Connect with us

Today News

طاقت، مزاحمت اور بدلتا عالمی منظرنامہ

Published

on


اسرائیل اور امریکا کی جانب سے مشترکہ حملے کے بعد ایران کی جانب سے بھی جوابی حملے جاری ہیں، تاہم اسرائیل کے تازہ ترین حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں۔ایران کے سرکاری میڈیا نے اس شہادت کی تصدیق کردی ہے۔ شہادت کے وقت سپریم لیڈر اپنے دفتر میں موجود تھے، حملے میں سپریم لیڈر کی بہو، بیٹی، داماد اور نواسی بھی شہید ہوگئے ہیں۔ ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ ملک میں سات روز کے لیے چھٹی کا بھی اعلان کیا گیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوابی ردعمل کی صورت میں سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ بہتر ہوگا ایران ایسا نہ کرے لیکن اگر انھوں نے ایسا کیا تو ہم ایسی طاقت سے جواب دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔‘‘ جب کہ دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا ہے جہاں مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر عالمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں۔ اجلاس کے دوران انتونیو گوتریس نے نہایت سخت اور واضح الفاظ میں خطاب کرتے ہوئے خبردارکیا کہ دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بار پھر تاریخ کے اس موڑ پرکھڑی ہے جہاں ایک لمحہ صدیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سیاست کے اعصاب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کی فضا سوگوار ہے، مساجد میں دعائیں اور سڑکوں پر عوامکی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ یہ سانحہ محض ایک سیاسی اور عسکری سانحہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی صدمہ بھی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس سانحے کے اثرات کس حد تک پھیلیں گے اور آنے والا منظرنامہ کیسا ہوگا۔

ایران کی ریاستی ساخت میں سپریم لیڈر محض ایک آئینی منصب نہیں بلکہ نظریاتی محور ہیں۔ 1979 کے انقلاب کے بعد تشکیل پانے والے نظام میں رہبراعلیٰ ہی اقتدار و اختیار کا محور ہے ۔ اس تناظر میں ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی شہادت کو ایران کی خود مختاری اور نظریاتی تشخص پر حملہ سمجھا جا رہا ہے۔ حملے کے فوراً بعد اسلامی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے خطے میں موجود درجنوں امریکی اڈوں اور اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور میزائل و ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ یہ اعلان صرف عسکری ردعمل نہیں بلکہ طاقت کے توازن کو چیلنج کرنے کا پیغام ہے۔

پاسدارانِ انقلاب گزشتہ دو دہائیوں میں ایک ایسی قوت بن چکے ہیں جو نہ صرف ایران کی سرحدوں کے اندر بلکہ شام، عراق، لبنان اور یمن میں بھی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ ان کی حکمت عملی روایتی جنگ تک محدود نہیں بلکہ غیر روایتی، پراکسی اور سائبر محاذوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس لیے موجودہ بحران کو صرف دو ریاستوں کے درمیان براہِ راست تصادم کے طور پر دیکھنا حقیقت کو محدود کرنا ہوگا۔

واشنگٹن میں اس واقعے کو ایک اسٹرٹیجک ضرورت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کو سخت تنبیہ کی کہ کسی بھی شدید ردعمل کی صورت میں امریکا’’ایسی طاقت ‘‘ استعمال کرے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ یہ بیان سفارتی توازن سے زیادہ عسکری برتری کے اظہارکی کوشش ہے۔ تاہم امریکی پالیسی ساز اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع جنگ نہ صرف امریکی افواج بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد امریکی عوام ایک نئی طویل جنگ کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں دکھائی دیتے۔

 تل ابیب میں بعض حلقے اسے ایران کے علاقائی نیٹ ورک کوکمزور کرنے کی پیشگی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ قیادت کو نشانہ بنانے سے نظریاتی تحریکیں ختم نہیں ہوتیں، بعض اوقات وہ مزید شدت اختیارکرلیتی ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی تحریک اور عراق میں مختلف ملیشیائیں اس واقعے کو اپنے بیانیے میں شامل کر کے مزاحمت کو نئی توانائی دے سکتی ہیں، اگر یہ تمام محاذ بیک وقت فعال ہوئے تو اسرائیل کو شمال، جنوب اور مشرق سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اقوامِ متحدہ کی سطح پر بھی بے چینی عیاں ہے۔

انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے اور طاقت کا استعمال عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہنگامی اجلاس جاری ہے جہاں عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے مؤقف سے متصادم ہیں۔ روس اور چین جیسے ممالک ممکنہ طور پر ایران کے حق میں نرم گوشہ رکھتے ہیں، جب کہ مغربی طاقتیں اسرائیل کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ تقسیم اگر گہری ہوئی تو عالمی نظام ایک نئے سرد محاذ آرائی کے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔

اقتصادی اثرات بھی کم سنگین نہیں۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی ترسیل عالمی معیشت کی شہ رگ ہے، اگر ایران نے اس راستے پر دباؤ بڑھایا یا جہاز رانی کو خطرہ لاحق ہوا تو تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔ یورپ پہلے ہی توانائی کے بحران کا سامنا کر چکا ہے اور ایشیائی معیشتیں بھی درآمدی توانائی پر انحصار کرتی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عالمی افراطِ زرکو بڑھا سکتا ہے اور ترقی پذیر ممالک کو شدید مالی دباؤ میں ڈال سکتا ہے۔ اس طرح ایک علاقائی جنگ عالمی کساد بازاری کو جنم دے سکتی ہے۔

 ایران کی نئی قیادت زیادہ سخت گیر مؤقف اختیار کر سکتی ہے تاکہ داخلی اتحاد برقرار رکھا جا سکے۔ بیرونی حملے اکثر قوموں میں دفاعی قوم پرستی کو تقویت دیتے ہیں، اور اصلاح پسند آوازیں وقتی طور پر پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ تاہم ایران کی نوجوان نسل، جو معاشی مواقع اور عالمی روابط کی خواہاں ہے، مستقبل میں داخلی پالیسی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

جوہری پروگرام اس بحران کا مرکزی پہلو بن سکتا ہے، اگر ایران یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اس کی سلامتی کی ضمانت صرف مضبوط دفاعی صلاحیت میں ہے تو وہ اپنے جوہری پروگرام کو مزید تیزکرسکتا ہے۔ ایسی صورت میں مغرب کے ساتھ کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگی۔ پابندیاں سخت ہوں گی، سفارتی راستے محدود ہوں گے اور عالمی طاقتوں کے درمیان صف بندی واضح ہو جائے گی۔ یہ صورت حال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے بھی چیلنج ہوگی۔

عوامی سطح پر دنیا بھر میں احتجاج اس بات کی علامت ہیں کہ یہ معاملہ ریاستوں کی حدود سے نکل چکا ہے۔ مسلم دنیا میں اسے مذہبی اور نظریاتی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جب کہ مغربی معاشروں میں رائے منقسم ہے۔ سوشل میڈیا پر بیانیوں کی جنگ جاری ہے جہاں ہر فریق اپنی اخلاقی برتری ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اطلاعاتی جنگ اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، کیونکہ عوامی رائے سفارتی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ممکنہ منظرنامے متنوع اور پیچیدہ ہیں۔ پہلا منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ شدید مگر محدود جھڑپوں کے بعد پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کر دی جائے۔ یورپی یونین یا علاقائی طاقتیں ثالثی کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ دوسرا منظرنامہ ایک طویل المدتی کم شدت کی جنگ کا ہے جس میں براہِ راست تصادم کم مگر پراکسی حملے زیادہ ہوں۔ تیسرا اور خطرناک ترین منظرنامہ کھلی علاقائی جنگ ہے جس میں متعدد ممالک براہِ راست شامل ہوں اور عالمی طاقتیں مختلف بلاکس میں تقسیم ہو جائیں۔ ایسی صورت میں عالمی نظام ایک نئے غیر مستحکم دور میں داخل ہوگا۔طویل المدتی طور پر یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے، اگر ایران داخلی طور پر مستحکم رہتا ہے اور اس کے اتحادی منظم رہتے ہیں تو ایک نیا مزاحمتی بلاک مضبوط ہو سکتا ہے، اگر داخلی انتشار بڑھتا ہے تو طاقت کا خلا پیدا ہوگا جسے دیگر قوتیں پُر کرنے کی کوشش کریں گی۔ دونوں صورتوں میں غیر یقینی کیفیت برقرار رہے گی۔

آخرکار سوال یہی ہے کہ کیا طاقت کے ذریعے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں یا سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگیں شروع کرنا آسان مگر ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے ایران کیسے آگے بڑھے گا؟ نیا عہد کیسا ہوگا، اس کا انحصار عالمی قیادت کے فیصلوں پر ہے،اور ایران قیادت کے لائحہ عمل پر ہوگا۔ ایرانی قیادت دکھ کی گھڑی سے گزر رہی ہے، ایران میں جو کچھ ہوا ہے، اس پر جذبات کا بھڑکنا فطری امر ہے۔ عالمی حالات سنگین ہوچکے ہیں۔ امریکا کی قیادت کو ہوش مندی اور تدبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جارحیت، دھونس اور دھاندلی کی روش انتقام کو جنم دیتی ہے۔ موجود سنگین حالات میں طاقت کے استعمال کے بجائے تدبر کو ترجیح دی گئی، مذاکرات کا راستہ اپنایا گیا، تو شاید اس آگ کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ بصورتِ دیگر یہ شعلے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں اور آنے والی نسلیں اس فیصلے کی قیمت ادا کریں گی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاک افغان کشیدگی! – ایکسپریس اردو

Published

on


ایک دنیا اس بات سے آگاہ ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف ملک کی معیشت کو اربوں روپے کے نقصانات اٹھانا پڑ رہے ہیں بلکہ کراچی تا خیبر پورا ملک بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ بالخصوص وطن عزیز کے دو اہم صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا بیرونی مداخلت اور دہشت گردوں کے نشانے پر جہاں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

پڑوسی ملک افغانستان سے در اندازی کرنے والے دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے کے پی کے اور بلوچستان میں نہ صرف عام لوگوں اور مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ دہشت گردوں کی سرکوبی کی ذمے داریاں نبھانے والے سیکیورٹی فورسز کے قافلوں، گاڑیوں، چیک پوسٹوں اور فوجی افسروں و جوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران دہشت گردوں نے اسلام آباد میں خودکش حملہ کیا بعدازاں جنوبی وزیرستان کے علاقے لوئر دیر، وانا اور کے پی کے کے مختلف علاقوں ضلع کوہاٹ، بنوں اور بکھر وغیرہ میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹڈ کلنگ کرکے پولیس اور فوج کے جوانوں و افسران کو شہید کر دیا تھا۔ دوسری جانب پاک افغان سرحد پر دو طرفہ فائرنگ اور جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

حکومت پاکستان نے اعلیٰ ترین سطح پر تمام سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے افغانستان کی طالبان حکومت کو تواتر کے ساتھ باور کرایا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو استعمال کرنے سے باز رہے، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد افغان سرزمین سے پاکستان میں در اندازی کرکے دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے میں مصروف ہیں لہٰذا طالبان حکومت اپنی ذمے داری پوری کرے بصورت دیگر پاکستان اپنی قومی سلامتی، دفاع اور چوبیس کروڑ عوام کے تحفظ کے لیے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوگا۔

حکومت نے افغان حکومت کو پاکستان میں ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی کے ٹھوس ثبوت اور شواہد بھی فراہم کیے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ طالبان حکومت نے پاکستان کی گزارشات پر کوئی توجہ نہ دی اور بھارت کی پراکسی بتا کر پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی آماج گاہ بنا دیا۔ پاکستان کے پاس اب آخری اقدام رہ گیا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں، پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنا کر اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنائے اور پاک سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کرے۔ نتیجتاً پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے باہمی مشاورت سے افغانستان کے خلاف چار و ناچار آپریشن ’’غضب للحق‘‘ کا آغاز کیا جو تادم تحریر جاری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان کے مختلف علاقوں کابل، قندھار اور پکتیا وغیرہ میں اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بالکل درست کہا کہ پاکستان افغانستان پر یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ دہشت گرد یا پاکستان کسی ایک کا انتخاب کرلیں۔ یہ المیہ ہے کہ طالبان نے نیٹو افواج کی واپسی اور دوحہ امن مذاکرات کے نتیجے میں عنان حکومت سنبھالنے کے بعد معاہدات اور وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔ سب سے بڑا عہد یہ کیا گیا تھا کہ طالبان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا اور آج افغان سرزمین پر مختلف النوع شرپسند عناصر اور دہشت گرد تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 ہزار سے 23 ہزار دہشت گردوں پر مشتمل ملیشیا موجود ہے جن میں نصف سے زائد غیر ملکی ہیں، یہ دہشت گرد تنظیمیں علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق داعش، ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں جن کا ہدف علاقائی سلامتی کو سبوتاژ کرنا ہے۔ پاکستان پہلے ہی ان خطرات سے طالبان حکومت کو آگاہ کر چکا ہے۔ پاک افغان جاری جنگ پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی ہے چین، برطانیہ، روس، سعودی عرب، قطر وغیرہ نے سفارتی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ جب کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان طالبان کے ساتھ ٹھیک کر رہا ہے، وہ مداخلت نہیں کریں گے۔ افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور طالبان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ نے اپیل کی ہے کہ پاکستان مذاکرات سے مسئلہ حل کرے، ہم بات چیت پر آمادہ ہیں جو خوش آئند امر ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک افغان مذاکرات اب عالمی برادری کی ثالثی میں ہونے چاہئیں۔ طالبان حکومت دنیا کو یقین دہانی کرائے کہ اس کی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور افغانستان میں سرگرم عمل تمام دہشت گرد تنظیمیں اور گروہ اور ان نیٹ ورکس اور تربیتی مراکز کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ طالبان رجیم کی ٹھوس ضمانتیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے عملی اقدامات ہی علاقائی سلامتی کے ضامن ہیں۔ خود افغانستان کی داخلی سلامتی اور پڑوسی ملک پاکستان سے اچھے روابط کی ضمانت بھی اسی میں ہے کہ طالبان دوحہ مذاکرات میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

جارحیت

Published

on



طالبان نے پاکستان پر حملہ کیا اور امریکا اور اسرائیل نے ایران پر۔ اب اس جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ اصل سوال تو یہی ہے لیکن اس میں بھٹکنے کی راہیں بہت ہیں۔ مجھے یہ بات کرنی ہے لیکن اس سے پہلے ایک بنیادی نکتے پر توجہ ضروری ہے۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مئی کی پاک بھارت جنگ میں جو بازی پلٹی تھی اور اس کے نتیجے میں عالمی منظر نامہ تبدیل ہوا تھا، اب اس میں کچھ مزید تبدیلی آ گئی ہے اور دنیا میں ایک نئی دھڑے بندی تقریبا مکمل ہو چکی ہے۔ اس دھڑے بندی کے مقاصد کیا ہیں؟ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھ لیا تو یہ بھی سمجھ میں آ جائے گا کہ پاکستان طالبان جنگ کا انجام کیا ہوگا۔

مئی کے معرکے کے بعد بھارت تنہائی کا شکار ہو چکا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ نریندر مودی کی تضحیک کیا کرتے تھے(اب اسے گریٹ گائے قرار دیتے ہیں)۔ امریکا اُن دنوں بھارت پر تجارتی ٹیرف میں آئے روز اضافہ کرتا جاتا تھا لہٰذابھارت اور مودی دبک کر بیٹھ گئے یہاں تک کہ امریکا اور بھارت کے درمیان ایک نئی ڈیل ہو گئی۔

بھارت نے امریکا کے لیے ٹیرف صفر کر دیے اور امریکا جس نے اپنا ٹیرف پچاس فیصد تک بڑھا دیا تھا، اب اٹھارہ فیصد تک کم کر دیا ہے جو پاکستان سے بھی کم ہے۔ اس کے بعد یوں سمجھیے کہ دنیا بدل گئی۔ نریندر مودی بھاگے بھاگے اسرائیل جا پہنچے اور ادھر افغانستان پاکستان پر حملہ آور ہو گیا۔ افغانستان پاکستان پر حملہ آور کیوں ہوا اور اس حملے کا بھارت اور اسرائیل سے کیا تعلق ہے، یہی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس معمے کے حل میں جتنی مدد نیتن یاہو کر سکتا ہے، کوئی اور نہیں کر سکتا۔

نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان ماتا پتا کا رشتہ دریافت کیا تو اس کی ایک وجہ تھی۔ یہ وجہ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں بیان کی۔ اس نے ایک نئے اتحاد کا تصور پیش کیا۔ اسرائیل اور بھارت اس کے کلیدی ارکان ہیں۔ دیگر ارکان میں افغانستان اور صومالی لینڈ کے علاوہ عرب دنیا سے سعودی عرب کے مخالفین شامل ہیں۔

نئے اتحاد کے مقاصد کیا ہیں؟اس کے مقاصد واضح ہیں۔ یہ اتحاد دنیا کی نئی دھڑے بندی کو بنیاد فراہم کر رہا ہے جس میں پاکستان ، سعودی عرب ، ترکیہ ، چین اور روس کے مقابلے میں اسرائیل، بھارت اور ان کے حاشیہ بردار آ کھڑے ہوئے ہیں جن میں بدقسمتی سے افغانستان بھی شامل ہے جو کبھی غزوہ ہند کے نعرے بلند کیا کرتا تھا۔ ویسے تو نئی دھڑے بندی سے ہی اس تقسیم اور بھارت و اسرائیل کی قیادت میں بننے والے اتحاد کا مقصد واضح ہو جانا چاہیے لیکن ہمارے کچھ نسل پرست اور خام خیالی میں جینے والے نام نہاد نظریاتی لوگ اپنی دنیا میں مست رہتے ہیں اور وطن دشمنی یعنی پاکستان دشمنی تک سے گریز نہیں کرتے۔ شاید لوگوں کو جگانے کے لیے ہی قدرت نے اسرائیل میں امریکی سفیر کا انتخاب کیا ہے جس نے بڑھک ماری ہے کہ اسرائیل عرب سرزمینوں پر قبضے کا پورا حق رکھتا ہے۔

حماس اور اسرائیل کی حالیہ جنگ کے بعد اسرائیل کے سامنے مزاحمت کرنے والی کوئی طاقت باقی نہیں بچی۔ یوں اسرائیل جہاں تک چاہیے، اپنی سرحدوں کو وسعت دے سکتا ہے۔ اسرائیل کی جوع الارض یعنی توسیع پسندی کے راستے میں اب صرف ایک ہی رکاوٹ ہے۔ یہ رکاوٹ وہی ہے جس کے ساتھ سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کیا ہے یعنی پاکستان۔ خطے میں ہونے والی تازہ کشمکش یعنی افغانستان کی طرف سے پاکستان میں برآمد کی جانے والی دہشت گردی اور اس کے بعد حملہ ان ہی نئی دھڑے بندیوں کا شاخسانہ ہے۔ اس مقصد کے لیے طالبان کو اسرائیل نے بہ راستہ بھارت ڈرون بھی فراہم کر دیے ہیں۔

یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ بہت سادہ بات ہے۔ پاکستان کا گھیرا ؤکر کے اسے کمزور کرنا۔ منصوبے یہ ہیں کہ یہ گھیراؤ تین طرف سے ہونا چاہیے۔ ایک طرف بھارت ہمیشہ سے موجود ہے۔ مغربی جانب افغانستان کو کھڑا کر دیا گیا ہے۔ تیسری طرف ایران ہے۔ اسرائیل اسی لیے بے چین تھا کہ امریکا ایران پر چڑھ دوڑے اور وہاں انقلابی حکومت کا خاتمہ کر کے کٹھ پتلی حکومت قائم کر دے۔ایسی صورت میں تہران میں رضا پہلوی کو بٹھایا جائے یا کسی اور کو، وہ جو کوئی بھی ہو گا، اسرائیل کا ممنون احسان ہو گا۔ یوں پاکستان کی تیسری سرحد بھی گرم ہو جائے گی اور اسے تین طرف سے گھیر لیا جائے گا۔ پاکستان میں 2018 میں جو تبدیلی آئی تھی، اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ اسے ایٹمی طاقت سے محروم کر کے بے دست و پا کر دیا جائے تاکہ اسرائیل کی توسیع پسندی کی راہ کا آخری کانٹا بھی نکل جائے۔ وہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ اب پلان بی پر عمل ہو رہا ہے۔ کیا یہ پلان کامیاب ہو گا؟ مستقبل کی خبر تو صرف ذات باری ہی کو ہے لیکن اگر افغانستان میں حکومت بدل جائے تو ان منصوبوں پر اوس پڑ سکتی ہے۔ پاکستان اور اس کے اتحادیوں اور دوستوں کی کوشش یہی ہے۔

اس منظر نامے کا ایک اور پہلو خاصا حیران کن ہے۔ ایک طرف صدر ٹرمپ پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، دوسری طرف شہباز شریف ماسکو جا رہے ہیں۔ وہ ماسکو جا کر کیا کریں گے؟ اس سوال کا جواب ملنا شروع ہو گیا ہے۔ خبریں تھیں کہ روس طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اب اس کی رائے مختلف ہے۔ طالبان کے اسرائیل بھارت کیمپ میں جانے کے بعد روس نے حقیقت پسندانہ راستے کا انتخاب کر لیا ہے جس کی ایک جھلک روسی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں ملتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہو رہا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد شہباز شریف کے دورہ ماسکو کی ضرورت اور افادیت سمجھ میں آ جانی چاہیے۔

اس تگڑم کا ایک پہلو اور بھی ہے جس سے جمعیت علمائے ہند کے مولانا اسد مدنی کی ایک گفتگو نے پردہ اٹھایا جو انھوں نے طالبان وزیر خارجہ ملا متقی کے دورۂ دیوبند کے موقع پر کی تھی۔ مولانا مدنی نے فرمایا تھا کہ طالبان کی طرف سے بھارت میں دہشت گردی ہوتی تھی لیکن اب ہم نے اس کے راستے بند کر دیے ہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ طالبان حکومت برقرار رہے۔ اب یہ کوئی کہنے کی بات ہے کہ طالبان اور بھارت کا اتحاد ہو گا تو اس کی ضرب کس پر پڑے گی۔ کانگریسی علما تحریک آزادی کے وقت بھی تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے تھے اور آج بھی بدقسمتی سے غلط سمت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

اب ایک آخری بات کہ اگر بھارت، اسرائیل اور افغانستان کی نئی دھڑے بندی کے پس پشت امریکا کھڑا ہے تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ موقع بے موقع پاکستان کی تعریف کیوں کرتے رہتے ہیں؟ یہ سوال اہم ہے لیکن عالمی سیاست کے نشیب و فراز پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ ناپسندیدہ قوت کو بھی انگیج رکھنا ضروری ہوتا ہے تا کہ زہر کے بجائے گڑ سے کام چل جائے۔ کچھ ایسی حکمت عملی فریق مخالف کی بھی ہوتی ہے۔ پاکستانی قیادت ماسکو جا رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بدلے ہوئے حالات اور اس کی نزاکتوں سے پوری طرح آگاہ ہے لہٰذا خاطر جمع رکھیں، یہ کشمکش طول پکڑے گی، اس دوران طالبان انتظامیہ تاریخ کے کوڑے دان میں کہیں گم ہو جائے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان اور مسلم دنیا کی بھلائی اسی میں ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ پاکستان اور طالبان رجیم کے درمیان مفاہمت کا امکان کم ہے۔ مفاہمت ہونی ہوتی تو ترکیہ اور برادر ملکوں کی کوششیں کام یاب ہو جاتیں لیکن طالبان پر چوں کہ کانگریسی علما اور نریندر مودی کا جادو چل چکا ہے، اس لیے اب وہ عقل کی کوئی بات سننے اور تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

ایران کے اسرائیل پر تازہ میزائل حملے، یروشلم اور تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھے

Published

on



تہران:

ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ متعدد گاڑیاں تباہ اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں میزائل گرنے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ مغربی یروشلم پر ہونے والے حملے میں 7 اسرائیلی شہری زخمی ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق تل ابیب، یروشلم اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بھی میزائل حملے کیے گئے، جس کے بعد سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو بنکروں میں منتقل کیا گیا۔

ادھر اردن نے میزائل حملوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ اردن کی جانب سے علاقائی کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں نافذ ایمرجنسی کی مدت میں 12 مارچ تک توسیع کر دی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending