Today News
ایک پرانا قصہ – ایکسپریس اردو
مولانا خان رشید جب دارالعلوم دیوبند سے فاضل ہوکر اپنے گاؤں آیا تو اس کا ارادہ یہ ہر گز نہیں تھا کہ وہ دین کو ذریعہ روزگار بنائے گا۔ اول تو اس کی تھوڑی بہت خاندانی زرعی زمین تھی، اس میں کاشت و برداشت کرنے کا ارادہ تھا۔ دارالعلوم دیوبند میں اس نے درزی کا کام سیکھا تھا کیونکہ وہاں دینی علوم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سکھائے جاتے تھے۔لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا، گاؤں کی مسجد کا پیش امام جو کسی کوہستانی علاقے کا تھا، فوت ہوگیا تو گاؤں والوں نے اسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک وہ امامت کے لیے رضامند نہیں ہوگیا لیکن امامت شروع کرکے بھی وہ اپنی زمین میں کاشت و برداشت خود کرتا تھا۔رمضان کی آمد تھی، دس پندرہ دن رہ گئے تھے کہ اس کے پاس ایک سردار کا بلاوا آگیا۔ سردار گاؤں کے قریب ایک گڑھی کا رہائشی تھا۔ بہت بڑی جائیداد کا مالک اور دولت مند آدمی تھا۔ مولانا خان رشید نے اسے صرف دور سے دیکھا تھا اور سنا تھا کہ اچھا آدمی نہیں ہے، ہر ایسا کام جسے لوگ برا سمجھتے تھے ، وہ دھڑلے سے کرتا تھا۔
اس کے ڈیرے میں ہر وقت کھیل تماشے ہوا کرتے تھے اور بے شمار جرائم پیشہ لوگ اس کے پاس موجود رہتے تھے۔ پولیس اور سرکار دربار میں بھی اس کی پہنچ تھی اور بڑے لوگوں سے بھی یارانے تھے۔نہ وہ کبھی مسجد آیا تھا اور نہ مولانا خان رشید اس سے کبھی ملا تھا۔ اس طاقتور شخص کے بلانے پر اس کا جی تو نہیں چاہتا تھا لیکن پھر بھی یہ سوچ کر گیا کہ شاید اس میں کچھ سدھار آگیا ہو۔ وہ جب موصوف کے وسیع و عریض ڈیرے میں پہنچا تو بہت سارے لوگ ڈیرے کی سجاوٹ میں لگے ہوئے تھے ۔کچھ صفائی کررہے تھے ،کچھ چونا سفیدی اور کچھ رنگین کاغذوں کے پھریرے لگا رہے تھے۔ ڈیرے دار بیچ میں ایک سجے ہوئے پلنگ پر بیٹھا تھا۔آس پاس گاو تکیے تھے۔اس وقت ایک نوکر اسے حقہ پلارہا تھا۔مولانا خان رشید کو دیکھ کر وہ زور سے چلاتے ہوئے بولا،آہاہاہا ’’ملا صیب‘‘ آگئے ہیں ، آؤ آؤ ملا صیب۔مولانا
اس کے پاس گیا، طاقتور شخصیت نے مصافحے کے لیے صرف ایک ہاتھ بڑھایا، مصافحہ کرتے ہوئے مولانا کو اس سے نہایت ہی ناگوار بدبُو محسوس ہوئی، مولانا نے چادر کے پلو کو ناک پر رکھا۔ وڈیرے نے اپنی پائنتی کو ہاتھ مارتے ہوئے کہا،بیٹھو ’’ملاصیب‘‘۔ مولانا بیٹھ گیا، بدبُو اور تیز ہوگئی لیکن اس نے اپنی ناگواری کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔آپ نے بلایا تھا؟ اس نے پوچھا۔’’ہا ں ہاں میں نے اس لیے بلایا تھا کہ روزے پھر آرہے ہیں،ویسے ان روزوں کا اور کوئی کام ہی نہیں ہے، ابھی گئے نہیں ہوتے کہ پھر آجاتے ہیں، ٹک سلامالیکم
ہاں رمضان المبارک آنے والا ہے
یہ رمضان اور مبارک کون؟
میں روزوں کی بات کررہا ہوں بہت برکتوں والا مہینہ ہے خان۔ہوگا مجھے برکتوں کی کوئی ضرورت نہیں خدا کا دیا ہوا سب کچھ موجود ہے بس آپ کسی طرح ان روزوں سے چھٹکارا دلا دو۔یہ آپ کیا کہہ رہے روزے فرض ہیں میں کون ہوتا ہوں چھٹکارا دلانے والا۔سنا ہے تم بہت کچھ پڑھ کر آئے ہو۔ مجھے تو ان روزوں سے چھڑاؤ۔دیکھو میں سحری بھی خوب کرتا ہوں اور افطاری کے وقت تو یہاں پوری عید ہوتی ہے لیکن نشئی آدمی ہوں روزے نہیں رکھ سکتا۔روزے تو فرض ہیں خان۔کوئی اس سے معافی نہیں دلاسکتا۔ارے تم ملا لوگوں کے پاس وہ جو کتاب ہوتی ہے اس سے مسئلہ نکالونا۔ کتاب تو قرآن ہے اور اس میں روزے فرض ہیں۔نہیں میں قرآن کی نہیں اس دوسری کتاب کی بات کررہا ہوں دوسری کتاب؟
ہاں وہ جس سے تم ملا لوگ خاص لوگوں کے لیے مسئلے نکالتے ہو۔میں ایسی کسی کتاب کے بارے میں نہیں جانتا ہوں ۔ میرے داداجی خدا ان کو بارہ جنتیں نصیب کرے۔جنتیں بارہ نہیں آٹھ ہیں۔جتنی بھی ہیں سب ان کو نصیب کرے میرے داداجی کو جب اپنی بیوہ بہو سے شادی کرنے کی خواہش ہوئی تو اس وقت ملا نے اسی کتاب سے مسئلہ نکالا تھا اور میرے باباجی جب اپنی بھانجی سے…۔ایسی کوئی کتاب نہیں ہے۔
ہے ہے ہے تم نئے ہو تم کو پتہ نہیں ہوگا غم نہ کرو جتنے بھی روپے میں ملتی ہو میں دے دوں گا تم وہ کتاب ڈھونڈ کر لاؤ اور اس میں سے مسئلہ نکال کر مجھے ان روزوں سے چھٹکارا دلادو ۔میں نے کہا نا کتاب صرف قرآن ہے۔ایسی کوئی کتاب ہے ہی نہیں۔ یہ کہہ کر مولانا خان رشید کھڑا ہوگیا۔معافی چاہتا ہوں خان۔اور جانے کو قدم بڑھایا۔ٹھہرو، خان نے کہا پھر زور سے آواز دی منشی۔ آواز پر اندرسے ادھیڑ عمر کا آدمی نکلا اور خان کے پاس دوڑ کر پہنچا۔جی خان جی۔دس ہزار روپے لاؤ۔منشی نے واسکٹ کی جیب سے بنڈل نکالا۔ملا صیب کو دے دو۔اور بولا۔ ملاصیب یہ پیسے لو اور آج ہی جہاں سے بھی ہو وہ کتاب ڈھونڈ کر لاؤ۔مولانا خان رشید نے نوٹوں کے لینے سے انکار کیا۔بولے خان مجھے معاف کرنا کسی اور سے یہ کام کراوئیں اور تیزی سے باہر نکل گیا۔ لیکن کچھ دنوں بعد اس نے سنا کہ پاس کے گاؤں کے مولانا نے خان کو روزے معاف کردیے۔
خان رشید اس مولانا کو جانتا تھا کافی عالم فاضل اور نیک آدمی تھا۔یہ کیسے ممکن ہے؟اس نے سوچا اور سیدھا اس مولانا کے پاس پہنچا۔استاذجی کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے اس سردار کو روزے نہ رکھنے کا کہہ دیا؟ ہاں مولانا نے ہنستے ہوئے کہا۔مگر کیسے؟خان رشید حیران تھا۔وہ ایسے کہ اسے کلمہ آتا ہے نہ نماز، دنیا میں ایسا کوئی صغیرہ کبیرہ گناہ نہیں جو وہ نہ کرتا ہو بغیر نکاح کے بیویاں رکھے ہوئے ہے۔اس میں مسلمان ہونے کا عمل ہے کیا، جو میں اس مبارک مہینے کی اس سے توہین کراؤں۔
Today News
خیبرپختونخوا میں غیرقانونی افغان مہاجرین کیخلاف آپریشن روک دیا گیا
خیبرپختونخوا پولیس نے سرحدی صورت حال کے پیش نظر صوبے میں غیر قانونی افغان مہاجرین کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ فوری طور پر روک دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس نے سرحدی صورتحال کے باعث غیر قانونی افغان مہاجرین کی گرفتاری کا عمل روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس نے افغان مہاجرین کی پکڑ دھکڑ روک دی اور یہ فیصلہ سرحد بند ہونے پر انسانی ہمدردی کے تحت روکا گیا ہے۔
پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگلے احکامات تک افغان مہاجرین کو گرفتار نہ کیا جائے۔
سینئر پولیس افسر نے کہا کہ آئندہ حکومتی احکامات تک نئی گرفتاریاں روک دی جائیں تاہم افغان مہاجرین کا ڈیٹا مرتب کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ اگلے مرحلے میں نئے ایس او پیز کے تحت کاروائیاں ہوں گی۔
Source link
Today News
امریکی فوج نے ایران پر حملوں کیلیے کون سی اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کی ؟
ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں 550 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے جن میں آیت اللہ خامنہ ای، ان کے اہل خانہ اور اعلیٰ دفاعی افسران و کمانڈرز شامل ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس نہایت درستگی کے ساتھ کیے گئے حملے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف حملوں کے دوران سان فرانسسکو کی اے آئی کمپنی اینتھروپک کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے ٹول کلاؤڈ کو مختلف فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
رپورٹس کے مطابق اس اے آئی ٹیکنالوجی کو انٹیلی جنس تجزیے، ممکنہ اہداف کی شناخت اور جنگی منظرناموں کی مشق (وار گیمز) کے لیے استعمال کیا گیا۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے اس نظام کی مدد سے بڑے پیمانے پر ڈیٹا کا تجزیہ کرکے دشمن کے ٹھکانوں اور فوجی سرگرمیوں کا اندازہ لگایا گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل ہی وفاقی اداروں کو اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے روکنے کا حکم دیا تھا۔
تاہم اس کے باوجود بعض فوجی یونٹس نے ایران کے خلاف کارروائی میں اس اے آئی سسٹم کا استعمال جاری رکھا۔
ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے اے آئی کے استعمال پر پابندی اس لیے لگائی کیوں کہ کمپنی نے اپنے اے آئی ماڈلز کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا۔
امریکی حکام نے کمپنی کے فیصلے کو قومی سلامتی کے تناظر میں مسئلہ قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر دفاعی اداروں کو ٹیکنالوجی تک مکمل رسائی نہ ہو تو یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب اینتھروپک نے اس پابندی کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے محدود استعمال پر پابندی غیر قانونی ہو گی اور اس سے تحقیق و ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اے آئی ٹول کلاؤڈ کو اس سے پہلے بھی کئی حساس آپریشنز میں استعمال کیا جا چکا ہے جن میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف انٹیلی جنس سرگرمیوں سے متعلق آپریشنز بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔
Today News
قومی ٹیم کا دورہ بنگلا دیش؛ سینیئر کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر رکھنے پر غور
قومی ٹیم کے دورہ بنگلا دیش کے لیے تین میچز پر مشتمل ون ڈے سیریز کے اسکواڈ میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں اور سینیئر کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان ٹیم کے اگلے بڑے ٹورنامنٹ آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ پر نظر رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے جس سے مستقبل میں ٹی 20 ورلڈ کپ 2028ء کی تیاری بہتر ہو گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹرز نئے چہرے چننے کے حق میں ہیں تاکہ مستقبل کے لیے مضبوط پلان بنایا جا سکے۔
بنگلا دیش کے خلاف تین ون ڈے میچز 11، 13 اور 15 مارچ 2026 کو شیر بنگلا نیشنل اسٹیڈیم ڈھاکا میں شیڈول ہیں اور پاکستان ٹیم کا اسکواڈ 9 مارچ کو بنگلا دیش پہنچے گا، تاہم خطے میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر قومی ٹیم کا یہ دورہ متاثر ہونے کا امکان ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بابر اعظم، صائم ایوب اور محمد نواز کو اس اسکواڈ سے باہر رکھنے کا امکان ہے کیونکہ سلیکشن کمیٹی اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کرنے پر غور کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اگرچہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ٹیم میں فوری تبدیلیاں نہیں کی جائیں گی کیونکہ پاکستان کو اس فارمیٹ میں فی الحال کوئی سیریز نہیں کھیلنی، لیکن ون ڈے سیریز اسکواڈ کے لیے کئی تجربہ کار کھلاڑیوں کو باہر رکھنے اور کم فارم والے کھلاڑیوں کی جگہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
Source link
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech7 days ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Sports1 week ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition