Connect with us

Today News

uae announce closes embassy in iran

Published

on


متحدہ عرب امارات نے ایرانی حملوں کے بعد تہران سے سفیر کو واپس بلالیا اور سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کردیا۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی ڈائریکٹر اسٹریٹجک کمیونیکیشنز عفرا الھاملی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ‘متحدہ عرب امارات ایرانی میزائل حملوں کی مذمت کرتا ہے اور تہران میں سفارت خانہ بند کرنے، سفیر اور سفارتی مشن کی دستبرداری کا اعلان کرتا ہے’۔

انہوں نے بیان میں کہا کہ ایران کے میزائل حملوں میں متحدہ عرب امارات کی سرزمین کو نشانہ بنایا گیا، جس کے جواب میں تہران میں سفارت خانہ بند کرنے اور تمام سفارتی عملے کو واپس بلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہری مقامات، بشمول رہائشی علاقے، ہوئی اڈے، بندرگاہیں اور عوامی خدمات کے مقامات کے خلاف ان بدترین حملوں سے بے گناہ شہریوں کو بدترین خطرات سے دوچار کیا گیا، غیرذمہ دارانہ کشیدگی اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی واضح خلاف ورزی کی گئی۔

عفرا الھاملی نے کہا کہ امور وزارت خارجہ نے توثیق کی ہے کہ یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی ہے کہ متحدہ عرب امارات سلامتی اور خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی جارحیت کے خلاف پرعزم اور غیرمتزلزل عزم رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دشمنی اور اشتعال انگیز طرز عمل کے پیش نظر کیا گیا ہے، جو کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو روندتا ہے اور خطے کو انتہائی خطرناک جانب دھکیل رہا ہے، جس سے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے ساتھ ساتھ توانائی کے تحفظ اور عالمی معیشت کے استحکام کو بھی خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے متحدہ عرب امارات سمیت ان تمام خلیجی ممالک پر میزائل حملے کیے تھے جہاں امریکی فوجی بیسز موجود ہیں۔

امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، وزیردفاع عزیز ناصرزادہ اور آرمی چیف عبدالرحیم موسوی سمیت کئی اہم شخصیات شہید ہوگئی ہیں جبکہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ان حملوں کا بدلہ لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایرانی حملے پر خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کا مشترکا اعلامیہ جاری

Published

on


خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک نے ایرانی جارحیت کے تناظر میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کریں گے اور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، قطر اور کویت کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ رکن ممالک اپنی علاقائی خودمختاری، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔

بیان میں ایران کی جانب سے مبینہ جارحانہ اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ خطے کے امن و استحکام کو کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت، متعدد یونیورسٹیز میں تدریسی عمل آج معطل رہے گا

Published

on


کراچی کی موجودہ صورتحال اور ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر اظہارِ تعزیت کے طور پر وفاقی اردو یونیورسٹی نے آج طلبہ کے لیے جامعہ بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

رجسٹرار کے مطابق آج جامعہ کے تینوں کیمپسز میں تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے شہر کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر چھٹی کا باقاعدہ اعلان جاری کر دیا ہے۔

دوسری جانب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے موجودہ حالات کے پیش نظر آج تمام کلاسز آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق تمام لیکچرز گوگل میٹ کے ذریعے منعقد ہوں گے اور فیکلٹی ممبران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آن لائن کلاسز کے انعقاد کو یقینی بنائیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق ڈینز، چیئرپرسنز اور انتظامی عملہ معمول کے مطابق کیمپس میں موجود رہے گا تاکہ دفتری امور جاری رہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر اظہارِ تعزیت اور سوگ کے طور پر آج کراچی اور حیدرآباد میں اقراء یونیورسٹی میں بھی تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر سلمان علی آغا کا کپتانی چھوڑنے سے متعلق اہم اعلان

Published

on



پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کپتانی سے متعلق اہم اعلان کر دیا۔

پاکستان سپر ایٹ مرحلے کے اپنے آخری میچ میں سری لنکا کو شکست دینے کے باوجود سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی نہ کر سکا جس کے بعد ٹیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے۔

میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا کہ بطور کپتان ناکامی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے کوچ کے ساتھ مشاورت سے کیے گئے، سلیکشن میں بھی ہم شامل تھے اور پلیئنگ الیون بھی ہم نے ہی میدان میں اتاری۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹیم دباؤ میں اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔ سلمان آغا کے مطابق بیٹنگ لائن میں صاحبزادہ فرحان کے علاوہ کوئی بھی بلے باز توقعات پر پورا نہیں اتر سکا۔

کپتانی چھوڑنے سے متعلق سوال کے جواب میں سلمان علی آغا نے کہا کہ اس وقت جذبات میں آ کر کوئی فیصلہ کرنا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وطن واپسی کے بعد دو سے چار روز میں مشاورت کے بعد کپتانی کے حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے۔



Source link

Continue Reading

Trending