Connect with us

Today News

کراچی میں شیعہ تنظیموں کا امریکی قونصلیٹ جانے کا اعلان

Published

on



کراچی:

ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد کراچی میں شیعہ تنظیموں نے امریکی قونصلیٹ جانے کا اعلان کردیا۔

ایرانی رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت کا اعلان سامنے آنے کے بعد شہر بھر میں عزادار مساجد و امام بارگاہوں میں جمع ہونا شروع ہوگئے۔

شعیہ تنظیموں کے منتظمین سمیت کارکنان کی بڑی تعداد نمائش چورنگی پہنچنا شروع ہوگئی، ابو الحسن اصفہانی روڈ پر واقع عباس ٹاؤن سے بھی ایک ریلی روانہ ہوئی ہے۔ 

ٹریفک پولیس کی جانب سے نمائش چورنگی جانے والے راستے بند کردیے گئے، ٹریفک کو متبادل راستہ فراہم کیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ، اسپیکر کی تشکیل کردہ کمیٹی کے خلاف درخواست خارج

Published

on



پشاور ہائیکورٹ نے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی کیجانب سے انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کےخلاف دائر رٹ پٹیشن کو خارج کردیا۔

ہائیکورٹ نے رٹ پٹیشن خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس کیس میں ابھی انکوائری فائنل ہوئی نہ ہی کوئی ایسا مواد پیش کیا جاسکے، جس سے ثابت ہو کہ اسپیکر کیس پر اثرانداز ہورہے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ عوامی مفاد کے کیس میں پارلیمنٹ اور ایگزیکٹیو انکوائری کراسکتے ہیں، درخواست گزار اس کیس میں متعلقہ فورم سے قانون کے مطابق ریلیف حاصل کرسکتے ہیں۔

پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی رٹ پر سماعت جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل بنچ نے کی جبکہ عدالت نے9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا جو جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے تحریر کیا ہے۔

رٹ میں موقف اختیار کیاگیاتھا کہ ریڈیو پاکستان کی عمارت پر 9 اور 10 مئی کے پر تشدد واقعات کے دوران حملہ کرکے شدید نقصان پہنچایا گیا اورعمارت کو آگ لگائی گئی جسکے بعد ملزمان کےخلاف انسداد دہشتگردی کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جبکہ مقدمے میں نامزد ملزمان میں موجودہ اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں۔

اس ضمن میں اسپیکر نے 12 دسمبر کو اعلامیہ جاری کرتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس میں اراکین اسمبلی شامل ہیں جو درست نہیں کیونکہ وہ انکوائری پر اثراندازہوسکتے ہیں۔

عدالت نے قراردیا تھا کہ صوبائی اسمبلی نے کمیٹی بنائی ہے لیکن ابھی تک عدالت کو کوئی ڈائریکشن نہیں دیئے ہیں پھر کس طرح ہم اس میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

عدالت کے مطابق اس مرحلے پر ہم اس میں کوئی آرڈر نہیں کرسکتے اور درخواست قبل از وقت ہے کمیٹی اپنا کام کرے۔

تاہم وکیل درخواست گزار کا موقف تھا کہ چونکہ کمیٹی میں اراکین اسمبلی بھی پہلے سے ملزمان نامزد ہیں اسلئے ممبران اسمبلی اپنے خلاف کیس میں جج نہیں بن سکتے۔

انہوں نے بتایا کہ اسپیکر کے نوٹیفکیشن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، عدالتی کاروائی میں مداخلت کا اختیارسپیکر کو حاصل نہیں ہے۔

عدالت نے رٹ خارج کرتے ہوئے قراردیا کہ یہ درخواست اس اسٹیج پر قبل ازوقت ہے ۔اگر آئین کے تناظر میں مختلف نوعیت کے معاملات میں آئینی تصادم پیدا کیے بغیر عدالتی ٹرائل کیساتھ ساتھ مقننہ (پارلیمنٹ) کی جانب سے انکوائری چل سکتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ ٹینشن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان میں سے ایک دوسرے پر فوقیت حاصل کرنےکی کوشش کرے تاہم اس کیس میں ایسا نہیں لگ رہا ہے اور اب تک کوئی مداخلت سامنے نہ آسکی نہ ہی انکوائری فائنل ہوئی ہے جبکہ عدالت میں اس حوالے سے کوئی موادبھی پیش نہیں کیاجاسکا جس کی بنا پر انکوائری روکی جائے۔

عدالت نے مزید قراردیا کہ مقننہ اور ایگزیکٹیو باڈیز آئینی اہلیت رکھتے ہیں کہ وہ اندرونی معاملات کو ریگولیٹ کرسکیں اور جہاں عوامی مفاد کے کیسز میں ضرورت پڑے وہ وہاں انکوائری کرسکتے ہیں اوریہ انکے آئینی حدود میں آتا ہے ۔ عدالت نے انہیں ابزرویشن کے ساتھ رٹ خارج کردی ہے ۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

ایرانی میں آئندہ حکومت کس کی ہوگی؟ ٹرمپ کا حیران کن جواب

Published

on


ایران میں روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہاں نئی حکومت کے قیام کے بارے میں پہلی بار صدر ٹرمپ نے بھی کھل کر گفتگو کی۔

واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے بدترین صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ موجودہ قیادت کے بعد بھی ایسا شخص اقتدار میں آ جائے جو پہلے والوں سے بھی زیادہ سخت گیر ہو۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے ملاقات کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ کارروائیوں کے بعد ایران میں کوئی ایسا رہنما آ گیا جو سابق قیادت جیسا ہی ہو تو یہ بدترین نتیجہ ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران میں ایسی قیادت سامنے آئے جو ملک کو عوام کے مفاد میں آگے لے جائے اور جہاں آزادی اظہار رائے ہو، آمریت و جبر نہ ہو۔

امریکی صدر نے ایرانی عوام کو خبردار کیا کہ تاحال بمباری کا سلسلہ جاری ہے اس دوران سڑکوں پر احتجاج کے لیے نہ نکلیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں عوام کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور یہ وقت احتیاط کا ہے۔

جب صدر ٹرمپ سے ایران کے سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایک اچھے انسان معلوم ہوتے ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں قومی قیادت کے لیے ایران میں مقیم کوئی شخصیت ہی زیادہ موزوں ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ رضا پہلوی 1971 سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان دنوں امریکا و برطانیہ میں لابنگ میں بھی مصروف ہیں۔

قبل ازیں وہ ایران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت بھی کرچکے ہیں اور ایران میں اقتدار ملنے کی صورت میں بادشاہت کے بجائے جمہوری طرز ہر ملک چلانے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

رضا پہلوی کی والدہ اور سابق شاہِ ایران کی اہلیہ فرح پہلوی نے بھی آج میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ ایران کو جس جمہوری اور عدل پر مبنی نطام کی ضرورت ہے اس کے لیے ان کے بیٹے کام کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے ٹرمپ کے ایران پر حملوں کو رجیم چینج کا حربہ قرار دیتے ہوئے پہلے ہی اس آپریشن سے خود کو الگ کرلیا تھا اور دیگر یورپی ممالک کا بھی یہی موقف رہا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

بہو کے آرام کا معاملہ، رابعہ انعم اور صبا فیصل میں لفظی جنگ

Published

on



نجی ٹی وی کی رمضان نشریات کی میزبان رابعہ انعم نے سینئر اداکارہ صبا فیصل کے ایک پرانے بیان پر کھل کر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بہو سے متعلق اداکارہ کی رائے بالکل پسند نہیں آئی۔

چند ماہ قبل ایک مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے صبا فیصل نے نئی دلہن کے حوالے سے کہا تھا کہ بہو کو گھر میں سونے یا آرام کرنے سے پہلے ساس یا نند کو آگاہ کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر خاصا وائرل ہوا تھا اور کئی صارفین نے اس پر تنقید بھی کی تھی۔

حال ہی میں ایک انٹرویو میں رابعہ انعم نے بغیر نام لیے اسی بیان پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک پروگرام میں یہ کہا گیا کہ بہو اگر کچھ دیر آرام کرنا چاہے تو ساس سے اجازت لے، آخر اس کی کیا ضرورت ہے؟

رابعہ نے کہا کہ وہ خود بھی بہو ہیں اور ان کی ساس نے کبھی ان سے اس قسم کی توقع نہیں کی، نہ ہی وہ سمجھتی ہیں کہ کسی کو اپنی ذاتی زندگی کے معاملات میں اس طرح وضاحت دینی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہر فرد کو اپنی زندگی اپنے انداز میں گزارنے کا حق حاصل ہے اور ایسی روایات کو فروغ دینا درست نہیں۔ رابعہ انعم کے مطابق ہم اکثر ایسے خیالات کو اس لیے دہراتے ہیں کیونکہ ہم برسوں سے بھارتی ڈراموں اور کلچر کے زیرِ اثر ہیں، حالانکہ ہر معاشرے کی اپنی اقدار ہوتی ہیں اور ہمیں سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔

دوسری جانب صبا فیصل نے رابعہ انعم کے بیان پر خاموشی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر رابعہ کا ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کچھ لوگ محض خود کو دانشمند ثابت کرنے اور وقتی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس قسم کی گفتگو کا حصہ بنتے ہیں۔

 

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ان کی بات اتنی ہی غلط تھی تو اسے اتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے۔

یوں بہو اور ساس کے تعلق سے جڑا ایک بیان سوشل میڈیا پر نئی بحث کا باعث بن گیا ہے، جہاں صارفین دونوں شخصیات کے مؤقف پر اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Trending