Connect with us

Today News

ماہ رمضان میں مہنگائی … ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف زیرو ٹالرنس!!

Published

on


ماہ رمضان میں مہنگائی اور حکومتی اقدامات کے موضوع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت، تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا۔ ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

کرن خورشید

(سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب)

گڈ گورننس کے ماڈل میں حکومت، سول سوسائٹی اور نجی شعبہ ملتے ہیں تو بہتری آتی ہے، حکومت اکیلے مسائل پر قابو نہیں پاسکتی۔ محکمہ خوراک صرف آئل اور چینی کو ڈیل کرتا تھا، اب فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ بنا دیا گیا جو خوراک سے متعلق تمام معاملات کو دیکھتا ہے۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں کنزیومر پروٹیکشن پر کام ہو رہا ہے، کسی دوسرے صوبے میں یہ شعبہ موجود نہیں ہے۔ 2024ء میں پرائس کنٹرول اینڈ اسینشل کموڈٹیز کا ایکٹ منظور ہوا، 2025ء میں اس میں ترمیم کی گئی اور پرائس کنٹرول کونسل کی تشکیل ہوئی جس میں حکومت کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی نمائندگی بھی موجود ہے۔ اس کا ایک اجلاس جنوری میں ہوا، اگلا اجلاس دو ماہ مکمل ہونے پر ہو گا۔ 39 اشیائے ضروریہ میں خوراک کے ساتھ ساتھ اینٹ، چارہ اور فرٹیلائزرز بھی شامل ہیں ۔ ماہ رمضان میں 16 اشیائے ضرورت جن میں آٹا، گھی، چینی، چاول، چنا، بیسن، کھجور، پھل، سبزیاں شامل ہیں، پر کام ہو رہا ہے۔ ان کی قیمت اور دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، اس وقت ان اشیاء کی قیمتیں کنٹرول میں ہیں۔ سٹرابیری اور خربوزے کی فصل نئی ہے، انار قندھار سے آتا ہے، افغانستان کی صورتحال کی وجہ سے اس کی کمی ہے لہٰذا اس طرح کے پھل مہنگے ہیں ، چند دنوں میں مارکیٹ میں سپلائی ہوگی تو قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ اس وقت آٹا اور چینی وافر مقدار میں سستے داموں مل رہی ہے۔ ملز مالکان کی طرف سے خود ہی رمضان بازاروں اور فیئر پرائس شاپس پر کم قیمت پر فراہمی جاری ہے۔ کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن رضاکارانہ طور پر کم قیمت پر اشیائے خورونوش فراہم کر رہی ہے، چکن فی کلو 15 جبکہ انڈے فی درجن 10 روپے کم قیمت پر دیے جا رہے ہیں۔ بڑے سٹورز میں عام آدمی کم جاتا ہے، غریب طبقہ بازاروں اور ٹھیلوں سے خریداری کرتا ہے اس لیے یہاں ہر چیز اس کی پہنچ میں لانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود بڑے سٹورز پر ڈی سی کاؤنٹرز بنائے گئے ہیں ، وہاں بھی سامان اور ریٹ کی چیکنگ کی جاتی ہے، خلاف ورزی پر لاکھوں روپے کے جرمانے اور سٹور سیل بھی کیے جاتے ہیں۔ ماہ رمضان کے پہلے ہفتے میں ناجائز منافع خوری پر ایک کروڑ روپے کے جرمانے، 680 گرفتاریاں اور 400 سے زائد ایف آرز درج ہوچکی ہیں۔ صوبے بھر میں روزانہ 1638 پرائس کنٹرول مجسٹریٹس فیلڈ میں جاتے ہیں، ان میں 227 مجسٹریٹس پیرا کے ہیں۔ حکومت پرائس کنٹرول کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی پر کوئی معافی نہیں ہے، ’تھرڈ پارٹی ویلی ڈیشن‘ بھی کی جارہی ہے۔ تھرڈ پارٹی مختلف بازاروں میں ریٹس چیک کرتی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری کو روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر پنجاب بھر میں 75 سہولت بازار قائم کیے گئے ہیں۔ ان بازاروں میں 5 کلومیٹر تک فری ہوم ڈیلوری، بزرگوں کیلئے میڈیکل چیک اپ وغیرہ کی مفت سہولیات بھی میسر ہیں۔ وزیراعلیٰ کے رمضان نگہبان پیکیج کے ذریعے مستحقین کو امدادی رقم دی جا رہی ہے جو صرف ماہ رمضان کیلئے ہے۔ اس پیکیج کے تحت 10 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں جو براہ راست اکاؤنٹ میں منتقل کیے جاتے ہیں، اس میں کسی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ پنجاب میں حکومت کی جانب سے421 ، فیصل آباد میں 90 جبکہ لاہور میں 53 رمضان دسترخوان لگائے گئے ہیں۔ مخیر حضرات ہر سال لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔ انہیں یہ مسئلہ رہتا تھا کہ کہاں دسترخوان لگائیں، انتظامات ان کیلئے ایک بڑا چیلنج تھا۔ اب حکومت نے دسترخوان لگا دیے ہیں، اس کے تمام انتظامات اور سہولیات حکومت کی ذمہ داری ۔ ان دسترخوانوں میں سول ڈیفنس تعینات ہے، فوڈسیفٹی، صحت، صفائی ستھرائی اور بہترین مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔ مخیر حضرات یہاں لوگوں کو کھانا دے رہے ہیں، ان کا جو پیسہ انتظامات پر خرچ ہوتا تھا، اب وہ لوگوں کے پیٹ میں جا رہا ہے، ان کے کھانے پر خرچ ہو رہا ہے۔ ہر جگہ تازہ کھانا بنتا ہے جس کا معیار بھی چیک کیا جاتا ہے اور حفظان صحت کے اصولوں کو اپناتے ہوئے، با عزت طریقے سے لوگوں کی روزہ کشائی بھی کروائی جاتی ہے۔حکومت اس وقت سہولت کار کا بہترین کردار ادا کر رہی ہے۔ پنجاب حکومت نے رمضان بچت فیسٹیول کا انعقاد کیا جس میں نجی شعبے نے لوگوں کو سستی اشیاء فراہم کی جبکہ حکومت نے انتظامات کیے۔ پرائس کنٹرول کا جدید میکنزم بنایا جا رہا ہے۔ منڈی کی سطح پہ انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہم منڈیوں کو ڈیجیٹلائز کر رہے ہیں، کاہنہ منڈی میں اس پر کام جاری ہے، آڑھتیوں کو بھی تربیت دی جا رہی ہے، کامیابی کے بعد اس کا دائرہ کار صوبے کی تمام منڈیوں تک پھیلایا جائے گا۔ منڈیوں میں روزانہ کی بنیادپر آکشن کو بہتر بنایا جا رہا ہے، مارکیٹ کمیٹی کے افسران کو ’باڈی کیم‘ لگائے گئے ہیں تاکہ سارا عمل ریکارڈ ہوسکے۔

