Today News
سندھ طاس معاہدہ اور بھارت کی ہٹ دھرمی !
سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty ) 19 ستمبر 1960 کو عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا’ پانی کی اس تقسیم کے معاہدہ کے تحت پاکستان کو مغربی دریاؤں( سندھ’ جہلم اور چناب) جب کہ بھارت کو مشرقی دریاؤں (راوی ‘ بیاس اور ستلج کا کنٹرول ملا’ مگر بھارت اس اہم معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں پن بجلی کے منصوبے مثلا ( کشن گنگا) بنا رہا ہے جسے اگر آبی جارحیت کہا جائے تو بے جانہ ہو گا’ چونکہ بھارت کوان دریاؤں پر محدود بجلی بنانے کی اجازت ملی تھی اس لیے وہ پانی روکنے کا کسی صورت حق نہیں رکھتا ‘ اسی لیے پاکستان کو بھارت کے اس غیر اخلاقی اور غیر قانونی عمل پر شدید تحفظات ہیں’ یہ معاہدہ پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے جس کی خلاف ورزی سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے ‘ زرعی ملک ہونے کے ناتے پاکستان میں فصلوں کی کاشت کا زیادہ تر دارومدار دریاؤں سے پانی کی آمد پر ہوتا ہے ایسے میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے کافی اہم ہے۔
اس معاہدہ کی ضرورت 1948میں اس وقت محسوس ہوئی جب بھارت نے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کر دیا تھا ‘ چنانچہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 19 ستمبر1960میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا ‘ اس معاہدہ کے تحت دریائے سندھ سے ہر سال آنے والے مجموعی طور پر 168 ملین ایکڑ فٹ پانی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کیا گیا جو 133 ملین ایکڑ فٹ بنتا ہے جب کہ بھارت کو مشرقی دریاؤں جیسے راوی’ بیاس اور ستلج کا کنٹرول دے دیا گیا تھاچونکہ مغربی دریاؤں میں کئی کا منبع بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں تھا اس لیے بھارت کو 3 اعشاریہ 6 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے اور محدود حد تک آبپاشی اور بجلی کی پیداوار کی اجازت دی گئی لیکن بھارت نے معاہدے کی اس شق کو پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا’ بھارت کی طرف سے ماضی میں متعدد بار اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور بھارت دریاؤں پر پن بجلی منصوبے تعمیر کر کے پاکستان آنے والے پانی کو متاثر کررہا ہے ‘ گزشتہ تین سال سے بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنرز کا اجلاس بھی نہیں ہو سکا۔
دونوں ممالک کے درمیان انڈس واٹرکمشنرز کا آخری اجلاس 30 اور31مئی 2022 کو نئی دہلی میں ہوا تھا سندھ طاس معاہدہ کے تحت سال میں دونوں ممالک کے کمشنرز کا اجلاس ایک بار ہونا ضروری ہے ‘ واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت کوئی ملک سندھ طاس معاہدہ کو یکطرفہ طور پر نہیں توڑسکتا حتیٰ کہ حالت جنگ ہو یا حالت امن اس معاہدہ کی دونوں ممالک پر پاسداری ضروری ہے ‘ پانی کو ہتھیار بنانا جنگی جرم اور انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے کیونکہ یہ معاہدہ کروڑوں لوگوں کی زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ دریائے سندھ پاکستان کا سب سے بڑا دریا ہے اور زرعی آبپاشی’ بجلی کی پیداوار’ ماہی گیری’ نقل و حمل اور کئی وجوہات کی بناء پر پاکستان کی معیشت میں یہ اہم اوروسیع دریا کلیدی کردار ادا کرتا ہے مگر پلاسٹک اور بڑھتی ہوئی آلودگی اس دریا کی آبی حیات اور دریا سے متصل مختصر آبادیوں اور ان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ ماحول اور اس عظیم دریا کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان اور امریکا مل کر گرین الائنس کے تحت پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے نمنٹنے اور قابل تجدید توانائی’ زراعت اور پانی کے انتظام میں تعاون کوفروغ دینے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
موجودہ حکومت پاکستان ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ ماحول کو پرفضا اور پرکشش بنانے کے لیے مختلف میگا پراجیکٹس کے ذریعے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔ کشمیر سندھ طاس معاہدہ کی مکمل پاسداری اور اس حوالہ سے انسانی حقوق کے تحفظ اور عالمی بینک کی ثالثی میں پانی کی تقسیم کے اس معاہدہ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ امن اورقابل قبول کردار ادا کیا ہے لیکن بھارت جو پاکستان کا روایتی دشمن ہے نے ہمیشہ ہر اچھے اور بہتر کام میں رکاوٹیں اور رخنے ڈال کر معاملات کو بری طرح بگاڑنے ‘ جنگ و جدل کا ماحول پیدا کرنے اور پاکستان کے خلاف گھناؤنی سازشیں تیار کرنے میں اپنا بھونڈا’ منفی اور ضرر رساں کردار ادا کیا ہے ۔ یہ بات پوری دنیا کے لیے ناقابل قبول اور تشویش کا باعث ہے کہ بھارت پاکستان کے پانی کو روک کر ایک بار پھر پانی پر جنگ کے شعلوں کو بھڑکانے میں مصروف ہے ‘ اسے یہ نہیں معلوم کہ اس گھناؤنی حرکت کے جواب میں پاکستان اسے دندان شکن شکست سے دوچارکر سکتا ہے ‘ہماری پاک مسلح افواج جو اپنی بہادری ‘ ہنر مندی اور بے مثال عسکری صلاحیت کے اعتبار سے پوری دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں ‘ بھارت سرکار کی عقل ٹھکانے لگا سکتی ہیں’ عالمی سطح پر بھی وقت کی مہذب اور حق پرست اقوام بھارت کو اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گی ‘ اس لیے بھارت پر لازم ہے کہ وہ کشمیر سندھ طاس معاہدہ کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے معاہدہ کے تحت پانی کے مناسب اور جائز استعمال کو یقینی بنائے ۔
کسی دوسرے ملک کا پانی روکنا سنگین جرم ہے ‘ یہ وہ دریا ہے جو مقبوضہ کشمیر سمیت پاکستان کے بیشتر حصوں میں اپنی رسائی رکھتا ہے اس لیے اس پر زیادہ سے زیادہ حق پاکستان کا ہے ‘ ہم سندھ طاس معاہدہ پر عمل درآمد کوہرحال میں یقینی بنا کر اپنے حق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حکومت پاکستان اور پوری پاکستانی قوم کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ کشمیر سندھ طاس معاہدہ کے تحت بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز رہے اور محدود پانی اپنے پاس رکھ کر اپنی ضرورتوں کو پورا کرے ‘ بجلی اور دیگر معاملات میں پانی کا زیادہ ذخیرہ کرنے سے گریز کرے ‘ یہ سراسر نا انصافی ہٹ دھرمی اورہماری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے مترادف بات ہو گی ‘ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں بھارت جنگی جنون سے گریز کرے ‘ ورنہ اسے شکست فاش ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی اور اقتصادی طور پر شدید نقصان اٹھانا پڑے گا’ ہم اسے اپنا پانی روکنے کی ذرا بھر اجازت نہیں دیں گے کیونکہ دریاؤں کے جس پانی پر پاکستان کا زیادہ حق ہے جسے عالمی بینک سمیت پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔
Today News
کراچی، لیاقت آباد سی ایریا میں پولیس مقابلے میں دو اسٹریٹ کرمنلز زخمی حالت میں گرفتار
کراچی:
شہر قائد میں سپر مارکیٹ پولیس نے لیاقت آباد سی ایریا گجر نالے کے قریب مبینہ مقابلے کے دوران اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث 2 ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت غلام عباس اور وزیر کے نام سے کی گئی جن کے قبضے سے 2 پستول ، لوڈ میگزین اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔
گرفتار ملزمان کو فوری طوری طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ پولیس ان کا کرمنل ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہے ۔
Today News
آسمان پر بلڈ مون کا خوبصورت منظر، رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن آج ہو گا
کراچی:
رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن آج منگل کو ہوگا جس کا نظارہ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں کیا جا سکے گا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق یہ فلکیاتی منظر نہایت دلکش ہوگا اور آسمان پر چاند سرخی مائل رنگ اختیار کر لے گا، جسے عام طور پر “بلڈ مون” بھی کہا جاتا ہے۔
پاکستان میں چاند گرہن کا آغاز دن 1 بجکر 44 منٹ پر ہوگا، جبکہ دوپہر 2 بجکر 50 منٹ پر چاند کو باقاعدہ گرہن لگنا شروع ہوگا۔
شام 4 بجکر 5 منٹ پر مکمل چاند گرہن کا آغاز ہوگا اور 4 بجکر 34 منٹ پر یہ اپنے عروج پر پہنچ جائے گا، جب چاند مکمل طور پر زمین کے سائے میں ہوگا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شام 5 بجکر 3 منٹ پر مکمل گرہن ختم ہونا شروع ہوگا، جبکہ جزوی گرہن کا اختتام شام 6 بجکر 17 منٹ پر ہوگا۔ رات 7 بجکر 23 منٹ پر چاند گرہن مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں چاند طلوع ہونے کے وقت گرہن جزوی طور پر دکھائی دے گا، جس کے باعث شہریوں کو ایک منفرد فلکیاتی منظر دیکھنے کا موقع ملے گا۔
یہ چاند گرہن ایشیا، آسٹریلیا، شمالی و جنوبی امریکا اور دیگر کئی علاقوں میں بھی دیکھا جا سکے گا۔
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ چاند گرہن کو دیکھنے کے لیے کسی خصوصی عینک کی ضرورت نہیں ہوتی اور اسے محفوظ طریقے سے براہ راست دیکھا جا سکتا ہے۔
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کھلے آسمان تلے اس خوبصورت قدرتی نظارے سے لطف اندوز ہوں۔
Today News
کراچی، اسٹیل مل سے اسکریپ چوری میں ملوث 4 ملزمان گرفتار
کراچی:
شہر قائد میں بن قاسم پولیس نے اسٹیل مل سے اسکریپ کی چوری میں ملوث 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا جس میں خود کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کا اہلکار ظاہر کرنے والا ملزم بھی شامل ہے۔
ترجمان ڈسٹرکٹ ملیر کے مطابق بن قاسم پولیس نے خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاع پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسٹیل مل سے لوہا اور اسکریپ کی چوری میں ملوث 4 ملزمان جہانگیر ، عبدالرحیم ، عقیل احمد اور عادل عرف عدیل کو گرفتار کر کے 35 کلو سے زائد کاپر وائر برآمد کرلیا۔
ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان کا گروہ علاقے میں اسکریپ چوری کی وارداتوں میں ملوث ہے جبکہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم عقیل احمد نے خود کو پاکستان رینجرز کا اہلکار ظاہر کیا تھا جسے ادارے نے ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔
گرفتار ملزمان چوری شدہ اسکریپ مختلف گوداموں میں فروخت کرتے تھے جس کی مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہے۔
جبکہ بن قاسم پولیس گرفتار ملزمان کا کرمنل ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہے ، پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے ۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech7 days ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
prime minister visit austria focus trade investment economic cooperation
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا