ الگورتھم کے ذریعے جدید کمپیوٹر سائنس کی فکری بنیاد بھی فراہم کی۔ یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ اگر الخوارزمی نہ ہوتے تو آج کی سائنسی دنیا مختلف ہوتی۔
الخوارزمی کا تعلق نویں صدی کے اس سنہری دور سے تھا جب بغداد علم و حکمت کا عالمی مرکز تھا۔ عباسی خلافت کے دور میں قائم بیت الحکمہ میں دنیا بھر کے علمی ذخائر کا ترجمہ، تنقید اور توسیع ہو رہی تھی۔
یونانی، اور ایرانی علوم کو عربی قالب میں ڈھالا جا رہا تھا۔ ایسے ماحول میں الخوارزمی نے محض ترجمہ نگاری پر اکتفا نہیں کیا بلکہ علم کو منظم، سادہ اور قابلِ اطلاق بنانے کا بیڑا اٹھایا۔
ریاضی کی دنیا میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ کتاب ’’الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ‘‘ ہے۔ یہی وہ تصنیف ہے جس نے الجبرا کو ایک باقاعدہ علم کی حیثیت دی۔ اس سے پہلے ریاضی بکھرے ہوئے قواعد اور عملی مسائل تک محدود تھی، مگر الخوارزمی نے مساوات کو حل کرنے کے منظم طریقے پیش کیے۔
’’الجبر‘‘ کا تصوریعنی منفی مقدار کو مثبت میں منتقل کرنا،اور ’’المقابلہ‘‘ یعنی ’’مساوات‘‘ کی مقدار کا تعین کرنا۔ یہ فارمولا آج بھی ریاضی کی بنیادی تدریس کا حصہ ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ الخوارزمی کا الجبرا محض تجریدی نہیں تھی۔ ان کے نزدیک ریاضی ایک عملی علم تھا، جو وراثت کی تقسیم، تجارت، زمین کی پیمائش اور تعمیرات جیسے روزمرہ مسائل کے حل کے لیے ضروری تھا۔ ان کے نزدیک علم برائے علم نہیں، بلکہ علم برائے زندگی۔
الخوارزمی کا دوسرا عظیم کارنامہ وہ تصور ہے جسے آج ہم Algorithm کہتے ہیں۔ دراصل ’’الگورتھم‘‘ لفظ ہی ان کے نام کے لاطینی تلفظ Algoritmi سے نکلا۔
انھوں نے ہندی عددی نظام (0 سے 9 تک) کو متعارف کروایا اور حساب کے واضح، مرحلہ وار طریقے بیان کیے۔ یہی مرحلہ وار منطق آج کمپیوٹر پروگرامنگ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی اساس ہے۔ ہر کمپیوٹر کو دیا جانے والا ہر حکم، ہر کوڈ،کسی نہ کسی صورت میں الخوارزمی کے تصورِ الگورتھم کا تسلسل ہے۔
ریاضی کے علاوہ الخوارزمی نے فلکیات اور جغرافیہ میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی کتاب ’’صورۃ الارض‘‘ میں دنیا کے نقشے، شہروں کے محلِ وقوع اور جغرافیائی حدود کو زیادہ سائنسی انداز میں پیش کیا گیا۔
انھوں نے بطلیموس کے بعض جغرافیائی تصورات کی تصحیح کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم علماء اندھی تقلید نہیں بلکہ تنقیدی فکر کے حامل تھے۔
یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: ہم آج الخوارزمی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ کیا وہ محض ایک تاریخی کردار ہیں، جن کا ذکر نصابی کتابوں تک محدود ہو چکا ہے؟ یا وہ ایک فکری روایت کی علامت ہیں، ایسی روایت جو سوال اٹھانے، مسئلہ حل کرنے اور علم کو انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کرنے پر یقین رکھتی ہے؟
افسوس کہ ہم نے اکثر اپنے ماضی کے علمی سرمائے کو فخر کے نعرے تک محدود کر دیا، مگر اس کے پیچھے کارفرما محنت، نظم و ضبط اور تحقیقی دیانت کو نظرانداز کر دیا۔
مغربی دنیا نے الخوارزمی کے علم کو آگے بڑھایا۔ ان کی کتب لاطینی میں ترجمہ ہوئیں، یورپی جامعات میں صدیوں تک پڑھائی گئیں، اور نشاۃِ ثانیہ کی فکری بنیاد بنیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم، جو ان کے تہذیبی وارث ہیں، اس علمی تسلسل کو کیوں برقرار نہ رکھ سکے؟ کیا وجہ ہے کہ آج ہم صارف ہیں، موجد نہیں؟
الخوارزمی ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ تہذیبیں نعروں سے نہیں، علم سے زندہ رہتی ہیں۔ تحقیق، ریاضی، منطق اور سائنسی طریقِ کار. یہ سب کسی ایک قوم کی جاگیر نہیں، مگر انھیں اپنانے کے لیے اجتماعی عزم درکار ہوتا ہے۔
اگر ہم واقعی الخوارزمی کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام میں سوال کرنے، تجزیہ کرنے اور مسئلہ حل کرنے کی روایت کو زندہ کریں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ الخوارزمی ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ حال اور مستقبل کا استعارہ ہیں۔ الجبر اور الگورتھم کی دنیا میں ان کا نام آج بھی زندہ ہے۔
بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی اس علمی روشنی سے اپنا راستہ روشن کریں، ورنہ تاریخ ہمیں صرف حوالہ بن کر رہ جانے پر مجبور کر دے گی۔
Today News
وزیرِ اعظم کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے اہداف کا حصول یقینی بنانے کی ہدایت
وزیر اعظم شہبازشریف کی زیرِ صدارت کیش لیس اکانومی کے فروغ سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا۔
وزیرِ اعظم نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے تنخواہوں پینشنز اور وینڈرز کو ادائیگیاں راست (RAAST) کے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام پر منتقل کرنے پر معاشی ٹیم اور اسٹیٹ بینک کی پزیرائی کی۔
جولائی 2025 سے جنوری 2026 تک وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے راست کے ذریعے 1.6 ٹریلین کی ادائیگیاں ہوئیں جب کہ وزیرِ اعظم رمضان ریلیف پیکیج کے تحت اب تک 71 فیصد مستحق افراد تک امدادی رقوم کی فراہمی کی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ برس مستحقین کو رقوم کی فراہمی رمضان کے 12ویں دن تک 24 فیصد جبکہ رواں برس وزیرِ اعظم کی خصوصی ہدایت پر بروقت اقدامات سے یہ 71 فیصد کی حد عبور کر چکی۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ڈیجیٹل بینکنگ سے استفادہ حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 127 ملین سے تجاوز کر چکی.
وزیرِ اعظم نے ہدایت دی کہ تمام سرکاری ادارے شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تمام بلز پر QR کوڈ فراہم کریں۔
اجلاس کو وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، BISP، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ اداروں نے ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حوالے سے اقدامات سے آگاہ کیا، اجلاس کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ایکوسسٹم کے حوالے سے ڈیش بورڈ پر بریفنگ دی گئی۔
وزیرِ اعظم نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے اہداف کے معینہ مدت میں حصول کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، صوبائی چیف سیکریٹریز، اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
Today News
امن وامان کی عالمی صورتحال، وزیراعظم نے سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس طلب کرلیا
بین الاقوامی سطح پر امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نے سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس طلب کرلیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے موجودہ عالمی صورتحال پر اہم اجلاس کل طلب کرلیا، پارلیمنٹ کو مشرق وسطیٰ اور ایران اسرائیل جنگ پر ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈران اور اپوزیشن لیڈرز کو مدعو کر لیا، اپوزیشن لیڈران اور پارلیمانی لیڈران کو ان کیمرہ بریفنگ کل دن 11 بجے دی جائے گی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور اپوزیشن لیڈرز سے رابطہ کریں گے۔
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم پارلیمانی لیڈران کو موجودہ عالمی صورتحال پر ان کیمرہ بریفنگ دیں گے، پارلیمانی لیڈرز کا یہ اجلاس کل گیارہ بجے ان کیمرہ ہوگا۔
Today News
ایران میں اس وقت بھی 33 ہزار پاکستانی پھنسے ہوئے ہیں، اسحاق ڈار
اسلام آباد:
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور خلیجی ممالک کے فضائی روٹس بند ہونے سے پاکستان سمیت متعدد ممالک کے مسافر پھنسے ہوئے ہیں، ایران میں اس وقت بھی 33 ہزار پاکستانی موجود ہیں۔
میڈیا بریفنگ میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ابوظبی میں میزائل گرنے سے ایک پاکستانی شہید ہوا، عراق میں 40 ہزار پاکستانی موجود ہیں جن میں بڑی تعداد زائرین کی ہے، قطر میں ساڑھے تین لاکھ پاکستانی موجود ہیں جبکہ وزٹ ویزے پر 1450 افراد آئے ہوئے ہیں، ایران میں اس وقت بھی 33 ہزار پاکستانی موجود ہیں، 300 کے قریب ایرانی شہری بھی پاکستان آئے ہیں، 792 پاکستانی ایران سے واپس آچکے ہیں، ایران سے 64 پاکستانی آذر بائیجان پہنچے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے فضائی روٹس بند ہیں، پاکستان سمیت متعدد مالک کے مسافر پھنسے ہوئے ہیں، خلیجی ممالک کے زمینی راستے کھلے ہیں، عمان اور سعودی عرب کے سوا تمام فضائی راستے بند ہیں زمین راستے تو کھلے میں مگر ان میں سفر کرنے میں وقت بہت صرف ہوتا ہے، پاکستانیوں کے انخلا میں معاونت پر آذر بائیجان حکومت کے شکر گزار ہیں، باکو سے پروازیں آپریشن ہیں جہاں سے پاکستانیوں نے انخلا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں 25 لاکھ پاکستانی موجود ہیں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے، نتیجہ سب کے سامنے ہے ایران نے سب سے کم حملے سعودیہ اور عمان میں کیے ہیں۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Sports1 week ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition