Today News
ملکی ایئرپورٹس سے آج بھی 106 بین الاقوامی پروازیں منسوخ
کراچی:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں کراچی سمیت دیگر ملکی ائیرپورٹس پر پیر کو 106 بین الاقوامی روٹس کی پروازیں منسوخ ہوگئیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کے مختلف ہوائی اڈوں پر بین الاقوامی پروازوں کی آمدورفت بدستور متاثر ہے، ملک کے بین الاقوامی ائیرپورٹس سے روانہ ہونے والی انٹرنیشنل روٹس کی 106 پروازیں منزل مقصود کی جانب اڑان نہ بھرسکیں۔
کراچی ائیرپورٹ سے دبئی، ابوظبی، قطر، شارجہ، کویت، بحرین کی 32 پروازیں منسوخ ہوئیں، پشاور ائیرپورٹ پر ڈومیسٹک اور بین الاقوامی تمام 22 فلائٹ منسوخ کردی گئیں۔
لاہور ائیرپورٹ سے مختلف ائیرلائنز کی دبئی، ابوظبی، شارجہ، بحرین جانے والی 22 پروازیں، فیصل آباد سے 4، کوئٹہ سے 2 اور ملتان سے 4 پروازوں کو منسوخ کیا گیا ہے۔
تین روز کے دوران ملک بھر کے ائیرپورٹس سے مشرق وسطیٰ کے ملکوں کو جانے والی 350 سے زائد پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں۔
Today News
کراچی شہر یا بارود کا ڈھیر؟
کراچی شہر میں عمارتوں کا گرنا، عمارتوں میں آگ لگنا اب کوئی اتفاقی حادثات نہیں بلکہ معمول کے واقعات بن گئے ہیں۔ صرف فروری کے مہینے میں دو گیس دھماکوں میں بہت سا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ ایک خبر کے مطابق 22 فروری کو عین سحری کے آخری لمحات میں کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد، بلاک ڈی فائیو اسٹار چورنگی کے قریب واقع ایک رہائشی فلیٹ میں گیس سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس میں ایک لڑکا جاں بحق اور دو شدید زخمی ہوگئے۔
قریبی فلیٹ اور کھڑی گاڑیوں کو بھی سخت نقصان پہنچا۔ اس واقعے سے قبل 19 فروری کی خبر کے مطابق کراچی کے علاقے سولجر بازار میں گیس لیکیج کے باعث دھماکے کے نتیجے میں دو منزلہ رہائشی عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا، حادثے میں ایک بچی سمیت 16 افراد جاں بحق جب کہ 14 افراد زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کا متاثرہ خاندان چند برس قبل غربت اور بے روزگاری سے تنگ آ کر بہتر روزگار کی امید میں کراچی منتقل ہوا تھا۔ خاندان کے سربراہ انور لغاری رکشہ چلا کر اہلخانہ کا پیٹ پالتے تھے جب کہ ان کی 7 اولادوں میں سے 3 بیٹیاں گھروں میں کام کاج کر کے باپ کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ یوں صرف ان دو واقعات میں کئی خاندانوں کا رمضان اور عید کا تہوار بھی غارت ہوگیا۔
کراچی شہر میں سلنڈرز سے دھما کے ہونے کے واقعات اب تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً ایک وجہ گیس کی معمول کی سپلائی میں کمی اور لوڈشیڈنگ ہے، لٰہذا جن شہریوں کے گھروں میں گیس کے کنکشن موجود ہیں، انھیں بھی پکانے کے لیے الگ سے سلنڈر استعمال کرنے پڑ رہے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو اب تقریباً تمام شہریوں کو ہی سلنڈرز استعمال کرنے کی ضرورت پیش آگئی ہے، اس طرح سے بازار میں ان کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے جس کے سبب بازار میں غیر معیاری سلنڈرز کثرت سے فروخت ہو رہے ہیں۔ ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق بازار میں جو غیر معیاری سلنڈر فروخت ہو رہے ہیں، ان کی لائف تقریباً ایک سے ڈیڑھ سال ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ دھماکے سے پھٹ سکتے ہیں۔ ان اطلاعات کے باوجود حکومت کی طرف سے کبھی کوئی توجہ اس طرف نہیں دی گئی، نہ کوئی مہم چلائی گئی کہ یہ غیر معیاری سلنڈر کیسے بازار میں فروخت ہو رہے ہیں؟
بات یہ ہے کہ عوام تو سلنڈر کے حوالے سے اتنی آگہی نہیں رکھتے اور مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں، لہٰذا اگر وہ ایک سستا سلنڈر فروخت ہوتا دیکھتے ہیں تو اسی کو اپنی ترجیح بنا لیتے ہیں۔ پھر اس کی ہر سال مینٹیننس اور چیکنگ پر بھی توجہ نہیں دی جاتی۔ ایسے میں استعمال ہونے والے سلنڈر کسی وقت بھی پھٹ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس سلسلے کو روکا جاتا، حکومتی ادارے اس کو چیک کرتے، لیکن ہمارے ادارے اس اہم معاملے پر بھی خاموش ہیں جب کہ عوام کو شعور بھی نہیں۔
دوسری ایک اہم خطرناک بات یہ ہے کہ اب رہائشی عمارتیں کراچی شہر میں انتہائی اونچی تعمیر ہو رہی ہیں، کہیں کئی منزلہ پورشن ہیں تو کہیں بلند وبالا فلیٹ ہیں۔ اب ظاہری سی بات ہے، ان تمام عمارتوں میں کھانا پکانے کی ضرورت تو ہے اب چونکہ گیس کی سپلائی مستقل نہیں ہے تو لوگوں نے فلیٹ کے اندر بھی سلنڈر رکھ لیے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ہیں جیسا کہ حال ہی میں حیدری کے قریب دسویں فلور پہ دھماکے سے فلیٹ کو نقصان پہنچا، ہلاکتیں ہوئی اور آگ لگ گئی۔ خدانخواستہ یہ اگر نیچے کی منزل میں واقعہ ہوتا تو اوپر جتنے بھی فلیٹ تھے وہ اس کی لپیٹ میں آ سکتے تھے۔ دیکھا جائے تو یہ ایک خطرناک معاملہ شہر میں چل رہا ہے، جس پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
جب سے شہر کراچی میں گیس کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوئی ہے، اس سے نت نئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں مثلاً مذکورہ بالا واقعات میں گیس کی لیکیج کا پہلو بھی سامنے آیا ہے، جس کے مطابق لوڈ شیڈنگ کے بعد جب گیس اچانک تیزی کے ساتھ آئی تو دھماکے کا باعث بنی۔ عموماً اس قسم کے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ گیس بند تھی لیکن جب لوڈ شیڈنگ ختم ہوئی تو اچانک سے گیس آنے سے، گیس گھر میں بھر گئی اور گھر کے افراد دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔ یہ بڑا خطرناک مسئلہ ہے کیونکہ شہریوں کو ابھی اتنی آگاہی نہیں ہے، کوئی بھی غلطی سے چولہا کھلا چھوڑ دیتا ہے، اس سے بھی جب گیس آتی ہے تو پتہ نہیں چلتا جس کے باعث گیس گھر میں بھر جاتی ہے اور حادثات ہوتے ہیں۔ یہ معاملات انتہائی خطرناک ہو چکے ہیں۔
ان اہم مسائل کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ بڑا خطرناک ہے کہ کراچی میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر اب بھی جاری ہے اور اب بھی ہم مغرب کی نقالی میں (یا صرف پیسہ کمانے کی خاطر) اونچی اونچی رہائشی عمارتیں تیزی سے تیار کر رہے ہیں مگر افسوس کہ ہم ان عمارتوں میں مناسب طریقے سے گیس بھی نہیں پہنچا پا رہے۔ ہم کمانے کے لیے مغرب کی نقالی تو کر رہے ہیں مگر یہ بھول گئے کہ مغرب میں تو عوام کی ہر چیز کا خیال رکھا جاتا ہے حتیٰ کہ باقاعدگی سے شہریوں کا میڈیکل چیک اپ بھی ہوتا ہے جب کہ ہمارے ہاں غیر معیاری سلنڈر فلیٹوں میں بھی استعمال ہو رہے ہیں اور کوئی دیکھنے والا نہیں ہے کہ مارکیٹ میں یہ کس طرح سے فروخت ہو رہے ہیں؟ کون ان کو فروخت کر رہا ہے؟ اور اگر بلند و بالا عمارت بنائی ہیں تو ان میں مناسب سہولیات کیوں نہیں ہیں؟ گیس کیوں فراہم نہیں کی جا رہی؟ ایمرجنسی گیٹ کہاں ہیں؟ فائر بریگیڈ کی کیا صورتحال ہے؟ ان عمارتوں میں ایمرجنسی آلات کس حد تک ہیں؟ کیا سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیا ہے؟
کس قدر احمقانہ بات ہے کہ فلیٹوں میں بھی رہنے والے گیس کے سلنڈر استعمال کر رہے ہیں اور یہ حال اب صرف لیاری یا موسیٰ کالونی جیسے غریب علاقوں کا نہیں۔ نارتھ ناظم آباد، حیدری جہاں دھماکے میں فلیٹ میں آگ لگ گئی وہ کراچی کا ایک بہت اچھا علاقہ تصور کیا جاتا ہے جہاں ایک چھوٹے سے چھوٹے فلیٹ کی قیمت کروڑ سے کم نہیں ہوتی۔ افسوس ہم ابھی تک اس طرف توجہ نہیں دے رہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے قبل کے اسی طرح کے مزید واقعات آیندہ ہوں اور شہریوں کی قیمتی جانیں ضایع ہوتی رہیں، فوری طور پہ اس حوالے سے حکومت سخت ایکشن لے اور حکومتی ذمے دار ادارے تمام مارکیٹ کا سروے کریں۔ تمام مارکیٹ میں چیکنگ کی جائے کہ کہاں کہاں غیر معیاری سلنڈر فروخت ہو رہے ہیں ان پر پابندی لگائی جائے۔ اس کے علاوہ محکمہ گیس کو بھی پابند کیا جائے کہ جہاں جہاں انھوں نے قانونی کنکشن دیے ہیں وہاں بغیر کسی لوڈ شیڈنگ کے بلا تعطل گیس فراہم کی جائے یا گیس کی جن علاقوں میں لوڈ شیڈنگ ضروری ہو، وہاں ایک یونیفارم پالیسی کے تحت ہی لوڈ شیڈنگ کی جائے اور یہی پالیسی سب کے لیے ہو، کیونکہ عموماً لوڈ شیڈنگ کے بدلتے شیڈول سے شہریوں کو پریشانی بھی ہوتی ہے اور انھیں اس کی ٹائمنگ بھی یاد نہیں رہتی جس کے باعث بھی حادثات رونما ہوتے ہیں۔
ہماری صوبائی حکومت، متعلقہ اداروں اور خاص کر منتخب نمائندوں کو اس اہم مسئلے پر فوری توجہ دینا چاہیے کیونکہ یہ شہریوں کی جان اور مال کا مسئلہ ہے۔
Today News
سندھ طاس معاہدہ اور بھارت کی ہٹ دھرمی !
سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty ) 19 ستمبر 1960 کو عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا’ پانی کی اس تقسیم کے معاہدہ کے تحت پاکستان کو مغربی دریاؤں( سندھ’ جہلم اور چناب) جب کہ بھارت کو مشرقی دریاؤں (راوی ‘ بیاس اور ستلج کا کنٹرول ملا’ مگر بھارت اس اہم معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں پن بجلی کے منصوبے مثلا ( کشن گنگا) بنا رہا ہے جسے اگر آبی جارحیت کہا جائے تو بے جانہ ہو گا’ چونکہ بھارت کوان دریاؤں پر محدود بجلی بنانے کی اجازت ملی تھی اس لیے وہ پانی روکنے کا کسی صورت حق نہیں رکھتا ‘ اسی لیے پاکستان کو بھارت کے اس غیر اخلاقی اور غیر قانونی عمل پر شدید تحفظات ہیں’ یہ معاہدہ پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے جس کی خلاف ورزی سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے ‘ زرعی ملک ہونے کے ناتے پاکستان میں فصلوں کی کاشت کا زیادہ تر دارومدار دریاؤں سے پانی کی آمد پر ہوتا ہے ایسے میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے کافی اہم ہے۔
اس معاہدہ کی ضرورت 1948میں اس وقت محسوس ہوئی جب بھارت نے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کر دیا تھا ‘ چنانچہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 19 ستمبر1960میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا ‘ اس معاہدہ کے تحت دریائے سندھ سے ہر سال آنے والے مجموعی طور پر 168 ملین ایکڑ فٹ پانی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کیا گیا جو 133 ملین ایکڑ فٹ بنتا ہے جب کہ بھارت کو مشرقی دریاؤں جیسے راوی’ بیاس اور ستلج کا کنٹرول دے دیا گیا تھاچونکہ مغربی دریاؤں میں کئی کا منبع بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں تھا اس لیے بھارت کو 3 اعشاریہ 6 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے اور محدود حد تک آبپاشی اور بجلی کی پیداوار کی اجازت دی گئی لیکن بھارت نے معاہدے کی اس شق کو پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا’ بھارت کی طرف سے ماضی میں متعدد بار اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور بھارت دریاؤں پر پن بجلی منصوبے تعمیر کر کے پاکستان آنے والے پانی کو متاثر کررہا ہے ‘ گزشتہ تین سال سے بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنرز کا اجلاس بھی نہیں ہو سکا۔
دونوں ممالک کے درمیان انڈس واٹرکمشنرز کا آخری اجلاس 30 اور31مئی 2022 کو نئی دہلی میں ہوا تھا سندھ طاس معاہدہ کے تحت سال میں دونوں ممالک کے کمشنرز کا اجلاس ایک بار ہونا ضروری ہے ‘ واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت کوئی ملک سندھ طاس معاہدہ کو یکطرفہ طور پر نہیں توڑسکتا حتیٰ کہ حالت جنگ ہو یا حالت امن اس معاہدہ کی دونوں ممالک پر پاسداری ضروری ہے ‘ پانی کو ہتھیار بنانا جنگی جرم اور انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے کیونکہ یہ معاہدہ کروڑوں لوگوں کی زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ دریائے سندھ پاکستان کا سب سے بڑا دریا ہے اور زرعی آبپاشی’ بجلی کی پیداوار’ ماہی گیری’ نقل و حمل اور کئی وجوہات کی بناء پر پاکستان کی معیشت میں یہ اہم اوروسیع دریا کلیدی کردار ادا کرتا ہے مگر پلاسٹک اور بڑھتی ہوئی آلودگی اس دریا کی آبی حیات اور دریا سے متصل مختصر آبادیوں اور ان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ ماحول اور اس عظیم دریا کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان اور امریکا مل کر گرین الائنس کے تحت پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے نمنٹنے اور قابل تجدید توانائی’ زراعت اور پانی کے انتظام میں تعاون کوفروغ دینے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
موجودہ حکومت پاکستان ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ ماحول کو پرفضا اور پرکشش بنانے کے لیے مختلف میگا پراجیکٹس کے ذریعے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔ کشمیر سندھ طاس معاہدہ کی مکمل پاسداری اور اس حوالہ سے انسانی حقوق کے تحفظ اور عالمی بینک کی ثالثی میں پانی کی تقسیم کے اس معاہدہ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ امن اورقابل قبول کردار ادا کیا ہے لیکن بھارت جو پاکستان کا روایتی دشمن ہے نے ہمیشہ ہر اچھے اور بہتر کام میں رکاوٹیں اور رخنے ڈال کر معاملات کو بری طرح بگاڑنے ‘ جنگ و جدل کا ماحول پیدا کرنے اور پاکستان کے خلاف گھناؤنی سازشیں تیار کرنے میں اپنا بھونڈا’ منفی اور ضرر رساں کردار ادا کیا ہے ۔ یہ بات پوری دنیا کے لیے ناقابل قبول اور تشویش کا باعث ہے کہ بھارت پاکستان کے پانی کو روک کر ایک بار پھر پانی پر جنگ کے شعلوں کو بھڑکانے میں مصروف ہے ‘ اسے یہ نہیں معلوم کہ اس گھناؤنی حرکت کے جواب میں پاکستان اسے دندان شکن شکست سے دوچارکر سکتا ہے ‘ہماری پاک مسلح افواج جو اپنی بہادری ‘ ہنر مندی اور بے مثال عسکری صلاحیت کے اعتبار سے پوری دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں ‘ بھارت سرکار کی عقل ٹھکانے لگا سکتی ہیں’ عالمی سطح پر بھی وقت کی مہذب اور حق پرست اقوام بھارت کو اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گی ‘ اس لیے بھارت پر لازم ہے کہ وہ کشمیر سندھ طاس معاہدہ کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے معاہدہ کے تحت پانی کے مناسب اور جائز استعمال کو یقینی بنائے ۔
کسی دوسرے ملک کا پانی روکنا سنگین جرم ہے ‘ یہ وہ دریا ہے جو مقبوضہ کشمیر سمیت پاکستان کے بیشتر حصوں میں اپنی رسائی رکھتا ہے اس لیے اس پر زیادہ سے زیادہ حق پاکستان کا ہے ‘ ہم سندھ طاس معاہدہ پر عمل درآمد کوہرحال میں یقینی بنا کر اپنے حق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حکومت پاکستان اور پوری پاکستانی قوم کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ کشمیر سندھ طاس معاہدہ کے تحت بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز رہے اور محدود پانی اپنے پاس رکھ کر اپنی ضرورتوں کو پورا کرے ‘ بجلی اور دیگر معاملات میں پانی کا زیادہ ذخیرہ کرنے سے گریز کرے ‘ یہ سراسر نا انصافی ہٹ دھرمی اورہماری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے مترادف بات ہو گی ‘ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں بھارت جنگی جنون سے گریز کرے ‘ ورنہ اسے شکست فاش ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی اور اقتصادی طور پر شدید نقصان اٹھانا پڑے گا’ ہم اسے اپنا پانی روکنے کی ذرا بھر اجازت نہیں دیں گے کیونکہ دریاؤں کے جس پانی پر پاکستان کا زیادہ حق ہے جسے عالمی بینک سمیت پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔
Today News
میزائلوں کی بارش اور عالمی خطرات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی 48 اہم سیاسی اور ملٹری شخصیات کو ہلاک کردیا ہے اور ایرانی قیادت کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے، ایرانی پاسدارانِ انقلاب ہتھیار ڈال دیں۔ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بحرین کے فرمانروا سے ٹیلی فون پر اسرائیل اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی، مشرق وسطیٰ میں جاری بحران پر تبادلہ خیال کیا۔ جب کہ ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کردیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ متعدد گاڑیاں تباہ اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کردی ہے۔ تہران میں شدید بمباری کی اطلاعات ہیں، جہاں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور فضا دھوئیں سے بھر گئی۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نہایت نازک اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ تہران سے لے کر تل ابیب اور یروشلم تک فضا میں کشیدگی کی گھٹن محسوس کی جا سکتی ہے۔ حالیہ میزائل حملوں، جوابی کارروائیوں، دھماکوں، سائرنوں اور فضائی دفاعی نظام کی گھن گرج نے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائلوں کے نئے سلسلے اور اسرائیل کی طرف سے تہران اور دیگر شہروں میں بمباری نے نہ صرف دونوں ممالک کو براہِ راست تصادم میں دھکیل دیا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اس بحران کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ زخمیوں کی اطلاعات، تباہ شدہ املاک، جلتی ہوئی گاڑیاں اور خوفزدہ شہری اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ جنگ کا پہلا اور سب سے بڑا نشانہ ہمیشہ عام انسان بنتا ہے۔
اس بحران کا ایک نہایت اہم اور ہولناک پہلو ایران کی اعلیٰ ترین قیادت میں اچانک تبدیلی ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق نے ایران کے سیاسی و مذہبی نظام کو ایک بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایرانی ریاستی ڈھانچے کی علامت سمجھے جانے والے رہنما کی غیر موجودگی نے داخلی استحکام کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ عبوری قیادت کونسل کا قیام، جس میں اعلیٰ ریاستی شخصیات شامل ہیں، تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش ہے، مگر ایسے وقت میں قیادت کی منتقلی جب بیرونی محاذ پر شدید جنگی دباؤ ہو، داخلی یکجہتی کو چیلنج کر سکتی ہے۔ ایران کے سرکاری بیانات میں جس شدت اور غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہ واضح کرتا ہے کہ تہران اس صورتحال کو وجودی چیلنج کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے، خلیج فارس میں آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات اور امریکی بحری بیڑے کے خلاف کارروائی کے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تنازع اب صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی عالمی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، اگر یہ آبی گزرگاہ غیر محفوظ ہو جاتی ہے تو توانائی کی قیمتیں بے قابو ہو سکتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں، مہنگائی کی شرح اور عالمی مالیاتی استحکام پر پڑے گا۔
دوسری جانب اسرائیل نے ملک بھر میں ایمرجنسی کی مدت میں توسیع اور سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر کے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کا سخت جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ اسرائیلی دفاعی نظام، خصوصاً میزائل شکن ٹیکنالوجی، اپنی جگہ مؤثر سہی، مگر مسلسل حملوں کی صورت میں اس کی صلاحیت بھی آزمائش میں پڑ سکتی ہے۔ مغربی یروشلم اور دیگر علاقوں میں سائرن بجنے کے بعد شہریوں کا بینکروں میں منتقل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ خوف روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک جدید ریاست کے شہریوں کو بھی جب بار بار پناہ گاہوں میں جانا پڑے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کی آگ سرحدوں سے آگے نکل چکی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے صورتحال کو مزید اشتعال انگیز بنا دیا ہے۔ ایرانی قیادت کو ختم کرنے کے دعوے، مزید طاقتور جواب کی دھمکیاں اور ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ سفارتی راستوں کو محدود کر رہا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ بیانات نے براہِ راست تصادم کو بڑھا دیا ہے، اگر امریکی فوجی تنصیبات یا مفادات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچتا ہے تو امریکا کی جانب سے وسیع پیمانے کی عسکری کارروائی بعید از قیاس نہیں ہوگی۔
ایسے میں خطہ ایک بڑی طاقت کی براہِ راست مداخلت کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ایران کی قومی سلامتی کونسل کی جانب سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید اس امر کا اظہار ہے کہ اس وقت تہران داخلی اتحاد اور بیرونی مزاحمت کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ بحران کے ایسے لمحات میں اکثر ریاستیں مذاکرات کو کمزوری سمجھتی ہیں، مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طویل جنگیں بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس مرحلے پر کوئی ایسا ثالث موجود ہے جو دونوں فریقوں کو تحمل اور تدبر کی طرف مائل کر سکے؟
علاقائی ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ اردن کی جانب سے احتجاج اور سفارتی اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمسایہ ریاستیں اس کشیدگی کو اپنے لیے براہِ راست خطرہ سمجھ رہی ہیں۔ بحرین اور دیگر خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملوں کی اطلاعات نے خلیجی سلامتی کے پورے نظام کو لرزا کر رکھ دیا ہے، یہ تنازع خلیجی ریاستوں تک پھیلنے کی صورت میں عالمی سطح پر اس کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہوں گے۔پاکستان کے لیے بھی یہ لمحہ آزمائش ہے۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح اجلاس اور ایرانی سرزمین سے پاکستانی شہریوں کے انخلاء کے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام آباد صورتحال کی سنگینی سے پوری طرح آگاہ ہے۔ پاکستان تاریخی، مذہبی اور سفارتی حوالوں سے ایران کے قریب رہا ہے، جب کہ خلیجی ممالک اور امریکا کے ساتھ بھی اس کے تعلقات اہمیت رکھتے ہیں۔
ایسے میں متوازن اور دانشمندانہ پالیسی اختیار کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ پاکستان کسی بلاواسطہ یا بالواسطہ تصادم کا حصہ نہ بنے۔ سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرنا پاکستان کے مفاد میں بھی ہے اور خطے کے امن کے لیے بھی۔اس بحران کا ایک اور پہلو اطلاعاتی جنگ ہے۔ دونوں اطراف سے ہلاکتوں اور نقصانات کے دعوے کیے جا رہے ہیں جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق مشکل ہے۔ جدید دور میں جنگ صرف میدانِ کارزار تک محدود نہیں رہتی بلکہ میڈیا، سوشل میڈیا اور بیانیے کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہے۔ عوامی رائے کو ہموارکرنا، قومی جذبات کو ابھارنا اور عالمی برادری کی ہمدردی حاصل کرنا ہر فریق کی حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے۔ ایسے میں ذمے دار صحافت کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے تاکہ افواہوں اور مبالغہ آرائی سے گریز کیا جا سکے۔
اگر موجودہ جنگ مزید پھیل جاتی اور مکمل جنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے تو یہ خطے کے تزویراتی توازن کو یکسر بدل سکتا ہے۔ معاشی اثرات بھی کم سنگین نہیں ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہونا دنیا بھر کی معیشتوں پر اثر انداز ہوگا۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی قرضوں اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، مزید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انسانی امداد، مہاجرین کا بحران اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی ایک نئے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ قیادت کے بیانات اور عوامی جذبات کے درمیان ایک نازک توازن ہوتا ہے۔ انتقامی بیانات وقتی طور پر قومی یکجہتی کو مضبوط کرتے ہیں، مگر طویل المدت امن کے لیے حکمت اور صبر درکار ہوتا ہے۔ جنگ کا آغاز اکثر جذبات کے زیرِ اثر ہوتا ہے مگر اس کا اختتام عقل و دانش سے ہی ممکن ہوتا ہے، اگر عالمی طاقتیں، علاقائی ریاستیں اور بین الاقوامی ادارے فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات نہ کریں تو یہ بحران ایک وسیع تر تباہی میں بدل سکتا ہے۔
آج دنیا کو اس سوال کا سامنا ہے کہ کیا طاقت کے بل بوتے پر مسائل حل کیے جا سکتے ہیں یا پائیدار امن کے لیے مکالمہ ناگزیر ہے؟ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے جنگوں، بغاوتوں اور بیرونی مداخلتوں کا شکار رہا ہے۔ ایک نئی اور ہمہ گیر جنگ نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فوری جنگ بندی، ثالثی اور مذاکرات کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انسانی جانوں کا تحفظ، عالمی معیشت کا استحکام اور بین الاقوامی قانون کا احترام اسی میں مضمر ہے کہ جنگ کی آگ کو مزید بھڑکنے سے روکا جائے۔اگر اس نازک لمحے پر تدبر کا راستہ اختیار نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں اس غفلت پر کبھی معاف نہیں کریں گی۔ طاقت کا استعمال آسان ہے، مگر امن کی تعمیر صبر، حکمت اور باہمی احترام کا تقاضا کرتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو تباہی کے دہانے سے واپس لا سکتا ہے اور انسانیت کو ایک اور بڑے المیے سے بچا سکتا ہے۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech7 days ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
prime minister visit austria focus trade investment economic cooperation
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا