Today News
مجھے اس دیس جانا ہے
تسنیم کوثر ایک کمال نثر نگار ہیں۔ چند دن پہلے ان کی ایک کتاب موصول ہوئی جس کا عنوان ہے ’’مجھے اس دیس جانا ہے۔‘‘ اندرون صفحہ پر حد درجہ دلچسپ جملے لکھے ہوئے تھے۔ ’’محترم آداب! گذشتہ برس کتاب آپ کو پوسٹ کروائی۔ محکمہ ڈاک نے پھرتی دکھائی۔ اور دو دن بعد کتاب مجھے ہی موصول ہو گئی۔ آج پھر جسارت کر رہی ہوں۔ کتاب پر تاریخ وہی پرانی ہے‘‘۔ ذاتی طور پر تسنیم صاحبہ سے کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ بس اتنا معلوم تھا کہ وہ ایک مصنفہ ہیں۔ مگر میرا قیاس غلط ثابت ہوا۔
کتاب پڑھنے سے پتہ چلا کہ وہ محض نثر نگار نہیں بلکہ باکمال لکھاری ہیں۔ ان کی کتاب بظاہر تو ملائیشیا کا سفر نامہ ہے۔ مگر اصل میں الفاظ‘ جملوں‘ مضمون کی ساخت اور زبان پر ان کی گرفت کا ثبوت ہے۔ سفرنامہ بہت ہی کم پڑھتا ہوں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ مگر یہ ایک ایسی عمدہ تحریر ہے۔ جو اردو ادب میں ایک نکھرا ہوا اضافہ ہے۔ دو تین نشستوں میں ہی اس کتاب کو پڑھ ڈالا۔ اب اس میں سے چند اقتسابات ‘ پیش کرتا ہوں۔
پیش لفظ میں مصنفہ رقمطراز ہیں:وقت کی تتلی: یہ کب ضروری ہے کہ جو جی چاہے وہی ہوجائے!کہیں حالات انسان کو الجھائے رکھتے ہیں اور کہیں خوف بہت سے شوق دبا دیتا ہے مگر…اس ڈر اور خوف کے باوجود ہر انسان سفر ضرور کرتا ہے۔ ایک شہر سے دوسرے شہر اور …کبھی دوسرے ملک جا پہنچتا ہے۔کوئی روزگار کے لیے‘کوئی حصول تعلیم کے لیے‘لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محبت کے رتھ پر سوار ہو کر تنہا ہزاروں میل دور کا سفر کر جاتے ہیں۔محبت وہ منہ زور جذبہ جو ناممکن کو ممکن بنا دے۔اور ایک ماں کو اپنی اکلوتی بیٹی سے ملنے کی لگن لگا دے۔مجھے بھی یہ لگن ہی اس خوبصورت جزیروں والے ہرے بھرے دیس میں لے گئی تھی۔ اس محبت نے ہی مجھے اس سفر پہ اکسایا تھا۔
سلمیٰ اعوان صاحبہ نے حد درجہ سادہ مگر پر تاثیر پیش لفظ رقم کیا ہے۔تسنیم … ایک اچھی افسانہ نگار: سالوں پہلے کی بات ہے تخلیق کے بانی مدیر اظہر جاوید حیات تھے۔ پرچہ ملا تو ہندوستان کے ایک سفر نامے کا آغاز ہو رہا تھا۔ پہلی قسط ہی ایسی دل موہ لینے والی تھی کہ پڑھ کر تھوڑی دیر تو گم صم ہونے والا سلسلہ ہوا۔ نثر سا دگی اورپرکاری کی اپنی مثال آپ تھی۔ توجہ کھنیچ کر بتاتی تھی کہ رکو‘ مجھے پڑھو اور ہاں سراہو بھی۔ مصنفہ کون تھی؟ پڑھا تو تسنیم کو ثر پڑھنے کو ملا۔ اس وقت ابھی شناسائی زیاہ نہ تھی۔ ہاں کہیں کسی تقریب میں بس ہیلو ہائے والی بات ضرور تھی۔ پھر جیسے تخلیق کا انتظار رہنے لگا۔ خصوصی طور پر تسنیم کوثر کے سفر نامے کا۔ کیا دل پذیر سا انداز تھا ۔ کہیں دلی کے گلی کوچوں میں لیے پھرتی تھی۔ کہیں چندی گڑھ کے سبزہ زار وں میں گھما پھرا رہی ہے۔ کہیں شملہ کے پہاڑوں میں پہنچی ہوئی ہے۔ لوگوں سے ملاقاتیں کروا رہی ہے۔ پنجاب کی رہتل اور وسیب کی کہانیاں اپنے ہندوستانی دوستوں کے حوالے سے سنا رہی ہے۔ بات سے بات نکال رہی ہے۔ شگفتہ بیانی سے دلوں میں اتر رہی ہے۔ محبتیں بانٹ رہی ہے۔ اور انھیں سمیٹ بھی رہی ہے۔
میں اور میرا دل:یہ دل کا نگر بھی عجیب ہوتا ہے۔کبھی تو‘آپ ہی آپ بنا کسی بات کے مہکے سرخ گلابوں کا مسکن بن جاتاہے اور کبھی‘ گہری اداسی کی آکاس بیل اسے یوں جکڑ لیتی ہے کہ چاروں اور بکھرے اجالے بھی نظر نہیں آتے۔ احساسات اورجذبات کی اس نگری میں ایک محبت ہی تو ہے جو ‘خاموشی میں بھی گنگناتی ہے۔ میری خاموشی بھی اس روز گنگنانے لگی تھی جب ‘جاڑے کی نرم گرم دھوپ میں لپٹی ایک چمکدار صبح ارم نے اپنے خوابوں کی تعبیر پائی۔ یہ نوید ملتے ہی میرا باؤلا سا دل پروں کی خواہش کرنے لگا۔ میرے گلشن میں اک کلی کھل گئی تھی۔ میں تعبیر کو دیکھنے اور ارم سے ملنے کی دعائیں کرنے لگی تھی مگر‘یہ سب میرے لیے اتنا آسان کب تھا؟اسی اضطراب میں جاڑا رخصت ہوا۔بہار کا موسم بھی اپنی چھب دکھلا کے گرمی کی شدت ہمیں سونپ گیا۔ اس دوران میںنے کئی بار اڈاری مارنا چاہی مگر بات نہ بن سکی تھی ۔
پام نگری: امیگریشن کے مراحل سے نمٹنے کے بعد پھلجھڑی کی طرح پھوٹتی بکھرتی اس کیفیت کے ساتھ میرے قدم اب تیزی سے اس بیریئر کی طرف اٹھنے لگے تھے جہاں میرے اپنے میرے منتظر تھے۔اور پھر فاصلے سمٹ گئے۔میری لاڈلی نے جب اپنی لاڈلی کو بانھوں میں بھرے اپنی ماں کو گلے لگایا تو جیسے دریاؤں کے بند ٹوٹ گئے تھے۔ دور کہیں اک پرانے گیت کی باز گشت سنائی دینے لگی تھی۔
مانواں دھیاں ملن لگیاں
چاروں کنداں نے
چوبارے دیاں ہلیاں
اس بلوریں ائر پورٹ پہ تو آنسوؤں کی اس برسات سے کوئی ہلچل نہ مچی تھی البتہ کچھ آنسو چھلک کے ارم کی گود میں سمٹی ہوئی تعبیر کو مضطرب کر گئے تھے۔ وہ کسمسائی ۔ میرے گلشن کی پہلی کلی نے اپنی گول آنکھیں گھمائیں اور ہم ماں بیٹی کے ملن کا یہ منظر اپنی آنکھوں میں بھر لیا۔
کوالالمپور میں بسنت :یہ جو شوق ہے نا۔ یہ سب کام کرا دیتا ہے۔ منی اسکرٹ پہننے والیوں کو بھی عبایا پہن کے چلنا سکھا دیتا ہے۔ سورج کی نرم گرم کرنوں نے جھیل کے پانی کو بھی سنہرا کر دیا تھا اور مسجد کا گلابی عکس‘ اس سنہرے پن کو اور بھی حسین بنا رہا تھا۔ مسجد پترا جایا جھیل کے پانی میں ہلکورے لے رہی تھی اور ہم ان ہلکوروں سے محفوظ ہو رہے تھے کہ اچانک موسم بے ایمان ہو گیا۔یہاں کی بارشیں بھی خوب ہیں۔ پلک جھپکتے میں گرجتے چمکتے بادلوں کی اوٹ سے اپنا آپ دیکھاتی ہیں۔ اورفضا میں حبس گھول کر چلتی بنتی ہیں۔ اس بارش نے سب پات شجر مزید نکھار دیے تھے۔ پترا جایا کی ہریالی کچھ اور چمکدار ہو گئی تھی۔ سرسبز پودے آنکھوں کو ٹھنڈک دیتے تھے اور مٹی کی سوندھی خوشبو من مہکائے جاتی تھی۔یہ بارشیں بھی کیا کیا یاد دلادیتی ہیں؟
کیمرون ہائی لینڈز… ایک طلسم :رستے میں ہر طرف شادابیاں تھیں۔ درختوں کے جھنڈ تھے۔ کچی پکی بستیاں تھیں۔ سڑک کنارے لگے ہوئے اسٹال تھے جہاں چھاتے تان کے ملے اور چینی خواتین کاروبار میں الجھی ہوئی تھیں۔کہ اس ملک کے بے اعتبارے موسم میں بارش کبھی اپنا جلوہ دکھا سکتی تھی۔ اس وقت بھی کن من ہمارے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی جاتی تھی۔ شاداب رستے بل کھاتے ہوئے بلندیوں کی طرف جاتے تھے۔ گہرے سر مئی بادل منڈلاتے تھے اور ہرباول مستیاں دکھاتی تھی۔ راہ میں کوئی شاندار سی عمارت ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی تو ہم سب نظریں چرائے آگے بڑھ جاتے تھے کہ چلتے سمے متفقہ فیصلہ یہی کیاگیا تھا کہ رستے کی رنگینیوں میں الجھے بغیر زیادہ سے زیادہ وقت پہاڑ کی گود میں گزارا جائے۔ دن کی روشنی میں یہاں کی اترائیوں‘ اونچائیوں اور گہرائیوں کے منظر دیکھے جائیں اور شام کو جب سورج واپسی کا رستہ ناپے تو ہم سب بھی گھروں کو پلٹ آئیں۔ لہٰذا کہیں بھی بغیر رکے ہماری گاڑیاں دھیرے دھیرے رینگتی ہوئی اونچائی کا سفر طے کرتی رہیں۔ پہاڑیوں ‘ گھاٹیوں‘ ٹیلوں نے اپنے جوبن سے ہمیں پر چانا چاہا۔ سبز مخملیں دوشالہ اوڑھے چائے کے باغات بھی اپنی طرف بلاتے رہے۔ پھلوں اور پھولوں سے لدے فارم دل لبھاتے رہے مگر ہم واپسی پہ انھیں دیکھنے کا ارادہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے گئے یہاں تک کہ تنگ و تاریک گھیریوں میں گھومتے گھماتے ہم کیمرون ہائی لینڈ آ پہنچے۔
پینکورآئس لینڈ کا ہرا سمندر:میں نے دیکھا یہ ہرا سمندر دل و جاں کو سکون بخشتا تھا۔ دور سطح سمندر پہ لپٹی کشتیاں پانی سے ہم آغوش ہونے کو بے تاب ہوئی جاتی تھیں۔ ملاح اپنے لیے مسافر تلاش کرتے تھے اور گورے‘ کالے اور ہم سب بہت سے دیوانے چاندی جیسے پانی پہ سنہری کرنوں کا جال بچھتے دیکھتے تھے تو مستانے ہوئے جاتے تھے۔ لہروں کی بے تابی دل کا اضطراب بڑھاتی تھی۔اور مچلتی لہریں جب ساحل سے ٹکرا کر پلٹتی تھیں تو میری آنکھیں ان کا پیچھا کرتی دور تک چلی جاتی تھیں۔ جہاں گھنے جنگلوں کا عکس میری توجہ اپنی طرف کر لیتا تھا۔
سفر نامہ کی بابت پروفیسر خواجہ محمد ذکریا لکھتے ہیں: سفر نامہ جہاں بھی جائے اور جہاں سے بھی گزرے وہ ان مقامات کو خارجی انداز میں بھی دیکھتا ہے اور اپنے ذاتی زاویۂ نظر سے بھی مشاہدے کو احساس کا رنگ دے دیتا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ وہ اس ملک کا تقابل اپنے ملک سے بھی کرتا چلا جاتا ہے۔ مثلاً اس اجنبی خطۂ زمین اور ہمارے منظر نامے میں کیا نمایاں فرق ہے؟ افراد کی شکل شباہت‘ پوشاک‘ خوردنوش ‘ رہن سہن‘ تہذیب ‘ وثقافت وغیرہ میں کتنا اختلاف اور کتنی مشابہت ہے۔ سفرنامہ نگار مرد ہو تو اس کا زاویہ ٔ نظر خاتون سفر نامہ نگار سے بعض معاملات میںالگ ہو گا۔ تسنیم کوثر نے ملائیشیا جیسے ابھرتے ہوئے ملک سے جو تاثرات اخذ کیے ہیں ان کو بڑے دلچسپ‘ اسلوب اور باریک بینی سے تحریر کیا ہے۔
بڑے عرصے کے بعد اس کتاب کی صورت میں ہوا کا ایک تازہ جھونکا محسوس ہوا ہے۔ خدا کرے کہ تسنیم کوثر صاحبہ یونہی بلکہ اتنی ہی عمدگی سے لکھتی چلی جائیں!
Today News
پاک افغان کشیدگی! – ایکسپریس اردو
ایک دنیا اس بات سے آگاہ ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف ملک کی معیشت کو اربوں روپے کے نقصانات اٹھانا پڑ رہے ہیں بلکہ کراچی تا خیبر پورا ملک بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ بالخصوص وطن عزیز کے دو اہم صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا بیرونی مداخلت اور دہشت گردوں کے نشانے پر جہاں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
پڑوسی ملک افغانستان سے در اندازی کرنے والے دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے کے پی کے اور بلوچستان میں نہ صرف عام لوگوں اور مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ دہشت گردوں کی سرکوبی کی ذمے داریاں نبھانے والے سیکیورٹی فورسز کے قافلوں، گاڑیوں، چیک پوسٹوں اور فوجی افسروں و جوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران دہشت گردوں نے اسلام آباد میں خودکش حملہ کیا بعدازاں جنوبی وزیرستان کے علاقے لوئر دیر، وانا اور کے پی کے کے مختلف علاقوں ضلع کوہاٹ، بنوں اور بکھر وغیرہ میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹڈ کلنگ کرکے پولیس اور فوج کے جوانوں و افسران کو شہید کر دیا تھا۔ دوسری جانب پاک افغان سرحد پر دو طرفہ فائرنگ اور جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
حکومت پاکستان نے اعلیٰ ترین سطح پر تمام سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے افغانستان کی طالبان حکومت کو تواتر کے ساتھ باور کرایا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو استعمال کرنے سے باز رہے، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد افغان سرزمین سے پاکستان میں در اندازی کرکے دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے میں مصروف ہیں لہٰذا طالبان حکومت اپنی ذمے داری پوری کرے بصورت دیگر پاکستان اپنی قومی سلامتی، دفاع اور چوبیس کروڑ عوام کے تحفظ کے لیے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوگا۔
حکومت نے افغان حکومت کو پاکستان میں ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی کے ٹھوس ثبوت اور شواہد بھی فراہم کیے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ طالبان حکومت نے پاکستان کی گزارشات پر کوئی توجہ نہ دی اور بھارت کی پراکسی بتا کر پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی آماج گاہ بنا دیا۔ پاکستان کے پاس اب آخری اقدام رہ گیا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں، پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنا کر اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنائے اور پاک سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کرے۔ نتیجتاً پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے باہمی مشاورت سے افغانستان کے خلاف چار و ناچار آپریشن ’’غضب للحق‘‘ کا آغاز کیا جو تادم تحریر جاری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان کے مختلف علاقوں کابل، قندھار اور پکتیا وغیرہ میں اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بالکل درست کہا کہ پاکستان افغانستان پر یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ دہشت گرد یا پاکستان کسی ایک کا انتخاب کرلیں۔ یہ المیہ ہے کہ طالبان نے نیٹو افواج کی واپسی اور دوحہ امن مذاکرات کے نتیجے میں عنان حکومت سنبھالنے کے بعد معاہدات اور وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔ سب سے بڑا عہد یہ کیا گیا تھا کہ طالبان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا اور آج افغان سرزمین پر مختلف النوع شرپسند عناصر اور دہشت گرد تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔
روسی وزارت خارجہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 ہزار سے 23 ہزار دہشت گردوں پر مشتمل ملیشیا موجود ہے جن میں نصف سے زائد غیر ملکی ہیں، یہ دہشت گرد تنظیمیں علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق داعش، ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں جن کا ہدف علاقائی سلامتی کو سبوتاژ کرنا ہے۔ پاکستان پہلے ہی ان خطرات سے طالبان حکومت کو آگاہ کر چکا ہے۔ پاک افغان جاری جنگ پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی ہے چین، برطانیہ، روس، سعودی عرب، قطر وغیرہ نے سفارتی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ جب کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان طالبان کے ساتھ ٹھیک کر رہا ہے، وہ مداخلت نہیں کریں گے۔ افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور طالبان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ نے اپیل کی ہے کہ پاکستان مذاکرات سے مسئلہ حل کرے، ہم بات چیت پر آمادہ ہیں جو خوش آئند امر ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک افغان مذاکرات اب عالمی برادری کی ثالثی میں ہونے چاہئیں۔ طالبان حکومت دنیا کو یقین دہانی کرائے کہ اس کی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور افغانستان میں سرگرم عمل تمام دہشت گرد تنظیمیں اور گروہ اور ان نیٹ ورکس اور تربیتی مراکز کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ طالبان رجیم کی ٹھوس ضمانتیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے عملی اقدامات ہی علاقائی سلامتی کے ضامن ہیں۔ خود افغانستان کی داخلی سلامتی اور پڑوسی ملک پاکستان سے اچھے روابط کی ضمانت بھی اسی میں ہے کہ طالبان دوحہ مذاکرات میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔
Today News
جارحیت
طالبان نے پاکستان پر حملہ کیا اور امریکا اور اسرائیل نے ایران پر۔ اب اس جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ اصل سوال تو یہی ہے لیکن اس میں بھٹکنے کی راہیں بہت ہیں۔ مجھے یہ بات کرنی ہے لیکن اس سے پہلے ایک بنیادی نکتے پر توجہ ضروری ہے۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مئی کی پاک بھارت جنگ میں جو بازی پلٹی تھی اور اس کے نتیجے میں عالمی منظر نامہ تبدیل ہوا تھا، اب اس میں کچھ مزید تبدیلی آ گئی ہے اور دنیا میں ایک نئی دھڑے بندی تقریبا مکمل ہو چکی ہے۔ اس دھڑے بندی کے مقاصد کیا ہیں؟ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھ لیا تو یہ بھی سمجھ میں آ جائے گا کہ پاکستان طالبان جنگ کا انجام کیا ہوگا۔
مئی کے معرکے کے بعد بھارت تنہائی کا شکار ہو چکا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ نریندر مودی کی تضحیک کیا کرتے تھے(اب اسے گریٹ گائے قرار دیتے ہیں)۔ امریکا اُن دنوں بھارت پر تجارتی ٹیرف میں آئے روز اضافہ کرتا جاتا تھا لہٰذابھارت اور مودی دبک کر بیٹھ گئے یہاں تک کہ امریکا اور بھارت کے درمیان ایک نئی ڈیل ہو گئی۔
بھارت نے امریکا کے لیے ٹیرف صفر کر دیے اور امریکا جس نے اپنا ٹیرف پچاس فیصد تک بڑھا دیا تھا، اب اٹھارہ فیصد تک کم کر دیا ہے جو پاکستان سے بھی کم ہے۔ اس کے بعد یوں سمجھیے کہ دنیا بدل گئی۔ نریندر مودی بھاگے بھاگے اسرائیل جا پہنچے اور ادھر افغانستان پاکستان پر حملہ آور ہو گیا۔ افغانستان پاکستان پر حملہ آور کیوں ہوا اور اس حملے کا بھارت اور اسرائیل سے کیا تعلق ہے، یہی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس معمے کے حل میں جتنی مدد نیتن یاہو کر سکتا ہے، کوئی اور نہیں کر سکتا۔
نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان ماتا پتا کا رشتہ دریافت کیا تو اس کی ایک وجہ تھی۔ یہ وجہ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں بیان کی۔ اس نے ایک نئے اتحاد کا تصور پیش کیا۔ اسرائیل اور بھارت اس کے کلیدی ارکان ہیں۔ دیگر ارکان میں افغانستان اور صومالی لینڈ کے علاوہ عرب دنیا سے سعودی عرب کے مخالفین شامل ہیں۔
نئے اتحاد کے مقاصد کیا ہیں؟اس کے مقاصد واضح ہیں۔ یہ اتحاد دنیا کی نئی دھڑے بندی کو بنیاد فراہم کر رہا ہے جس میں پاکستان ، سعودی عرب ، ترکیہ ، چین اور روس کے مقابلے میں اسرائیل، بھارت اور ان کے حاشیہ بردار آ کھڑے ہوئے ہیں جن میں بدقسمتی سے افغانستان بھی شامل ہے جو کبھی غزوہ ہند کے نعرے بلند کیا کرتا تھا۔ ویسے تو نئی دھڑے بندی سے ہی اس تقسیم اور بھارت و اسرائیل کی قیادت میں بننے والے اتحاد کا مقصد واضح ہو جانا چاہیے لیکن ہمارے کچھ نسل پرست اور خام خیالی میں جینے والے نام نہاد نظریاتی لوگ اپنی دنیا میں مست رہتے ہیں اور وطن دشمنی یعنی پاکستان دشمنی تک سے گریز نہیں کرتے۔ شاید لوگوں کو جگانے کے لیے ہی قدرت نے اسرائیل میں امریکی سفیر کا انتخاب کیا ہے جس نے بڑھک ماری ہے کہ اسرائیل عرب سرزمینوں پر قبضے کا پورا حق رکھتا ہے۔
حماس اور اسرائیل کی حالیہ جنگ کے بعد اسرائیل کے سامنے مزاحمت کرنے والی کوئی طاقت باقی نہیں بچی۔ یوں اسرائیل جہاں تک چاہیے، اپنی سرحدوں کو وسعت دے سکتا ہے۔ اسرائیل کی جوع الارض یعنی توسیع پسندی کے راستے میں اب صرف ایک ہی رکاوٹ ہے۔ یہ رکاوٹ وہی ہے جس کے ساتھ سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کیا ہے یعنی پاکستان۔ خطے میں ہونے والی تازہ کشمکش یعنی افغانستان کی طرف سے پاکستان میں برآمد کی جانے والی دہشت گردی اور اس کے بعد حملہ ان ہی نئی دھڑے بندیوں کا شاخسانہ ہے۔ اس مقصد کے لیے طالبان کو اسرائیل نے بہ راستہ بھارت ڈرون بھی فراہم کر دیے ہیں۔
یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ بہت سادہ بات ہے۔ پاکستان کا گھیرا ؤکر کے اسے کمزور کرنا۔ منصوبے یہ ہیں کہ یہ گھیراؤ تین طرف سے ہونا چاہیے۔ ایک طرف بھارت ہمیشہ سے موجود ہے۔ مغربی جانب افغانستان کو کھڑا کر دیا گیا ہے۔ تیسری طرف ایران ہے۔ اسرائیل اسی لیے بے چین تھا کہ امریکا ایران پر چڑھ دوڑے اور وہاں انقلابی حکومت کا خاتمہ کر کے کٹھ پتلی حکومت قائم کر دے۔ایسی صورت میں تہران میں رضا پہلوی کو بٹھایا جائے یا کسی اور کو، وہ جو کوئی بھی ہو گا، اسرائیل کا ممنون احسان ہو گا۔ یوں پاکستان کی تیسری سرحد بھی گرم ہو جائے گی اور اسے تین طرف سے گھیر لیا جائے گا۔ پاکستان میں 2018 میں جو تبدیلی آئی تھی، اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ اسے ایٹمی طاقت سے محروم کر کے بے دست و پا کر دیا جائے تاکہ اسرائیل کی توسیع پسندی کی راہ کا آخری کانٹا بھی نکل جائے۔ وہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ اب پلان بی پر عمل ہو رہا ہے۔ کیا یہ پلان کامیاب ہو گا؟ مستقبل کی خبر تو صرف ذات باری ہی کو ہے لیکن اگر افغانستان میں حکومت بدل جائے تو ان منصوبوں پر اوس پڑ سکتی ہے۔ پاکستان اور اس کے اتحادیوں اور دوستوں کی کوشش یہی ہے۔
اس منظر نامے کا ایک اور پہلو خاصا حیران کن ہے۔ ایک طرف صدر ٹرمپ پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، دوسری طرف شہباز شریف ماسکو جا رہے ہیں۔ وہ ماسکو جا کر کیا کریں گے؟ اس سوال کا جواب ملنا شروع ہو گیا ہے۔ خبریں تھیں کہ روس طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اب اس کی رائے مختلف ہے۔ طالبان کے اسرائیل بھارت کیمپ میں جانے کے بعد روس نے حقیقت پسندانہ راستے کا انتخاب کر لیا ہے جس کی ایک جھلک روسی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں ملتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہو رہا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد شہباز شریف کے دورہ ماسکو کی ضرورت اور افادیت سمجھ میں آ جانی چاہیے۔
اس تگڑم کا ایک پہلو اور بھی ہے جس سے جمعیت علمائے ہند کے مولانا اسد مدنی کی ایک گفتگو نے پردہ اٹھایا جو انھوں نے طالبان وزیر خارجہ ملا متقی کے دورۂ دیوبند کے موقع پر کی تھی۔ مولانا مدنی نے فرمایا تھا کہ طالبان کی طرف سے بھارت میں دہشت گردی ہوتی تھی لیکن اب ہم نے اس کے راستے بند کر دیے ہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ طالبان حکومت برقرار رہے۔ اب یہ کوئی کہنے کی بات ہے کہ طالبان اور بھارت کا اتحاد ہو گا تو اس کی ضرب کس پر پڑے گی۔ کانگریسی علما تحریک آزادی کے وقت بھی تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے تھے اور آج بھی بدقسمتی سے غلط سمت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
اب ایک آخری بات کہ اگر بھارت، اسرائیل اور افغانستان کی نئی دھڑے بندی کے پس پشت امریکا کھڑا ہے تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ موقع بے موقع پاکستان کی تعریف کیوں کرتے رہتے ہیں؟ یہ سوال اہم ہے لیکن عالمی سیاست کے نشیب و فراز پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ ناپسندیدہ قوت کو بھی انگیج رکھنا ضروری ہوتا ہے تا کہ زہر کے بجائے گڑ سے کام چل جائے۔ کچھ ایسی حکمت عملی فریق مخالف کی بھی ہوتی ہے۔ پاکستانی قیادت ماسکو جا رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بدلے ہوئے حالات اور اس کی نزاکتوں سے پوری طرح آگاہ ہے لہٰذا خاطر جمع رکھیں، یہ کشمکش طول پکڑے گی، اس دوران طالبان انتظامیہ تاریخ کے کوڑے دان میں کہیں گم ہو جائے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان اور مسلم دنیا کی بھلائی اسی میں ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ پاکستان اور طالبان رجیم کے درمیان مفاہمت کا امکان کم ہے۔ مفاہمت ہونی ہوتی تو ترکیہ اور برادر ملکوں کی کوششیں کام یاب ہو جاتیں لیکن طالبان پر چوں کہ کانگریسی علما اور نریندر مودی کا جادو چل چکا ہے، اس لیے اب وہ عقل کی کوئی بات سننے اور تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
Source link
Today News
ایران کے اسرائیل پر تازہ میزائل حملے، یروشلم اور تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھے
تہران:
ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ متعدد گاڑیاں تباہ اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں میزائل گرنے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ مغربی یروشلم پر ہونے والے حملے میں 7 اسرائیلی شہری زخمی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق تل ابیب، یروشلم اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بھی میزائل حملے کیے گئے، جس کے بعد سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو بنکروں میں منتقل کیا گیا۔
ادھر اردن نے میزائل حملوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ اردن کی جانب سے علاقائی کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں نافذ ایمرجنسی کی مدت میں 12 مارچ تک توسیع کر دی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech1 week ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Tech6 days ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents