Connect with us

Today News

برطانیہ میں عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما خان پر جرمانہ

Published

on


برطانیہ میں جمائما خان کو قوانین کی خلاف ورزی پر ایک ہزار پاؤنڈ جرمانہ عائد کردیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جمائما خان پر یہ جرمانہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد کیا گیا ہے۔

برطانوی عدالت نے جمائما خان پر ان کی ملکیت میں رجسٹرڈ گاڑی کو مقررہ حد سے زیادہ رفتار پر چلانے پر جرمانہ عائد کیا تھا۔

جمائما خان پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے عدالت کے حکم پر پولیس کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس کا بروقت جواب نہیں دیا تھا۔

اس نوٹس میں جمائما خان سے ڈرائیور کی تفصیلات مانگی تھیں تاہم انھوں نے پولیس کو کوئی جواب نہیں دیا۔

برطانوی قانون کے مطابق اگر گاڑی کے مالک کو موصول ہونے والے نوٹس کا جواب نہ دیا جائے تو اسے الگ خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے اور اس پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

جرمانے کی رقم تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ بنتی ہے جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار روپے سے زائد ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران جمائما خان نے مؤقف اختیار کیا کہ اس وقت ان کے گھر میں تزئین و آرائش کا کام جاری تھا اور پولیس کی جانب سے بھیجا گیا خط تعمیراتی کام کرنے والے افراد کے پاس گم ہو گیا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ انھیں اکتوبر تک اس نوٹس کے بارے میں علم ہی نہیں تھا۔ جیسے ہی خط ان تک پہنچا انہوں نے فوری طور پر فارم بھر کر پولیس کو بھیج دیا۔

جمائما خان کا کہنا تھا کہ اس وقت گاڑی وہ خود نہیں بلکہ تعمیراتی کام کرنے والا بلڈر چلا رہا تھا تاہم گاڑی ان کے نام رجسٹرڈ ہونے کی وجہ سے قانونی ذمہ داری ان پر عائد ہوگئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمائما خان نے عدالت میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اگر قانون کے مطابق ان پر جرمانہ عائد ہوتا ہے تو وہ اسے قبول کرتی ہیں۔

یاد رہے کہ جمائما خان کی عمران خان سے شادی 1995 میں ہوئی تھی جو 2004 تک ہی چل سکی تھی جوڑے کے دو بیٹے بھی ہیں۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

یاد رکھئے کہ اب ناممکن بھی ممکن ہے

Published

on


محمود احمدی نژاد دو ہزار پانچ سے دو ہزار تیرہ تک ایران کے صدر رہے۔بعد ازاں کھلی کھلی گفتگو کے سبب ان کے اعلی قیادت سے اختلافات بڑھتے چلے گئے۔دو ہزار چوبیس کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے انھوں نے جو کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے وہ بھی مسترد ہو گئے۔آخری برسوں میں وہ مشرقی تہران میں اپنے گھر تک محدود کر دیے گئے اور چار روز قبل اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے۔

احمدی نژاد اسرائیل کے کھلے نظریاتی دشمن تھے۔دو ہزار پانچ میں انھوں نے اپنے اس بیان سے بین الاقوامی شہرت پائی کہ اسرائیل کو صفحہِ ہستی سے مٹ جانا چاہیے۔وہ نازی ہالوکاسٹ ( یہودی نسل کشی ) کو ایک صیہونی ڈرامہ قرار دیتے تھے جس کے ذریعے اسرائیل برس ہا برس سے دنیا کو بلیک میل کرتا آیا ہے۔

دو ہزار نو میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود احمدی نژاد نے اسرائیل کو ایک نسل پرست عالمی ناسور قرار دیا۔چنانچہ اسرائیل کے حامی کئی ممالک اس اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔

اکتوبر دو ہزار چوبیس میں احمدی نژاد نے امریکی نیوز چینل سی این این ٹرکش کو زوم پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ سابق صدر حسن روحانی کے دور میں ایرانی اداروں میں موساد کے ایجنٹوں کی نشاندھی اور قلع قمع کے لیے بیس ایجنٹوں پر مشتمل جو کاؤنٹر انٹیلی جینس یونٹ قائم کیا گیا اس کے سربراہ سمیت تمام اہلکار ڈبل ایجنٹ نکلے۔ان میں سے بہت سے دو ہزار اکیس میں بھانڈا پھوٹنے کے بعد فرار ہو گئے اور اسرائیل نے انھیں پناہ دے دی۔

ان ایجنٹوں نے اسرائیل کو ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں حساس ترین معلومات پہنچائیں۔بالخصوص دو ہزار اٹھارہ میں موساد جوہری پروگرام سے متعلق سیکڑوں گیگا بائٹ ڈیٹا چوری کرنے میں کامیاب رہی۔اس ڈیٹا کو صدر ٹرمپ نے دو ہزار پندرہ میں ایران سے کیے گئے بین الاقوامی جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کا بہانہ بنایا اور حساس مواد کو نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں بطور حوالہ شامل کیا۔

نومبر دو ہزار بیس میں موساد ایجنٹوں نے ایران کے اعلی جوہری سائنسدان محسن فخری زادے کو ایک کمپیوٹرائزڈ مشین گن کے ذریعے قتل کیا۔اس کے بعد اس مشین گن کو ریموٹ کنٹرول سے تباہ کر دیا گیا۔

 جولائی دو ہزار چوبیس میں حماس کے سربراہ اسماعیل حانیا ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے جنازے میں شرکت کے لیے تہران پہنچے۔انھیں جس اپارٹمنٹ میں ٹھہرایا گیا اسے میزائیل سے نشانہ بنایا گیا۔اس واردات میں سوائے اپارٹمنٹ کے باقی عمارت محفوظ رہی۔یہ عمارت پاسدارانِ انقلاب کا ہائی سیکیورٹی گیسٹ ہاؤس تھا۔ گیسٹ ہاؤس کے عملے سمیت درجنوں انٹیلی جینس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔

ستمبر دو ہزار چوبیس میں اسرائیل نے جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ اور ان کے متعدد ساتھیوں کو شدید بمباری کر کے قتل کیا۔اس واردات کے بعد فرانسیسی اخبار ’’ لا پیریسیاں ‘‘ میں یہ رپورٹ شائع ہوئی کہ حسن نصراللہ کی اس مقام پر موجودی کی رئیل ٹائم انفارمیشن اسرائیل کو بیروت میں ایک ایرانی ذریعے نے فراہم کی تھی۔

جون دو ہزار پچیس میں بارہ روزہ جنگ کے پہلے ہی دن ایران کے دس جوہری ماہرین اور فوج کی اعلی قیادت صاف ہو گئی۔جنگ کے بعد سیکڑوں گرفتاریاں ہوئیں۔متعدد افغان پناہ گزین پکڑے گئے چنانچہ لاکھوں پناہ گزینوں کو افغانستان میں دھکیل دیا گیا۔مگر موساد اور سی آئی اے کا جال پھر بھی نہ ٹوٹ سکا۔

اس کا ثبوت رہبرِ اعلی علی خامنہ ای کی رحلت سمیت وزیرِ دفاع عزیز ناصر زادے ، فوجی کونسل کے سربراہ علی شمخانی ، ڈپٹی انٹیلی جینس منسٹر محمد شیرازی ، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور اور پاسداران کے فضائی ونگ کے سربراہ ماجد موسوی سمیت ایک ہی دن میں ایک ہی چھت تلے چالیس سے زیادہ اعلی اہلکاروں کا خاتمہ ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق اصولی طور پر اسرائیل اور امریکا نے دسمبر میں ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ جوہری صلاحیت کے ساتھ ساتھ ایرانی میزائل نظام بھی ختم کرنا ہے۔فروری میں جب ایران میں سرکار مخالف ہنگامے شروع ہوئے اور انھیں پرتشدد انداز میں دبایا گیا تو ’’ رجیم چینج ‘‘ کی کوشش بھی منصوبے کا حصہ بن گئی۔چنانچہ امریکا نے دو طیارہ بردار اسٹرائیک فورسز کو علاقے میں پہنچنے کا حکم دیا۔

ایران میں پرتشدد ہنگاموں کے بعد اسرائیل اور امریکا کے اعلی فوجی و سیاسی منصوبہ سازوں کی تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان نقل و حرکت میں غیر معمولی تیزی آ گئی۔ایران مذاکرات کی میز پر لایا گیا مگر اس کے سامنے ایسی شرائط رکھی گئیں جنھیں وہ یکسر مسترد کر دے۔یعنی مذاکرات کا مقصد مطلوبہ فوجی قوت کے اجتماع اور منصوبہ بندی مکمل کرنے کے لیے وقت حاصل کرنا تھا۔

ایرانیوں کو اچھے سے معلوم تھا کہ ان کے اعلی ترین اہلکاروں کی نقل و حرکت کی زمین ، فضا اور خلا سے پل پل کی نگرانی ہو رہی ہے اور اسی طرح کی کارروائی ہو سکتی ہے جس طرح اچانک بارہ اور تیرہ جون کی درمیانی شب ہوئی تھی۔اس کے باوجود یہ فرض کر لیا گیا کہ کم ازکم ایران کی اعلی ترین سیاسی قیادت کو دن دہاڑے نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔کیونکہ آج تک دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوا لہذا اب بھی ایسا نہیں ہو گا۔

شائد اسی سوچ کے تحت علی خامنہ ای صاحب کو کسی محفوظ بینکر میں منتقل نہیں کیا گیا اور سنیچر کی صبح انھی کے دفتر میں اعلی قیادت کا اجلاس رکھ لیا گیا۔جیسے ہی یہ اطلاع تل ابیب پہنچی۔اس نے واشنگٹن سے رابطہ کیا کہ ایسا شاندار موقع کبھی کبھار ہی ملتا ہے۔چنانچہ باہمی رضامندی سے حملے کے پلان میں ہنگامی تبدیلی کی گئی اور اسرائیلی فضائیہ اور خلیجِ اومان میں موجود ایر کرافٹ کیریر کے جہازوں کو اڑان بھرنے کا اذن دے دیا گیا۔اور پھر رہبرِ اعلی کے کمپاؤنڈ میں ان تین مرکزی کمروں پر دو دو ہزار پاؤنڈ کے بینکر بسٹر میزائل داغے گئے جہاں ایران کی اعلی قیادت کو بیٹھ کر اگلا ’’ مذاکراتی ‘‘ لائحہ عمل طے کرنا تھا۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی شہر یا بارود کا ڈھیر؟

Published

on


کراچی شہر میں عمارتوں کا گرنا، عمارتوں میں آگ لگنا اب کوئی اتفاقی حادثات نہیں بلکہ معمول کے واقعات بن گئے ہیں۔ صرف فروری کے مہینے میں دو گیس دھماکوں میں بہت سا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ ایک خبر کے مطابق 22 فروری کو عین سحری کے آخری لمحات میں کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد، بلاک ڈی فائیو اسٹار چورنگی کے قریب واقع ایک رہائشی فلیٹ میں گیس سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس میں ایک لڑکا جاں بحق اور دو شدید زخمی ہوگئے۔

قریبی فلیٹ اور کھڑی گاڑیوں کو بھی سخت نقصان پہنچا۔ اس واقعے سے قبل 19 فروری کی خبر کے مطابق کراچی کے علاقے سولجر بازار میں گیس لیکیج کے باعث دھماکے کے نتیجے میں دو منزلہ رہائشی عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا، حادثے میں ایک بچی سمیت 16 افراد جاں بحق جب کہ 14 افراد زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کا متاثرہ خاندان چند برس قبل غربت اور بے روزگاری سے تنگ آ کر بہتر روزگار کی امید میں کراچی منتقل ہوا تھا۔ خاندان کے سربراہ انور لغاری رکشہ چلا کر اہلخانہ کا پیٹ پالتے تھے جب کہ ان کی 7 اولادوں میں سے 3 بیٹیاں گھروں میں کام کاج کر کے باپ کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ یوں صرف ان دو واقعات میں کئی خاندانوں کا رمضان اور عید کا تہوار بھی غارت ہوگیا۔

کراچی شہر میں سلنڈرز سے دھما کے ہونے کے واقعات اب تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً ایک وجہ گیس کی معمول کی سپلائی میں کمی اور لوڈشیڈنگ ہے، لٰہذا جن شہریوں کے گھروں میں گیس کے کنکشن موجود ہیں، انھیں بھی پکانے کے لیے الگ سے سلنڈر استعمال کرنے پڑ رہے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو اب تقریباً تمام شہریوں کو ہی سلنڈرز استعمال کرنے کی ضرورت پیش آگئی ہے، اس طرح سے بازار میں ان کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے جس کے سبب بازار میں غیر معیاری سلنڈرز کثرت سے فروخت ہو رہے ہیں۔ ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق بازار میں جو غیر معیاری سلنڈر فروخت ہو رہے ہیں، ان کی لائف تقریباً ایک سے ڈیڑھ سال ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ دھماکے سے پھٹ سکتے ہیں۔ ان اطلاعات کے باوجود حکومت کی طرف سے کبھی کوئی توجہ اس طرف نہیں دی گئی، نہ کوئی مہم چلائی گئی کہ یہ غیر معیاری سلنڈر کیسے بازار میں فروخت ہو رہے ہیں؟

 بات یہ ہے کہ عوام تو سلنڈر کے حوالے سے اتنی آگہی نہیں رکھتے اور مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں، لہٰذا اگر وہ ایک سستا سلنڈر فروخت ہوتا دیکھتے ہیں تو اسی کو اپنی ترجیح بنا لیتے ہیں۔ پھر اس کی ہر سال مینٹیننس اور چیکنگ پر بھی توجہ نہیں دی جاتی۔ ایسے میں استعمال ہونے والے سلنڈر کسی وقت بھی پھٹ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس سلسلے کو روکا جاتا، حکومتی ادارے اس کو چیک کرتے، لیکن ہمارے ادارے اس اہم معاملے پر بھی خاموش ہیں جب کہ عوام کو شعور بھی نہیں۔

 دوسری ایک اہم خطرناک بات یہ ہے کہ اب رہائشی عمارتیں کراچی شہر میں انتہائی اونچی تعمیر ہو رہی ہیں، کہیں کئی منزلہ پورشن ہیں تو کہیں بلند وبالا فلیٹ ہیں۔ اب ظاہری سی بات ہے، ان تمام عمارتوں میں کھانا پکانے کی ضرورت تو ہے اب چونکہ گیس کی سپلائی مستقل نہیں ہے تو لوگوں نے فلیٹ کے اندر بھی سلنڈر رکھ لیے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ہیں جیسا کہ حال ہی میں حیدری کے قریب دسویں فلور پہ دھماکے سے فلیٹ کو نقصان پہنچا، ہلاکتیں ہوئی اور آگ لگ گئی۔ خدانخواستہ یہ اگر نیچے کی منزل میں واقعہ ہوتا تو اوپر جتنے بھی فلیٹ تھے وہ اس کی لپیٹ میں آ سکتے تھے۔ دیکھا جائے تو یہ ایک خطرناک معاملہ شہر میں چل رہا ہے، جس پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

جب سے شہر کراچی میں گیس کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوئی ہے، اس سے نت نئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں مثلاً مذکورہ بالا واقعات میں گیس کی لیکیج کا پہلو بھی سامنے آیا ہے، جس کے مطابق لوڈ شیڈنگ کے بعد جب گیس اچانک تیزی کے ساتھ آئی تو دھماکے کا باعث بنی۔ عموماً اس قسم کے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ گیس بند تھی لیکن جب لوڈ شیڈنگ ختم ہوئی تو اچانک سے گیس آنے سے، گیس گھر میں بھر گئی اور گھر کے افراد دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔ یہ بڑا خطرناک مسئلہ ہے کیونکہ شہریوں کو ابھی اتنی آگاہی نہیں ہے، کوئی بھی غلطی سے چولہا کھلا چھوڑ دیتا ہے، اس سے بھی جب گیس آتی ہے تو پتہ نہیں چلتا جس کے باعث گیس گھر میں بھر جاتی ہے اور حادثات ہوتے ہیں۔ یہ معاملات انتہائی خطرناک ہو چکے ہیں۔

ان اہم مسائل کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ بڑا خطرناک ہے کہ کراچی میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر اب بھی جاری ہے اور اب بھی ہم مغرب کی نقالی میں (یا صرف پیسہ کمانے کی خاطر) اونچی اونچی رہائشی عمارتیں تیزی سے تیار کر رہے ہیں مگر افسوس کہ ہم ان عمارتوں میں مناسب طریقے سے گیس بھی نہیں پہنچا پا رہے۔ ہم کمانے کے لیے مغرب کی نقالی تو کر رہے ہیں مگر یہ بھول گئے کہ مغرب میں تو عوام کی ہر چیز کا خیال رکھا جاتا ہے حتیٰ کہ باقاعدگی سے شہریوں کا میڈیکل چیک اپ بھی ہوتا ہے جب کہ ہمارے ہاں غیر معیاری سلنڈر فلیٹوں میں بھی استعمال ہو رہے ہیں اور کوئی دیکھنے والا نہیں ہے کہ مارکیٹ میں یہ کس طرح سے فروخت ہو رہے ہیں؟ کون ان کو فروخت کر رہا ہے؟ اور اگر بلند و بالا عمارت بنائی ہیں تو ان میں مناسب سہولیات کیوں نہیں ہیں؟ گیس کیوں فراہم نہیں کی جا رہی؟ ایمرجنسی گیٹ کہاں ہیں؟ فائر بریگیڈ کی کیا صورتحال ہے؟ ان عمارتوں میں ایمرجنسی آلات کس حد تک ہیں؟ کیا سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیا ہے؟

کس قدر احمقانہ بات ہے کہ فلیٹوں میں بھی رہنے والے گیس کے سلنڈر استعمال کر رہے ہیں اور یہ حال اب صرف لیاری یا موسیٰ کالونی جیسے غریب علاقوں کا نہیں۔ نارتھ ناظم آباد، حیدری جہاں دھماکے میں فلیٹ میں آگ لگ گئی وہ کراچی کا ایک بہت اچھا علاقہ تصور کیا جاتا ہے جہاں ایک چھوٹے سے چھوٹے فلیٹ کی قیمت کروڑ سے کم نہیں ہوتی۔ افسوس ہم ابھی تک اس طرف توجہ نہیں دے رہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے قبل کے اسی طرح کے مزید واقعات آیندہ ہوں اور شہریوں کی قیمتی جانیں ضایع ہوتی رہیں، فوری طور پہ اس حوالے سے حکومت سخت ایکشن لے اور حکومتی ذمے دار ادارے تمام مارکیٹ کا سروے کریں۔ تمام مارکیٹ میں چیکنگ کی جائے کہ کہاں کہاں غیر معیاری سلنڈر فروخت ہو رہے ہیں ان پر پابندی لگائی جائے۔ اس کے علاوہ محکمہ گیس کو بھی پابند کیا جائے کہ جہاں جہاں انھوں نے قانونی کنکشن دیے ہیں وہاں بغیر کسی لوڈ شیڈنگ کے بلا تعطل گیس فراہم کی جائے یا گیس کی جن علاقوں میں لوڈ شیڈنگ ضروری ہو، وہاں ایک یونیفارم پالیسی کے تحت ہی لوڈ شیڈنگ کی جائے اور یہی پالیسی سب کے لیے ہو، کیونکہ عموماً لوڈ شیڈنگ کے بدلتے شیڈول سے شہریوں کو پریشانی بھی ہوتی ہے اور انھیں اس کی ٹائمنگ بھی یاد نہیں رہتی جس کے باعث بھی حادثات رونما ہوتے ہیں۔

ہماری صوبائی حکومت، متعلقہ اداروں اور خاص کر منتخب نمائندوں کو اس اہم مسئلے پر فوری توجہ دینا چاہیے کیونکہ یہ شہریوں کی جان اور مال کا مسئلہ ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

سندھ طاس معاہدہ اور بھارت کی ہٹ دھرمی !

Published

on


سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty ) 19 ستمبر 1960 کو عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا’ پانی کی اس تقسیم کے معاہدہ کے تحت پاکستان کو مغربی دریاؤں( سندھ’ جہلم اور چناب) جب کہ بھارت کو مشرقی دریاؤں (راوی ‘ بیاس اور ستلج کا کنٹرول ملا’ مگر بھارت اس اہم معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں پن بجلی کے منصوبے مثلا ( کشن گنگا) بنا رہا ہے جسے اگر آبی جارحیت کہا جائے تو بے جانہ ہو گا’ چونکہ بھارت کوان دریاؤں پر محدود بجلی بنانے کی اجازت ملی تھی اس لیے وہ پانی روکنے کا کسی صورت حق نہیں رکھتا ‘ اسی لیے پاکستان کو بھارت کے اس غیر اخلاقی اور غیر قانونی عمل پر شدید تحفظات ہیں’ یہ معاہدہ پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے جس کی خلاف ورزی سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے ‘ زرعی ملک ہونے کے ناتے پاکستان میں فصلوں کی کاشت کا زیادہ تر دارومدار دریاؤں سے پانی کی آمد پر ہوتا ہے ایسے میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے کافی اہم ہے۔

 اس معاہدہ کی ضرورت 1948میں اس وقت محسوس ہوئی جب بھارت نے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کر دیا تھا ‘ چنانچہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 19 ستمبر1960میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا ‘ اس معاہدہ کے تحت دریائے سندھ سے ہر سال آنے والے مجموعی طور پر 168 ملین ایکڑ فٹ پانی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کیا گیا جو 133 ملین ایکڑ فٹ بنتا ہے جب کہ بھارت کو مشرقی دریاؤں جیسے راوی’ بیاس اور ستلج کا کنٹرول دے دیا گیا تھاچونکہ مغربی دریاؤں میں کئی کا منبع بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں تھا اس لیے بھارت کو 3 اعشاریہ 6 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے اور محدود حد تک آبپاشی اور بجلی کی پیداوار کی اجازت دی گئی لیکن بھارت نے معاہدے کی اس شق کو پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا’ بھارت کی طرف سے ماضی میں متعدد بار اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور بھارت دریاؤں پر پن بجلی منصوبے تعمیر کر کے پاکستان آنے والے پانی کو متاثر کررہا ہے ‘ گزشتہ تین سال سے بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنرز کا اجلاس بھی نہیں ہو سکا۔

 دونوں ممالک کے درمیان انڈس واٹرکمشنرز کا آخری اجلاس 30 اور31مئی 2022 کو نئی دہلی میں ہوا تھا سندھ طاس معاہدہ کے تحت سال میں دونوں ممالک کے کمشنرز کا اجلاس ایک بار ہونا ضروری ہے ‘ واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت کوئی ملک سندھ طاس معاہدہ کو یکطرفہ طور پر نہیں توڑسکتا حتیٰ کہ حالت جنگ ہو یا حالت امن اس معاہدہ کی دونوں ممالک پر پاسداری ضروری ہے ‘ پانی کو ہتھیار بنانا جنگی جرم اور انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے کیونکہ یہ معاہدہ کروڑوں لوگوں کی زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ دریائے سندھ پاکستان کا سب سے بڑا دریا ہے اور زرعی آبپاشی’ بجلی کی پیداوار’ ماہی گیری’ نقل و حمل اور کئی وجوہات کی بناء پر پاکستان کی معیشت میں یہ اہم اوروسیع دریا کلیدی کردار ادا کرتا ہے مگر پلاسٹک اور بڑھتی ہوئی آلودگی اس دریا کی آبی حیات اور دریا سے متصل مختصر آبادیوں اور ان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ ماحول اور اس عظیم دریا کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان اور امریکا مل کر گرین الائنس کے تحت پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے نمنٹنے اور قابل تجدید توانائی’ زراعت اور پانی کے انتظام میں تعاون کوفروغ دینے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

موجودہ حکومت پاکستان ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ ماحول کو پرفضا اور پرکشش بنانے کے لیے مختلف میگا پراجیکٹس کے ذریعے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔ کشمیر سندھ طاس معاہدہ کی مکمل پاسداری اور اس حوالہ سے انسانی حقوق کے تحفظ اور عالمی بینک کی ثالثی میں پانی کی تقسیم کے اس معاہدہ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ امن اورقابل قبول کردار ادا کیا ہے لیکن بھارت جو پاکستان کا روایتی دشمن ہے نے ہمیشہ ہر اچھے اور بہتر کام میں رکاوٹیں اور رخنے ڈال کر معاملات کو بری طرح بگاڑنے ‘ جنگ و جدل کا ماحول پیدا کرنے اور پاکستان کے خلاف گھناؤنی سازشیں تیار کرنے میں اپنا بھونڈا’ منفی اور ضرر رساں کردار ادا کیا ہے ۔ یہ بات پوری دنیا کے لیے ناقابل قبول اور تشویش کا باعث ہے کہ بھارت پاکستان کے پانی کو روک کر ایک بار پھر پانی پر جنگ کے شعلوں کو بھڑکانے میں مصروف ہے ‘ اسے یہ نہیں معلوم کہ اس گھناؤنی حرکت کے جواب میں پاکستان اسے دندان شکن شکست سے دوچارکر سکتا ہے ‘ہماری پاک مسلح افواج جو اپنی بہادری ‘ ہنر مندی اور بے مثال عسکری صلاحیت کے اعتبار سے پوری دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں ‘ بھارت سرکار کی عقل ٹھکانے لگا سکتی ہیں’ عالمی سطح پر بھی وقت کی مہذب اور حق پرست اقوام بھارت کو اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گی ‘ اس لیے بھارت پر لازم ہے کہ وہ کشمیر سندھ طاس معاہدہ کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے معاہدہ کے تحت پانی کے مناسب اور جائز استعمال کو یقینی بنائے ۔

کسی دوسرے ملک کا پانی روکنا سنگین جرم ہے ‘ یہ وہ دریا ہے جو مقبوضہ کشمیر سمیت پاکستان کے بیشتر حصوں میں اپنی رسائی رکھتا ہے اس لیے اس پر زیادہ سے زیادہ حق پاکستان کا ہے ‘ ہم سندھ طاس معاہدہ پر عمل درآمد کوہرحال میں یقینی بنا کر اپنے حق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حکومت پاکستان اور پوری پاکستانی قوم کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ کشمیر سندھ طاس معاہدہ کے تحت بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز رہے اور محدود پانی اپنے پاس رکھ کر اپنی ضرورتوں کو پورا کرے ‘ بجلی اور دیگر معاملات میں پانی کا زیادہ ذخیرہ کرنے سے گریز کرے ‘ یہ سراسر نا انصافی ہٹ دھرمی اورہماری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے مترادف بات ہو گی ‘ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں بھارت جنگی جنون سے گریز کرے ‘ ورنہ اسے شکست فاش ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی اور اقتصادی طور پر شدید نقصان اٹھانا پڑے گا’ ہم اسے اپنا پانی روکنے کی ذرا بھر اجازت نہیں دیں گے کیونکہ دریاؤں کے جس پانی پر پاکستان کا زیادہ حق ہے جسے عالمی بینک سمیت پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending