Today News
میرا تھرپارکر – ایکسپریس اردو
صحرائے تھر یا پھر گریٹ انڈین ڈیزرٹ دنیا کا نواں بڑا گرم اور قدرے خشک صحرا ہے جو لگ بھگ 7 ہزار مربع میل رقبے پر پاکستان و بھارت میں پھیلا ہوا ہے۔ اسے دنیا کا واحد سرسبز صحرا بھی کیا جاتا ہے جہان کچھ مقامات پر فصلوں کی کاشت ممکن ہے۔
بھارت میں یہ راجستھان اور گجرات کی ریاستوں جب کہ پاکستان میں پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں پھیلا ہے۔
تھر کو سابق ریاست بہاولپور کے علاقوں (بہاولنگر، بہاول پور، رحیم یار خان) میں چولستان یا روہی کہا جاتا ہے، جب کہ شمالی سندھ (خیرپور و سانگھڑ کے اضلاع ) میں نارا اور جنوبی علاقوں میں تھر ہی کہا جاتا ہے، جب کہ تھرپارکر صوبہ سندھ کے جنوب مشرق میں واقع ڈویژن میرپورخاص اور سندھ کا بہ لحاظ رقبہ سب سے بڑا ضلع ہے جس کی تحصیلوں میں مٹھی، ڈپلو، اسلام کوٹ، چھاچھرو، کالوہی، ڈھلی اور نگرپارکر شامل ہیں۔
یہ پاکستان کا واحد ہندو اکثریتی علاقہ ہے۔
سال 1860 سے 1901 تک اس خطے کو مشرقی سندھ سرحدی ضلع (ایسٹرن سندھ فرنٹیئر ڈسٹرکٹ) کہا جاتا تھا جب کہ 1901 سے 1947 تک اسے تھر اور پارکر کہا جاتا تھا۔
کچھ دوست اِس صحرا کو تھرپارکر سمجھتے ہیں جوغلط ہے۔ تھرپارکر ایک علاقے کا نام ہے جس میں واقع صحرائے تھر کہلاتا ہے۔
لگ بھگ آٹھ یا دس ہزار سال پہلے، دریائے گھاگرہ-ہکڑہ کا ایک ذیلی دریا سرسوتی، ستلج میں ضم ہونے کے بعد دریائے سندھ کی ڈیلٹا ندی، نارا ندی میں بہہ گیا، لیکن پھر اس نے اپنا راستہ بدل لیا۔ اس کی وجہ سے گھاگرہ ہاکڑہ، مون سون سے چلنے والے دریاؤں کے نظام کے طور پر رہ گئے۔ یہ اب سمندر تک نہیں پہنچتا اور صحرائے تھر میں ہی کہیں ختم ہو جاتا ہے۔
تھرپارکر کیسے جایا جائے؟
تھرپارکر جانے کے لیے آپ کو پہلے میرپورخاص پہنچنا ہوگا۔ کراچی، لاہور، کوئٹہ و پشاور سے بذریعہ سڑک بھی آپ میرپورخاص پہنچ سکتے ہیں اور حیدرآباد کے راستے ریل پر بھی پہنچ سکتے ہیں۔
ریل نسبتاً ایک محفوظ اور آرام دہ زریعہ ہے سو میں نے دونوں بار ریل کا سفر کیا۔
ریل آپ کو حید آباد جنکشن اتارے گی جہاں سے بس، گاڑی، ویگن پر آپ آسانی سے تھرپارکر جا سکتے ہیں۔ اپنی سواری ہو تو زیادہ اچھا ہے۔ کراچی والے براستہ گھارو، ٹھٹھہ اور بدین بھی جاسکتے ہیں۔ میرپورخاص سے بزریعہ ٹرین بھی آپ دھورونارو اور پھر بس/ویگن عمرکوٹ جا سکتے ہیں۔
ایک راستہ سانگھڑ، کھپرو اور عمر کوٹ سے ہوکر بھی جاتا ہے لیکن یہ لمبا اور قدرے غیرمحفوظ راستہ ہے۔
حیدرآباد سے میرپورخاص اور نوکوٹ والا راستہ مکمل محفوظ اور بہترین ہے۔
میں نے پہلا سفر چوںکہ ایک ہی دوست کے ساتھ کیا تھا سو ہم حیدرآباد سے میرپورخاص اور پھر کرائے کی گاڑی پر وہاں سے عمرکوٹ پہنچے تھے۔ بقیہ سفر لوکل پر کیا تھا۔ اس برس ہم چھے دوست گئے تھے اور زیادہ تر سفر ہم نے آٹھ سیٹر ویگن پر کیا تھا جو حیدر آباد سے شروع ہوا تھا۔
تھر میں کیا دیکھیں؟
جیسے میں نے شروع میں بتایا کہ صحرائے تھر سندھ کے کئی اضلاع میں پھیلا ہوا ہے لیکن زیادہ تر دیکھنے کی جگہیں ضلع تھرپارکر اور پھر عمرکوٹ میں ہیں سو تحریر میں انہیں دو اضلاع کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا۔
نوکوٹ
سب سے پہلے نوکوٹ کی سیاحت کریں گے جسے تھرپارکر کا گیٹ وے بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں دو سو گیارہ سال پرانا قلعہ نوکوٹ اور آس پاس چند درگاہیں واقع ہیں جن میں سے ایک راضی شاہ دربار بھی ہے۔
مِٹھی
اس کے بعد تھر کا صدر مقام اور مرکزی شہر مِٹھی ہے جہاں ایک الگ دنیا آباد ہے۔
مِٹھی کو میں جنوب کا گلگت کہتا ہوں جس کی جگمگاہٹ آنکھوں کو روشن اور حیران کر دیتی ہے۔ تھر کی ریت پر بچھا یہ شہر یہاں کا ثقافتی مرکز بھی ہے۔
یہاں کچھ مشہور مندر، مقامی کھانے، بازار اور گاڈی بھٹ دیکھنے کی جگہیں ہیں۔ مندروں میں شوالیہ مندر کافی بڑا ہے۔ گاڈی بھٹ اونچائی پر واقع ایک ہوادار مقام ہے جہاں سے پورے شہر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ اس جگہ کو رات میں دیکھنے کا الگ ہی مزہ ہے۔
اِسلام کوٹ
مِٹھی سے آگے مرکزی شاہراہ پر اسلام کوٹ ہے۔
اسلام کوٹ میں مشہور جگہ سنت نینو رام کا آشرم ہے جو ایک مکمل کمپلیکس ہے۔ یہاں کچھ مندر، سمادھیاں، ہال، کھانے کی جگہیں اور پرندوں سے بھرے گھنے پیڑ ہیں۔ اس جگہ کو دیکھنے کے لییے کم از کم دو گھنٹے درکار ہیں۔ اگر شادی کا موسم ہو تو یہاں کئی روایتی دولہا بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس آشرم کے اندر ہنگاج ماتا کا مندر بھی ہے جو ہنگول والے مندر سے الگ ہے۔
گوری و بھالوہ
اسلام کوٹ سے اگلی مشہور جگہ سڑک سے کچھ اندر گوری ہے جہاں جین مت کا ایک قدیم مندر واقع ہے۔ گوری ایک گاؤں ہے جہاں مقامی ثقافت بکھری ہوئی ہے۔ یہاں کے کچے گھر اور معصوم بچے ہر سیاح کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔
اس کے قریب ہی بھالوہ میں مشہور داستان عمر ماروی کے کردار، ماروی کا کنواں ہے جہاں وہ پانی بھرنے آیا کرتی تھی۔
یہاں ایک چھوٹاںسا میوزیم بھی بنایا گیا ہے جو بس خانہ پری ہی ہے۔
ویراواہ
بھالوہ کے بعد مرکزی سڑک پر ہی ویراواہ ہے۔ جو اپنے قدیم جین مندر کے لیے مشہور ہے۔ یہ مندر کاجل جھیل کے کنارے واقع ہے جو پینے کے پانی کا بڑا ذخیرہ ہے۔
بھوڈیسر
بھالوہ سے چند کلومیٹر آگے بھوڈیسر گاؤں ہے جہاں ایک لائن میں قریب قریب پتھر کی پرانی مسجد اور تین جین مندر واقع ہیں جو سب کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ یہ مندر پاس پاس واقع ہیں جن میں پہلا مندر قدرے بڑا اور مرکزی ہے جس کی دیواروں پر پرانی مورتیاں بنی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہاں بھی پانی کا ایک چھوٹا ڈیم موجود ہے۔
نگرپارکر
بھوڈیسر کے بعد تھر کی آخری تحصیل نگرپارکر ہے۔
یہاں ایک قدیم جین مندر، مسکین جہاں خان کھوسو عجائب گھر، کارونجھر دھام اور مقامی ثقافتی رنگ دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہاں ایک نیا اسٹیڈیم بھی بنایا جا رہا ہے۔ کارونجھر کے پہاڑوں میں خوب صورت ندی نالے بھی اس کے حسن کو چار چاند لگاتے ہیں۔ کارونجھر دھام میں ایک مندر اور اشنان کے لیے تالاب موجود ہے۔
کاسبو
نگرپارکر کے جنوب میں کاسبو واقع ہے جو ایک چھوٹا سا پرسکون گاؤں ہے۔ اس کی فضا میں کئی مور سانس لیتے اور بھاگتے پھرتے ہیں۔ موروں کے اس گاؤں میں راما پیر کا مندر بھی ہے جسے دیکھنے کئی ہندو دور دور سے آتے ہیں۔
چوڑیو
نگرپار کرکے مشرق میں چوڑیو ہے جو تین اطراف سے بھارت میں گھرا ہوا پاکستانی گاؤں ہے۔ یہاں رن آف کچھ واقع ہے۔ ادھر پتھر کے غار میں ماتا کا مندر ہے جہاں صبح شام یاتریوں کا رش لگا رہتا ہے۔
عمر کوٹ
تھرپار کرکے بعد عمر کوٹ کا رُخ کرتے ہیں جہاں کا مرکزی پوائنٹ عمرکوٹ کا پرانا قلعہ ہے جس کے اندر عجائب گھر، گورے ڈپٹی کمشنر کی قبر، توپ والا برج، ریسٹ ہاؤس اور کچھ دیگر مانومنٹس واقع ہیں۔ قلعے سے کچھ دور اکبر کی جائے پیدائش کا مقام ہے۔ اسی کے راستے میں شہید عبدالرحیم گرہوڑی لائبریری واقع ہے۔ یہ اس شہر کا سب سے بڑا کتب خانہ ہے جو پڑھنے والوں سے بھرا رہتا ہے۔
عمرکوٹ کے شمال مشرق میں ایک بڑا شو مندر بھی ہے۔
کھانے تھرپارکر کے
اکثر نیا آنے والا ان علاقوں میں کھانے پینے کو لے کر بہت پریشان ہوتا ہے۔ یہاں بہت سے مشہور اور مقامی کھانے ملتے ہیں۔ شہری اور دیسی دونوں قسم کے پکوان دست یاب ہیں۔
تھر جانے کے لیے کیوںکہ آپ کو حیدرآباد اور میرپورخاص جانا پڑتا ہے اس لیے ہم وہیں سے شروع کریں گے۔
بھئی حیدرآباد کے کھانوں کا تو میں قائل ہو چکا ہوں۔ میں ہی کیا میری ٹیم کے سب دوست یہاں کے کھانوں کے گرویدہ نکلے۔ حیدرآباد میں اچھا ناشتہ آپ کو منان ہوٹل سمیت کئی ہوٹلوں پر مل جائے گا۔ منان ہوٹل کی نہاری، لسی، لچھے دار پراٹھے اور چائے تو لاجواب تھی۔ باقی پائے میں کھاتا نہیں تو اس پر رائے نہیں دے سکتا۔ دوپہر کے لیے یہاں حامد کا پلاؤ (جسے وہاں کے لوگ بریانی کہتے ہیں) بہت مشہور ہے جو مجھے بہتر لگا۔ حیدرآباد کے جس پکوان کا میں فین ہوں وہ ہے بریانی، اور وہ بھی سبحان اللّہ بریانی والوں کی جو ریلوے اسٹیشن کے پاس سے ملتی ہے۔ اس کی خاص بات کٹی ہوئی ہری مرچ ہے جو اس کے ذائقے کو سوپر سے بھی اوپر بناتی ہے۔ یہاں 114 سال پرانی بومبے بیکری کے کیک اور پیسٹریز بھی ملک بھر میں مشہور ہیں جنہیں لینے کے لیے باقاعدہ لائنیں لگتی ہیں۔
یہاں کا اسٹریٹ فوڈ بھی ایکسپلور کرنے کے قابل ہے جس میں کئی قسم کی زبردست چیزیں شامل ہیں۔
میرپورخاص کے ہوٹل مناسب ہی ہیں یہاں زیادہ اچھا ناشتہ ملتا ہے۔ بہتر ہے آپ حیدرآباد سے کھا کر نکلیں، لیکن گذشتہ سال میں نے یہاں دال کی کچوری کھائی تھی وہ مزیدار تھی۔
اس کے بعد ہے مِٹھی۔
مٹھی سے آپ پنیر کے بنے پکوان اور گوشت دونوں کھا سکتے ہیں۔ لیکن چوںکہ یہ ہندو اکثریتی شہر ہے سو یہاں دودھ اور پنیر کے پکوان زیادہ اچھے ملتے ہیں۔ میں نے اپنے دونوں اسفار میں آتے جاتے یہاں پنیر پر فوکس رکھا اور پنیر کی ہر ڈش (بشمول پالک پنیر، پنیر جلفریزی، پنیر ہانڈٰی، پنیر کڑاہی، پنیر) کھائی جو بہترین تھی۔ کھانے کے لیے میری طرف سے ڈائمنڈ ہوٹل زیادہ ریکمنڈڈ ہے جس کی صفائی ستھرائی اور سروس دونوں بہترین ہیں۔ یہاں کی لسی اور دہی کا تو میرا حافظ آبادی دوست انوار بھی فین ہو گیا تھا۔ اتنا خالص دہی ہے یہاں کا۔
اس کے علاوہ مٹھی کا پپیتا جوس اور کچھ پھل بھی اچھے ہوتے ہیں۔
آگے چلیں تو اسلام کوٹ اور نگرپارکر واقع ہے جہاں سبزیاں زیادہ مقبول ہیں۔ یہاں کی ریڑھیاں رنگ برنگی سبزیوں اور پھلوں سے لدی ملیں گی۔ تربوز، ود، کیر، پیلو، کھجور اور کیلا یہاں اچھا مل جاتا ہے۔ یہاں چوںکہ مسلم اور ہندو دونوں ہوٹل موجود ہیں۔ بریانی بھی مل جاتی ہے لیکن وہ ذائقہ نہیں جو حیدرآباد میں ملتا ہے۔
نگرپارکر میں بھنڈی، دال، سبزی، مونگرے، کھمبیاں اور چِبڑ (ایک مقامی سبزی) بھی کھائے جاتے ہیں۔ چائے، خالص دودھ، پھل بھی ہر جگہ دست یاب ہیں۔ کھانے کا کوئی بڑا اور مشہور ہوٹل نہیں ہیں لیکن ڈھابے بکثرت ہیں۔ روپلو کولہی ریزارٹ میں آرڈر پر اچھا کھانا مل جاتا ہے جیسے دال، چاول، مرغ کڑاہی وغیرہ۔
مجھے ہمارے کارونجھر ریسٹ ہاؤس کی کڑاہی بھی اچھی لگی۔ سموسے، پکوڑے، جلیبی، مٹھائی جیسی سنیکس بھی دست یاب ہیں۔
بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اس دوردراز جگہ پر بھی کھانے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ بس ہوٹل رات جلدی بند ہوجاتے ہیں اور خالص کولڈ ڈرنک کا کوئی برینڈ یہاں دست یاب نہیں۔
میرا نگرپارکر کا مقامی دوست بھی اپنے گھر سے ہمارے لیئے کچھ دیسی کھانا بنوا کے لایا تھا جس میں چبڑ کی سبزی، جو کی روٹی اور تل گڑ کے لڈو شامل تھے۔ تل گڑ کے لڈو بہت لذیذ تھے۔
عمرکوٹ کا کھانا بھی مناسب ہے۔ مجھے یہاں کی بریانی بہت اچھی لگی ساتھ ہی ایک بیکری ہے، نیو ایانش نام کی ان کے پیڑے اور مٹھائی بھی کمال تھی۔ یہ لوگ ایک دیسی قسم کا پیزا بناتے ہیں وہ بھی کھانا لائق ہے۔ عام پیزا سے ہٹ کے ذائقہ ہے اس کا۔
یہاں ایک اور بڑا مسئلہ پینے کے پانی کا ہے۔ مٹھی کے بعد آپ کو ہر جگہ منرل واٹر پر گزارا کرنا پڑے گا۔ یہاں کا پانی ہر مسافر کو راس نہیں اس لیے میرا مشورہ ہے اپنے پانی کا ذخیرہ ہر جگہ وافر رکھیں کہ اسی پر آپ کی صحت منحصر ہے۔
نیز یہاں کی کھمبیاں کھانے سے پہلے دو بار سوچیں، وہ ہر مسافر کو راس نہیں آتیں۔ پیٹ خراب ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایڈونچر کی بجائے پرہیز کریں تو اچھا ہے۔
جلدازجلد تھر جانے کا سوچیں کیوںکہ جاڑے کے کچھ ہی دن باقی ہیں۔
Today News
پاک افغان کشیدگی! – ایکسپریس اردو
ایک دنیا اس بات سے آگاہ ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف ملک کی معیشت کو اربوں روپے کے نقصانات اٹھانا پڑ رہے ہیں بلکہ کراچی تا خیبر پورا ملک بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ بالخصوص وطن عزیز کے دو اہم صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا بیرونی مداخلت اور دہشت گردوں کے نشانے پر جہاں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
پڑوسی ملک افغانستان سے در اندازی کرنے والے دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے کے پی کے اور بلوچستان میں نہ صرف عام لوگوں اور مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ دہشت گردوں کی سرکوبی کی ذمے داریاں نبھانے والے سیکیورٹی فورسز کے قافلوں، گاڑیوں، چیک پوسٹوں اور فوجی افسروں و جوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران دہشت گردوں نے اسلام آباد میں خودکش حملہ کیا بعدازاں جنوبی وزیرستان کے علاقے لوئر دیر، وانا اور کے پی کے کے مختلف علاقوں ضلع کوہاٹ، بنوں اور بکھر وغیرہ میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹڈ کلنگ کرکے پولیس اور فوج کے جوانوں و افسران کو شہید کر دیا تھا۔ دوسری جانب پاک افغان سرحد پر دو طرفہ فائرنگ اور جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
حکومت پاکستان نے اعلیٰ ترین سطح پر تمام سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے افغانستان کی طالبان حکومت کو تواتر کے ساتھ باور کرایا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو استعمال کرنے سے باز رہے، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد افغان سرزمین سے پاکستان میں در اندازی کرکے دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے میں مصروف ہیں لہٰذا طالبان حکومت اپنی ذمے داری پوری کرے بصورت دیگر پاکستان اپنی قومی سلامتی، دفاع اور چوبیس کروڑ عوام کے تحفظ کے لیے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوگا۔
حکومت نے افغان حکومت کو پاکستان میں ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی کے ٹھوس ثبوت اور شواہد بھی فراہم کیے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ طالبان حکومت نے پاکستان کی گزارشات پر کوئی توجہ نہ دی اور بھارت کی پراکسی بتا کر پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی آماج گاہ بنا دیا۔ پاکستان کے پاس اب آخری اقدام رہ گیا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں، پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنا کر اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنائے اور پاک سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کرے۔ نتیجتاً پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے باہمی مشاورت سے افغانستان کے خلاف چار و ناچار آپریشن ’’غضب للحق‘‘ کا آغاز کیا جو تادم تحریر جاری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان کے مختلف علاقوں کابل، قندھار اور پکتیا وغیرہ میں اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بالکل درست کہا کہ پاکستان افغانستان پر یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ دہشت گرد یا پاکستان کسی ایک کا انتخاب کرلیں۔ یہ المیہ ہے کہ طالبان نے نیٹو افواج کی واپسی اور دوحہ امن مذاکرات کے نتیجے میں عنان حکومت سنبھالنے کے بعد معاہدات اور وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔ سب سے بڑا عہد یہ کیا گیا تھا کہ طالبان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا اور آج افغان سرزمین پر مختلف النوع شرپسند عناصر اور دہشت گرد تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔
روسی وزارت خارجہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 ہزار سے 23 ہزار دہشت گردوں پر مشتمل ملیشیا موجود ہے جن میں نصف سے زائد غیر ملکی ہیں، یہ دہشت گرد تنظیمیں علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق داعش، ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں جن کا ہدف علاقائی سلامتی کو سبوتاژ کرنا ہے۔ پاکستان پہلے ہی ان خطرات سے طالبان حکومت کو آگاہ کر چکا ہے۔ پاک افغان جاری جنگ پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی ہے چین، برطانیہ، روس، سعودی عرب، قطر وغیرہ نے سفارتی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ جب کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان طالبان کے ساتھ ٹھیک کر رہا ہے، وہ مداخلت نہیں کریں گے۔ افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور طالبان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ نے اپیل کی ہے کہ پاکستان مذاکرات سے مسئلہ حل کرے، ہم بات چیت پر آمادہ ہیں جو خوش آئند امر ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک افغان مذاکرات اب عالمی برادری کی ثالثی میں ہونے چاہئیں۔ طالبان حکومت دنیا کو یقین دہانی کرائے کہ اس کی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور افغانستان میں سرگرم عمل تمام دہشت گرد تنظیمیں اور گروہ اور ان نیٹ ورکس اور تربیتی مراکز کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ طالبان رجیم کی ٹھوس ضمانتیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے عملی اقدامات ہی علاقائی سلامتی کے ضامن ہیں۔ خود افغانستان کی داخلی سلامتی اور پڑوسی ملک پاکستان سے اچھے روابط کی ضمانت بھی اسی میں ہے کہ طالبان دوحہ مذاکرات میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔
Today News
جارحیت
طالبان نے پاکستان پر حملہ کیا اور امریکا اور اسرائیل نے ایران پر۔ اب اس جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ اصل سوال تو یہی ہے لیکن اس میں بھٹکنے کی راہیں بہت ہیں۔ مجھے یہ بات کرنی ہے لیکن اس سے پہلے ایک بنیادی نکتے پر توجہ ضروری ہے۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مئی کی پاک بھارت جنگ میں جو بازی پلٹی تھی اور اس کے نتیجے میں عالمی منظر نامہ تبدیل ہوا تھا، اب اس میں کچھ مزید تبدیلی آ گئی ہے اور دنیا میں ایک نئی دھڑے بندی تقریبا مکمل ہو چکی ہے۔ اس دھڑے بندی کے مقاصد کیا ہیں؟ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھ لیا تو یہ بھی سمجھ میں آ جائے گا کہ پاکستان طالبان جنگ کا انجام کیا ہوگا۔
مئی کے معرکے کے بعد بھارت تنہائی کا شکار ہو چکا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ نریندر مودی کی تضحیک کیا کرتے تھے(اب اسے گریٹ گائے قرار دیتے ہیں)۔ امریکا اُن دنوں بھارت پر تجارتی ٹیرف میں آئے روز اضافہ کرتا جاتا تھا لہٰذابھارت اور مودی دبک کر بیٹھ گئے یہاں تک کہ امریکا اور بھارت کے درمیان ایک نئی ڈیل ہو گئی۔
بھارت نے امریکا کے لیے ٹیرف صفر کر دیے اور امریکا جس نے اپنا ٹیرف پچاس فیصد تک بڑھا دیا تھا، اب اٹھارہ فیصد تک کم کر دیا ہے جو پاکستان سے بھی کم ہے۔ اس کے بعد یوں سمجھیے کہ دنیا بدل گئی۔ نریندر مودی بھاگے بھاگے اسرائیل جا پہنچے اور ادھر افغانستان پاکستان پر حملہ آور ہو گیا۔ افغانستان پاکستان پر حملہ آور کیوں ہوا اور اس حملے کا بھارت اور اسرائیل سے کیا تعلق ہے، یہی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس معمے کے حل میں جتنی مدد نیتن یاہو کر سکتا ہے، کوئی اور نہیں کر سکتا۔
نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان ماتا پتا کا رشتہ دریافت کیا تو اس کی ایک وجہ تھی۔ یہ وجہ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں بیان کی۔ اس نے ایک نئے اتحاد کا تصور پیش کیا۔ اسرائیل اور بھارت اس کے کلیدی ارکان ہیں۔ دیگر ارکان میں افغانستان اور صومالی لینڈ کے علاوہ عرب دنیا سے سعودی عرب کے مخالفین شامل ہیں۔
نئے اتحاد کے مقاصد کیا ہیں؟اس کے مقاصد واضح ہیں۔ یہ اتحاد دنیا کی نئی دھڑے بندی کو بنیاد فراہم کر رہا ہے جس میں پاکستان ، سعودی عرب ، ترکیہ ، چین اور روس کے مقابلے میں اسرائیل، بھارت اور ان کے حاشیہ بردار آ کھڑے ہوئے ہیں جن میں بدقسمتی سے افغانستان بھی شامل ہے جو کبھی غزوہ ہند کے نعرے بلند کیا کرتا تھا۔ ویسے تو نئی دھڑے بندی سے ہی اس تقسیم اور بھارت و اسرائیل کی قیادت میں بننے والے اتحاد کا مقصد واضح ہو جانا چاہیے لیکن ہمارے کچھ نسل پرست اور خام خیالی میں جینے والے نام نہاد نظریاتی لوگ اپنی دنیا میں مست رہتے ہیں اور وطن دشمنی یعنی پاکستان دشمنی تک سے گریز نہیں کرتے۔ شاید لوگوں کو جگانے کے لیے ہی قدرت نے اسرائیل میں امریکی سفیر کا انتخاب کیا ہے جس نے بڑھک ماری ہے کہ اسرائیل عرب سرزمینوں پر قبضے کا پورا حق رکھتا ہے۔
حماس اور اسرائیل کی حالیہ جنگ کے بعد اسرائیل کے سامنے مزاحمت کرنے والی کوئی طاقت باقی نہیں بچی۔ یوں اسرائیل جہاں تک چاہیے، اپنی سرحدوں کو وسعت دے سکتا ہے۔ اسرائیل کی جوع الارض یعنی توسیع پسندی کے راستے میں اب صرف ایک ہی رکاوٹ ہے۔ یہ رکاوٹ وہی ہے جس کے ساتھ سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کیا ہے یعنی پاکستان۔ خطے میں ہونے والی تازہ کشمکش یعنی افغانستان کی طرف سے پاکستان میں برآمد کی جانے والی دہشت گردی اور اس کے بعد حملہ ان ہی نئی دھڑے بندیوں کا شاخسانہ ہے۔ اس مقصد کے لیے طالبان کو اسرائیل نے بہ راستہ بھارت ڈرون بھی فراہم کر دیے ہیں۔
یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ بہت سادہ بات ہے۔ پاکستان کا گھیرا ؤکر کے اسے کمزور کرنا۔ منصوبے یہ ہیں کہ یہ گھیراؤ تین طرف سے ہونا چاہیے۔ ایک طرف بھارت ہمیشہ سے موجود ہے۔ مغربی جانب افغانستان کو کھڑا کر دیا گیا ہے۔ تیسری طرف ایران ہے۔ اسرائیل اسی لیے بے چین تھا کہ امریکا ایران پر چڑھ دوڑے اور وہاں انقلابی حکومت کا خاتمہ کر کے کٹھ پتلی حکومت قائم کر دے۔ایسی صورت میں تہران میں رضا پہلوی کو بٹھایا جائے یا کسی اور کو، وہ جو کوئی بھی ہو گا، اسرائیل کا ممنون احسان ہو گا۔ یوں پاکستان کی تیسری سرحد بھی گرم ہو جائے گی اور اسے تین طرف سے گھیر لیا جائے گا۔ پاکستان میں 2018 میں جو تبدیلی آئی تھی، اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ اسے ایٹمی طاقت سے محروم کر کے بے دست و پا کر دیا جائے تاکہ اسرائیل کی توسیع پسندی کی راہ کا آخری کانٹا بھی نکل جائے۔ وہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ اب پلان بی پر عمل ہو رہا ہے۔ کیا یہ پلان کامیاب ہو گا؟ مستقبل کی خبر تو صرف ذات باری ہی کو ہے لیکن اگر افغانستان میں حکومت بدل جائے تو ان منصوبوں پر اوس پڑ سکتی ہے۔ پاکستان اور اس کے اتحادیوں اور دوستوں کی کوشش یہی ہے۔
اس منظر نامے کا ایک اور پہلو خاصا حیران کن ہے۔ ایک طرف صدر ٹرمپ پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، دوسری طرف شہباز شریف ماسکو جا رہے ہیں۔ وہ ماسکو جا کر کیا کریں گے؟ اس سوال کا جواب ملنا شروع ہو گیا ہے۔ خبریں تھیں کہ روس طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اب اس کی رائے مختلف ہے۔ طالبان کے اسرائیل بھارت کیمپ میں جانے کے بعد روس نے حقیقت پسندانہ راستے کا انتخاب کر لیا ہے جس کی ایک جھلک روسی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں ملتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہو رہا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد شہباز شریف کے دورہ ماسکو کی ضرورت اور افادیت سمجھ میں آ جانی چاہیے۔
اس تگڑم کا ایک پہلو اور بھی ہے جس سے جمعیت علمائے ہند کے مولانا اسد مدنی کی ایک گفتگو نے پردہ اٹھایا جو انھوں نے طالبان وزیر خارجہ ملا متقی کے دورۂ دیوبند کے موقع پر کی تھی۔ مولانا مدنی نے فرمایا تھا کہ طالبان کی طرف سے بھارت میں دہشت گردی ہوتی تھی لیکن اب ہم نے اس کے راستے بند کر دیے ہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ طالبان حکومت برقرار رہے۔ اب یہ کوئی کہنے کی بات ہے کہ طالبان اور بھارت کا اتحاد ہو گا تو اس کی ضرب کس پر پڑے گی۔ کانگریسی علما تحریک آزادی کے وقت بھی تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے تھے اور آج بھی بدقسمتی سے غلط سمت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
اب ایک آخری بات کہ اگر بھارت، اسرائیل اور افغانستان کی نئی دھڑے بندی کے پس پشت امریکا کھڑا ہے تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ موقع بے موقع پاکستان کی تعریف کیوں کرتے رہتے ہیں؟ یہ سوال اہم ہے لیکن عالمی سیاست کے نشیب و فراز پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ ناپسندیدہ قوت کو بھی انگیج رکھنا ضروری ہوتا ہے تا کہ زہر کے بجائے گڑ سے کام چل جائے۔ کچھ ایسی حکمت عملی فریق مخالف کی بھی ہوتی ہے۔ پاکستانی قیادت ماسکو جا رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بدلے ہوئے حالات اور اس کی نزاکتوں سے پوری طرح آگاہ ہے لہٰذا خاطر جمع رکھیں، یہ کشمکش طول پکڑے گی، اس دوران طالبان انتظامیہ تاریخ کے کوڑے دان میں کہیں گم ہو جائے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان اور مسلم دنیا کی بھلائی اسی میں ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ پاکستان اور طالبان رجیم کے درمیان مفاہمت کا امکان کم ہے۔ مفاہمت ہونی ہوتی تو ترکیہ اور برادر ملکوں کی کوششیں کام یاب ہو جاتیں لیکن طالبان پر چوں کہ کانگریسی علما اور نریندر مودی کا جادو چل چکا ہے، اس لیے اب وہ عقل کی کوئی بات سننے اور تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
Source link
Today News
ایران کے اسرائیل پر تازہ میزائل حملے، یروشلم اور تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھے
تہران:
ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ متعدد گاڑیاں تباہ اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں میزائل گرنے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ مغربی یروشلم پر ہونے والے حملے میں 7 اسرائیلی شہری زخمی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق تل ابیب، یروشلم اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بھی میزائل حملے کیے گئے، جس کے بعد سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو بنکروں میں منتقل کیا گیا۔
ادھر اردن نے میزائل حملوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ اردن کی جانب سے علاقائی کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں نافذ ایمرجنسی کی مدت میں 12 مارچ تک توسیع کر دی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech1 week ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Tech6 days ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents