Today News
تیسری عالمی جنگ کا دہانہ اور پاکستان کا امتحان
مشرقِ وسطیٰ کی زمین اس وقت ایک دہکتا ہوا آتش فشاں بن چکی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔
ایران میں تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانے سے لے کر تہران میں عظیم قیادت کی شہادت تک؛ اسرائیل اور امریکا کے تضادات کے درمیان اب یہ سوال پوری شدت سے ابھر رہا ہے کہ کیا پاکستان اس عالمی آگ کو بجھانے میں کوئی موثر کردار ادا کر پائے گا؟
جنگ کی یہ لہر اس وقت المیہ بن گئی جب ایران میں ایک اسکول کو نشانہ بنا کر معصوم طلبا کو خاک و خون میں غلطاں کردیا گیا۔ اس بزدلانہ کارروائی کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبر نے پوری امتِ مسلمہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اب کسی بین الاقوامی قانون یا اخلاقی حد کو ماننے کے لیے تیار نہیں، جس نے خطے کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں سے واپسی ممکن نظر نہیں آتی۔
اسرائیل اور امریکا اس جنگ کو طول دینے کے لیے مسلسل تضاد بیانی کا سہارا لے رہے ہیں۔ ایک طرف اسرائیل ایران کے ایٹمی پروگرام کو خطرہ بنا کر پیش کرتا ہے، تو دوسری طرف ’رجیم چینج‘ کا راگ الاپ کر ایرانی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حقیقت میں ان کا مقصد نہ تو ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ ہے اور نہ ہی انسانی حقوق؛ وہ صرف ایران کی مزاحمتی طاقت کو کچل کر خطے میں اسرائیل کی بلا شرکتِ غیرے بالادستی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ بحیرہ عرب میں امریکی بحری بیڑوں کی تعیناتی اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ واشنگٹن آگ بجھانے کے بجائے اس میں مزید تیل ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ایران نے بھی اب خاموشی توڑ دی ہے اور تہران کا پیغام واضح ہے کہ اب جنگ سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی۔ حالیہ دنوں میں عرب ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر ہونے والے دھماکوں نے عالمی دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک کی معیشت اور وہاں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک سنگین معاشی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ گھڑی کسی کڑے امتحان سے کم نہیں ہے کیونکہ وہ خود اس وقت دہرے محاذ پر جنگ لڑ رہا ہے۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ کا بحران ہے، تو دوسری طرف افغانستان کے ساتھ حالیہ سرحدی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے تنازعات نے پاکستان کی توجہ داخلی سلامتی کی طرف مبذول کر رکھی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کو اپنی ہی سرزمین کے دفاع اور مغربی سرحد پر جاری اس ’ہائبرڈ وار‘ میں الجھا کر اسے علاقائی سطح پر غیر موثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس تمام تر صورتحال میں بھارت کا کردار انتہائی تشویشناک اور دشمنی پر مبنی ہے۔ نئی دہلی ایک طرف اسرائیل کے ساتھ تزویراتی اتحاد کو مضبوط کر رہی ہے، تو دوسری طرف افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے پاکستان کے لیے مغربی سرحد پر مسلسل مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ بھارت کا اصل مقصد یہ ہے کہ پاکستان کو اپنے ہی علاقائی تنازعات میں اس قدر الجھا دیا جائے کہ وہ عالمی سطح پر یا ایران کے حق میں کوئی موثر آواز نہ اٹھا سکے اور کشمیر جیسے دیرینہ مسائل سے دنیا کی توجہ ہٹ جائے۔
پاکستان کو اب اپنی مغربی اور مشرقی دونوں سرحدوں پر کڑی نظر رکھنی ہوگی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ حالیہ تنازع محض اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کو دفاعی اور معاشی طور پر تھکانے کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔ بھارت اس عالمی ہنگامہ آرائی کی آڑ میں لائن آف کنٹرول (LoC) پر بھی کسی بڑی مہم جوئی کی کوشش کر سکتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ تیسری عالمی جنگ اب دہلیز پر دستک دے رہی ہے۔ پاکستان کو اپنی ایٹمی طاقت کی ذمہ داری، ایران کے ساتھ برادرانہ وابستگی اور اپنی داخلی سلامتی کے درمیان ایک انتہائی متوازن راستہ نکالنا ہوگا۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی داخلی قوت کو مجتمع کرے، چین اور ترکیہ جیسے دوست ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی محاذ سنبھالے اور ایک لیڈر کے طور پر ابھر کر دشمن کی ان چالوں کو ناکام بنائے جو اسے تنہا کرنا چاہتی ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
Source link
Today News
مہینوں منصوبہ بندی، نگرانی اور 60 سیکنڈ کی بمباری؛ شہادتِ خامنہ ای کی لمحہ بہ لمحہ کہانی
دنیا کے طاقتور ترین اور جدید ٹیکنالوجیز سے لیس ممالک امریکا اور اسرائیل کی جانب سے متعدد بار قتل کی دھمکیوں کے باوجود آیت اللہ خامنہ ای نے محفوظ مقام پر جانے کے بجائے اپنی ہی سرزمین پر شہادت کو ترجیح دی۔
ہفتوں قبل نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اہل خانہ کے ہمراہ روس یا کسی اور محفوظ ملک منتقل ہو رہے ہیں تاکہ اسرائیلی اور امریکی شر انگیزیوں سے محفوظ رہ سکیں۔
تاہم اُس وقت آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے ترجمان نے ایران چھوڑنے کی اطلاعات کو بے بنیاد اور مکمل جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای ایسی کسی دھمکیوں سے گھبرانے والے نہیں اور نہ ہی اپنے وطن اور اپنے لوگوں کو چھوڑ کر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
غیر ملکی یہ رپورٹس لغو اور آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے ترجمان کا بیان درست ثابت ہوا۔ ایرانی سپریم لیڈر نے اپنی زندگی کا آخری سانس بھی سرزمین ایران پر دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے لیا۔
گزشتہ روز رہبر اعلیٰ تہران میں اسرائیلی حملے میں ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے جس کی تصدیق ایرانی حکومت نے بھی کردی اور ان کی ملبے تلے دبی لاش کی تصویر بھی سامنے آگئی۔
حملوں میں وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ، پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پالپور، سپریم نیشنل سیکیورٹی کے سربراہ علی شامخانی اور آرمی چیف عبدالرحیم موسوی بھی شہید ہوئے۔
مہینوں کی منصوبہ بندی اور ہفتوں سے جاری کڑی نگرانی
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے لیے اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس مہینوں سے منصوبہ بندی میں مصروف تھے جب کہ کئی ہفتوں سے رہبراعلیٰ کی نقل و حرکت اور روز مرہ معمولات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بتایا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی نقل و حرکت کی سخت نگرانی کی جا رہی تھی اور ان کے پیٹرن کو سمجھ لیا گیا تھا۔ البتہ ہمیں اپنے آپریشن کی اتنی جلدی کامیابی کی امید نہ تھی۔
کڑی نگرانی کے دوران امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو ایک ’’بریک تھرو ٹپ‘‘ ملی کہ آیت اللہ خامنہ ای ایک کمپاؤنڈ میں جائیں گے جہاں وہ ہفتے کی صبح دفاعی نوعیت کا ایک اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔
امریکی خفیہ ایجنسی کی اس مصدقہ اطلاع سے اسرائیل کو آگاہ کیا گیا کیوں کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری اسرائیل کی تھی۔ یہ ایک مختصر مگر نادر موقع ثابت ہوا جس کے بعد فوری طور پر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
ایسی کارروائیوں کے لیے عمومی طور پر نصف شب کو کی جاتی ہیں لیکن امریکا اور اسرائیل نے رات کا انتظار کرنے کے بجائے صبح کے وقت ہی حملے کا فیصلہ کیا اور اسرائیلی فوج نے یہ کارروائی محض 60 سیکنڈ میں مکمل کی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق لڑاکا طیاروں نے تہران میں واقع اس زیر زمین تہہ در تہہ بنے بنکر کو تباہ کرنے کے لیے تقریباً 30 مختلف قسم کے بموں سے نشانہ بنایا تاکہ بنکر میں موجود کسی بھی شخص کے زندہ بچنے کا کوئی امکان نہ رہے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں خامنہ ای کے ساتھ ایرانی سیکیورٹی قیادت کے سات اہم ارکان، درجن بھر قریبی ساتھی اور تقریباً 40 دیگر سینئر ایرانی حکام بھی شہید گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر جدید نگرانی اور ٹریکنگ سسٹمز سے بچ نہیں سکے۔
خفیہ نگرانی کیسے کی گئی؟
انٹیلی جنس ماہرین کے مطابق خامنہ ای کی نقل و حرکت جاننے کے لیے کئی طریقے استعمال کیے گئے، جن میں ٹیلی فون اور مواصلاتی نظام کی نگرانی، باڈی گارڈز، قریبی افراد کی ٹریکنگ، زمینی مخبروں کا نیٹ ورک شامل اور جدید تکنیکی نگرانی شامل تھی۔
اسرائیلی خفیہ ادارہ موساد گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران میں اپنے مخبروں اور ایجنٹوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کر چکا تھا جس کی مدد سے ایرانی حکام اور سائنسدانوں کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی رہی ہیں۔
Today News
ہاکی ورلڈ کپ کوالیفائر: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی
قومی ہاکی ٹیم یکم تا 7 مارچ تک کھیلے جانے والے ایف آئی ایچ مینز ورلڈ کپ کوالیفائر راؤنڈ کے دوسرے میچ میں پاکستان نے ملائیشیا کو تین کے مقابلے میں پانچ گول سے شکست دیکر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا۔
پاکستان کی جانب سے رانا وحید اشرف ، زکریا حیات، احمد ندیم، محمد سفیان خان اور محمد عمار نے ایک ایک گول اسکور کیا۔ جبکہ ملائیشیا کی جانب سے عبدالرؤف، احکم اللہ، فطری ساری نے ایک ایک گول اسکور کیا۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی، ایڈہاک گورننس اینڈ منیجمنٹ چیئرمینز اولمپین اصلاح الدین صدیقی ، اولمپین حسن سردار، چیف سلیکٹر سمیع اللہ خان نے ورلڈ کپ کوالیفائر راؤنڈ کے دوسرے میچ میں کامیابی پر قومی ٹیم کو مبارکباد پیش کی ہے۔
قومی ٹیم ورلڈ کپ کوالیفائر راؤنڈ کا تیسرا میچ چار مارچ کو آسٹریا کے خلاف کھیلے گی۔
Source link
Today News
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستان کی ناقص کارکردگی، پہلا استعفیٰ آگیا
علیم ڈار پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ پی سی بی حکام کے حوالے کردیا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم سیمی فائنل تک پہنچنے میں ناکام رہی جس کے بعد علیم ڈار نے اپنی ذمہ داریوں سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔ علیم ڈار کو 11 اکتوبر 2024 میں سلیکشن کمیٹی کا حصہ بنایا گیا تھا۔
سلیکشن کمیٹی میں اب عاقب جاوید اور اسد شفیق باقی رہ گئے ہیں ۔ ان کے ساتھ ڈیٹا اینالسٹ عثمان ہاشمی ہیں جن کو ووٹ دینے کا حق نہیں ۔وہ صرف کرکٹرز کی رفارمنس پر سلیکٹرز کی رہنمائی کرتے ہیں ۔
Source link
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech6 days ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
prime minister visit austria focus trade investment economic cooperation
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا