Connect with us

Today News

ایران پر حملے؛ اپنے بہترین دوست اور عظیم لیڈر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں؛ نیتن یاہو

Published

on


اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل ہونے سے روکنا دنیا کے امن کے لیے ضروری تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار اور انھیں لے جانے والے میزائل سسٹمز حاصل ہوگئے تو وہ پوری انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن جائے گا۔

وزیراعظم نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیل اسی خطرے کو روکنے کے لیے ایران کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی حفاظت کے لیے میدان میں آئے ہیں لیکن اس عمل کے ذریعے ہم بہت سے دوسرے ممالک کی بھی حفاظت کر رہے ہیں۔

یہ خبر پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید

جہاں ایران کے بیلسٹک میزائل حملے میں کم از کم نو اسرائیلی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ بیٹ شیمش اسرائیل کے دو بڑے شہروں تل ابیب اور یروشلم کے درمیان واقع ہے۔

نیتن یاہو نے اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس مہم میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں اپنے بہترین دوست اور دنیا کے عظیم رہنما ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو دنیا کو محفوظ بنانے کی اس عظیم کوشش میں ہمارے ساتھ ہیں۔

یہ پڑھیں؛ آیت اللہ خامنہ ای کی جاسوسی کیسے کی گئی؟ شہادتِ رہبر اعلیٰ کی لمحہ بہ لمحہ کہانی

یاد رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی حملے میں ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای، اہل خانہ، وزیردفاع، آرمی چیف اور اہم دفاعی کمانڈرز شہید ہوگئے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جنگ کے بادل اور امن کی فاختائیں

Published

on


بالآخر امن بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوگیا۔ اس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی اور اعلان کیا کہ امریکا غزہ کی تعمیر نو کے لیے دس ارب ڈالر امداد دے گا۔یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ غزہ کی بربادی میں بھی امریکا کی خاموش امداد کو بڑا دخل تھا۔ وہ اسرائیل کی سرپرستی کرتا رہا اسے مہلک ہتھیار فراہم کرتا رہا، اسے غزہ پر حملے کرنے کی کھلی چھٹی دینے میں بھی اس کا ہاتھ رہا اور اب جب کہ غزہ کھنڈر میں تبدیل ہو گیا ہے اور اس کے باسی اب خیمہ نشیں ہو چکے ہیں تو امریکا کو ان پر ترس آ گیا ہے اور ان کی تعمیر نو کے لیے اس نے آواز بلند کی ہے۔

یہ تعمیر نو اس طرح ہو گی کہ مغربی کنارے کے بعض حصوں پر اس جنگ کے دوران اسرائیل نے غاصبانہ قبضہ کر لیا ہے اور اس طرح اسرائیلی مملکت کی سرحدوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کیا تعمیر نو میں یہ بات شامل ہوگی؟ اسرائیل سے حالیہ مقبوضات کو چھڑایا جا سکے اور فلسطین کی واحد ریاستی حیثیت کو تسلیم کیا جائے اگر یہ نہ ہو سکے تو غزہ کی تعمیر نو اسرائیل کے لیے نئے دسترخوان کی طرح ہوگی۔

غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں روس، چین اور اقوام متحدہ کے مستقل ممبران کی اکثریت نے شمولیت اختیار نہیں کی۔ جو ممالک اس اجلاس میں شریک ہوئے انھوں نے 7 ارب ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔پاکستان نے بھی ہچکچاہٹ کے ساتھ اس بورڈ میں شرکت کا اعلان کیا اور واضح کر دیا کہ پاکستان ایک اور صرف ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے اور وہ مغربی کنارے پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تسلط کو کسی طور تسلیم نہیں کرے گا، لیکن اب یہ تو وقت بتائے گا کہ یہ موقف تسلیم بھی کیا جائے گا یا یہ سب باتیں آگے چل کر ہوا ثابت ہوں گی۔

اپنی صدارتی تقریر میں صدر ٹرمپ اپنے کارناموں کی تفصیل پر خود ہی روشنی ڈالتے رہے۔ کہا کہ انھوں نے 8 جنگیں رکوائی ہیں جن میں ایک جنگ ایسی بھی تھی جو سالہا سال سے جاری تھی اور خوں ریزی کے علاوہ اس کا کچھ حاصل نہ تھا، میں نے اسے بھی رکوایا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کو بھی انھوں نے رکوایا۔ اس جنگ میں 11 طیارے مار گرائے گئے تھے مگر پاکستانی قیادت نے میرے کہنے پر جنگ سے گریز کیا اور اس طرح دونوں ممالک مزید تباہی سے بچ گئے۔اسی سلسلے میں انھوں نے پاکستانی قیادت کی تعریف و توصیف بھی کی، جو ان کی طرف سے سرٹیفکیٹ کی حیثیت رکھتی تھی۔ کہا کہ وزیر اعظم پاکستان ایک معاملہ فہم انسان ہیں، انسانی اقدار کو سمجھتے ہیں۔ جنگ کی تباہ کاریوں سے آشنا ہیں، اس لیے انھوں نے میری جنگ بندی اپیل کو تسلیم کیا اور یوں یہ جنگ صرف تین روز میں ہی اختتام پذیر ہوئی۔

انھوں نے پاکستانی افواج کے سپہ سالار اعلیٰ کو غیر معمولی خراج عقیدت پیش کیا۔ کہا وہ جرأت مند انسان، بہادر فوجی اور نڈر سپہ سالار ہیں اور ان کی فیلڈ مارشل کی حیثیت میں خدمات لائق تحسین ہیں ان کی جنگی قیادت بہت اہم رہی مگر وہ بھی امن کے شناسا تھے اس لیے انھوں نے بھی میری امن کی تجاویز سے اتفاق کیا۔ پاکستان کی مدح سرائی کچھ بے معنی نہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انھوں نے قیام امن کی یہ تحریک جو شروع کی ہے یہ دراصل سلامتی کونسل کا کام تھا مگر خود سلامتی کونسل کے ممبران ہی اس تحریک میں ان کے ہم نوا نہیں بن سکے۔ صدر ٹرمپ نے اس پر سرسری سا تبصرہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ کام ان کے کرنے کا تھا تو مگر اب یہ ذمے داری گویا ان کے سر آ پڑی ہے اور وہ اسے نبھا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک طرف امن کی فاختائیں اڑائی ہیں تو دوسری طرف دھمکیاں دینے سے بھی باز نہیں آئے۔ انھوں نے توقع ظاہر کی ہے اور یہ صرف توقع نہیں بلکہ ایران پر لازم کر دیا ہے کہ وہ چند دن کے اندر اندر امریکا سے معاہدہ امن کرے ورنہ۔۔ ۔ ۔اسی طرح انھوں نے حماس سے بھی ’’ توقع‘‘ ظاہر کی ہے کہ وہ جلد ازجلد اپنے ہتھیار پھینک دے گی۔ اور یہ پھینکنا اس طرح ہوگا کہ امریکا کو اطمینان ہوجائے کہ حماس اب ہتھیاروں سے پاک ہو چکی ہے۔صدر ٹرمپ کی یہ توقعات کس حد تک پوری ہو سکیں گی اور اگر پوری نہ ہوئیں تو ان کی ان امن کی کوششوں کا کیا ہوگا جو انھوں نے اقوام متحدہ کو نظرانداز کرکے خود اپنے ذمہ لے لی ہیں۔ یہ وقت ہی بتا سکے گا۔

دریں اثنا خود صدر ٹرمپ نے بتایا ہے کہ غزہ کے لیے عالمی استحکامی فورس کا قیام بھی عمل میں آیا ہے جس کے تحت مراکش، البانیہ، کوسوو اور قازقستان اپنی فوج اور پولیس غزہ بھیجیں گے اور مصر اور اردن وہاں متعین فوج اور پولیس کو تربیت فراہم کریں گے۔ ترکیہ نے بھی بین الاقوامی امن فوج کے لیے اپنی فوج ارسال کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ قطر نے قیام امن کے اقدامات کے لیے ایک ارب ڈالرکی امداد دی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کی نیک خواہشات اور تعاون سے قیام امن تو ممکن ہو سکے گا مگر اہل غزہ کو اس جنگ میں لگنے والے زخم کون مندمل کر سکے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

دہشت گردی کی علانیہ جنگ

Published

on


پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے۔ ایک طرف بھارت اور اسرائیل باہمی گٹھ جوڑ اور دوسری طرف بھارت افغانستان گٹھ جوڑ پاکستان اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر سامنے کھڑا ہے ۔اسی بنیاد پر حالیہ دنوں میں پاک افغان سطح پر دونوں اطراف سے جنگ اور کشیدگی کا ماحول یا جنگ جاری ہے۔ حالیہ جنگی ماحول دونوں ممالک سمیت خطہ کے لیے نئے خطرناک رجحانات کو جنم دیتا ہے ۔روسی وزارت خارجہ کی ایک تازہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے23ہزار دہشت گرد جنگجو موجود ہیں جن میں نصف سے زیادہ غیر ملکی ہیں ۔افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔اسی رپورٹ کے مطابق داعش کے تقریبا تین ہزار جب کہ ٹی ٹی پی کے پانچ سے سات ہزار دہشت گرد افغان سرزمین پر موجود ہیں ۔اسی طرح القائدہ اور دیگر گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلارہے ہیں ،افغانستان القائدہ کے لیے علاقائی روابط اور تربیت کا اہم مرکز بنا ہوا ہے ۔القائدہ کے تربیتی مراکز غزنی،لغمان،کنٹر، ہار، نورستان ،پروان اور ارزگان سمیت مختلف صوبوں میں موجود ہیں۔ داعش خراسان سمیت دیگر افغانستان کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں مضبوط نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہیں اور اس کا طویل المدتی ہدف وسطی ایشیا تک پھیلاو کے زریعے نام نہاد خلافت کا قیام ہے ۔

بنیادی طور پر اس وقت پاکستان اور افغانستان میں موجود طالبان حکومت کے درمیان ایک دوسرے کے بارے میں سخت بداعتمادی کی لہر پائی جاتی ہے ۔حالیہ دنوں میں جس طرح سے دہشت گردوں نے افغان سرزمین سے پاکستان کے علاقوں پر حملے کیے ہیں اور جس انداز میں سیکیورٹی اداروں اور فورسز کو نشانہ بنایا جارہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہو رہا ہے بلکہ اس کھیل کے پیچھے جہاں اس کے سیاسی مقاصد ہیں وہیں یہ کام دہشت گردوں کی بغیر سہولت کاری کے ممکن نہیں ۔اس کا مقصد جہاں پاک افغان تعلقات کو متاثر کرنا ہے وہیں خطہ کی مجموعی صورتحال میں کشیدگی اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے ۔اس کے لیے بطور ہتھیار افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے ۔لیکن ان معاملات میں افغان طالبان حکومت کا مسلسل پاکستان کی حمایت نہ کرنا یا اس کے تحفظات کو نظرانداز کرکے تحریک طالبان پاکستان کی عملی سرپرستی کی وجہ سے معاملات میں اور زیادہ کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔پاکستان نے معاملات کی بہتری کے لیے سعودی عرب، قطر،ترکی ،چین ،روس سمیت امریکا کی جو سفارتی سطح پر مزاکرات کی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی جو کوشش کی اس کے بھی ابھی تک بہتر نتائج نہیں مل سکے ہیں۔پاکستان کی کوشش تھی کہ افغان حکومت تحریری طور پر اس بات کی ضمانت دے کہ اس کی اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہوگی ،مگر افغان حکومت نے اس طرز کی کسی بھی قسم کی تحریری ضمانت دینے سے انکار کردیا ہے۔اسی طرح پاکستان میں بھارت اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے پاکستان دشمنی پر مبنی تعلقات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ افغان حکومت پاکستان کی قیمت پر دہلی کی طرف دیکھ رہی ہے اور اس کا مقصد مسلسل ہمیں غیر مستحکم رکھنے کی پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔ایک طرف پاکستان کو اپنے سیاسی دشمنوں کے ساتھ روائتی جنگ کا سامنا ہے تو دوسری طرف اب جو جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے اس میں جدیدیت کی بنیاد پر لڑی جانے والی جنگوں کی حکمت عملی بھی شامل ہے۔اسی طرح جب دشمن اکیلاہی نہ ہوبلکہ اس کے ساتھ اس کی معاونت میں پاکستان دشمنی میں بڑے بڑے سہولت کار ہو ں جو ان کی مکمل سرپرستی کررہے ہوں تو جنگ لڑنا اور بڑا چیلنج بن جاتا ہے ۔

اس وقت اگر ہم پاک افغانستان تناظر میں دیکھیں تو ہمیں چند بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ان میں سرحد پار دہشت گردی کا مسلسل بڑھتا ہوا خطرہ اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ، ڈیورنڈ لائن کی متنازع سرحد اور اس کی موثر نگرانی،اب تک صورتحال میں مسلسل ہمارے جوانوں کی شہادتیں،سرحد پار بندشیں، علاقائی اسٹرٹیجک صورتحال میں بڑھتا ہوا تناؤ اور کشیدگی یا بداعتمادی کا ماحول جیسے امور شامل ہیں ۔ یہ بات تواتر سے لکھتا رہا ہوں کہ اس خطہ میں دہشت گردی کی جنگ کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر خطہ اور خطہ میں شامل تمام ممالک کا مشترکہ مسئلہ یا ایجنڈا ہونا چاہیے۔اس لیے اس جنگ سے نمٹنے کے لیے تمام علاقائی اور عالمی ممالک اور ان کے درمیان ایک مشترکہ حکمت عملی درکار ہے جو اعتماد سازی اور ایک دوسرے پر بھروسہ کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتا ہے ۔لیکن المیہ یہ ہے کہ علاقائی ممالک ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے اور بالخصوص اس میں اس وقت بھارت اور افغانستان کا مجموعی کردار دوستی سے زیادہ دشمنی پر مبنی نظر آتا ہے ۔

اسی طرح ہمیں اس محاذ پر کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے ۔بھارت ایک طرف ٹی ٹی پی کی سرپرستی کرتا ہے تو دوسری طرف اس بات کے شواہد بھی ہیں کہ بی ایل اے کو بھی بلوچستان کے تناظر میں بھارت کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔یہ جو حال ہی میں پاکستان کی سینیٹ سے بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ کے خلاف مشترکہ قرار داد منظور ہوئی ہے اسے بھی اسی تناظر میں جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے ۔نریندر مودی کا دورہ اسرائیل اور وہاں اربوں ڈالر کے جنگی معاہدوں کے امکانات بھی ان کے خطہ میں جنگی عزائم کو نمایاں کرتا ہے۔پاکستان کو اس وقت داخلی سطح کی سیاست میں خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں سرحد پار کاروائیوں کا سامنا ہے اور اس پر پاکستان کو عملی طور پر دو محاذی خطرات یعنی بھارت اور افغانستان کی صورت میں موجود ہے ۔ پچھلے کچھ دنوں سے وفاقی حکومت اور کے پی حکومت میں اعتماد کا پہلو دیکھنے کو ملا ہے اور وزیر اعظم، وزیر اعلی ملاقات ،اپیکس کمیٹی میں سب کی شرکت کچھ مثبت اشارے ہیں لیکن اس پر مزید سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر کام کرکے اعتماد سازی کے ماحول کو اور زیادہ مضبوط بنانا ہوگا۔ حالیہ دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا بلکہ اس میں زیادہ تدبر اور سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر ٹکراو سے گریز کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ یہ ہی حکمت عملی ہمیں کسی نہ کسی سطح پر بلوچستان میں بھی اختیار کرنا ہوگی اور اس میں کچھ نئی جہتوں کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ہوگا۔

پاکستان کے لیے یہ نقطہ بھی اہم ہے کہ کیا وجہ ہے کہ عالمی دنیا یا علاقائی ممالک بھارت اور افغانستان پر کوئی بڑا دباو ڈالنے میں ناکامی سے دوچار ہیں مسئلہ محض ناکامی کا ہے یا ان کی طرف سے سخت دباو کی پالیسی کے نہ ہونے کا بھی ہے ۔یہ نقطہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہمیں اس جنگ سے نمٹنے میں سفارت کاری اور ڈپلومیسی کے محاذپر نہ صرف سرگرم اور متحرک ہونا ہوگا بلکہ کچھ غیر معمولی اقدامات کی بنیاد پر سفارت کاری کے محاذ پر اپنا مقدمہ لڑنا ہوگا۔ہمارے لیے یہ بات زیادہ تشویش کا پہلو ہے کہ ماضی کے مقابلے میں گزرے برس2025میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں 34فیصد اضافہ ہوا ہے ۔یہ ہی وہ چیلنج ہے جو مسلسل پاکستان کی داخلی سلامتی کو متاثر کررہا ہے اور اس کا براہ راست اثر سیاست اور معیشت کے عدم استحکام کی صورت میںسامنے آرہا ہے ۔کیونکہ بنیادی بات ہے جس ریاست میں دہشت گردی ایک بڑے خطرے کے طور پر موجود ہویا ہمارے سروں پر کھڑی ہوتو وہاں بیرونی سرمایہ کار تو کجا خود ہمارے اپنے سرمایہ کار بھی اپنی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہونگے ۔ایک طرف معیشت کا بحران اور دوسری طرف سیاسی عدم استحکام یا سیاسی رسہ کشی یا سیاسی کشیدگی یا سیاسی دشمنی کے کھیل نے دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے میں اور زیادہ چیلنجز کو مشکل بنادیا ہے۔اس لیے ہمیں موجودہ دہشت گردی کی صورتحال میں جو غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے اس کے لیے سیاست اور سیاسی تقسیم سے بالاتر ہوکر غیر معمولی سیاسی ،انتظامی اور ادارہ جاتی اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا ۔کیونکہ یہ جنگ ہماری داخلی سلامتی کے لیے کنجی کی حیثیت رکھتی ہے اور ہمیں یہ جنگ جیتنی ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

یاد رکھئے کہ اب ناممکن بھی ممکن ہے

Published

on


محمود احمدی نژاد دو ہزار پانچ سے دو ہزار تیرہ تک ایران کے صدر رہے۔بعد ازاں کھلی کھلی گفتگو کے سبب ان کے اعلی قیادت سے اختلافات بڑھتے چلے گئے۔دو ہزار چوبیس کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے انھوں نے جو کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے وہ بھی مسترد ہو گئے۔آخری برسوں میں وہ مشرقی تہران میں اپنے گھر تک محدود کر دیے گئے اور چار روز قبل اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے۔

احمدی نژاد اسرائیل کے کھلے نظریاتی دشمن تھے۔دو ہزار پانچ میں انھوں نے اپنے اس بیان سے بین الاقوامی شہرت پائی کہ اسرائیل کو صفحہِ ہستی سے مٹ جانا چاہیے۔وہ نازی ہالوکاسٹ ( یہودی نسل کشی ) کو ایک صیہونی ڈرامہ قرار دیتے تھے جس کے ذریعے اسرائیل برس ہا برس سے دنیا کو بلیک میل کرتا آیا ہے۔

دو ہزار نو میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود احمدی نژاد نے اسرائیل کو ایک نسل پرست عالمی ناسور قرار دیا۔چنانچہ اسرائیل کے حامی کئی ممالک اس اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔

اکتوبر دو ہزار چوبیس میں احمدی نژاد نے امریکی نیوز چینل سی این این ٹرکش کو زوم پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ سابق صدر حسن روحانی کے دور میں ایرانی اداروں میں موساد کے ایجنٹوں کی نشاندھی اور قلع قمع کے لیے بیس ایجنٹوں پر مشتمل جو کاؤنٹر انٹیلی جینس یونٹ قائم کیا گیا اس کے سربراہ سمیت تمام اہلکار ڈبل ایجنٹ نکلے۔ان میں سے بہت سے دو ہزار اکیس میں بھانڈا پھوٹنے کے بعد فرار ہو گئے اور اسرائیل نے انھیں پناہ دے دی۔

ان ایجنٹوں نے اسرائیل کو ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں حساس ترین معلومات پہنچائیں۔بالخصوص دو ہزار اٹھارہ میں موساد جوہری پروگرام سے متعلق سیکڑوں گیگا بائٹ ڈیٹا چوری کرنے میں کامیاب رہی۔اس ڈیٹا کو صدر ٹرمپ نے دو ہزار پندرہ میں ایران سے کیے گئے بین الاقوامی جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کا بہانہ بنایا اور حساس مواد کو نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں بطور حوالہ شامل کیا۔

نومبر دو ہزار بیس میں موساد ایجنٹوں نے ایران کے اعلی جوہری سائنسدان محسن فخری زادے کو ایک کمپیوٹرائزڈ مشین گن کے ذریعے قتل کیا۔اس کے بعد اس مشین گن کو ریموٹ کنٹرول سے تباہ کر دیا گیا۔

 جولائی دو ہزار چوبیس میں حماس کے سربراہ اسماعیل حانیا ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے جنازے میں شرکت کے لیے تہران پہنچے۔انھیں جس اپارٹمنٹ میں ٹھہرایا گیا اسے میزائیل سے نشانہ بنایا گیا۔اس واردات میں سوائے اپارٹمنٹ کے باقی عمارت محفوظ رہی۔یہ عمارت پاسدارانِ انقلاب کا ہائی سیکیورٹی گیسٹ ہاؤس تھا۔ گیسٹ ہاؤس کے عملے سمیت درجنوں انٹیلی جینس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔

ستمبر دو ہزار چوبیس میں اسرائیل نے جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ اور ان کے متعدد ساتھیوں کو شدید بمباری کر کے قتل کیا۔اس واردات کے بعد فرانسیسی اخبار ’’ لا پیریسیاں ‘‘ میں یہ رپورٹ شائع ہوئی کہ حسن نصراللہ کی اس مقام پر موجودی کی رئیل ٹائم انفارمیشن اسرائیل کو بیروت میں ایک ایرانی ذریعے نے فراہم کی تھی۔

جون دو ہزار پچیس میں بارہ روزہ جنگ کے پہلے ہی دن ایران کے دس جوہری ماہرین اور فوج کی اعلی قیادت صاف ہو گئی۔جنگ کے بعد سیکڑوں گرفتاریاں ہوئیں۔متعدد افغان پناہ گزین پکڑے گئے چنانچہ لاکھوں پناہ گزینوں کو افغانستان میں دھکیل دیا گیا۔مگر موساد اور سی آئی اے کا جال پھر بھی نہ ٹوٹ سکا۔

اس کا ثبوت رہبرِ اعلی علی خامنہ ای کی رحلت سمیت وزیرِ دفاع عزیز ناصر زادے ، فوجی کونسل کے سربراہ علی شمخانی ، ڈپٹی انٹیلی جینس منسٹر محمد شیرازی ، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور اور پاسداران کے فضائی ونگ کے سربراہ ماجد موسوی سمیت ایک ہی دن میں ایک ہی چھت تلے چالیس سے زیادہ اعلی اہلکاروں کا خاتمہ ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق اصولی طور پر اسرائیل اور امریکا نے دسمبر میں ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ جوہری صلاحیت کے ساتھ ساتھ ایرانی میزائل نظام بھی ختم کرنا ہے۔فروری میں جب ایران میں سرکار مخالف ہنگامے شروع ہوئے اور انھیں پرتشدد انداز میں دبایا گیا تو ’’ رجیم چینج ‘‘ کی کوشش بھی منصوبے کا حصہ بن گئی۔چنانچہ امریکا نے دو طیارہ بردار اسٹرائیک فورسز کو علاقے میں پہنچنے کا حکم دیا۔

ایران میں پرتشدد ہنگاموں کے بعد اسرائیل اور امریکا کے اعلی فوجی و سیاسی منصوبہ سازوں کی تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان نقل و حرکت میں غیر معمولی تیزی آ گئی۔ایران مذاکرات کی میز پر لایا گیا مگر اس کے سامنے ایسی شرائط رکھی گئیں جنھیں وہ یکسر مسترد کر دے۔یعنی مذاکرات کا مقصد مطلوبہ فوجی قوت کے اجتماع اور منصوبہ بندی مکمل کرنے کے لیے وقت حاصل کرنا تھا۔

ایرانیوں کو اچھے سے معلوم تھا کہ ان کے اعلی ترین اہلکاروں کی نقل و حرکت کی زمین ، فضا اور خلا سے پل پل کی نگرانی ہو رہی ہے اور اسی طرح کی کارروائی ہو سکتی ہے جس طرح اچانک بارہ اور تیرہ جون کی درمیانی شب ہوئی تھی۔اس کے باوجود یہ فرض کر لیا گیا کہ کم ازکم ایران کی اعلی ترین سیاسی قیادت کو دن دہاڑے نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔کیونکہ آج تک دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوا لہذا اب بھی ایسا نہیں ہو گا۔

شائد اسی سوچ کے تحت علی خامنہ ای صاحب کو کسی محفوظ بینکر میں منتقل نہیں کیا گیا اور سنیچر کی صبح انھی کے دفتر میں اعلی قیادت کا اجلاس رکھ لیا گیا۔جیسے ہی یہ اطلاع تل ابیب پہنچی۔اس نے واشنگٹن سے رابطہ کیا کہ ایسا شاندار موقع کبھی کبھار ہی ملتا ہے۔چنانچہ باہمی رضامندی سے حملے کے پلان میں ہنگامی تبدیلی کی گئی اور اسرائیلی فضائیہ اور خلیجِ اومان میں موجود ایر کرافٹ کیریر کے جہازوں کو اڑان بھرنے کا اذن دے دیا گیا۔اور پھر رہبرِ اعلی کے کمپاؤنڈ میں ان تین مرکزی کمروں پر دو دو ہزار پاؤنڈ کے بینکر بسٹر میزائل داغے گئے جہاں ایران کی اعلی قیادت کو بیٹھ کر اگلا ’’ مذاکراتی ‘‘ لائحہ عمل طے کرنا تھا۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Trending