Today News
خطے میں بدلتی صورتحال – ایکسپریس اردو
ایران پر اسرائیل نے حملہ کردیا ہے ، امریکا بھی اس میں شامل ہوچکا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ارادے کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ ترک میڈیا کے مطابق ایران نے بھی اسرائیل پر میزائل داغے ہیں، حالات خاصے خطرناک ہوگئے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں نتائج کیا نکلتے ہیں۔
ادھر مشرقِ وسطیٰ میں تضادات شدید سے شدید تر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ عراق اور کویت کا تنازعہ بھی اپنی جگہ ہے۔ اکثریتی عرب ممالک اس تنازعے میں کویت کی حمایت کر رہے ہیں۔
یمن کا کیا ہوگا، اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے، اسرائیل کے عزائم واضح ہوگئے ہیں ہے، ادھر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی یمن کے ایشو پر ایک دوسرے کے ساتھ تناؤ کی کیفیت میں ہیں۔
حالانکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، امریکا کے اتحادی ہیں مگر اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب اپنے تعلقات مستحکم کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ ادھر اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کا متنازعہ بیان سامنے آیا ہے جس میں اس نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے بہت سے علاقوں کو اسرائیل سے جوڑ دیا، یہ کہہ کر کہ بائبل میں اس کا ذکر موجود ہے کہ وہ اسرائیل کا حصہ ہیں۔
اس بیان پر سعودی عرب کا فوری اور شدید ردِ عمل سامنے آیا اور دوسرے اسلامی ممالک بشمول پاکستان نے اس بیان کی شدید مذمت کی اور یوں سعودی عرب کی ایک اخلاقی حیثیت سامنے آئی۔ گماں یہ ہے کہ اسرائیل، سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی طاقت سے پریشان ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم کا مبینہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ وہ کچھ عرب ریاستوں سے اتحاد بنا رہا ہے۔ اسرائیل بڑی کامیابی کے ساتھ مسلم ریاستوں کے مابین اختلافات پیدا کر کے مشرق وسطیٰ کی بڑی طاقت بنتا جا رہا ہے۔
اسرائیل کا ایران پر حملہ بھی اسی تناظر میں لگتا ہے، عندیہ بھی یہی ہے کہ اگر عرب ریاستیں آپس میں ٹکراؤ میں ہوںگی تو اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں من مانی کر سکے گا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ اسرائیل کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔
افغانستان کا معاملہ بھی گھمبیر ہے۔ اس ملک کو سمجھنا بھی سنجیدہ معاملہ ہے، ایسا منفرد ملک جہاں تین سے چار لاکھ لوگ وہاں غیر ملکی رہائشی ہیں اور سب دہشت گرد حملوں کے ماہر ہیں۔ افغانستان کی معیشت، منشیات اور غیر قانونی اسلحے کے کاروبار پر منحصر ہے۔
اقوامِ متحدہ نے افغانستان پر حال ہی میں ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے۔ یہ پراکسی جنگوں کو بھی اپنی معیشت کا حصہ سمجھتے ہیں۔
افغانستان میں عورتوں کی حالت انتہائی بدتری کا شکار ہے اور پورے افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہے، جس بات کی تشویش تھی کچھ ایسا ہی ہونے جا رہا ہے۔ مودی صاحب اسرائیل میں ہیں۔
شام کی بشار حکومت کا تختہ الٹادیا گیا ہے ۔
حال ہی میں پاکستان نے افغانستان کی دہشت گردی کا جواب دیتے ہوئے، افغانستان پر فضائی بمباری کی ہے۔ افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو بلیک ہول بن چکا ہے، جو پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث ہے۔
امریکا کی فوج اور جنگی بیڑے کا خلیجِ فارس میں موجود ہیں، یہ ان کی سب سے بڑی بین الاقوامی جنگی کارروائی ہے، ایک بڑی جنگ کی طرف اشارہ ہے۔ ہمارے ایران سے اختلافات ہو سکتے ہیں، البتہ ایران کا ریکارڈ جمہوریت اور انسانی حقوق کے حوالے سے اچھا نہیں ہے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران پر جنگ مسلط کی جائے۔
حالات میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اب دنیا نہ ہیUnipolar ہے جس طرح سے 2003 میں تھی، جب امریکا نے عراق پر حملہ کیا تھا اور نہ ہیMultipolar ہے۔
ہم نے چین کی ٹیکنالوجی کے ساتھ پچھلے سال ہندوستان سے جنگ جیتی اور اب بھی چین ہمارے لیے بہت معنیٰ رکھتا ہے۔ افغانستان کے معاملے میں اب ہمارا واضع مؤقف وافح ہوگیا ہے ، اب دہشت گردی برداشت نہیں ہوگی ۔
اس خطے کا بین الاقوامی منظر انتہائی تیزی اور حساس طریقے سے بدل رہا ہے جس کے نمایاں اثرات ہماری سرحدوں پر ہو رہے ہیں۔ ہمارے لیے ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردی ہوتی ہے اس کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات اس قدر کشیدہ ہوچکے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا ہے۔ ایران بھی امریکا کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کا اندازہ امریکا کو ہو رہا ہے اور اگر اس حملے کے بعد چین بھی کوئی پیش رفت کرتا ہے جس کے امکانات کم ہیں تو یہ دنیا Unipolar یا Multipolar سےBipolar ہو جائے گی۔
دوسری طرف امریکا میں مڈٹرم انتخابات اس سال کے آخر میں ہونے جا رہے ہیں۔ وہاں کی سپریم کورٹ نے امریکا میں ٹیرف لاگو کرنے کو غیرآئینی قرار دے دیا ہے۔ ایران کے معاملے میں یورپ اور امریکا ایک ہی پیج پر ہیں، بس یورپ اس کا حل جنگ نہیں سمجھتا۔
جمہوریت ملکی سالمیت کو تقویت دیتی ہے۔ عراق اپنا وجود بین الاقوامی سازشوں کے آگے برقرار نہیں رکھ سکا۔ اسی طرح شام اور لیبیا بھی جمہوری ریاستیں نہیں تھیں۔ ایسے ہی حالات افغانستان اور ایران کے بھی ہیں۔ ایسے حالات اور اس بین الاقوامی تناظر میں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو جیسے لیڈران کی ضرورت ہے اور ایسے لیڈران صرف جمہوریت ہی پیدا کرسکتی ہے۔
ہماری داخلی کمزوریوں سے دشمن اٹھانا چاہتے ہیں۔ مودی کی اسرائیل میں موجودگی اور نیتن یاہو کے بیانات اس بات ثبوت ہے کہ مستقبل میں ہمیں بھی کئی مسائل کا سامناہے، لٰہذا ہمیں اپنے اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا، آئین کی بالادستی قائم کرنا ہوگی۔
عرب ممالک کے آپس میں اختلافات نے ہمیں مشکل میں ڈال دیا ہے۔ تمام عرب ممالک سے ہمارے دوستانہ روابط ہیں اور ان کے آپس میں اختلافات ہمیں اس بات پر مجبور کریں گے کہ ہم کسی ایک کے ساتھ کھڑے ہوں جو ہمارے لیے ایک معاشی سپورٹ ہو۔
ان حالات میں ملک کے اندر اتحاد کا ہونا بہت ضروری ہے اور ایسے پروپیگنڈے سے قطعاً اجتناب برتا جائے جو اس اتحاد کو نقصان پہنچائیں۔
Today News
ایران؛ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد سپریم لیڈر کا انتخاب کیسے ہوگا؟
ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد یہ سوال پوری دنیا میں اٹھ رہا ہے کہ اب اس ملک کا نظامِ اقتدار کس کے پاس جائے گا؟
ایران کا سیاسی ڈھانچہ کسی عام آمریت یا موروثی بادشاہت کی طرح نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور ادارہ جاتی آئینی نظام ہے جو کسی بھی بڑے بحران کے لیے دہائیوں سے تیار کیا گیا ہے۔
ایران کے آئین کے مطابق، سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل مکمل طور پر “مجلسِ خبرگان” یعنی ‘اسمبلی آف ایکسپرٹس’ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہ مجلس 88 جید علمائے دین اور فقہا پر مشتمل ہوتی ہے، جن کا انتخاب ہر آٹھ سال بعد براہِ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
مجلسِ خبرگان کا بنیادی کام ہی یہ ہے کہ وہ سپریم لیڈر کی وفات یا استعفے کی صورت میں نئے جانشین کا انتخاب کرے۔ جب تک یہ مجلس کسی ایک نام پر حتمی فیصلہ نہیں کر لیتی، ملک کا انتظام ایک عبوری کونسل کے سپرد کر دیا جاتا ہے، جس میں صدرِ مملکت، چیف جسٹس اور پارلیمنٹ کا اسپیکر شامل ہوتے ہیں۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ایران کا یہ نظام عوامی شرکت اور مذہبی اتھارٹی کا ایک انوکھا امتزاج ہے۔ ایران میں ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں عوامی شرکت عموماً 40 سے 70 فیصد کے درمیان رہی ہے، جو اس سیاسی ڈھانچے پر عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
اس وقت جانشینی کے لیے چند بڑے نام زیرِ بحث ہیں: پہلے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، جو نظامِ حکومت میں گہرا اثر و رسوخ رکھتے ہیں، تاہم وراثتی جانشینی کی مخالفت ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے. دوسرے امام خمینی کے پوتے حسن خمینی۔ اسی طرح علی رضا عرفی جو ملک بھر کے مدارس کے ڈائریکٹر اور عبوری کونسل کے رکن ہیں، ایک مضبوط امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں۔
تاہم، ایران کا آئین واضح ہے کہ نیا رہبر وہی بنے گا جس کے پاس بلند ترین مذہبی درجہ یعنی ‘مرجع’ کا مقام اور سیاسی بصیرت ہوگی۔
ایران کے اس نظام میں تین اہم ستون متوازی کام کرتے ہیں۔ پہلا عوامی ستون ہے جس میں پارلیمنٹ اور صدر شامل ہیں۔ دوسرا مذہبی ستون ہے جس کی سربراہی سپریم لیڈر کرتے ہیں، اور تیسرا دفاعی ستون ہے جس کی ذمہ داری پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے پاس ہے، جو نہ صرف ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ پورے خطے میں ایران کے نظریاتی اثر و رسوخ کی محافظ بھی ہے۔
یہی وہ ادارہ جاتی استحکام ہے جس کی وجہ سے قیادت کی اچانک تبدیلی کے باوجود ایران کے ریاستی ڈھانچے میں انتشار کا خطرہ کم سے کم رہتا ہے کیونکہ وہاں فیصلے افراد نہیں بلکہ ایک مکمل نظام کرتا ہے۔
Today News
ایرانی حملوں کے بعد عالمی شہرت یافتہ فٹبالر رونالڈو نے سعودی شہر ریاض چھوڑ دیا
ایرانی حملوں کے بعد عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نجی طیارے کے ذریعے سعودی عرب کے شہر ریاض سے میڈرڈ روانہ ہوگئے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق رونالڈو کا نجی طیارہ رات آٹھ بجے ریاض سے روانہ ہوا اور تقریباً ایک بجے میڈرڈ پہنچ گیا۔ فلائٹ ٹریکر کے مطابق طیارہ مصر اور بحیرۂ روم کے اوپر سے گزرا۔
فٹ بال اسٹار کرسٹیانو رونالڈو کا نجی طیارہ پیر کی رات سعودی عرب سے میڈرڈ کے لیے روانہ ہوا کیونکہ ایشین فٹ بال کنفیڈریشن نے ایران جنگ شروع ہونے کے بعد خلیجی خطے میں ہونے والے آٹھ میچوں کو معطل کر دیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جس نجی طیارے کے ذریعے رونالڈو میڈرڈ گئے ہیں اسکی مالیت تقریباً 61 ملین پاؤنڈ ہے۔ رونالڈو ریاض میں اپنی اہلیہ اور پانچ بچوں کے ساتھ مقیم ہیں۔
تاہم برطانوی اخبار کے مطابق یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا ان کا خاندان بھی اس پرواز میں ان کے ہمراہ موجود تھا یا نہیں۔
Today News
پشاور میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی، خاتون سمیت 4 ملزمان گرفتار
محکمہ ایکسائز خیبر پختونخوا نے پشاور میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی اور مربوط کارروائیاں کرتے ہوئے خاتون سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ایکسائز انٹیلیجنس اسکواڈ کی مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 3145 گرام آئس برآمد کی گئی۔
پیر زکوڑی پل کے قریب کارروائی کے دوران ملزم ساجد آفریدی کو گرفتار کرکے 670 گرام آئس برآمد کی گئی۔
موٹروے جوائنٹ چیک پوسٹ پشاور پر کارروائی میں ملزم محمد ابراہیم کو گرفتار کر کے 540 گرام آئس برآمد کی گئی۔
سروس روڈ پر کارروائی کے دوران خاتون منشیات سمگلر کو گرفتار کیا گیا جس کے قبضے سے 1035 گرام آئس برآمد ہوئی۔
موٹروے جوائنٹ چیک پوسٹ پر ایک اور کارروائی میں ملزم محمد عمران ولد عارف علی کو گرفتار کر کے 900 گرام آئس برآمد کی گئی۔
تمام ملزمان کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور ریجن میں الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
کارروائیاں پروونشل انچارج ایکسائز انٹیلیجنس سعود خان گنڈاپور اور ای ٹی او کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنز ماجد خان کی نگرانی میں کی گئیں۔
محکمہ ایکسائز نے منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلا امتیاز اور پوری قوت سے کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Sports1 week ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition