Today News
امریکا ایران کشیدگی اور بدلتا عالمی منظرنامہ
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے سب سے نازک اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب محض بیانات، پابندیوں یا سفارتی دباؤ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عسکری صف بندی، فوجی مشقوں اور طاقت کے عملی مظاہروں کی کے بعد ایران پر باقاعدہ حملہ کر دیا ہے اور اب ایران نے بھی جوابی بیلسٹک میزائل فائر کر دیے ہیں۔
امریکی بحری بیڑوں کی خلیج میں موجودگی اور فضائی سرگرمیوں میں اضافہ اور ایران کی جانب سے دفاعی تیاریوں اور سخت انتباہات پورے خطے کو تصادم کے لاحق خطرات سے آگاہ کر رہے تھے ۔
اب اسرائیل اور امریکا نے مل کر ایران پر حملہ کر دیا ہے اور ایران بھی خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
بظاہر اس تنازع کا مرکزی نکتہ ایران کا جوہری پروگرام اور اس کا علاقائی کردار ہے، مگر درحقیقت یہ کشمکش عالمی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ، وسائل اور جغرافیائی برتری کی جدوجہد کا تسلسل ہے۔
امریکا اور اس کے اتحادی خطے میں اپنی بالادستی برقرار رکھنا چاہتے ہیں، جب کہ ایران خود کو ایک آزاد اور مزاحم ریاست کے طور پر پیش کر رہا ہے جو مغربی دباؤ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی تصادم اس بحران کو مسلسل گہرا کر رہا ہے۔
ایران کی جغرافیائی حیثیت اس تنازع کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔ یہ ملک پاکستان، ترکیہ، عراق اور افغانستان جیسے حساس خطوں سے متصل ہے، اس لیے ایران میں عسکری کارروائی پورے خطے کو عدم استحکام کی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس کشیدگی کو دو ملکوں کی جنگ کے بجائے ایک وسیع علاقائی بحران کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس کے اثرات طویل اور ہمہ جہت ہوں گے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال خصوصی تشویش کا باعث ہے۔ مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ تاریخی کشیدگی اور مغربی خطے میں ممکنہ بدامنی پاکستان کو ایک نازک تزویراتی مقام پر لا کھڑا کرتی ہے۔
اب ایران میں جنگ شروع ہونے کے بعد پاکستان کو سرحدی دباؤ، معاشی اثرات، توانائی کے مسائل اور ممکنہ پناہ گزین بحران جیسے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی قسم کی داخلی کمزوری یا سیاسی انتشار قومی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں۔ معاشی پابندیاں، سفارتی تنہائی، میڈیا پروپیگنڈا اور نفسیاتی دباؤ اب جنگی حکمتِ عملی کا مستقل حصہ بن چکے ہیں۔
ایران کے خلاف دباؤ کی موجودہ مہم بھی اسی جدید طرزِ جنگ کی عکاس ہے، جس میں براہِ راست تصادم کے بعد اس کے سسٹم کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو ایسے حالات ہمیں اس دور کی یاد دلاتے ہیں جب مختلف قوتیں ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد ہوکر سامنے آئیں۔
اس وقت بھی اصل ہدف محض ایک خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ اور خود مختار طرزِ حیات تھا۔ آج بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں، فرق صرف یہ ہے کہ طاقت کے مظاہرے کے طریقے بدل چکے ہیں۔
امتِ مسلمہ اس وقت شدید فکری، سیاسی اور جغرافیائی تقسیم کا شکار ہے۔ باہمی اختلافات اور عدم اعتماد نے اجتماعی قوت کو کمزور کردیا ہے، جس کا فائدہ عالمی طاقتیں اٹھا رہی ہیں، اگر مسلم ممالک مشترکہ حکمتِ عملی، سفارتی ہم آہنگی اور باہمی تعاون کو فروغ دینے میں ناکام رہے تو ہر ملک الگ الگ دباؤ کا شکار ہوتا رہے گا۔
پاکستان، ترکیہ اور دیگر اہم مسلم ریاستوں کے لیے یہ وقت جذباتی ردِ عمل کے بجائے تدبر، بصیرت اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا متقاضی ہے۔
عسکری تیاری کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، سیاسی یکجہتی اور مضبوط سفارت کاری ہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی بیرونی دباؤ کو مؤثر طور پر ناکام بنا سکتے ہیں۔ داخلی محاذ پر انتشار اور کمزوری ہمیشہ بیرونی مداخلت کی راہ ہموار کرتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب قوم نے اتحاد، نظم و ضبط اور اعتماد کا مظاہرہ کیا تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی قابلِ عبور ثابت ہوا۔
موجودہ حالات میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی مفاد کو ہر سیاسی اور ذاتی اختلاف پر ترجیح دی جائے اور خارجہ و دفاعی پالیسی میں یکسوئی برقرار رکھی جائے۔
آخرکار یہ بحران محض ایک علاقائی کشیدگی نہیں بلکہ مسلم دنیا کے لیے ایک اجتماعی امتحان ہے۔ آنے والا وقت یہ طے کرے گا کہ یہ دنیا منتشر ریاستوں کے مجموعے کے طور پر موجود رہے گی یا ایک باشعور، متحد اور خود مختار قوت کے طور پر ابھرے گی۔
تاریخ ایسے لمحات کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے اور قوموں کے اصل فیصلے انھی آزمائشوں میں رقم ہوتے ہیں۔
Today News
غیر حاضری پر کراچی پولیس کے 17 پولیس افسران اور اہلکار کو سزا
ایس ایس پی سینٹرل نے ڈیوٹی سے غیر حاضری اور فرائض میں غفلت پر 17 پولیس افسران و اہلکاروں کیخلاف ایکشن لے لیا۔
ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر عمران خان کی جانب سے ڈیوٹی سے غیر حاضری اور فرائض میں غفلت کے مرتکب 17 پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ترجمان کے مطابق ڈیوٹی میں غفلت ، نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور ڈیوٹی سے غیرحاضری کے مرتکب 17 افسران و اہلکاروں کو بطور سزا ایک دن کے لیے کوارٹر گارڈ کیا گیا ہے۔
ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل نے واضح کیا ہے کہ ڈیوٹی میں لاپرواہی، نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور غیر حاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی اور آئندہ بھی ایسے اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائیگی تاکہ فورس میں نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔
Source link
Today News
عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، وفاقی وزیر
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری بانی پی ٹی آئی کی آنکھ سے متعلق نئی پیشرفت سے آگاہ کیا ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ عمران خان کا آج 3 مارچ 2026 کو اڈیالہ میں ماہرینِ امراضِ چشم پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے تفصیلی طبی معائنہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ میڈیکل بورڈ میں پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی (سربراہ ویٹریو ریٹینل ڈیپارٹمنٹ، الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی) اور پروفیسر ڈاکٹر ایم عارف خان (سربراہ شعبہ امراضِ چشم، پمز اسلام آباد) شامل تھے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یہ معائنہ اینٹی وی ای جی ایف کی انٹرا وٹریل انجیکشن کی دوسری خوراک کے بعد فالو اپ کے طور پر کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ معائنے کے دوران بصری معیار (Visual Acuity)، فنڈوسکوپی، سلٹ لیمپ ایگزامینیشن اور آپٹیکل کوہرنس ٹوموگرافی سمیت تمام ضروری طبی جائزے مکمل کیے گئے۔
میڈیکل بورڈ کے مطابق بینائی میں نمایاں بہتری آئی اور موجودہ مرحلے پر بصارت اطمینان بخش ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق مزید علاج اور نگہداشت کا عمل پہلے سے طے شدہ میڈیکل پلان کے مطابق جاری رہے گا۔
Source link
Today News
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ؛ کونسی ٹیمیں فائنل کھیلیں گی؟ بڑی پیشگوئی سامنے آگئی
آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کا فائنل کون کونسی ٹیمیں کھیلیں گی اس حوالے سے بڑی پیش گوئی سامنے آئی ہے۔
ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان نے سابق کرکٹرز باسط علی اور کامران اکمل سے کہا کہ ایک سیمی فائنل تو بھارت جیت جائے گا لیکن دوسرے میں تھوڑا کنفیوز ہوں کیونکہ دونوں ہی اچھی ٹیمیں ہیں لیکن جنوبی افریقا کو ایڈوانٹیج ہے۔
سابق کرکٹرز باسط علی اور کامران اکمل نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جنوبی افریقا نیوزی لینڈ کو شکست دے کر فائنل میں پہنچ جائے گا جبکہ دوسرے سیمی فائنل سے بھارت جیت کر فائنل کھیلے گا۔
کامران اکمل نے گفتگو کرتے ہوئے میزبان کے سوال کے جواب میں کہا کہ دوسرے سیمی فائنل میں انڈیا ٹیم زیادہ مضبوط ٹیم ہے، بڑی اچھی بولنگ اور بیٹنگ کرتے ہوئے آرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ باہر ہوجائے گا اور بھارت جیت جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقا اور نیوزی لینڈ کا سیمی فائنل بھی اچھا ہوگا۔
آخر میں دونوں سابق کرکٹرز نے کہا کہ سیمی فائنل سے جنوبی افریقا اور بھارت فائنل میں پہنچیں گے یہ دونوں بہت اچھی ٹیمیں ہیں اور ڈیزرو کرتی ہیں۔
Source link
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Tech1 week ago
DIFC’s Dubai FinTech Summit Expands Globally with Pakistan Digital Authority
-
Today News2 weeks ago
پاکستان اور نمیبیا کا اہم میچ؛ کولمبو میں موسم کیسا رہے گا؟بارش کے کتنے امکانات ہیں؟