Connect with us

Today News

جنگ کے بادل اور امن کی فاختائیں

Published

on


بالآخر امن بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوگیا۔ اس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی اور اعلان کیا کہ امریکا غزہ کی تعمیر نو کے لیے دس ارب ڈالر امداد دے گا۔یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ غزہ کی بربادی میں بھی امریکا کی خاموش امداد کو بڑا دخل تھا۔ وہ اسرائیل کی سرپرستی کرتا رہا اسے مہلک ہتھیار فراہم کرتا رہا، اسے غزہ پر حملے کرنے کی کھلی چھٹی دینے میں بھی اس کا ہاتھ رہا اور اب جب کہ غزہ کھنڈر میں تبدیل ہو گیا ہے اور اس کے باسی اب خیمہ نشیں ہو چکے ہیں تو امریکا کو ان پر ترس آ گیا ہے اور ان کی تعمیر نو کے لیے اس نے آواز بلند کی ہے۔

یہ تعمیر نو اس طرح ہو گی کہ مغربی کنارے کے بعض حصوں پر اس جنگ کے دوران اسرائیل نے غاصبانہ قبضہ کر لیا ہے اور اس طرح اسرائیلی مملکت کی سرحدوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کیا تعمیر نو میں یہ بات شامل ہوگی؟ اسرائیل سے حالیہ مقبوضات کو چھڑایا جا سکے اور فلسطین کی واحد ریاستی حیثیت کو تسلیم کیا جائے اگر یہ نہ ہو سکے تو غزہ کی تعمیر نو اسرائیل کے لیے نئے دسترخوان کی طرح ہوگی۔

غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں روس، چین اور اقوام متحدہ کے مستقل ممبران کی اکثریت نے شمولیت اختیار نہیں کی۔ جو ممالک اس اجلاس میں شریک ہوئے انھوں نے 7 ارب ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔پاکستان نے بھی ہچکچاہٹ کے ساتھ اس بورڈ میں شرکت کا اعلان کیا اور واضح کر دیا کہ پاکستان ایک اور صرف ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے اور وہ مغربی کنارے پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تسلط کو کسی طور تسلیم نہیں کرے گا، لیکن اب یہ تو وقت بتائے گا کہ یہ موقف تسلیم بھی کیا جائے گا یا یہ سب باتیں آگے چل کر ہوا ثابت ہوں گی۔

اپنی صدارتی تقریر میں صدر ٹرمپ اپنے کارناموں کی تفصیل پر خود ہی روشنی ڈالتے رہے۔ کہا کہ انھوں نے 8 جنگیں رکوائی ہیں جن میں ایک جنگ ایسی بھی تھی جو سالہا سال سے جاری تھی اور خوں ریزی کے علاوہ اس کا کچھ حاصل نہ تھا، میں نے اسے بھی رکوایا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کو بھی انھوں نے رکوایا۔ اس جنگ میں 11 طیارے مار گرائے گئے تھے مگر پاکستانی قیادت نے میرے کہنے پر جنگ سے گریز کیا اور اس طرح دونوں ممالک مزید تباہی سے بچ گئے۔اسی سلسلے میں انھوں نے پاکستانی قیادت کی تعریف و توصیف بھی کی، جو ان کی طرف سے سرٹیفکیٹ کی حیثیت رکھتی تھی۔ کہا کہ وزیر اعظم پاکستان ایک معاملہ فہم انسان ہیں، انسانی اقدار کو سمجھتے ہیں۔ جنگ کی تباہ کاریوں سے آشنا ہیں، اس لیے انھوں نے میری جنگ بندی اپیل کو تسلیم کیا اور یوں یہ جنگ صرف تین روز میں ہی اختتام پذیر ہوئی۔

انھوں نے پاکستانی افواج کے سپہ سالار اعلیٰ کو غیر معمولی خراج عقیدت پیش کیا۔ کہا وہ جرأت مند انسان، بہادر فوجی اور نڈر سپہ سالار ہیں اور ان کی فیلڈ مارشل کی حیثیت میں خدمات لائق تحسین ہیں ان کی جنگی قیادت بہت اہم رہی مگر وہ بھی امن کے شناسا تھے اس لیے انھوں نے بھی میری امن کی تجاویز سے اتفاق کیا۔ پاکستان کی مدح سرائی کچھ بے معنی نہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انھوں نے قیام امن کی یہ تحریک جو شروع کی ہے یہ دراصل سلامتی کونسل کا کام تھا مگر خود سلامتی کونسل کے ممبران ہی اس تحریک میں ان کے ہم نوا نہیں بن سکے۔ صدر ٹرمپ نے اس پر سرسری سا تبصرہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ کام ان کے کرنے کا تھا تو مگر اب یہ ذمے داری گویا ان کے سر آ پڑی ہے اور وہ اسے نبھا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک طرف امن کی فاختائیں اڑائی ہیں تو دوسری طرف دھمکیاں دینے سے بھی باز نہیں آئے۔ انھوں نے توقع ظاہر کی ہے اور یہ صرف توقع نہیں بلکہ ایران پر لازم کر دیا ہے کہ وہ چند دن کے اندر اندر امریکا سے معاہدہ امن کرے ورنہ۔۔ ۔ ۔اسی طرح انھوں نے حماس سے بھی ’’ توقع‘‘ ظاہر کی ہے کہ وہ جلد ازجلد اپنے ہتھیار پھینک دے گی۔ اور یہ پھینکنا اس طرح ہوگا کہ امریکا کو اطمینان ہوجائے کہ حماس اب ہتھیاروں سے پاک ہو چکی ہے۔صدر ٹرمپ کی یہ توقعات کس حد تک پوری ہو سکیں گی اور اگر پوری نہ ہوئیں تو ان کی ان امن کی کوششوں کا کیا ہوگا جو انھوں نے اقوام متحدہ کو نظرانداز کرکے خود اپنے ذمہ لے لی ہیں۔ یہ وقت ہی بتا سکے گا۔

دریں اثنا خود صدر ٹرمپ نے بتایا ہے کہ غزہ کے لیے عالمی استحکامی فورس کا قیام بھی عمل میں آیا ہے جس کے تحت مراکش، البانیہ، کوسوو اور قازقستان اپنی فوج اور پولیس غزہ بھیجیں گے اور مصر اور اردن وہاں متعین فوج اور پولیس کو تربیت فراہم کریں گے۔ ترکیہ نے بھی بین الاقوامی امن فوج کے لیے اپنی فوج ارسال کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ قطر نے قیام امن کے اقدامات کے لیے ایک ارب ڈالرکی امداد دی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کی نیک خواہشات اور تعاون سے قیام امن تو ممکن ہو سکے گا مگر اہل غزہ کو اس جنگ میں لگنے والے زخم کون مندمل کر سکے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

خیبرپختونخوا میں غیرقانونی افغان مہاجرین کیخلاف آپریشن روک دیا گیا

Published

on



خیبرپختونخوا پولیس نے سرحدی صورت حال کے پیش نظر صوبے میں غیر قانونی افغان مہاجرین کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ فوری طور پر روک دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس نے سرحدی صورتحال کے باعث غیر قانونی افغان مہاجرین کی گرفتاری کا عمل روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس نے افغان مہاجرین کی پکڑ دھکڑ روک دی اور یہ فیصلہ سرحد بند ہونے پر انسانی ہمدردی کے تحت روکا گیا ہے۔

پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگلے احکامات تک افغان مہاجرین کو گرفتار نہ کیا جائے۔

سینئر پولیس افسر نے کہا کہ آئندہ حکومتی احکامات تک نئی گرفتاریاں روک دی جائیں تاہم افغان مہاجرین کا ڈیٹا مرتب کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ اگلے مرحلے میں نئے ایس او پیز کے تحت کاروائیاں ہوں گی۔



Source link

Continue Reading

Today News

امریکی فوج نے ایران پر حملوں کیلیے کون سی اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کی ؟

Published

on


ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں 550 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے جن میں آیت اللہ خامنہ ای، ان کے اہل خانہ اور اعلیٰ دفاعی افسران و کمانڈرز شامل ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس نہایت درستگی کے ساتھ کیے گئے حملے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف حملوں کے دوران سان فرانسسکو کی اے آئی کمپنی اینتھروپک کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے ٹول کلاؤڈ کو مختلف فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

رپورٹس کے مطابق اس اے آئی ٹیکنالوجی کو انٹیلی جنس تجزیے، ممکنہ اہداف کی شناخت اور جنگی منظرناموں کی مشق (وار گیمز) کے لیے استعمال کیا گیا۔

آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے اس نظام کی مدد سے بڑے پیمانے پر ڈیٹا کا تجزیہ کرکے دشمن کے ٹھکانوں اور فوجی سرگرمیوں کا اندازہ لگایا گیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل ہی وفاقی اداروں کو اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے روکنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم اس کے باوجود بعض فوجی یونٹس نے ایران کے خلاف کارروائی میں اس اے آئی سسٹم کا استعمال جاری رکھا۔

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے اے آئی کے استعمال پر پابندی اس لیے لگائی کیوں کہ کمپنی نے اپنے اے آئی ماڈلز کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا۔

امریکی حکام نے کمپنی کے فیصلے کو قومی سلامتی کے تناظر میں مسئلہ قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر دفاعی اداروں کو ٹیکنالوجی تک مکمل رسائی نہ ہو تو یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

دوسری جانب اینتھروپک نے اس پابندی کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے محدود استعمال پر پابندی غیر قانونی ہو گی اور اس سے تحقیق و ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اے آئی ٹول کلاؤڈ کو اس سے پہلے بھی کئی حساس آپریشنز میں استعمال کیا جا چکا ہے جن میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف انٹیلی جنس سرگرمیوں سے متعلق آپریشنز بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

قومی ٹیم کا دورہ بنگلا دیش؛ سینیئر کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر رکھنے پر غور

Published

on



قومی ٹیم کے دورہ بنگلا دیش کے لیے تین میچز پر مشتمل ون ڈے سیریز کے اسکواڈ میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں اور سینیئر کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان ٹیم کے اگلے بڑے ٹورنامنٹ آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ پر نظر رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے جس سے مستقبل میں ٹی 20 ورلڈ کپ 2028ء کی تیاری بہتر ہو گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹرز نئے چہرے چننے کے حق میں ہیں تاکہ مستقبل کے لیے مضبوط پلان بنایا جا سکے۔  

بنگلا دیش کے خلاف تین ون ڈے میچز 11، 13 اور 15 مارچ 2026 کو شیر بنگلا نیشنل اسٹیڈیم ڈھاکا میں شیڈول ہیں اور پاکستان ٹیم کا اسکواڈ 9 مارچ کو بنگلا دیش پہنچے گا،  تاہم خطے میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر قومی ٹیم کا یہ دورہ متاثر ہونے کا امکان ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بابر اعظم، صائم ایوب اور محمد نواز کو اس اسکواڈ سے باہر رکھنے کا امکان ہے کیونکہ سلیکشن کمیٹی اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کرنے پر غور کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اگرچہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ٹیم میں فوری تبدیلیاں نہیں کی جائیں گی کیونکہ پاکستان کو اس فارمیٹ میں فی الحال کوئی سیریز نہیں کھیلنی، لیکن ون ڈے سیریز اسکواڈ کے لیے کئی تجربہ کار کھلاڑیوں کو باہر رکھنے اور کم فارم والے کھلاڑیوں کی جگہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending