Today News
رازوں کی دہلیز پر انسانیت
اکیسویں صدی کی سیاسی تاریخ میں ایسے لمحات کم نہیں جب سائنس، طاقت، خوف، تجسس اور عوامی تخیل ایک ہی نقطے پر جمع ہوگئے ہوں، مگر خلائی مخلوق اور نامعلوم فضائی اجسام کے بارے میں امریکی ریاستی بیانیہ ہمیشہ ایک خاص پراسرار کشش رکھتا آیا ہے۔
حالیہ ہدایات جن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یو ایف اوز اور ممکنہ غیرارضی زندگی سے متعلق سرکاری دستاویزات کی نشان دہی اور اجرا کی بات کی، دراصل کسی ایک سیاسی بیان سے زیادہ ایک فکری اور تہذیبی واقعہ ہیں۔ یہ معاملہ محض خفیہ فائلوں کی اشاعت نہیں بلکہ انسانی شعور کی اس طویل جستجو سے جڑا ہوا ہے جس میں انسان ہمیشہ اپنے وجود کی تنہائی پر سوال اٹھاتا رہا ہے۔ جب انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر وزیردفاع پیٹ ہیگستھ اور دیگر حکام کو ہدایات دیں کہ پیچیدہ مگر اہم معلومات سامنے لائی جائیں تو اس اعلان نے عالمی سطح پر نہ صرف میڈیا بلکہ فلکیات، عسکری تحقیق اور فلسفہ و سائنس کے حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا۔ اس سے کچھ عرصہ قبل سابق صدر براک اوباما نے ایک پوڈکاسٹ گفتگو میں کائنات میں زندگی کے امکانات کا ذکر کیا تھا، جسے بعض حلقوں نے سائنسی حقیقت پسندی اور بعض نے سیاسی رمزیت قرار دیا۔ نتیجتاً یہ تاثر ابھرا کہ شاید ریاستی اداروں کے پاس ایسے مشاہدات یا ڈیٹا موجود ہیں جنہیں مکمل طور پر عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔
امریکا میں یو ایف او بحث کی تاریخی جڑیں سرد جنگ کے دور تک جاتی ہیں، جب آسمان میں دکھائی دینے والی ہر غیرمعمولی روشنی کو یا تو دشمن کے جاسوس طیارے سے تعبیر کیا جاتا تھا یا کسی تکنیکی تجربے سے۔ امریکی محکمۂ دفاع یعنی Pentagon نے متعدد مواقع پر واضح کیا کہ اب تک کسی خلائی مخلوق کا حتمی ثبوت دست یاب نہیں، مگر اس کے باوجود سینکڑوں فوجی پائلٹس کی رپورٹس، ریڈار ڈیٹا اور ویڈیوز نے شک و یقین کے درمیان ایک مستقل خلا پیدا کیا ہے۔ انسانی ذہن کے لیے نامعلوم ہمیشہ پرکشش رہا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی فائلوں کے اجرا کی بات ہوئی، عوامی گفتگو فوراً 51 Areaکی طرف مڑ گئی، وہ مقام جو امریکی صحرا میں واقع ایک عسکری تنصیب ہونے کے باوجود عالمی ثقافت میں تقریباً ایک افسانوی کردار اختیار کر چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہاں کیا ہے بلکہ یہ کہ لوگ وہاں کیا ہونے کا تصور کرتے ہیں۔ ریاستی رازداری نے اس تصور کو مزید تقویت دی ہے، کیونکہ جب معلومات محدود ہوتی ہیں تو تخیل خلا کو پْر کر دیتا ہے۔
انسانی تاریخ میں آسمان کو ہمیشہ الوہیت، خطرے اور امید کے امتزاج کے طور پر دیکھا گیا۔ قدیم تہذیبوں کے دیوتا اکثر آسمان سے اترتے تھے؛ جدید دور میں انہی داستانوں نے خلائی مخلوق کی شکل اختیار کر لی۔ سائنسی انقلاب کے بعد جب دوربینوں نے مشتری کے چاند اور زحل کے حلقے دکھائے تو پہلی مرتبہ انسان نے محسوس کیا کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں۔ اس فکری انقلاب نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا: اگر زمین منفرد نہیں تو کیا زندگی بھی منفرد ہے؟ اسی سوال نے بیسویں صدی میں فلکیاتی حیاتیات یا ایسٹرو بایولوجی کو جنم دیا۔ مریخ، یوروپا اور اینسیلاڈس جیسے اجرام پر پانی کے آثار نے سائنس دانوں کو اس نتیجے تک پہنچایا کہ زندگی کے لیے ضروری کیمیائی اجزا کائنات میں عام ہو سکتے ہیں۔
یہاں سیاست اور سائنس کا تعلق پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ ریاستیں اکثر قومی سلامتی کے نام پر معلومات کو محدود رکھتی ہیں۔ اگر کسی نامعلوم فضائی شے کی رفتار یا حرکت موجودہ انسانی ٹیکنالوجی سے مختلف ہو تو اسے فوری طور پر دشمن کی ممکنہ عسکری صلاحیت سمجھا جاتا ہے۔ سرد جنگ میں یہی رویہ تھا؛ آج چین اور دیگر طاقتوں کے ابھار کے بعد بھی یہی خدشات موجود ہیں۔ اس لیے یو ایف اوز کی فائلیں محض خلائی مخلوق کے بارے میں نہیں بلکہ جدید ہائپرسانک ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈرونز اور سینسر سسٹمز کے بارے میں بھی ہوسکتی ہیں۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو ممکن ہے کہ عوام جس ’’راز‘‘ کی توقع رکھتے ہیں وہ دراصل عسکری تحقیق کی پیچیدگیاں ہوں۔
سوشل میڈیا نے اس بحث کو نئی جہت دی ہے۔ ماضی میں معلومات اخبارات اور سرکاری پریس بریفنگ تک محدود تھیں، مگر اب ہر ویڈیو چند منٹ میں عالمی سطح پر پھیل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی ادارے مکمل خاموشی اختیار نہیں کر سکتے۔ شفافیت کی عوامی توقع بڑھ چکی ہے۔ مگر شفافیت اور قومی سلامتی کے درمیان توازن برقرار رکھنا آسان نہیں۔ اگر کوئی ڈیٹا حساس سینسر ٹیکنالوجی کو ظاہر کرتا ہو تو اس کا اجرا دشمن ریاستوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ جاری کی جانے والی فائلیں پہلے سے فلٹر شدہ ہوں۔
انسانی نفسیات میں سازشی نظریات کی جڑیں بھی اسی خلا میں پیوست ہوتی ہیں جہاں یقین اور لاعلمی ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ جب ریاست کسی معاملے پر مکمل وضاحت نہیں دیتی تو عوامی ذہن کہانی تخلیق کرنے لگتا ہے۔ یو ایف اوز کے معاملے میں ہالی ووڈ نے اس تخیل کو غیر معمولی قوت بخشی۔ فلموں نے خلائی مخلوق کو کبھی دشمن، کبھی استاد اور کبھی نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا۔ نتیجتاً سائنسی تحقیق اور عوامی تصور کے درمیان ایک فاصلہ پیدا ہوا۔ سائنس داں احتمال کی زبان بولتے ہیں جبکہ عوام قطعی جواب چاہتے ہیں۔
جدید فلکیات کے مطابق ہماری کہکشاں میں اربوں ستارے ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد کے گرد سیارے گردش کر رہے ہیں۔ کیپلر اور جیمز ویب جیسی دوربینوں نے یہ ثابت کیا کہ قابلِ رہائش زون میں موجود سیارے عام ہو سکتے ہیں۔ اگر پانی، کاربن اور توانائی کے ذرائع موجود ہوں تو خرد حیاتیات کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ مگر مسئلہ فاصلے کا ہے۔ قریب ترین ستارہ بھی چار نوری سال دور ہے۔ موجودہ انسانی ٹیکنالوجی کے ساتھ وہاں تک پہنچنے میں ہزاروں سال لگ سکتے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی غیرارضی تہذیب زمین تک پہنچی ہوتی تو اس کے لیے انتہائی ترقی یافتہ طبیعیات درکار ہوتی، جو ہمارے موجودہ نظریات سے کہیں آگے ہو۔
اسی نکتے پر یو ایف او رپورٹس دل چسپ بن جاتی ہیں۔ بعض فوجی پائلٹس نے ایسے اجسام دیکھنے کا دعویٰ کیا جو اچانک رفتار بدلتے یا بغیر آواز کے حرکت کرتے تھے۔ سائنس داں کہتے ہیں کہ انسانی آنکھ اور سینسر دونوں دھوکہ کھا سکتے ہیں۔ روشنی کا انعکاس، درجۂ حرارت کے فرق اور سینسر کی غلط تشریح ایسے مظاہر پیدا کرسکتی ہے جو غیرمعمولی محسوس ہوں۔ دوسری طرف بعض انجینئرز کا خیال ہے کہ شاید یہ خفیہ تجرباتی طیارے ہوں جنہیں محدود حلقوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
اس بحث کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کیا حکومتیں واقعی اتنے بڑے راز کو دہائیوں تک چھپا سکتی ہیں؟ جدید بیوروکریسی ہزاروں افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ کسی بھی راز کو مکمل طور پر محفوظ رکھنا تقریباً ناممکن ہے، کیوںکہ معلومات لیک ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اگر واقعی خلائی مخلوق کے ساتھ رابطہ ہوا ہوتا تو شاید اس کے واضح آثار اب تک سامنے آ چکے ہوتے، مگر انسانی تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ بعض عسکری پروگرام دہائیوں تک خفیہ رہے، جیسے ایٹمی منصوبے۔
سیاسی سطح پر ایسے بیانات عوامی توجہ کو متحرک کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ جب معاشرہ معاشی دباؤ یا عالمی تنازعات سے گزر رہا ہو تو پراسرار موضوعات عوامی تخیل کو ایک نئی سمت دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر اعلان محض سیاست ہے، مگر سیاست اور بیانیہ ہمیشہ ساتھ چلتے ہیں۔ کسی بھی جمہوری ریاست میں عوامی اعتماد ایک اہم سرمایہ ہوتا ہے، اور شفافیت کے دعوے اسی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
سائنسی اعتبار سے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ زندگی کی تعریف کیا ہے۔ زمین پر زندگی کاربن اور پانی پر مبنی ہے، مگر ممکن ہے کہ کائنات میں سلیکون یا دیگر کیمیائی بنیادوں پر بھی حیاتیات موجود ہوں۔ اگر ایسا ہے تو ہم انہیں پہچان بھی نہیں سکیں گے کیوںکہ ہمارے آلات زمین جیسے حیاتیاتی آثار تلاش کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مریخ پر مشن بھی احتیاط سے کیے جاتے ہیں تاکہ زمینی جراثیم وہاں منتقل نہ ہوں اور نتائج متاثر نہ ہوں۔
ریڈیو فلکیات نے بھی غیرارضی ذہانت کی تلاش میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ SETI جیسے پروگرام خلا سے آنے والے سگنلز کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اب تک کوئی واضح پیغام نہیں ملا، مگر خاموشی خود ایک معمہ ہے۔ اسے ’’فرمی پیراڈوکس‘‘ کہا جاتا ہے: اگر کائنات میں زندگی عام ہے تو ہمیں اس کے آثار کیوں نہیں ملے؟ ممکنہ جواب یہ ہے کہ تہذیبیں خود کو تباہ کر لیتی ہیں، یا وہ اتنی دور ہیں کہ رابطہ ممکن نہیں، یا شاید وہ جان بوجھ کر خاموش ہیں۔
ٹیکنالوجی کے میدان میں مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ نئے امکانات کھول رہی ہیں۔ اگر کبھی خلائی مخلوق کا ثبوت ملا تو سب سے پہلے ڈیٹا کے تجزیے میں یہی نظام استعمال ہوں گے۔ جدید سیٹلائٹس ہر لمحہ زمین کے گرد ہزاروں اجسام کو ٹریک کرتے ہیں۔ ان میں خلائی ملبہ، سیٹلائٹس اور قدرتی شہابیے شامل ہیں۔ زیادہ تر یو ایف او واقعات انہی میں سے کسی غلط شناخت کا نتیجہ نکلتے ہیں۔
ایک اور زاویہ ثقافتی ہے۔ انسان ہمیشہ خود کو کائنات کا مرکز سمجھنا چاہتا ہے۔ اگر غیرارضی ذہانت کا ثبوت مل جائے تو مذہبی، فلسفیانہ اور سماجی تصورات میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ بعض مذاہب اسے خدائی تخلیق کی وسعت کے طور پر دیکھیں گے جبکہ بعض اسے نظریاتی چیلنج سمجھ سکتے ہیں۔ اسی لیے حکومتیں ایسے موضوعات پر محتاط رہتی ہیں کیوںکہ معلومات کا اثر صرف سائنسی نہیں بلکہ سماجی بھی ہوتا ہے۔
بالآخر سوال یہ رہ جاتا ہے کہ فائلوں کے اجرا سے کیا تبدیل ہوگا۔ اگر جاری شدہ دستاویزات میں صرف نامعلوم فضائی مظاہر کی تکنیکی رپورٹس ہوں تو شاید چند دن کی سنسنی کے بعد بحث ختم ہوجائے۔ لیکن اگر ان میں نئے سائنسی سوالات اٹھائے گئے تو یہ انسانی تحقیق کے نئے دور کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔ کائنات کے بارے میں ہماری معلومات ابھی ابتدائی ہیں۔ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی جیسے تصورات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم کائنات کے زیادہ تر حصے کو سمجھ ہی نہیں سکے۔
ممکن ہے کہ اس پوری بحث کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہو کہ انسان دوبارہ آسمان کی طرف دیکھنا شروع کرے۔ جب معاشرے سائنسی تجسس کو اہمیت دیتے ہیں تو نئی نسل تحقیق کی طرف مائل ہوتی ہے۔ خلائی پروگرام صرف چاند یا مریخ تک پہنچنے کے لیے نہیں بلکہ زمین پر ٹیکنالوجی، طب اور مواصلات میں ترقی کے لیے بھی ضروری ہیں۔ اگر یو ایف او بحث نوجوانوں کو فلکیات، انجینئرنگ اور طبیعیات کی طرف لے جائے تو یہ خود ایک مثبت تبدیلی ہوگی۔
سیاست آتی جاتی رہتی ہے، مگر سائنسی سوالات مستقل ہوتے ہیں۔ انسان ہزاروں سال سے پوچھ رہا ہے کہ کیا ہم اکیلے ہیں۔ شاید آنے والی دہائیوں میں طاقتور دوربینیں کسی دور سیارے کے ماحول میں آکسیجن یا میتھین کی واضح نشان دہی کر دیں۔ شاید ہم خرد حیاتیات دریافت کریں۔ یا شاید ہمیں معلوم ہو کہ زندگی واقعی نایاب ہے اور زمین ایک غیر معمولی استثنا ہے۔ دونوں صورتوں میں انسان کا خود کو سمجھنے کا سفر جاری رہے گا۔
اس لیے موجودہ بحث کو سنسنی کے بجائے ایک فکری موقع کے طور پر دیکھنا زیادہ مفید ہے۔ چاہے فائلیں کچھ بھی ظاہر کریں، اصل اہمیت اس سوال کی ہے جو ان کے پیچھے موجود ہے: کائنات میں انسان کی جگہ کیا ہے؟ یہی سوال فلسفے، سائنس اور سیاست کو ایک مشترکہ مکالمے میں باندھ دیتا ہے، اور شاید اسی مکالمے میں مستقبل کی وہ بصیرت پوشیدہ ہے جو ہمیں نہ صرف ستاروں تک بلکہ اپنے اندر کی وسعتوں تک بھی لے جا سکتی ہے۔
Today News
پاک افغان کشیدگی! – ایکسپریس اردو
ایک دنیا اس بات سے آگاہ ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف ملک کی معیشت کو اربوں روپے کے نقصانات اٹھانا پڑ رہے ہیں بلکہ کراچی تا خیبر پورا ملک بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ بالخصوص وطن عزیز کے دو اہم صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا بیرونی مداخلت اور دہشت گردوں کے نشانے پر جہاں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
پڑوسی ملک افغانستان سے در اندازی کرنے والے دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے کے پی کے اور بلوچستان میں نہ صرف عام لوگوں اور مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ دہشت گردوں کی سرکوبی کی ذمے داریاں نبھانے والے سیکیورٹی فورسز کے قافلوں، گاڑیوں، چیک پوسٹوں اور فوجی افسروں و جوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران دہشت گردوں نے اسلام آباد میں خودکش حملہ کیا بعدازاں جنوبی وزیرستان کے علاقے لوئر دیر، وانا اور کے پی کے کے مختلف علاقوں ضلع کوہاٹ، بنوں اور بکھر وغیرہ میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹڈ کلنگ کرکے پولیس اور فوج کے جوانوں و افسران کو شہید کر دیا تھا۔ دوسری جانب پاک افغان سرحد پر دو طرفہ فائرنگ اور جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
حکومت پاکستان نے اعلیٰ ترین سطح پر تمام سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے افغانستان کی طالبان حکومت کو تواتر کے ساتھ باور کرایا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو استعمال کرنے سے باز رہے، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد افغان سرزمین سے پاکستان میں در اندازی کرکے دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے میں مصروف ہیں لہٰذا طالبان حکومت اپنی ذمے داری پوری کرے بصورت دیگر پاکستان اپنی قومی سلامتی، دفاع اور چوبیس کروڑ عوام کے تحفظ کے لیے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوگا۔
حکومت نے افغان حکومت کو پاکستان میں ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی کے ٹھوس ثبوت اور شواہد بھی فراہم کیے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ طالبان حکومت نے پاکستان کی گزارشات پر کوئی توجہ نہ دی اور بھارت کی پراکسی بتا کر پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی آماج گاہ بنا دیا۔ پاکستان کے پاس اب آخری اقدام رہ گیا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں، پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنا کر اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنائے اور پاک سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کرے۔ نتیجتاً پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے باہمی مشاورت سے افغانستان کے خلاف چار و ناچار آپریشن ’’غضب للحق‘‘ کا آغاز کیا جو تادم تحریر جاری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان کے مختلف علاقوں کابل، قندھار اور پکتیا وغیرہ میں اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بالکل درست کہا کہ پاکستان افغانستان پر یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ دہشت گرد یا پاکستان کسی ایک کا انتخاب کرلیں۔ یہ المیہ ہے کہ طالبان نے نیٹو افواج کی واپسی اور دوحہ امن مذاکرات کے نتیجے میں عنان حکومت سنبھالنے کے بعد معاہدات اور وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔ سب سے بڑا عہد یہ کیا گیا تھا کہ طالبان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا اور آج افغان سرزمین پر مختلف النوع شرپسند عناصر اور دہشت گرد تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔
روسی وزارت خارجہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 ہزار سے 23 ہزار دہشت گردوں پر مشتمل ملیشیا موجود ہے جن میں نصف سے زائد غیر ملکی ہیں، یہ دہشت گرد تنظیمیں علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق داعش، ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں جن کا ہدف علاقائی سلامتی کو سبوتاژ کرنا ہے۔ پاکستان پہلے ہی ان خطرات سے طالبان حکومت کو آگاہ کر چکا ہے۔ پاک افغان جاری جنگ پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی ہے چین، برطانیہ، روس، سعودی عرب، قطر وغیرہ نے سفارتی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ جب کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان طالبان کے ساتھ ٹھیک کر رہا ہے، وہ مداخلت نہیں کریں گے۔ افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور طالبان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ نے اپیل کی ہے کہ پاکستان مذاکرات سے مسئلہ حل کرے، ہم بات چیت پر آمادہ ہیں جو خوش آئند امر ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک افغان مذاکرات اب عالمی برادری کی ثالثی میں ہونے چاہئیں۔ طالبان حکومت دنیا کو یقین دہانی کرائے کہ اس کی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور افغانستان میں سرگرم عمل تمام دہشت گرد تنظیمیں اور گروہ اور ان نیٹ ورکس اور تربیتی مراکز کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ طالبان رجیم کی ٹھوس ضمانتیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے عملی اقدامات ہی علاقائی سلامتی کے ضامن ہیں۔ خود افغانستان کی داخلی سلامتی اور پڑوسی ملک پاکستان سے اچھے روابط کی ضمانت بھی اسی میں ہے کہ طالبان دوحہ مذاکرات میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔
Today News
جارحیت
طالبان نے پاکستان پر حملہ کیا اور امریکا اور اسرائیل نے ایران پر۔ اب اس جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ اصل سوال تو یہی ہے لیکن اس میں بھٹکنے کی راہیں بہت ہیں۔ مجھے یہ بات کرنی ہے لیکن اس سے پہلے ایک بنیادی نکتے پر توجہ ضروری ہے۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مئی کی پاک بھارت جنگ میں جو بازی پلٹی تھی اور اس کے نتیجے میں عالمی منظر نامہ تبدیل ہوا تھا، اب اس میں کچھ مزید تبدیلی آ گئی ہے اور دنیا میں ایک نئی دھڑے بندی تقریبا مکمل ہو چکی ہے۔ اس دھڑے بندی کے مقاصد کیا ہیں؟ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھ لیا تو یہ بھی سمجھ میں آ جائے گا کہ پاکستان طالبان جنگ کا انجام کیا ہوگا۔
مئی کے معرکے کے بعد بھارت تنہائی کا شکار ہو چکا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ نریندر مودی کی تضحیک کیا کرتے تھے(اب اسے گریٹ گائے قرار دیتے ہیں)۔ امریکا اُن دنوں بھارت پر تجارتی ٹیرف میں آئے روز اضافہ کرتا جاتا تھا لہٰذابھارت اور مودی دبک کر بیٹھ گئے یہاں تک کہ امریکا اور بھارت کے درمیان ایک نئی ڈیل ہو گئی۔
بھارت نے امریکا کے لیے ٹیرف صفر کر دیے اور امریکا جس نے اپنا ٹیرف پچاس فیصد تک بڑھا دیا تھا، اب اٹھارہ فیصد تک کم کر دیا ہے جو پاکستان سے بھی کم ہے۔ اس کے بعد یوں سمجھیے کہ دنیا بدل گئی۔ نریندر مودی بھاگے بھاگے اسرائیل جا پہنچے اور ادھر افغانستان پاکستان پر حملہ آور ہو گیا۔ افغانستان پاکستان پر حملہ آور کیوں ہوا اور اس حملے کا بھارت اور اسرائیل سے کیا تعلق ہے، یہی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس معمے کے حل میں جتنی مدد نیتن یاہو کر سکتا ہے، کوئی اور نہیں کر سکتا۔
نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان ماتا پتا کا رشتہ دریافت کیا تو اس کی ایک وجہ تھی۔ یہ وجہ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں بیان کی۔ اس نے ایک نئے اتحاد کا تصور پیش کیا۔ اسرائیل اور بھارت اس کے کلیدی ارکان ہیں۔ دیگر ارکان میں افغانستان اور صومالی لینڈ کے علاوہ عرب دنیا سے سعودی عرب کے مخالفین شامل ہیں۔
نئے اتحاد کے مقاصد کیا ہیں؟اس کے مقاصد واضح ہیں۔ یہ اتحاد دنیا کی نئی دھڑے بندی کو بنیاد فراہم کر رہا ہے جس میں پاکستان ، سعودی عرب ، ترکیہ ، چین اور روس کے مقابلے میں اسرائیل، بھارت اور ان کے حاشیہ بردار آ کھڑے ہوئے ہیں جن میں بدقسمتی سے افغانستان بھی شامل ہے جو کبھی غزوہ ہند کے نعرے بلند کیا کرتا تھا۔ ویسے تو نئی دھڑے بندی سے ہی اس تقسیم اور بھارت و اسرائیل کی قیادت میں بننے والے اتحاد کا مقصد واضح ہو جانا چاہیے لیکن ہمارے کچھ نسل پرست اور خام خیالی میں جینے والے نام نہاد نظریاتی لوگ اپنی دنیا میں مست رہتے ہیں اور وطن دشمنی یعنی پاکستان دشمنی تک سے گریز نہیں کرتے۔ شاید لوگوں کو جگانے کے لیے ہی قدرت نے اسرائیل میں امریکی سفیر کا انتخاب کیا ہے جس نے بڑھک ماری ہے کہ اسرائیل عرب سرزمینوں پر قبضے کا پورا حق رکھتا ہے۔
حماس اور اسرائیل کی حالیہ جنگ کے بعد اسرائیل کے سامنے مزاحمت کرنے والی کوئی طاقت باقی نہیں بچی۔ یوں اسرائیل جہاں تک چاہیے، اپنی سرحدوں کو وسعت دے سکتا ہے۔ اسرائیل کی جوع الارض یعنی توسیع پسندی کے راستے میں اب صرف ایک ہی رکاوٹ ہے۔ یہ رکاوٹ وہی ہے جس کے ساتھ سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کیا ہے یعنی پاکستان۔ خطے میں ہونے والی تازہ کشمکش یعنی افغانستان کی طرف سے پاکستان میں برآمد کی جانے والی دہشت گردی اور اس کے بعد حملہ ان ہی نئی دھڑے بندیوں کا شاخسانہ ہے۔ اس مقصد کے لیے طالبان کو اسرائیل نے بہ راستہ بھارت ڈرون بھی فراہم کر دیے ہیں۔
یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ بہت سادہ بات ہے۔ پاکستان کا گھیرا ؤکر کے اسے کمزور کرنا۔ منصوبے یہ ہیں کہ یہ گھیراؤ تین طرف سے ہونا چاہیے۔ ایک طرف بھارت ہمیشہ سے موجود ہے۔ مغربی جانب افغانستان کو کھڑا کر دیا گیا ہے۔ تیسری طرف ایران ہے۔ اسرائیل اسی لیے بے چین تھا کہ امریکا ایران پر چڑھ دوڑے اور وہاں انقلابی حکومت کا خاتمہ کر کے کٹھ پتلی حکومت قائم کر دے۔ایسی صورت میں تہران میں رضا پہلوی کو بٹھایا جائے یا کسی اور کو، وہ جو کوئی بھی ہو گا، اسرائیل کا ممنون احسان ہو گا۔ یوں پاکستان کی تیسری سرحد بھی گرم ہو جائے گی اور اسے تین طرف سے گھیر لیا جائے گا۔ پاکستان میں 2018 میں جو تبدیلی آئی تھی، اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ اسے ایٹمی طاقت سے محروم کر کے بے دست و پا کر دیا جائے تاکہ اسرائیل کی توسیع پسندی کی راہ کا آخری کانٹا بھی نکل جائے۔ وہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ اب پلان بی پر عمل ہو رہا ہے۔ کیا یہ پلان کامیاب ہو گا؟ مستقبل کی خبر تو صرف ذات باری ہی کو ہے لیکن اگر افغانستان میں حکومت بدل جائے تو ان منصوبوں پر اوس پڑ سکتی ہے۔ پاکستان اور اس کے اتحادیوں اور دوستوں کی کوشش یہی ہے۔
اس منظر نامے کا ایک اور پہلو خاصا حیران کن ہے۔ ایک طرف صدر ٹرمپ پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، دوسری طرف شہباز شریف ماسکو جا رہے ہیں۔ وہ ماسکو جا کر کیا کریں گے؟ اس سوال کا جواب ملنا شروع ہو گیا ہے۔ خبریں تھیں کہ روس طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اب اس کی رائے مختلف ہے۔ طالبان کے اسرائیل بھارت کیمپ میں جانے کے بعد روس نے حقیقت پسندانہ راستے کا انتخاب کر لیا ہے جس کی ایک جھلک روسی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں ملتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہو رہا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد شہباز شریف کے دورہ ماسکو کی ضرورت اور افادیت سمجھ میں آ جانی چاہیے۔
اس تگڑم کا ایک پہلو اور بھی ہے جس سے جمعیت علمائے ہند کے مولانا اسد مدنی کی ایک گفتگو نے پردہ اٹھایا جو انھوں نے طالبان وزیر خارجہ ملا متقی کے دورۂ دیوبند کے موقع پر کی تھی۔ مولانا مدنی نے فرمایا تھا کہ طالبان کی طرف سے بھارت میں دہشت گردی ہوتی تھی لیکن اب ہم نے اس کے راستے بند کر دیے ہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ طالبان حکومت برقرار رہے۔ اب یہ کوئی کہنے کی بات ہے کہ طالبان اور بھارت کا اتحاد ہو گا تو اس کی ضرب کس پر پڑے گی۔ کانگریسی علما تحریک آزادی کے وقت بھی تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے تھے اور آج بھی بدقسمتی سے غلط سمت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
اب ایک آخری بات کہ اگر بھارت، اسرائیل اور افغانستان کی نئی دھڑے بندی کے پس پشت امریکا کھڑا ہے تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ موقع بے موقع پاکستان کی تعریف کیوں کرتے رہتے ہیں؟ یہ سوال اہم ہے لیکن عالمی سیاست کے نشیب و فراز پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ ناپسندیدہ قوت کو بھی انگیج رکھنا ضروری ہوتا ہے تا کہ زہر کے بجائے گڑ سے کام چل جائے۔ کچھ ایسی حکمت عملی فریق مخالف کی بھی ہوتی ہے۔ پاکستانی قیادت ماسکو جا رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بدلے ہوئے حالات اور اس کی نزاکتوں سے پوری طرح آگاہ ہے لہٰذا خاطر جمع رکھیں، یہ کشمکش طول پکڑے گی، اس دوران طالبان انتظامیہ تاریخ کے کوڑے دان میں کہیں گم ہو جائے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان اور مسلم دنیا کی بھلائی اسی میں ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ پاکستان اور طالبان رجیم کے درمیان مفاہمت کا امکان کم ہے۔ مفاہمت ہونی ہوتی تو ترکیہ اور برادر ملکوں کی کوششیں کام یاب ہو جاتیں لیکن طالبان پر چوں کہ کانگریسی علما اور نریندر مودی کا جادو چل چکا ہے، اس لیے اب وہ عقل کی کوئی بات سننے اور تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
Source link
Today News
ایران کے اسرائیل پر تازہ میزائل حملے، یروشلم اور تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھے
تہران:
ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ متعدد گاڑیاں تباہ اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں میزائل گرنے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ مغربی یروشلم پر ہونے والے حملے میں 7 اسرائیلی شہری زخمی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق تل ابیب، یروشلم اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بھی میزائل حملے کیے گئے، جس کے بعد سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو بنکروں میں منتقل کیا گیا۔
ادھر اردن نے میزائل حملوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ اردن کی جانب سے علاقائی کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں نافذ ایمرجنسی کی مدت میں 12 مارچ تک توسیع کر دی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech1 week ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Tech6 days ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents