Connect with us

Today News

ملیر ایکسپریس وے پل کے دونوں اطراف ٹریفک آج صبح 7 بجے سے دوپہر 3 بجے تک بند رہیںگے

Published

on


ملیر ندی پل پر زیر تعمیر ملیر ایکسپریس وے پل کے دونوں اطراف ٹریفک آج صبح 7 بجے سے دوپہر 3 بجے تک بند رہیںگے۔

ایس ایس پی آفس ٹریفک ڈسٹرکٹ ملیر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نیشنل ہائی وے ملیر ندی پر پل کا تعمیراتی کام آج بروز اتوار یکم مارچ کی صبح 7 سے دوپہر  3 بجے تک کیا جائے گا جس میں پر لگائی گئی شٹرنگ کو ہٹایا جائیگا۔

ترجمان ایس ایس پی ٹریفک ڈسٹرکٹ ملیر کے مطابق عوام الناس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ملیر سٹی ٹریفک سیکشن کی حدود میں نیشنل ہائی وے ، ملیر ندی پل پر زیر تعمیر ملیر ایکسپریس وے کے سلسلے میں پل کے آنے اور جانے والے راستے ٹریفک کے لیے بند ہونگے لہذا عوام الناس سے معزرت خواہ ہیں۔

تاہم ٹریفک پولیس کی جانب سے متبادل راستوں کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں شہری قائد آباد سے جانب شہر ملیر ندی پل شارع بھٹو سے یو ٹرن لیتے ہوئے شہر کی جانب جا سکتے ہیں جبکہ نیشنل ہائی وے ملوک ہوٹل سے ملیر ندی پل کے نیچے سے جانب اسٹیل ملز کی طرف بھی جایا جا سکتا ہے۔

 ترجمان کے مطابق شہری ہیلپ لائن 1915 سے رابطے میں رہیں اور ایف ایم 88.6 سنتے رہیں تاکہ وہ کسی بھی پریشانی اور دقت سے محفوظ رہے سکیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

وزیراعظم کا ترک صدر سے رابطہ، ایران پر حملوں کی مذمت، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

Published

on



وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے ایران پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جمہوریہ ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوس ناک حملوں کی شدید مذمت کی۔

وزیراعظم نے صدر اردوان کو برادر خلیجی ممالک کی قیادت سے اپنے حالیہ روابط سے آگاہ کیا، جن میں پاکستان کی جانب سے ان کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اعادہ اور بحران کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی تیاری سے متعلق پیغام شامل تھا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔

وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

اڈیالہ جیل میں عمران خان سے بشریٰ بی بی کی ملاقات

Published

on



پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ملاقات کرادی گئی۔

ایکسپریس نیوز کو جیل ذرائع نے بتایا کہ بشریٰ بی بی بی کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرادی گئی ہے۔

جیل ذرائع نے کہا کہ بشری بی بی اور عمران خان کی ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی جہاں دونوں 40 منٹ تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے اور بشریٰ بی بی نے بانی پی ٹی آئی سے ان کی متاثرہ آنکھ کے بارے میں دریافت کیا۔

جیل ذرائع نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات جیل مینول کے تحت کرائی گئی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

ہانیہ عامر کا ڈرامہ پُرتشدد مردوں کو رومانوی انداز میں پیش کرنے پر تنقید کا نشانہ

Published

on



پاکستانی ڈرامہ شائقین اس وقت بحث میں مصروف ہیں کہ اسکرین پر دکھایا جانے والا ’’صحت مند محبت‘‘ کا تصور آخر کیسا ہونا چاہیے۔ ایسے میں ڈرامہ سیریل ’’میری زندگی ہے تو‘‘ اپنی کہانی اور کرداروں کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔

سیریل میں مرکزی کردار بلال عباس اور ہانیہ عامر ادا کر رہے ہیں کہانی ایک بااصول میڈیکل اسٹوڈنٹ آئرا کے گرد گھومتی ہے، جس کی زندگی میں ایک امیر اور بااثر نوجوان کامیار داخل ہوتا ہے۔ کامیار محبت کو اختیار اور ضد کے امتزاج کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں انکار کو چیلنج سمجھا جاتا ہے۔

ناظرین کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ ڈرامے میں وہی پرانا فارمولا دہرایا گیا ہے: ایک طاقتور اور مالدار مرد مسلسل کسی خاتون کا تعاقب کرتا ہے، اس کے انکار کو نظرانداز کرتا ہے، بغیر اجازت اس کی زندگی میں مداخلت کرتا ہے، مگر کہانی اسے رومانوی رنگ میں پیش کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ آئرا کی مزاحمت کمزور پڑتی دکھائی جاتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ کامیار کی طرف مائل ہوجاتی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ضد اور مسلسل دباؤ ہی محبت کا ثبوت ہیں۔

سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ مسئلہ صرف ایک کردار کے رویے تک محدود نہیں بلکہ ڈرامے کی تحریر اور آئرا کے کردار کی محدود نشوونما بھی سوالیہ نشان ہے۔ ان کے مطابق سیریل نہ صرف زہریلے رویوں کو دکھاتی ہے بلکہ انہیں معمول اور قابلِ قبول بنا کر پیش کرتی ہے۔

کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ کہانی میں ایک ایسے شخص کو، جو جارحانہ مزاج اور نشے کی عادت کا حامل دکھایا گیا ہے، کسی نہ کسی انداز میں جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض مناظر میں مذہبی حوالوں کو بھی اخلاقی برتری ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس پر بھی اعتراض اٹھایا جا رہا ہے۔

’’میری زندگی ہے تو‘‘ نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہمارے ڈرامے غیر صحت مند تعلقات کو محبت کا نام دے کر نئی نسل کے ذہنوں میں غلط تصورات کو تقویت دے رہے ہیں؟



Source link

Continue Reading

Trending