Connect with us

Today News

مذمت کرنے کے بجائے کھل کر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کی مذمت کریں، حافظ نعیم الرحمن

Published

on



کراچی:

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ لپیٹ لپیٹ کر مذمت کرنے کے بجائے کھل کر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کی مذمت کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جنگ صرف ایران کی نہیں بلکہ پورے خطے اور پاکستان کے دفاع کی جنگ ہے۔ اگر ایران میں رجیم چینج کا خواب پورا ہوا تو اسرائیل پاکستان کی سرحدوں تک پہنچ جائے گا۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ایران پر حالیہ حملے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت امتِ مسلمہ کے لیے عظیم سانحہ ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امام خامنہ ای نے جھکنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اپنایا اور جامِ شہادت نوش کیا۔

انہوں نے امریکی قونصل خانے کے باہر فائرنگ سے 16 افراد کی شہادت کو انتہائی اندوہناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہتے مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کا کوئی جواز نہیں بنتا اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائے، محض خاموشی سے کام نہیں چلے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سرزمین پر امریکی غنڈہ گردی ناقابلِ قبول ہے اور کسی کو بھی ریمنڈ ڈیوس طرز کا ریلیف نہیں ملنا چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی سطح پر وار کرمنل قرار دیا جائے اور وقت آ گیا ہے کہ امتِ مسلمہ شیعہ سنی فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر عالمی سامراج کے خلاف متحد ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس دکھ کی گھڑی میں مظلوموں اور ایران کے ساتھ کھڑی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

uae announce closes embassy in iran

Published

on


متحدہ عرب امارات نے ایرانی حملوں کے بعد تہران سے سفیر کو واپس بلالیا اور سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کردیا۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی ڈائریکٹر اسٹریٹجک کمیونیکیشنز عفرا الھاملی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ‘متحدہ عرب امارات ایرانی میزائل حملوں کی مذمت کرتا ہے اور تہران میں سفارت خانہ بند کرنے، سفیر اور سفارتی مشن کی دستبرداری کا اعلان کرتا ہے’۔

انہوں نے بیان میں کہا کہ ایران کے میزائل حملوں میں متحدہ عرب امارات کی سرزمین کو نشانہ بنایا گیا، جس کے جواب میں تہران میں سفارت خانہ بند کرنے اور تمام سفارتی عملے کو واپس بلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہری مقامات، بشمول رہائشی علاقے، ہوئی اڈے، بندرگاہیں اور عوامی خدمات کے مقامات کے خلاف ان بدترین حملوں سے بے گناہ شہریوں کو بدترین خطرات سے دوچار کیا گیا، غیرذمہ دارانہ کشیدگی اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی واضح خلاف ورزی کی گئی۔

عفرا الھاملی نے کہا کہ امور وزارت خارجہ نے توثیق کی ہے کہ یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی ہے کہ متحدہ عرب امارات سلامتی اور خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی جارحیت کے خلاف پرعزم اور غیرمتزلزل عزم رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دشمنی اور اشتعال انگیز طرز عمل کے پیش نظر کیا گیا ہے، جو کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو روندتا ہے اور خطے کو انتہائی خطرناک جانب دھکیل رہا ہے، جس سے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے ساتھ ساتھ توانائی کے تحفظ اور عالمی معیشت کے استحکام کو بھی خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے متحدہ عرب امارات سمیت ان تمام خلیجی ممالک پر میزائل حملے کیے تھے جہاں امریکی فوجی بیسز موجود ہیں۔

امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، وزیردفاع عزیز ناصرزادہ اور آرمی چیف عبدالرحیم موسوی سمیت کئی اہم شخصیات شہید ہوگئی ہیں جبکہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ان حملوں کا بدلہ لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاک افغان کشیدگی! – ایکسپریس اردو

Published

on


ایک دنیا اس بات سے آگاہ ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف ملک کی معیشت کو اربوں روپے کے نقصانات اٹھانا پڑ رہے ہیں بلکہ کراچی تا خیبر پورا ملک بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ بالخصوص وطن عزیز کے دو اہم صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا بیرونی مداخلت اور دہشت گردوں کے نشانے پر جہاں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

پڑوسی ملک افغانستان سے در اندازی کرنے والے دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے کے پی کے اور بلوچستان میں نہ صرف عام لوگوں اور مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ دہشت گردوں کی سرکوبی کی ذمے داریاں نبھانے والے سیکیورٹی فورسز کے قافلوں، گاڑیوں، چیک پوسٹوں اور فوجی افسروں و جوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران دہشت گردوں نے اسلام آباد میں خودکش حملہ کیا بعدازاں جنوبی وزیرستان کے علاقے لوئر دیر، وانا اور کے پی کے کے مختلف علاقوں ضلع کوہاٹ، بنوں اور بکھر وغیرہ میں خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹڈ کلنگ کرکے پولیس اور فوج کے جوانوں و افسران کو شہید کر دیا تھا۔ دوسری جانب پاک افغان سرحد پر دو طرفہ فائرنگ اور جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

حکومت پاکستان نے اعلیٰ ترین سطح پر تمام سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے افغانستان کی طالبان حکومت کو تواتر کے ساتھ باور کرایا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو استعمال کرنے سے باز رہے، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد افغان سرزمین سے پاکستان میں در اندازی کرکے دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے میں مصروف ہیں لہٰذا طالبان حکومت اپنی ذمے داری پوری کرے بصورت دیگر پاکستان اپنی قومی سلامتی، دفاع اور چوبیس کروڑ عوام کے تحفظ کے لیے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوگا۔

حکومت نے افغان حکومت کو پاکستان میں ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی کے ٹھوس ثبوت اور شواہد بھی فراہم کیے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ طالبان حکومت نے پاکستان کی گزارشات پر کوئی توجہ نہ دی اور بھارت کی پراکسی بتا کر پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی آماج گاہ بنا دیا۔ پاکستان کے پاس اب آخری اقدام رہ گیا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں، پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنا کر اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنائے اور پاک سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کرے۔ نتیجتاً پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے باہمی مشاورت سے افغانستان کے خلاف چار و ناچار آپریشن ’’غضب للحق‘‘ کا آغاز کیا جو تادم تحریر جاری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان کے مختلف علاقوں کابل، قندھار اور پکتیا وغیرہ میں اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بالکل درست کہا کہ پاکستان افغانستان پر یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ دہشت گرد یا پاکستان کسی ایک کا انتخاب کرلیں۔ یہ المیہ ہے کہ طالبان نے نیٹو افواج کی واپسی اور دوحہ امن مذاکرات کے نتیجے میں عنان حکومت سنبھالنے کے بعد معاہدات اور وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔ سب سے بڑا عہد یہ کیا گیا تھا کہ طالبان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا اور آج افغان سرزمین پر مختلف النوع شرپسند عناصر اور دہشت گرد تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 ہزار سے 23 ہزار دہشت گردوں پر مشتمل ملیشیا موجود ہے جن میں نصف سے زائد غیر ملکی ہیں، یہ دہشت گرد تنظیمیں علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق داعش، ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں جن کا ہدف علاقائی سلامتی کو سبوتاژ کرنا ہے۔ پاکستان پہلے ہی ان خطرات سے طالبان حکومت کو آگاہ کر چکا ہے۔ پاک افغان جاری جنگ پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی ہے چین، برطانیہ، روس، سعودی عرب، قطر وغیرہ نے سفارتی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ جب کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان طالبان کے ساتھ ٹھیک کر رہا ہے، وہ مداخلت نہیں کریں گے۔ افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور طالبان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ نے اپیل کی ہے کہ پاکستان مذاکرات سے مسئلہ حل کرے، ہم بات چیت پر آمادہ ہیں جو خوش آئند امر ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک افغان مذاکرات اب عالمی برادری کی ثالثی میں ہونے چاہئیں۔ طالبان حکومت دنیا کو یقین دہانی کرائے کہ اس کی سرزمین دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور افغانستان میں سرگرم عمل تمام دہشت گرد تنظیمیں اور گروہ اور ان نیٹ ورکس اور تربیتی مراکز کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ طالبان رجیم کی ٹھوس ضمانتیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے عملی اقدامات ہی علاقائی سلامتی کے ضامن ہیں۔ خود افغانستان کی داخلی سلامتی اور پڑوسی ملک پاکستان سے اچھے روابط کی ضمانت بھی اسی میں ہے کہ طالبان دوحہ مذاکرات میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

جارحیت

Published

on



طالبان نے پاکستان پر حملہ کیا اور امریکا اور اسرائیل نے ایران پر۔ اب اس جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ اصل سوال تو یہی ہے لیکن اس میں بھٹکنے کی راہیں بہت ہیں۔ مجھے یہ بات کرنی ہے لیکن اس سے پہلے ایک بنیادی نکتے پر توجہ ضروری ہے۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مئی کی پاک بھارت جنگ میں جو بازی پلٹی تھی اور اس کے نتیجے میں عالمی منظر نامہ تبدیل ہوا تھا، اب اس میں کچھ مزید تبدیلی آ گئی ہے اور دنیا میں ایک نئی دھڑے بندی تقریبا مکمل ہو چکی ہے۔ اس دھڑے بندی کے مقاصد کیا ہیں؟ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھ لیا تو یہ بھی سمجھ میں آ جائے گا کہ پاکستان طالبان جنگ کا انجام کیا ہوگا۔

مئی کے معرکے کے بعد بھارت تنہائی کا شکار ہو چکا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ نریندر مودی کی تضحیک کیا کرتے تھے(اب اسے گریٹ گائے قرار دیتے ہیں)۔ امریکا اُن دنوں بھارت پر تجارتی ٹیرف میں آئے روز اضافہ کرتا جاتا تھا لہٰذابھارت اور مودی دبک کر بیٹھ گئے یہاں تک کہ امریکا اور بھارت کے درمیان ایک نئی ڈیل ہو گئی۔

بھارت نے امریکا کے لیے ٹیرف صفر کر دیے اور امریکا جس نے اپنا ٹیرف پچاس فیصد تک بڑھا دیا تھا، اب اٹھارہ فیصد تک کم کر دیا ہے جو پاکستان سے بھی کم ہے۔ اس کے بعد یوں سمجھیے کہ دنیا بدل گئی۔ نریندر مودی بھاگے بھاگے اسرائیل جا پہنچے اور ادھر افغانستان پاکستان پر حملہ آور ہو گیا۔ افغانستان پاکستان پر حملہ آور کیوں ہوا اور اس حملے کا بھارت اور اسرائیل سے کیا تعلق ہے، یہی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس معمے کے حل میں جتنی مدد نیتن یاہو کر سکتا ہے، کوئی اور نہیں کر سکتا۔

نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان ماتا پتا کا رشتہ دریافت کیا تو اس کی ایک وجہ تھی۔ یہ وجہ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں بیان کی۔ اس نے ایک نئے اتحاد کا تصور پیش کیا۔ اسرائیل اور بھارت اس کے کلیدی ارکان ہیں۔ دیگر ارکان میں افغانستان اور صومالی لینڈ کے علاوہ عرب دنیا سے سعودی عرب کے مخالفین شامل ہیں۔

نئے اتحاد کے مقاصد کیا ہیں؟اس کے مقاصد واضح ہیں۔ یہ اتحاد دنیا کی نئی دھڑے بندی کو بنیاد فراہم کر رہا ہے جس میں پاکستان ، سعودی عرب ، ترکیہ ، چین اور روس کے مقابلے میں اسرائیل، بھارت اور ان کے حاشیہ بردار آ کھڑے ہوئے ہیں جن میں بدقسمتی سے افغانستان بھی شامل ہے جو کبھی غزوہ ہند کے نعرے بلند کیا کرتا تھا۔ ویسے تو نئی دھڑے بندی سے ہی اس تقسیم اور بھارت و اسرائیل کی قیادت میں بننے والے اتحاد کا مقصد واضح ہو جانا چاہیے لیکن ہمارے کچھ نسل پرست اور خام خیالی میں جینے والے نام نہاد نظریاتی لوگ اپنی دنیا میں مست رہتے ہیں اور وطن دشمنی یعنی پاکستان دشمنی تک سے گریز نہیں کرتے۔ شاید لوگوں کو جگانے کے لیے ہی قدرت نے اسرائیل میں امریکی سفیر کا انتخاب کیا ہے جس نے بڑھک ماری ہے کہ اسرائیل عرب سرزمینوں پر قبضے کا پورا حق رکھتا ہے۔

حماس اور اسرائیل کی حالیہ جنگ کے بعد اسرائیل کے سامنے مزاحمت کرنے والی کوئی طاقت باقی نہیں بچی۔ یوں اسرائیل جہاں تک چاہیے، اپنی سرحدوں کو وسعت دے سکتا ہے۔ اسرائیل کی جوع الارض یعنی توسیع پسندی کے راستے میں اب صرف ایک ہی رکاوٹ ہے۔ یہ رکاوٹ وہی ہے جس کے ساتھ سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کیا ہے یعنی پاکستان۔ خطے میں ہونے والی تازہ کشمکش یعنی افغانستان کی طرف سے پاکستان میں برآمد کی جانے والی دہشت گردی اور اس کے بعد حملہ ان ہی نئی دھڑے بندیوں کا شاخسانہ ہے۔ اس مقصد کے لیے طالبان کو اسرائیل نے بہ راستہ بھارت ڈرون بھی فراہم کر دیے ہیں۔

یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ بہت سادہ بات ہے۔ پاکستان کا گھیرا ؤکر کے اسے کمزور کرنا۔ منصوبے یہ ہیں کہ یہ گھیراؤ تین طرف سے ہونا چاہیے۔ ایک طرف بھارت ہمیشہ سے موجود ہے۔ مغربی جانب افغانستان کو کھڑا کر دیا گیا ہے۔ تیسری طرف ایران ہے۔ اسرائیل اسی لیے بے چین تھا کہ امریکا ایران پر چڑھ دوڑے اور وہاں انقلابی حکومت کا خاتمہ کر کے کٹھ پتلی حکومت قائم کر دے۔ایسی صورت میں تہران میں رضا پہلوی کو بٹھایا جائے یا کسی اور کو، وہ جو کوئی بھی ہو گا، اسرائیل کا ممنون احسان ہو گا۔ یوں پاکستان کی تیسری سرحد بھی گرم ہو جائے گی اور اسے تین طرف سے گھیر لیا جائے گا۔ پاکستان میں 2018 میں جو تبدیلی آئی تھی، اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ اسے ایٹمی طاقت سے محروم کر کے بے دست و پا کر دیا جائے تاکہ اسرائیل کی توسیع پسندی کی راہ کا آخری کانٹا بھی نکل جائے۔ وہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ اب پلان بی پر عمل ہو رہا ہے۔ کیا یہ پلان کامیاب ہو گا؟ مستقبل کی خبر تو صرف ذات باری ہی کو ہے لیکن اگر افغانستان میں حکومت بدل جائے تو ان منصوبوں پر اوس پڑ سکتی ہے۔ پاکستان اور اس کے اتحادیوں اور دوستوں کی کوشش یہی ہے۔

اس منظر نامے کا ایک اور پہلو خاصا حیران کن ہے۔ ایک طرف صدر ٹرمپ پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، دوسری طرف شہباز شریف ماسکو جا رہے ہیں۔ وہ ماسکو جا کر کیا کریں گے؟ اس سوال کا جواب ملنا شروع ہو گیا ہے۔ خبریں تھیں کہ روس طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اب اس کی رائے مختلف ہے۔ طالبان کے اسرائیل بھارت کیمپ میں جانے کے بعد روس نے حقیقت پسندانہ راستے کا انتخاب کر لیا ہے جس کی ایک جھلک روسی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں ملتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہو رہا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد شہباز شریف کے دورہ ماسکو کی ضرورت اور افادیت سمجھ میں آ جانی چاہیے۔

اس تگڑم کا ایک پہلو اور بھی ہے جس سے جمعیت علمائے ہند کے مولانا اسد مدنی کی ایک گفتگو نے پردہ اٹھایا جو انھوں نے طالبان وزیر خارجہ ملا متقی کے دورۂ دیوبند کے موقع پر کی تھی۔ مولانا مدنی نے فرمایا تھا کہ طالبان کی طرف سے بھارت میں دہشت گردی ہوتی تھی لیکن اب ہم نے اس کے راستے بند کر دیے ہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ طالبان حکومت برقرار رہے۔ اب یہ کوئی کہنے کی بات ہے کہ طالبان اور بھارت کا اتحاد ہو گا تو اس کی ضرب کس پر پڑے گی۔ کانگریسی علما تحریک آزادی کے وقت بھی تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے تھے اور آج بھی بدقسمتی سے غلط سمت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

اب ایک آخری بات کہ اگر بھارت، اسرائیل اور افغانستان کی نئی دھڑے بندی کے پس پشت امریکا کھڑا ہے تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ موقع بے موقع پاکستان کی تعریف کیوں کرتے رہتے ہیں؟ یہ سوال اہم ہے لیکن عالمی سیاست کے نشیب و فراز پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ ناپسندیدہ قوت کو بھی انگیج رکھنا ضروری ہوتا ہے تا کہ زہر کے بجائے گڑ سے کام چل جائے۔ کچھ ایسی حکمت عملی فریق مخالف کی بھی ہوتی ہے۔ پاکستانی قیادت ماسکو جا رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بدلے ہوئے حالات اور اس کی نزاکتوں سے پوری طرح آگاہ ہے لہٰذا خاطر جمع رکھیں، یہ کشمکش طول پکڑے گی، اس دوران طالبان انتظامیہ تاریخ کے کوڑے دان میں کہیں گم ہو جائے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان اور مسلم دنیا کی بھلائی اسی میں ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ پاکستان اور طالبان رجیم کے درمیان مفاہمت کا امکان کم ہے۔ مفاہمت ہونی ہوتی تو ترکیہ اور برادر ملکوں کی کوششیں کام یاب ہو جاتیں لیکن طالبان پر چوں کہ کانگریسی علما اور نریندر مودی کا جادو چل چکا ہے، اس لیے اب وہ عقل کی کوئی بات سننے اور تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔



Source link

Continue Reading

Trending