Connect with us

Today News

نالے میں گرنے سے خاتون اور بچے کی ہلاکت: ہرجانہ ادا نہ کرنے پر کے ایم سی اور ٹاؤن کو شوکاز جاری

Published

on



کراچی:

سینئر سول جج وسطی نے شادمان نالے میں موٹر سائیکل گرنے سے خاتون اور 2 ماہ کے بچے کی ہلاکت کے دعویٰ پر ہرجانے کی رقم ادا نہ کرنے پر کے ایم سی اور ٹی ایم سی نارتھ ناظم آباد کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔

سینیر سول جج وسطی کی عدالت کے روبرو شادمان نالے میں موٹر سائیکل گرنے سے خاتون اور 2 ماہ کے بچے کی ہلاکت سے متعلق متاثرہ شہری کا کے ایم سی اور ٹی ایم سی نارتھ ناظم آباد وسطی کیخلاف ہرجانے کے دعوی کی سماعت ہوئی۔

درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ 2022 کی بارشوں کے دوران موٹر سائیکل سوار خاندان نالے میں گر گیا تھا۔ فریقین کی غفلت سے مدعی کی اہلیہ اور دو ماہ کا بیٹا اذلان جاں بحق ہوا۔  برساتی نالے کے اطراف انتظامیہ کی جانب سے کوئی حفاظتی انتظامات نہیں تھے۔ مدعی کے 3 ماہ کے بیٹے کی لاش بھی نہیں مل سکی۔

سینئر سول جج ظہیر حسین منگی نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حادثہ فریقین کی غفلت کے باعث پیش آیا۔ کے ایم سی اور ڈی ایم سی وسطی اپنے عوامی فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے۔ فریقین کی قانونی ذمہ داری تھی کہ نالے اور سیوریج کے نظام کی دیکھ بھال اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

عدالت نے ہرجانے کی رقم ادا نہ لرنے پر کے ایم سی اور ٹی ایم سی نارتھ ناظم آباد کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 مارچ تک عدالتی حکم پر عملدرآمد کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے مجموعی طور پر 99 لاکھ روپے سے زائد ورثا کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ متاثرہ شہری نے جان لیوا حادثات ایکٹ کے تحت ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران کے پیشگی حملے کی کوئی انٹیلی جنس نہیں تھی، پینٹاگون کا اعتراف

Published

on


واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی افواج پر پیشگی حملے سے متعلق کوئی انٹیلی جنس رپورٹ موجود نہیں تھی۔

وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق پینٹاگون حکام نے امریکی کانگریس کی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی متعلقہ کمیٹیوں کو 90 منٹ سے زائد بریفنگ دی، جس میں ایران میں کیے گئے امریکی حملے سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بریفنگ سے باخبر دو افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کے ممکنہ پیشگی حملے کے حوالے سے کوئی خفیہ اطلاع موجود نہیں تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بریفنگ کے دوران ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروہوں کو امریکی مفادات کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکی ویزا فراڈ کیس میں ملوث مرکزی ملزم گرفتار

Published

on


ایف آئی اے  اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد نے  امریکی ویزا فراڈ کیس میں ملوث مرکزی ملزم الشیخ السید سیف الدین عارفی  عرف عثمان گیلانی پیر  کو گرفتار کرلیا۔

حکام کے مطابق ملزم کے خلاف مقدمہ  امریکن ایمبیسی کی جانب سے  اطلاع کی روشنی میں درج کیاگیا تھا۔

جس کے بعد انکشاف ہوا تھا  کہ ملزم نے  متعدد ویزا درخواست گزاروں کو جعلی دستاویزات کے ذریعے امریکہ بھجوانے کی کوشش کی ۔ملزم اور اس کے ساتھیوں نے درخواست گزاروں کو امریکہ میں منعقدہ مبینہ “Festival of Sufi Wisdom” میں شرکت کے نام پر جعلی دعوت نامے، وزارتِ خارجہ کے جعلی خطوط اور دیگر دستاویزات فراہم کیں۔

حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم نے سادہ لوح شہریوں کو وزٹ ویزا دلوانے کا جھانسہ دے کر کروڑوں روپے بٹورے۔ اور متاثرین سے مجموعی طور پر لاکھوں روپے وصول کیے گئے جبکہ بعض سے 45 سے 70 لاکھ روپے تک کے معاہدے طے کیے گئے۔

ملزم خود کو بااثر شخصیت، پیر آف گولڑہ شریف  کا قریبی عزیز اور سرکاری ملازم ظاہر کر کے بھی لوگوں کو دھوکہ دیتا رہا تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم نے سال 2023 اور 2024 میں 12،12 افراد پر مشتمل دو گروپس بیرونِ ملک بھجوانے کا دعویٰ کیا۔

اور دیگر ایجنٹس کے ساتھ ملی بھگت سے جعلی ڈی ایس-160 فارم، دعوت نامے اور انٹرویو کی تیاری کروانے میں بھی ملوث رہاملزم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف پریوینشن آف اسمگلنگ آف مائیگرنٹس ایکٹ 2018 کی دفعات 3، 4، 7 اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 420 اور 468 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

جس سے مزید تحقیقات جاری ہیں اور دیگر سہولت کاروں کے کردار کا تعین کیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا کہ تھاکہ انسانی اسمگلنگ اور ویزا فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی  شہری غیر رجسٹرڈ یا مشکوک ایجنٹس سے رابطہ کرنے سے گریز کریں ۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران کے معاملے پر کشیدگی کم کروانے کیلیے سفارتی کوششیں کررہے ہیں، ڈپٹی وزیراعظم

Published

on



ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خامنہ ای کے جاں بحق ہونے کے بعد پاکستان صورتحال کو قریب سے دیکھ رہا ہے اور کشیدگی کم کروانے کیلیے کوشاں ہے۔

کئی ممالک کے سفرا کو دی گئی بریفنگ میں اسحاق ڈار نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پر دوست ممالک کو اعتماد میں لینا چاہتا تھا، پاکستان علاقائی ملکوں کے ساتھ رابطے میں ہے،حالیہ صورتحال انتہائی نازک ہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اپنی تمام سفارتی کوششیں بروئے کار لا رہا ہے، پاکستان ایران کی صورتحال کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے اور ہماری تمام تر کوششیں کشیدگی کم کرانے پر مرکوز ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ تمام ریاستیں دوسرے ملکوں کی علاقائی خودمختاری بارے عالمی قوانین کی پابند ہیں، مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، پاکستان چاہتا ہے تمام فریقین سفارت کاری اورمذاکرات کوترجیح دیں۔

انہوں نے کہا کہ سفارتی محاذ پر مشکل دور سے گزر رہے ہیں، پاکستان کو خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں پر انتہائی افسوس ہے تاہم ایران کی جانب سے حملے اپنے دفاع میں کئے گئے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تمام تصفیہ طلب امور کے حل کیلیے سفارت کاری کی حمایت کرتا ہے اور مسلسل مذاکرات و سفارت کاری پر زور دیتا آرہا ہے، یواے ای میں حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مشرق وسطیٰ خصوصاً غزہ میں امن کے قیام کیلیے پاکستان نے موثر کردارادا کیا، غزہ کے عوام کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم کی جانی چاہیے، ہم نے غزہ پیس بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ چین، امریکا اور برادر ممالک کے سا تھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں، افغانستان کے ساتھ پرامن ہمسائیگی کے خواہاں ہیں، گزشتہ سال افغانستان کے تین دورے کئے، جن کے دوران معیشت،تجارت اور دوسرے اہم امور پر تفصیل بات ہوئی۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ دوروں کے دوران ریل منصوبے کے ذریعے روابط کے فروغ پر بات ہوئی، افغان طلبا کےلیے4500 وظائف کی پیشکش کی گئی اور اُن سے صرف ایک مطالبہ کیا اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دیں مگر اکتوبر میں افغان سرزمین سے سنگین خلاف ورزی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس افغان سرزمین سے دہشتگردی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں،  قطرنے مذاکرات کی درخواست کی اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا، استنبول مذاکرات کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا، آپریش غضب للحق میں ٹی ٹی پی اور دیگردہشت گردعناصر کیخلاف اقدامات کئے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم نے کامیابی سے دہشت گردوں کے ٹھکانے اور کیمپ تباہ کیے،جوابی کارروائی میں شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا، سرحدی علاقوں کے 15 سیکٹرزکے 53 مقامات پر حملے پاکستان کیلیے ناقابل قبول تھے۔

ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ کابل، ننگرہار، پکتیکا و دیگرعلاقوں میں37 مقامات کو مستند انٹیلی جنس پرنشانہ بنایا اور اقدامات انتہائی احتیاط کے ساتھ کیے گئے، کارروائیاں صرف طالبان رجیم اور دہشتگرد عناصر کیخلاف ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کیلیے تمام مناسب اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے، حقیقت یہ ہے افغانستان اس وقت دہشت گردوں کیلیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے اور ہم نے افغانستان میں دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ 



Source link

Continue Reading

Trending