حافظ عارف

(صدر کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن)

مہنگائی پر ہر وقت چھوٹے دوکانداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ سبزی اور پھل کا سٹال لگانے والے محل نہیں بناتے، ان کے ساتھ ورکر بھی ہوتے ہیں، یہ اپنی ضروریات زندگی پورا کرنے کیلئے کام کرتے ہیں، یہ مہنگائی کا سبب نہیں ہیں۔ مہنگائی کا تعلق طلب اور رسد سے ہے۔ اس وقت آلو زیادہ ہے لہٰذا اس کی قیمت کم ہے، کسان نے 5 روپے فی کلو میں فروخت کیا جو مارکیٹ میں 35 روپے تک بک رہا ہے۔ مہنگائی کے حوالے سے حکومت سب سے آسان ہدف ہے، اسے تنقید کا نشانہ بنانا آسان ہے۔ مہنگائی جیسے مسائل کا تعلق ہمارے سماجی رویوں سے بھی ہے، حکومت اکیلئے اس کا خاتمہ نہیں کر سکتی، اس کیلئے من حیث القوم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاجر اور حکومت کے درمیان خلاء کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ موجودہ سیکرٹری نے ہمارے ساتھ بار بار میٹنگز کیں اور اس خلاء کو ختم کیا ہے جس کے بعد سے معاملات میں بہتری آ رہی ہے۔ ہماری ایسوسی ایشن نے اپنی مدد آپ کے تحت لاہور میں 127 فیئر پرائس شاپس قائم کی ہیں جہاں عوام کو سستے داموں اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں، اگر حکومت کا تعاون جاری رہا تو اس کا دائرہ کار پورے پنجاب میں پھیلایا جائے گا۔ پرائس کنٹرول ایکٹ حکومت کیلئے بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنرز کے درمیان اپنے اپنے ضلعے میں اشیائے خورونوش کے کم سے کم ریٹ مقرر کرنے کی دوڑ ہے جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، ایک ہی جنس کی قیمت میں الگ الگ شہروں میں 30،40 روپے کا فرق آجاتا ہے جو سمجھ سے باہر ہے۔ ہم نے حکومت کو ریٹ مقرر کرنے کے لیے باقاعدہ رپورٹ بنا کر سفارشات دی ہیں جس کے بعد پورے پنجاب میں ایک ریٹ لسٹ ہوگی۔ لاہور، فیصل آباد اور ملتان کے حساب سے دوسرے علاقوں کے فرق اور ٹرانسپورٹ چارجز کی بنیاد پر ریٹ کا فرق ڈیڑھ سے دو روپے ہوتا ہے، اس کی روشنی میں ریٹ مقرر کیے جائیں گے تاکہ کس کا نقصان نہ ہو۔ امید ہے جلد اس پر عملدرآمد ہوگا جس سے پرائسنگ کا میکنزم بہتر ہوجائے گا۔ زراعت اور لائیو سٹاک دونوں شعبوں کیلئے حکومت نے زیادہ قرض لیا لیکن دونوں میں ہی خرابیاں موجود ہیں، یہ شعبے خسارے میں ہیں، اگر مہنگائی پر قابو پانا ہے تو ان شعبوں پر توجہ دینا ہوگی۔

عبداللہ ملک

(نمائندہ سول سوسائٹی)

آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ ہماری 25 کروڑ سے زائد آبادی ہے جس میں 48 فیصد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزا رہے ہیں۔ ہمارے وسائل کم اور مسائل زیادہ ہے۔ ہمارے ہاں اوسط آمدن 82 ہزار روپے ہے۔ انڈسٹری بند ہو رہی ہے، ملازمتوں کے مواقع ختم ہو رہے ہیں اور ایک مشکل صورتحال ہے جس میں عام آدمی کی قوت خرید کم ہو گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے 1977ء میں مہنگائی پر قابو پانے کیلئے قانون سازی کی۔ آئین کے مطابق 38 اشیائے ضرورت کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کیلئے 1977ء اور 2024ء میں قوانین بنے۔ان قوانین کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ جرمانہ اور 3 ماہ تک قید کی سزا ہے مگر افسوس ہے کہ ہمارے ہاں قوانین پر عملدرآمد کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے قانون اپنا اثر کھو دیتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے قانون سازی اور عملدرآمد کے میکنزم میں ٹریڈ باڈیز، بزنس چیمبرز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو شامل نہیں کیا جاتا۔ یہ ایک خلاء ہے جس کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح مارکیٹ کمیٹی جو ریٹ لسٹ بناتی ہے وہ حقیقت سے دور ہوتی ہے لہٰذا نظام کی بہتری اور مہنگائی پر قابو پانے کیلئے سٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا ہوگا، پرائس کنٹرول کونسل کو فعال بنانا ہوگا۔پہلے مجسٹریٹس کا نظام ہوتا تھا، ان کے پاس سزا کے اختیارات تھے، پھر یہ نظام ختم کر دیا گیا۔ اب اضافی اختیارات کے ساتھ نوٹیفکیشن کے ذریعے معاملات چلائے جا رہے ہیں، فل ٹائم مجسٹریٹس کا نظام موجود نہیں۔ آئین کے مطابق لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہ ریاست کا کام ہے کہ وہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اقدامات کرے، پیداوار بڑھائے، طلب اور رسد کو مینج کرے، قلت نہ ہونے دے۔ افسوس ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق نہیں کی جاتی، کسانوں کی فصلیں ضائع ہو جاتی ہیں، ہم نے زراعت کے حوالے سے زونز مقررنہیں کیں، زمین کی زرخیزی اور جنس کے حوالے سے موضوع ہونے کے حساب سے زونز بنائی جائیں۔ پہلی مرتبہ فیلڈ مارشل نے اس حوالے سے ریسرچ کروائی ہے، ہمیں دنیا کی تحقیق سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ دنیا میں ماہ رمضان جیسے مہینوں میں قیمتیں کم کی جاتی ہیں، ہمارے ہاں اسے سیزن کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ ایسے رویوں کا تعلق ہمارے معاشرے اور کلچر سے ہے۔ ماہ رمضان تو صبر اور ہمدردی کی تلقین کرتا ہے، ہمیں ایسا کمیونٹی کلچر بنانا ہے جو غلط رویوں کی حوصلہ شکنی کرے۔ ایک امر توجہ طلب ہے کہ بڑے سٹورز پراوور پرائسنگ ہوتی ہے، وہاں ڈی سی کاؤنٹر بنا دیا جاتا ہے جہاں سرکاری ریٹ پر ناقص اشیاء فراہم کی جاتی ہیں، ان کی کوئی پکڑ نہیں ہے جبکہ غریب کو بھاری جرمانے کر دیے جاتے ہیں، اس طرف توجہ دینا ہوگی۔ مہنگائی، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل سے چھٹکارہ پانے کیلئے حکومت، میڈیا، سول سوسائٹی، صارفین اور معاشرے کے دیگر سٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔  





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاک افغان کشیدگی! – ایکسپریس اردو

Published

on


ایک دنیا اس بات سے آگاہ ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف ملک کی معیشت کو اربوں روپے کے نقصانات اٹھانا پڑ رہے ہیں بلکہ کراچی تا خیبر پورا ملک بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ بالخصوص وطن عزیز کے دو اہم صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا بیرونی مداخلت اور دہشت گردوں کے نشانے پر جہاں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

پڑوسی ملک افغانستان سے در اندازی کرنے والے دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے کے پی کے اور بلوچستان میں نہ صرف عام لوگوں اور مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ دہشت گردوں کی سرکوبی کی ذمے داریاں نبھانے والے سیکیورٹی فورسز کے قافلوں، گاڑیوں، چیک پوسٹوں اور فوجی افسروں و جوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران دہشت گردوں نے اسلام آباد میں خودکش حملہ کیا بعدازاں جنوبی وزیرستان کے علاقے لوئر دیر، وانا اور کے پی کے کے مختلف علاقوں ضلع کوہاٹ، بنوں اور بکھر وغیرہ میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹڈ کلنگ کرکے پولیس اور فوج کے جوانوں و افسران کو شہید کر دیا تھا۔ دوسری جانب پاک افغان سرحد پر دو طرفہ فائرنگ اور جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

حکومت پاکستان نے اعلیٰ ترین سطح پر تمام سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے افغانستان کی طالبان حکومت کو تواتر کے ساتھ باور کرایا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو استعمال کرنے سے باز رہے، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد افغان سرزمین سے پاکستان میں در اندازی کرکے دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے میں مصروف ہیں لہٰذا طالبان حکومت اپنی ذمے داری پوری کرے بصورت دیگر پاکستان اپنی قومی سلامتی، دفاع اور چوبیس کروڑ عوام کے تحفظ کے لیے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوگا۔

حکومت نے افغان حکومت کو پاکستان میں ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی کے ٹھوس ثبوت اور شواہد بھی فراہم کیے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ طالبان حکومت نے پاکستان کی گزارشات پر کوئی توجہ نہ دی اور بھارت کی پراکسی بتا کر پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی آماج گاہ بنا دیا۔ پاکستان کے پاس اب آخری اقدام رہ گیا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں، پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنا کر اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنائے اور پاک سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کرے۔ نتیجتاً پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے باہمی مشاورت سے افغانستان کے خلاف چار و ناچار آپریشن ’’غضب للحق‘‘ کا آغاز کیا جو تادم تحریر جاری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان کے مختلف علاقوں کابل، قندھار اور پکتیا وغیرہ میں اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بالکل درست کہا کہ پاکستان افغانستان پر یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ دہشت گرد یا پاکستان کسی ایک کا انتخاب کرلیں۔ یہ المیہ ہے کہ طالبان نے نیٹو افواج کی واپسی اور دوحہ امن مذاکرات کے نتیجے میں عنان حکومت سنبھالنے کے بعد معاہدات اور وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔ سب سے بڑا عہد یہ کیا گیا تھا کہ طالبان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا اور آج افغان سرزمین پر مختلف النوع شرپسند عناصر اور دہشت گرد تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 ہزار سے 23 ہزار دہشت گردوں پر مشتمل ملیشیا موجود ہے جن میں نصف سے زائد غیر ملکی ہیں، یہ دہشت گرد تنظیمیں علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق داعش، ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں جن کا ہدف علاقائی سلامتی کو سبوتاژ کرنا ہے۔ پاکستان پہلے ہی ان خطرات سے طالبان حکومت کو آگاہ کر چکا ہے۔ پاک افغان جاری جنگ پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی ہے چین، برطانیہ، روس، سعودی عرب، قطر وغیرہ نے سفارتی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ جب کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان طالبان کے ساتھ ٹھیک کر رہا ہے، وہ مداخلت نہیں کریں گے۔ افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور طالبان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ نے اپیل کی ہے کہ پاکستان مذاکرات سے مسئلہ حل کرے، ہم بات چیت پر آمادہ ہیں جو خوش آئند امر ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک افغان مذاکرات اب عالمی برادری کی ثالثی میں ہونے چاہئیں۔ طالبان حکومت دنیا کو یقین دہانی کرائے کہ اس کی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور افغانستان میں سرگرم عمل تمام دہشت گرد تنظیمیں اور گروہ اور ان نیٹ ورکس اور تربیتی مراکز کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ طالبان رجیم کی ٹھوس ضمانتیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے عملی اقدامات ہی علاقائی سلامتی کے ضامن ہیں۔ خود افغانستان کی داخلی سلامتی اور پڑوسی ملک پاکستان سے اچھے روابط کی ضمانت بھی اسی میں ہے کہ طالبان دوحہ مذاکرات میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

جارحیت

Published

on



طالبان نے پاکستان پر حملہ کیا اور امریکا اور اسرائیل نے ایران پر۔ اب اس جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ اصل سوال تو یہی ہے لیکن اس میں بھٹکنے کی راہیں بہت ہیں۔ مجھے یہ بات کرنی ہے لیکن اس سے پہلے ایک بنیادی نکتے پر توجہ ضروری ہے۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مئی کی پاک بھارت جنگ میں جو بازی پلٹی تھی اور اس کے نتیجے میں عالمی منظر نامہ تبدیل ہوا تھا، اب اس میں کچھ مزید تبدیلی آ گئی ہے اور دنیا میں ایک نئی دھڑے بندی تقریبا مکمل ہو چکی ہے۔ اس دھڑے بندی کے مقاصد کیا ہیں؟ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھ لیا تو یہ بھی سمجھ میں آ جائے گا کہ پاکستان طالبان جنگ کا انجام کیا ہوگا۔

مئی کے معرکے کے بعد بھارت تنہائی کا شکار ہو چکا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ نریندر مودی کی تضحیک کیا کرتے تھے(اب اسے گریٹ گائے قرار دیتے ہیں)۔ امریکا اُن دنوں بھارت پر تجارتی ٹیرف میں آئے روز اضافہ کرتا جاتا تھا لہٰذابھارت اور مودی دبک کر بیٹھ گئے یہاں تک کہ امریکا اور بھارت کے درمیان ایک نئی ڈیل ہو گئی۔

بھارت نے امریکا کے لیے ٹیرف صفر کر دیے اور امریکا جس نے اپنا ٹیرف پچاس فیصد تک بڑھا دیا تھا، اب اٹھارہ فیصد تک کم کر دیا ہے جو پاکستان سے بھی کم ہے۔ اس کے بعد یوں سمجھیے کہ دنیا بدل گئی۔ نریندر مودی بھاگے بھاگے اسرائیل جا پہنچے اور ادھر افغانستان پاکستان پر حملہ آور ہو گیا۔ افغانستان پاکستان پر حملہ آور کیوں ہوا اور اس حملے کا بھارت اور اسرائیل سے کیا تعلق ہے، یہی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس معمے کے حل میں جتنی مدد نیتن یاہو کر سکتا ہے، کوئی اور نہیں کر سکتا۔

نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان ماتا پتا کا رشتہ دریافت کیا تو اس کی ایک وجہ تھی۔ یہ وجہ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں بیان کی۔ اس نے ایک نئے اتحاد کا تصور پیش کیا۔ اسرائیل اور بھارت اس کے کلیدی ارکان ہیں۔ دیگر ارکان میں افغانستان اور صومالی لینڈ کے علاوہ عرب دنیا سے سعودی عرب کے مخالفین شامل ہیں۔

نئے اتحاد کے مقاصد کیا ہیں؟اس کے مقاصد واضح ہیں۔ یہ اتحاد دنیا کی نئی دھڑے بندی کو بنیاد فراہم کر رہا ہے جس میں پاکستان ، سعودی عرب ، ترکیہ ، چین اور روس کے مقابلے میں اسرائیل، بھارت اور ان کے حاشیہ بردار آ کھڑے ہوئے ہیں جن میں بدقسمتی سے افغانستان بھی شامل ہے جو کبھی غزوہ ہند کے نعرے بلند کیا کرتا تھا۔ ویسے تو نئی دھڑے بندی سے ہی اس تقسیم اور بھارت و اسرائیل کی قیادت میں بننے والے اتحاد کا مقصد واضح ہو جانا چاہیے لیکن ہمارے کچھ نسل پرست اور خام خیالی میں جینے والے نام نہاد نظریاتی لوگ اپنی دنیا میں مست رہتے ہیں اور وطن دشمنی یعنی پاکستان دشمنی تک سے گریز نہیں کرتے۔ شاید لوگوں کو جگانے کے لیے ہی قدرت نے اسرائیل میں امریکی سفیر کا انتخاب کیا ہے جس نے بڑھک ماری ہے کہ اسرائیل عرب سرزمینوں پر قبضے کا پورا حق رکھتا ہے۔

حماس اور اسرائیل کی حالیہ جنگ کے بعد اسرائیل کے سامنے مزاحمت کرنے والی کوئی طاقت باقی نہیں بچی۔ یوں اسرائیل جہاں تک چاہیے، اپنی سرحدوں کو وسعت دے سکتا ہے۔ اسرائیل کی جوع الارض یعنی توسیع پسندی کے راستے میں اب صرف ایک ہی رکاوٹ ہے۔ یہ رکاوٹ وہی ہے جس کے ساتھ سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کیا ہے یعنی پاکستان۔ خطے میں ہونے والی تازہ کشمکش یعنی افغانستان کی طرف سے پاکستان میں برآمد کی جانے والی دہشت گردی اور اس کے بعد حملہ ان ہی نئی دھڑے بندیوں کا شاخسانہ ہے۔ اس مقصد کے لیے طالبان کو اسرائیل نے بہ راستہ بھارت ڈرون بھی فراہم کر دیے ہیں۔

یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ بہت سادہ بات ہے۔ پاکستان کا گھیرا ؤکر کے اسے کمزور کرنا۔ منصوبے یہ ہیں کہ یہ گھیراؤ تین طرف سے ہونا چاہیے۔ ایک طرف بھارت ہمیشہ سے موجود ہے۔ مغربی جانب افغانستان کو کھڑا کر دیا گیا ہے۔ تیسری طرف ایران ہے۔ اسرائیل اسی لیے بے چین تھا کہ امریکا ایران پر چڑھ دوڑے اور وہاں انقلابی حکومت کا خاتمہ کر کے کٹھ پتلی حکومت قائم کر دے۔ایسی صورت میں تہران میں رضا پہلوی کو بٹھایا جائے یا کسی اور کو، وہ جو کوئی بھی ہو گا، اسرائیل کا ممنون احسان ہو گا۔ یوں پاکستان کی تیسری سرحد بھی گرم ہو جائے گی اور اسے تین طرف سے گھیر لیا جائے گا۔ پاکستان میں 2018 میں جو تبدیلی آئی تھی، اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ اسے ایٹمی طاقت سے محروم کر کے بے دست و پا کر دیا جائے تاکہ اسرائیل کی توسیع پسندی کی راہ کا آخری کانٹا بھی نکل جائے۔ وہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ اب پلان بی پر عمل ہو رہا ہے۔ کیا یہ پلان کامیاب ہو گا؟ مستقبل کی خبر تو صرف ذات باری ہی کو ہے لیکن اگر افغانستان میں حکومت بدل جائے تو ان منصوبوں پر اوس پڑ سکتی ہے۔ پاکستان اور اس کے اتحادیوں اور دوستوں کی کوشش یہی ہے۔

اس منظر نامے کا ایک اور پہلو خاصا حیران کن ہے۔ ایک طرف صدر ٹرمپ پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، دوسری طرف شہباز شریف ماسکو جا رہے ہیں۔ وہ ماسکو جا کر کیا کریں گے؟ اس سوال کا جواب ملنا شروع ہو گیا ہے۔ خبریں تھیں کہ روس طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اب اس کی رائے مختلف ہے۔ طالبان کے اسرائیل بھارت کیمپ میں جانے کے بعد روس نے حقیقت پسندانہ راستے کا انتخاب کر لیا ہے جس کی ایک جھلک روسی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں ملتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہو رہا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد شہباز شریف کے دورہ ماسکو کی ضرورت اور افادیت سمجھ میں آ جانی چاہیے۔

اس تگڑم کا ایک پہلو اور بھی ہے جس سے جمعیت علمائے ہند کے مولانا اسد مدنی کی ایک گفتگو نے پردہ اٹھایا جو انھوں نے طالبان وزیر خارجہ ملا متقی کے دورۂ دیوبند کے موقع پر کی تھی۔ مولانا مدنی نے فرمایا تھا کہ طالبان کی طرف سے بھارت میں دہشت گردی ہوتی تھی لیکن اب ہم نے اس کے راستے بند کر دیے ہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ طالبان حکومت برقرار رہے۔ اب یہ کوئی کہنے کی بات ہے کہ طالبان اور بھارت کا اتحاد ہو گا تو اس کی ضرب کس پر پڑے گی۔ کانگریسی علما تحریک آزادی کے وقت بھی تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے تھے اور آج بھی بدقسمتی سے غلط سمت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

اب ایک آخری بات کہ اگر بھارت، اسرائیل اور افغانستان کی نئی دھڑے بندی کے پس پشت امریکا کھڑا ہے تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ موقع بے موقع پاکستان کی تعریف کیوں کرتے رہتے ہیں؟ یہ سوال اہم ہے لیکن عالمی سیاست کے نشیب و فراز پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ ناپسندیدہ قوت کو بھی انگیج رکھنا ضروری ہوتا ہے تا کہ زہر کے بجائے گڑ سے کام چل جائے۔ کچھ ایسی حکمت عملی فریق مخالف کی بھی ہوتی ہے۔ پاکستانی قیادت ماسکو جا رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بدلے ہوئے حالات اور اس کی نزاکتوں سے پوری طرح آگاہ ہے لہٰذا خاطر جمع رکھیں، یہ کشمکش طول پکڑے گی، اس دوران طالبان انتظامیہ تاریخ کے کوڑے دان میں کہیں گم ہو جائے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان اور مسلم دنیا کی بھلائی اسی میں ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ پاکستان اور طالبان رجیم کے درمیان مفاہمت کا امکان کم ہے۔ مفاہمت ہونی ہوتی تو ترکیہ اور برادر ملکوں کی کوششیں کام یاب ہو جاتیں لیکن طالبان پر چوں کہ کانگریسی علما اور نریندر مودی کا جادو چل چکا ہے، اس لیے اب وہ عقل کی کوئی بات سننے اور تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

ایران کے اسرائیل پر تازہ میزائل حملے، یروشلم اور تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھے

Published

on



تہران:

ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ متعدد گاڑیاں تباہ اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں میزائل گرنے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ مغربی یروشلم پر ہونے والے حملے میں 7 اسرائیلی شہری زخمی ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق تل ابیب، یروشلم اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بھی میزائل حملے کیے گئے، جس کے بعد سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو بنکروں میں منتقل کیا گیا۔

ادھر اردن نے میزائل حملوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ اردن کی جانب سے علاقائی کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں نافذ ایمرجنسی کی مدت میں 12 مارچ تک توسیع کر دی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending