Today News
پردہ کیا ہے؟ – ایکسپریس اردو
ہمارے ملک میں جس طرح بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نمازیں صرف رمضان میں پڑھنا لازمی ہے یا جمعے کے دن اسی طرح کچھ لوگوں کو یہ بھی لگتا ہے کہ پردہ کرنا، عورتوں کے لیے سر ڈھک لینا اور مردوں کے لیے نظر نیچی کر لینا بھی صرف ماہ رمضان سے ہی منسلک ہے۔
یہ احکامات سارے سال کے لیے ہوتے ہیں لیکن اس بات پر بھی تنقید نہیں کی جانی چاہیے کہ فلاں اب رمضان میں کیوں نماز پڑھ رہا ہے یا فلاں اب رمضان میںکیوں پردہ کر رہی ہے۔
یہ معاملات اللہ اور بندے کے مابین ہیں اور جب بھی اللہ کسی کو ہدایت دے اور وہ بہتر راستہ انتخاب کر لے تو اس پر اس کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔ لاعلمی میں جیسے ہمار ے ہاں محاورے اور ضرب المثال بھی عبادات کے حوالے سے بن جاتی ہیں۔
اگرچہ ان کا استعمال درست نہیں ہے، جیسے کہ نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی… نمازکے وقت شیطان یاد آنا، روزہ دار کی طرح چپ سادھنا، وغیرہ۔ ان کے استعمال سے بھی گریز کیا جانا چاہیے تا کہ خواہ مخواہ میں نیکیاں ضایع نہ ہوں اور برے اعمال کا پلڑا بھاری نہ ہو۔
پردہ کرنا چاہتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ پورے بازؤں کا لباس پہن لیا، سر پر دوپٹہ اوڑھ لیا، چادر پھیلا کر لے لی تو تسلی ہو گئی۔ ٹھیک ہے، وہ بھی پردہ ہے مگر ہم فراموش کردیتے ہیںکہ پردہ ایک وسیع المعانی لفظ ہے اور اس کا احاطہ صرف اپنے حلیے اور لباس پر نہیں کرنا چاہیے۔ اگر صرف خود کو اچھے طریقے سے چھپا لینا پردہ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟
پردے کی ایک قسم یہی ہے کہ جس سے آپ اپنے وجود کو دوسروں کی نظروں سے چھپاتے ہیں مگر اور بھی کتنا کچھ ہے جسے چھپانے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم اسے نہیں چھپاتے۔
آپ کو اللہ تعالی نے بہت کچھ دے رکھا ہے اور آپ اس میں سے چاہے کتنا بھی کسی کو دیتے ہوں مگر پھر بھی جتنا کچھ آپ کے پاس ہے، اسے بھی پردے میں رکھیں، آپ کے پاس کتنا زیور ہے، کتنا بڑا گھر ہے، کتنی بڑی بڑی گاڑیاں ہیں… آپ کے آبا واجداد کے پاس کتنی دولت تھی جو نسل در نسل آپ کو منتقل ہوئی ہے۔
آپ کی کتنی اچھی ملازمت ہے جس میں آپ کو کتنی زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔ ہمارے گھر بنانے والے جب ہمارے گھروں کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں تو سوچتے ہوں گے کہ یہ کس سیارے کی مخلوق ہیں کہ جن کے پاس اتنا کچھ ہے یا جانے انھوں نے کون سے ایسے نیک اعمال کیے ہیں کہ ان کے پاس دولت کی اتنی ریل پیل ہے۔
جو کچھ کھاتے ہو اور جو کچھ اوڑھتے پہنتے ہو اس پر عاجزی اختیار کرو، اللہ نے آپ کو دیا ہے تو اسے خرچ کریں ، خود پر بھی اور اپنے اہل و عیال پر بھی۔ اللہ نے اس میں سے آپ سے صرف چالیسواں حصہ زکوۃ کی مد میں اپنے نام پر غریبوں کو دینے کو کہا ہے اور وہی کھٹکتا ہے۔
بھئی اگر کسی کے پاس سال بھر کے لیے چالیس لاکھ یا چالیس کروڑ ہو، سونا بھی ہو اور وہ صاحب نصاب ہو تو کہاں دل چاہتا ہے کہ چالیس کروڑ میں سے ایک کروڑ دے دیں، دل تو یہی چاہتا ہے نا کہ دس اور مل جائے تو پچاس کروڑ ہو جائے یا پچاس لاکھ ہو جائے ۔
یہی مال و منال انسان کا اصل امتحان ہے اور اسی کو اس کے بعد اس کی اولادوں کے بیچ فتنہ بننا ہوتا ہے مگر اس کی محبت کہ اسے سینے سے بھی لگا کر رکھتے ہیں اور اسے مزید پانے کی ہوس میں بھی مبتلا ہوتے ہیں۔
اپنے اچھے جوتوں ، بیگ، زیورات، گھڑیوں اور مہنگے برانڈ کے میک اپ کو بھی پردے میں رکھو، اس کی بھی نمائش نہ کرو بالخصوص اپنے گھروں کے ملازمین، غریب رشتہ داروں اور سفید پوش لوگوں کے سامنے۔
جتنا کا آپ ایک وقت کا کھانا اپنے خاندان کے ساتھ کسی اچھے ریستوران سے کھاتے ہیں، اتنے میں ایک سفید پوش گھر کا مہینے بھر کا راشن آ جاتا ہے۔ آپ کے ایک برانڈڈ جوتے کی قیمت غریب کے گھر کے سال بھر کے بلوں سے بھی زائد ہوتی ہے۔
سوچیں کہ اس کے دل پر کیا بیتتی ہے جب اسے علم ہوتا ہے کہ آپ کے پیر کے جوتے اس کی ماہانہ تنخواہ سے بھی بڑھ کر ہیں ۔ آپ کے ایک لباس کی قیمت میں اس کے گھر کے سب لوگوں کے سال بھر کے کپڑے بن جائیں ۔
آپ کے ملازم کے ہاتھ میں یا کسی بھی غریب کے ہاتھ میں اگر بیس ہزار روپے کا فون ہے تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ اپنے اس فون پر کتنا ناز کرتا ہو گا، کتنی خوشی سے استعمال کرتا ہو گا، کتنی حسرتوں کا گلا گھونٹ کر اس نے وہ فون خریدا ہو گا اور جب آپ اسے بتائیں کہ آپ کے فون پر چڑھا ہوا کور یا آپ کے فون کا چارجر بھی اس کے فون سے مہنگا ہے تو اس پر کیا گزرے گی۔
کسی بے گھر کے سامنے آپ کا گھر کتنی حسرت کا باعث بنتا ہوگا ، اس کے دل میں کیسے کیسے خیال آتے ہوں گے، وہ کتنی بار جیتا اور مرتا ہو گا۔
آپ کے جاننے والوں میں اگر یتیم بچے ہیں اور آپ ان کے سر پر دست شفقت نہیں رکھ سکتے تو اس کے سامنے اپنے بچوں سے بھی لاڈ اورپیار نہ کریں کہ آپ کے ان جذبات کے اظہار سے اس کے اندر احساس محرومی اور بھی کتنابڑھ جائے گا۔
اسے جانے اپنے ماں باپ کا پیار ملا کہ نہیں جب وہ زندہ تھے تب بھی یا اس کے والدین اس کی خواہشات کو اسی طرح پورا کر سکتے تھے کہ نہیں جیسے کہ آپ اپنے بچوں کی کرتے ہیں۔
اسی طرح جن کے ہاں اولاد نہیں ہے ان کے سامنے بھی اپنی اولادوں کو بڑھا چڑھا کر بیان نہ کریں اور نہ ہی انھیں ان کی محرومی کا احساس دلائیں۔ جن کی لاکھ کاوشوں کے باوجود شادی نہیں ہو پا رہی ہے، وجہ کچھ بھی ہو… ان کے سامنے یہ تذکرہ مت کریں کہ کیسے سیکڑوں لڑکیاں یا لڑکے آپ پر مرتے تھے اور کیسے آپ نے دھوم دھام سے شادی کی۔
آپ کے حالات اور قسمت اچھی تھی تو آپ کے لیے سب ممکن ہوگیامگر ان حالات اور قسمت کے اچھے ہونے میں آپ کا کمال نہیں ہوتا ۔
آپ کے پاس کتنا کچھ ہے اور آپ اس میں سے کتنا کچھ چیریٹی میں دے دیتے ہیں، اپنی سخاوت کے قصے اپنے منہ سے بول کر نہ بتایا کریں ، ہر کسی کو سخاوت کی گنجائش نہیں ہوتی، ان کے ہاں ان نیکیوں کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا کیونکہ وہ کئی پشتوں سے غریب ہی چلے آتے ہیں اور لینے والوں میں ہوتے ہیں، آپ دینے والے ان کی عزت نفس کو بھی مجروح کردیتے ہیں ۔
پردے کا مقصد یہ بھی ہے کہ آپ نہ صرف خود کو ڈھانپ کر سمجھیں کہ پردہ ہو گیا بلکہ دوسروں کی زندگیو ں میں نہ جھانکیں، ان کے عیوب اور کمزوریوں کو نہ اچھالیں اور نہ تشہیر کریں ۔
ان کی غربت پر پردہ پڑا رہنے دیں ، اگر آپ ان کی غربت مٹانے کو ان کی مدد کرتے ہیں تو اس سے آپ کو یہ حق حاصل نہیں ہوجاتا کہ آپ جگہ جگہ کہتے پھریں کہ فلاں فلاں آپ کے ٹکڑوں پر پل رہا ہے ۔
آپ نے تو یہ سب کچھ اس لیے کھایا، خریدا، اوڑھا اور پہنا کہ آپ کو اللہ نے بہت کچھ دے رکھا ہے اور پھر آپ کا دل چاہتا ہے لوگوں کو بھی علم ہو کہ آپ کی حیثیت کیا ہے اور آپ کیا کچھ افورڈ کر سکتے ہیں مگر ان لوگوں سے یہ سب کچھ پردے میں رکھیں جنھیں آپ کی یہ نمائش موت کے منہ میں پہنچا دیتی ہے، ان کے دل حسرتوں سے بھر جاتے ہیں تو نتیجے میں یا وہ شدیدڈیپریشن میں چلے جاتے ہیں، مجرم بن جاتے ہیں یا خود کشی کرلیتے ہیں۔
Today News
ایران امریکا جنگ فضائی حدود کی بندش کامعاملہ سنگین ہوگیا
ملک کے بین الاقوامی ایئرپورٹس سے آج یو اے ای بحرین کویت، قطر سمیت دیگر مشرق وسطی کی 130 پروازیں منسوخ کی جاچکی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کراچی ائیرپورٹ سے دبئی، ابو ظہبی قطر، شارجہ، کویت بحرین کی 30 پروازیں منسوخ، اسلام آباد ائیرپورٹ سے دبئی ابو ظہبی دوحہ بحرین کویت شارجہ سمیت دیگر ایرپورٹس کی 36 پروازیں منسوخ اور لاہور ائیرپورٹ پر دبئی ابو ظہبی قطر کویت بحرین کی 22 پروازیں منسوخ ہوئیں۔
پشاور ائیرپورٹ سے دبئی شارجہ قطر ابو ظہبی کی 14 فلائٹس منسوخ، ملتان ائیرپورٹ سے دبئی شارجہ راس الخیمہ بحرین دوحہ کویت کی 14 پروازیں منسوخ، سیالکوٹ ائیرپورٹ سے دبئی اور شارجہ ابو ظہبی سمیت دیگر مشرق وسطیٰ کی 10 پروازیں منسوخ کی گئیں۔
فیصل آباد ائیرپورٹ سے 4 مشرق وسطیٰ کی پروازیں منسوخ کی گئیں۔ منسوخ پروازوں میں ایمریٹس،اتحاد،ائیر عریبیہ پی آئی اے،ائیر بلیو،قطر ائیرویز سمیت دیگر ملکی اور غیرملکی ائیرلائنز شامل ہیں۔
پاکستان سے مشرق وسطیٰ ملکوں کی منسوخ پروازوں کی تعداد 708 ہوگئی
28 فروری سے یو اے ای، قطر، بحرین، کویت، ایران کی فضائی حدود بند ہونے سے ائیرلائنز کی پروازیں متواتر منسوخ ہورہی ہیں،ذرائع
لاہور مجموعی طور پر علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک کے آٹھ ائیرپورٹ سے 167 پروازیں منسوخ ہو ئیں ہیں ائیرپورٹ زرائع
Today News
عمرہ اجازت کیلیے شیخ رشید کی درخواست پر ہائیکورٹ نے اہم آئینی سوالات اٹھا دیے
راولپنڈی:
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی عمرہ ادائیگی کے لیے اجازت سے متعلق پٹیشن کی سماعت ہائیکورٹ میں ہوئی۔
پٹیشن کی سماعت جسٹس جواد حسن اور جسٹس طارق باجوہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران شیخ رشید احمد اپنے وکیل سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ کی بنیاد پر کسی کو عمرہ ادائیگی سے روکنا ایک اہم آئینی سوال ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے پر تفصیلی بحث اور دلائل کے بعد ایک تفصیلی اور رپورٹڈ فیصلہ جاری کیا جائے گا۔
عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ جو شخص جب بھی عمرہ پر گیا ہو اور بروقت واپس آیا ہو اسے کیوں روکا گیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ کی بنیاد پر عمرہ جانے سے روکنا کیا آئین میں دی گئی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت کی خلاف ورزی نہیں۔
عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں ایف آئی آر کی بنیاد پر کسی کو عمرہ جانے سے نہیں روکا جا سکتا۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ سرکار واپسی کی گارنٹی لے کر سائل کو عمرہ پر جانے کی اجازت دے سکتی ہے ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل اتھارٹی سے اس حوالے سے اجازت کا موقف معلوم کریں۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ شیخ رشید کو جی ایچ کیو حملہ کیس کی وجہ سے روکا گیا ہے۔
اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ایسے روکنے کے لیے کوئی واضح قانون موجود ہے۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ عدالت اس کیس کو تفصیلی طور پر سن کر آئین کے آرٹیکل 28-A کے تحت فیصلہ کرے گی۔
شیخ رشید احمد نے عدالت کو بتایا کہ وہ 17 مرتبہ پاکستان کے وفاقی وزیر رہ چکے ہیں لیکن آج انہیں عمرہ پر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی مقدمات کے دوران وہ 8 مرتبہ بیرون ملک گئے اور ہر دفعہ 8 سے 10 دن کے اندر واپس آتے رہے، تاہم اس مرتبہ انہیں 6 ماہ سے عمرہ پر جانے سے روکا جا رہا ہے۔
وکیل سردار عبدالرازق خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ پہلے ہی شیخ رشید کا نام ای سی ایل سے نکال چکی ہے لیکن انہیں دوبارہ بغیر کسی وجہ کے سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سفر ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے جسے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی کسی دفعہ کی بنیاد پر سلب نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران شیخ رشید احمد نے اپنی کتاب ’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک‘ عدالت میں پیش کی۔ اس موقع پر جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ ہم کسی سے پنسل بھی نہیں لے سکتے، اگر آپ کتاب ہائیکورٹ کو دینا چاہتے ہیں تو تحریری طور پر ہائیکورٹ کی لائبریری کو دے دیں۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے معاملہ 12 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو پورا دن سن کر مقدمہ کی بنیاد پر عمرہ سے روکنے کے معاملے کا مستقل حل نکالا جائے گا۔
Today News
مس کنڈکٹ کی بنیاد پر 3 سول ججز کو عہدوں سے برطرف کر دیا گیا
لاہور:
ہائیکورٹ نے مس کنڈکٹ کی بنیاد پر 3 سول ججز کو عہدوں سے برطرف کر دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کی منظوری کے بعد رجسٹرار کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سول جج لاہور نسیم اختر ناز کو عہدے سے برطرف کیا گیا ہے جب کہ سول جج راولپنڈی محمد اسلم کو بھی مس کنڈکٹ کے الزامات ثابت ہونے پر برطرف کر دیا گیا۔
اسی طرح سول جج جہلم سرمد سلیم کو بھی عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ سول جج سرمد سلیم ایک ماہ کی چھٹی لے کر بیرون ملک گئے تھے اور انہوں نے دوبارہ چارج سنبھالنے کے بجائے استعفا ٰ ارسال کر دیا تھا۔
اس معاملے پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سیشن جج جہلم کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔
انکوائری میں یہ ثابت ہوا کہ سول جج نے چھٹیوں کے بعد دفتر کا چارج سنبھالے بغیر استعفا بھجوایا تھا جس کے بعد انتظامی کارروائی کرتے ہوئے انہیں عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Entertainment2 weeks ago
Meri Zindagi Hai Tu Episode 31 Disappoints Fans