Connect with us

Today News

عدالت خاتون کو شوہر کے پاس جانے کیلیے مجبور کیسے کر سکتی ہے؟  حقِ زوجیت کیس میں سوالات

Published

on



اسلام آباد:

سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے حقوق زوجیت کی ادائیگی کے کیس میں عدالتی اختیار سے متعلق سماعت کی۔

کیس کی سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کی، جس میں  عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

دورانِ سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا عدالت خاتون کو زبردستی شوہر کے پاس بھجوا سکتی ہے اور حقوق زوجیت بحالی کے کیس میں عدالت کا اختیار کس حد تک ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نکاح ایک معاہدہ ہے ، جب تک برقرار ہے فریقین عملدرآمد کے پابند ہوتے ہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ خاتون اگر شوہر کے پاس نہ جانا چاہے تو عدالت اسے کیسے مجبور کر سکتی ہے؟ خاتون عدالتی فیصلہ نہ مانے تو کیا اسے گرفتار کیا جائے گا؟

جسٹس شاہد وحید نے اس موقع پر کہا کہ ضابطہ دیوانی کے مطابق تو خاتون کی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے اور گرفتاری بھی ممکن ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ یہ شرعی طور پر درست ہوگا یا نہیں۔

جسٹس عرفان سعادت نے استفسار کیا کہ عدالت کسی خاتون کو حقوق زوجیت کی ادائیگی پر کیسے مجبور کر سکتی ہے؟ اور کیا خاتون کو شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں وضاحت کی کہ اگر خاتون شوہر کے پاس نہ رہنا چاہے تو خلع لے سکتی ہے اور اگر شوہر عدالتی فیصلہ نہ مانتے ہوئے خرچہ نہ دے تو گرفتار ہو سکتا ہے۔ قانون شوہر اور بیوی دونوں کے لیے برابر ہی لاگو ہوگا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ اگر خاتون ضد کرے کہ شوہر کے ساتھ نہیں رہوں گی اور خلع بھی نہیں لوں گی، یا شوہر بھی ضد کرے کہ نہ ساتھ رکھوں گا نہ طلاق دوں گا تو کیا ہوگا؟

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اگر اہلیہ یہ کہہ دے کہ شوہر کے ساتھ بھی نہیں رہنا، اپنے گھر میں رہنا ہے اور دوسری شادی کی اجازت بھی نہیں دینی تو کیا ہوگا؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دگل نے عدالت کو بتایا کہ ایسی صورت حال میں ثالثی کونسل معاملہ حل کر سکتی ہے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ذیابیطس کے مریض رمضان میں روزہ کیسے رکھیں؟ سحری سے متعلق اہم طبی مشورے

Published

on



ذیابیطس ایک طویل المدتی بیماری ہے جس کے باعث بہت سے افراد روزہ رکھنے سے ہچکچاتے ہیں.

تاہم ماہرینِ صحت کے مطابق اگر مریض اپنی ٹائپ ٹو شوگر کو مناسب حد تک کنٹرول میں رکھیں تو احتیاط اور منصوبہ بندی کے ساتھ روزہ رکھنا ممکن ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مریض اپنی غذا، ادویات اور روزمرہ معمولات کے حوالے سے پہلے سے تیاری کریں اور خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے کے طریقوں سے آگاہ ہوں۔

صحت پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ماہرین نے بتایا کہ سحری میں متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک کا انتخاب نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کو چاہیے کہ گندم اور جو کے آٹے کو ملا کر روٹی تیار کریں اور اسے پروٹین سے بھرپور غذاؤں کے ساتھ استعمال کریں، جیسے انڈا، چکن یا دہی۔ اس طرح کی غذا دیر تک توانائی فراہم کرتی ہے اور خون میں شوگر کے اچانک اتار چڑھاؤ کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔

ماہرین نے یہ بھی مشورہ دیا کہ روزے کے دوران زیادہ پیاس سے بچنے کے لیے تلی ہوئی اور چکنائی والی اشیاء سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ اگر میٹھی چیز کھانے کی خواہش ہو تو چینی کے بجائے میٹھی میتھی (اسٹیویا) کے پتے بہترین متبادل ثابت ہوسکتے ہیں۔ 

اسٹیویا کو خشک کرکے اس کا پاؤڈر بنا لیا جائے اور افطار کے بعد چائے، کافی یا لیموں پانی میں چینی کی جگہ استعمال کیا جائے تو بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

مزید برآں، ذیابیطس کے مریضوں کے لیے دن بھر شوگر لیول کی باقاعدہ نگرانی نہایت ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق خون میں شوگر کی سطح کم از کم تین مرتبہ چیک کرنی چاہیے، ایک بار سحری کے وقت، دوسری بار افطار سے پہلے اور تیسری مرتبہ افطار کے بعد، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت بچا جا سکے۔



Source link

Continue Reading

Today News

تیسری عالمی جنگ کا دہانہ اور پاکستان کا امتحان

Published

on



مشرقِ وسطیٰ کی زمین اس وقت ایک دہکتا ہوا آتش فشاں بن چکی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔

ایران میں تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانے سے لے کر تہران میں عظیم قیادت کی شہادت تک؛ اسرائیل اور امریکا کے تضادات کے درمیان اب یہ سوال پوری شدت سے ابھر رہا ہے کہ کیا پاکستان اس عالمی آگ کو بجھانے میں کوئی موثر کردار ادا کر پائے گا؟

جنگ کی یہ لہر اس وقت المیہ بن گئی جب ایران میں ایک اسکول کو نشانہ بنا کر معصوم طلبا کو خاک و خون میں غلطاں کردیا گیا۔ اس بزدلانہ کارروائی کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبر نے پوری امتِ مسلمہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اب کسی بین الاقوامی قانون یا اخلاقی حد کو ماننے کے لیے تیار نہیں، جس نے خطے کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں سے واپسی ممکن نظر نہیں آتی۔

اسرائیل اور امریکا اس جنگ کو طول دینے کے لیے مسلسل تضاد بیانی کا سہارا لے رہے ہیں۔ ایک طرف اسرائیل ایران کے ایٹمی پروگرام کو خطرہ بنا کر پیش کرتا ہے، تو دوسری طرف ’رجیم چینج‘ کا راگ الاپ کر ایرانی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حقیقت میں ان کا مقصد نہ تو ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ ہے اور نہ ہی انسانی حقوق؛ وہ صرف ایران کی مزاحمتی طاقت کو کچل کر خطے میں اسرائیل کی بلا شرکتِ غیرے بالادستی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ بحیرہ عرب میں امریکی بحری بیڑوں کی تعیناتی اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ واشنگٹن آگ بجھانے کے بجائے اس میں مزید تیل ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایران نے بھی اب خاموشی توڑ دی ہے اور تہران کا پیغام واضح ہے کہ اب جنگ سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی۔ حالیہ دنوں میں عرب ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر ہونے والے دھماکوں نے عالمی دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک کی معیشت اور وہاں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک سنگین معاشی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ گھڑی کسی کڑے امتحان سے کم نہیں ہے کیونکہ وہ خود اس وقت دہرے محاذ پر جنگ لڑ رہا ہے۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ کا بحران ہے، تو دوسری طرف افغانستان کے ساتھ حالیہ سرحدی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے تنازعات نے پاکستان کی توجہ داخلی سلامتی کی طرف مبذول کر رکھی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کو اپنی ہی سرزمین کے دفاع اور مغربی سرحد پر جاری اس ’ہائبرڈ وار‘ میں الجھا کر اسے علاقائی سطح پر غیر موثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں بھارت کا کردار انتہائی تشویشناک اور دشمنی پر مبنی ہے۔ نئی دہلی ایک طرف اسرائیل کے ساتھ تزویراتی اتحاد کو مضبوط کر رہی ہے، تو دوسری طرف افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے پاکستان کے لیے مغربی سرحد پر مسلسل مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ بھارت کا اصل مقصد یہ ہے کہ پاکستان کو اپنے ہی علاقائی تنازعات میں اس قدر الجھا دیا جائے کہ وہ عالمی سطح پر یا ایران کے حق میں کوئی موثر آواز نہ اٹھا سکے اور کشمیر جیسے دیرینہ مسائل سے دنیا کی توجہ ہٹ جائے۔

پاکستان کو اب اپنی مغربی اور مشرقی دونوں سرحدوں پر کڑی نظر رکھنی ہوگی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ حالیہ تنازع محض اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کو دفاعی اور معاشی طور پر تھکانے کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔ بھارت اس عالمی ہنگامہ آرائی کی آڑ میں لائن آف کنٹرول (LoC) پر بھی کسی بڑی مہم جوئی کی کوشش کر سکتا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ تیسری عالمی جنگ اب دہلیز پر دستک دے رہی ہے۔ پاکستان کو اپنی ایٹمی طاقت کی ذمہ داری، ایران کے ساتھ برادرانہ وابستگی اور اپنی داخلی سلامتی کے درمیان ایک انتہائی متوازن راستہ نکالنا ہوگا۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی داخلی قوت کو مجتمع کرے، چین اور ترکیہ جیسے دوست ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی محاذ سنبھالے اور ایک لیڈر کے طور پر ابھر کر دشمن کی ان چالوں کو ناکام بنائے جو اسے تنہا کرنا چاہتی ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔



Source link

Continue Reading

Today News

ایران اسرائیل جنگ اور بابا وانگا کی پیشگوئی، کیا یورپ تباہ ہوجائے گا؟

Published

on



امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے۔ ان حملوں میں اہم شخصیات کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات کے بعد خطے میں عدم استحکام اور ممکنہ وسیع تنازع کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

جیسے ہی جنگی کارروائیوں کی خبریں منظر عام پر آئیں، سوشل میڈیا صارفین کی توجہ بلغاریہ کی معروف نابینا نجومی بابا وانگا کی پرانی پیشگوئیوں کی طرف مبذول ہوگئی۔ بابا وانگا، جن کا انتقال 1996 میں ہوا تھا، کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آنے والے برسوں کے عالمی حالات سے متعلق مختلف پیشگوئیاں کرچکی تھیں۔

ان کے ماننے والوں کے مطابق بابا وانگا نے 2026 کے ابتدائی مہینوں میں ایک بڑی جنگ کی پیشگوئی کی تھی جو مشرق سے شروع ہوگی۔ سوشل میڈیا پر صارفین موجودہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو اسی ممکنہ پیشگوئی سے جوڑ رہے ہیں۔

مبینہ پیشگوئی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس جنگ کے اثرات دنیا کے مغربی خطوں، خاص طور پر یورپ، پر شدید پڑ سکتے ہیں۔ بعض دعووں کے مطابق یورپ کو معاشی اور سماجی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور خطہ طویل عرصے تک عدم استحکام کی کیفیت میں رہ سکتا ہے۔

اسی تناظر میں بابا وانگا سے منسوب ایک اور دعویٰ بھی گردش میں ہے کہ عالمی تنازعات کے بعد روس ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر مزید مضبوط ہو کر سامنے آ سکتا ہے اور بین الاقوامی طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی پیشگوئیوں کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں ہوتی اور عالمی حالات کا تجزیہ مستند سفارتی اور سیاسی حقائق کی روشنی میں ہی کیا جانا چاہیے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں بھی پیشگوئیوں کے بجائے زمینی حقائق اور سرکاری بیانات کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending