Today News
مالی سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران تجارتی خسارے میں 25 فیصد اضافہ
رواں مالی سال 26-2025 کے پہلے 8 ماہ (جولائی تا فروری) کے دوران تجارتی خسارے میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ماہ کے دوران برآمدات کا حجم کم ہو کر دو ارب 27 کروڑ ڈالر ہو گیا ہے جو فروری 2025 کے مقابلے میں 8.7 فیصد کم تھا۔
اسی طرح جنوری 2026 میں پاکستانی برآمدات کا حجم 3 ارب ڈالر سے زائد ریکارڈ کیا گیا جو فروری میں ماہانہ تجارتی خسارہ 8.4 فیصد اضافے سے دو ارب 98 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
اداریہ شماریات کے مطابق فروری 2026 میں ماہانہ بنیاد پر برآمدات میں 25.6 فیصد کمی آئی ہے۔
Source link
Today News
ملتان سلطانز کی پی ایس ایل میں واپسی پر سابق مالک علی ترین کا ردعمل سامنے آگیا
ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین نے گُوہر شاہ اور ان کی کمپنی سی ڈی وینچرز کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے سیالکوٹ اسٹالینز کی ٹیم کا کنٹرول لے کر اسے دوبارہ ملتان سلطانز کے نام سے پاکستان سپر لیگ میں شامل کیا۔
سابق اونر علی خان ترین نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سات سال تک ملتان سلطانز کے ساتھ کام کیا اور یہ میری زندگی کے قابل فخر لمحات تھے۔
علی ترین نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ لمحہ میرے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا جب ملطان سلطانز کو پی ایس ایل سے نکال دیا گیا اور یہ صرف میرے لیے ہی نہیں بلکہ ساؤتھ پنجاب کے عوام کے لیے بھی ایک پریشان کن صورتحال تھی کیونکہ ملتان سلطانز محض ایک کرکٹ ٹیم نہیں بلکہ پورے خطے کی نمائندگی کرتی تھی۔
آخر میں انہوں نے گُوہر شاہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اب ملتان سلطانز دوبارہ لیگ میں ہے اور ساؤتھ پنجاب کو دوبارہ اس کی آواز مل گئی ہے۔
واضح رہے کہ پی سی بی اور پی ایس ایل کی منظوری سے سی ڈی وینچرز کے گوہر شاہ کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنر شپ ہوگئی ہے، اس حوالے سے باقاعدہ اعلان سلمان نصیر، حمزہ مجید اور گوہر شاہ نے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
اس سے قبل علی ترین کے ساتھ تعلقات کے سوال پر گوہر شاہ نے کہا کہ وہ ہمارے دوست ہیں، ان کو میچز دیکھنے کے لیے خوش آمدید کہیں گے۔ وہ بھی ملتان سلطانز کو بلندیوں پر دیکھنا چاہتے تھے ہماری بھی یہ ہی خواہش ہے۔
Source link
Today News
اسرائیل کا ایرانی صدر کے دفتر پر بڑا حملہ؛ متضاد اطلاعات
اسرائیلی فوج نے تہران میں واقع ایرانی صدر کے کمپاؤنڈ پر بڑا حملہ کردیا ہے جہاں مرکزی حکومت کے مرکزی دفاتر ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع سپریم لیڈر شپ کمپاؤنڈ پر فضائی حملے کیے جہاں صدارتی دفتر اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے عمارتیں موجود ہیں۔
اس حملے کا مقصد ایران کی اعلیٰ قیادت اور فیصلہ ساز اداروں کو براہِ راست نشانہ بنانا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران پر حملے کے مقاصد کے مکمل حصول میں 3 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حکومتی ترجمان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں۔
بین الاقوامی برادری نے بھی اس معاملے کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے فریقین نے تشدد میں اضافے سے بچنے کی اپیل کی ہے۔
تاحال اسرائیل کے صدارتی دفتر پر حملے میں کسی قسم کے نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای اپنے اہل خانہ سمیت آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ سیکیورٹی حکام کے ہمراہ میں شہید ہوگئے تھے۔
جس کے بعد ایران میں حکومتی امور ایک کونسل کے ذمے ہے جو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک کام کرتی رہے گی۔
Today News
ایران؛ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد سپریم لیڈر کا انتخاب کیسے ہوگا؟
ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد یہ سوال پوری دنیا میں اٹھ رہا ہے کہ اب اس ملک کا نظامِ اقتدار کس کے پاس جائے گا؟
ایران کا سیاسی ڈھانچہ کسی عام آمریت یا موروثی بادشاہت کی طرح نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور ادارہ جاتی آئینی نظام ہے جو کسی بھی بڑے بحران کے لیے دہائیوں سے تیار کیا گیا ہے۔
ایران کے آئین کے مطابق، سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل مکمل طور پر “مجلسِ خبرگان” یعنی ‘اسمبلی آف ایکسپرٹس’ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہ مجلس 88 جید علمائے دین اور فقہا پر مشتمل ہوتی ہے، جن کا انتخاب ہر آٹھ سال بعد براہِ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
مجلسِ خبرگان کا بنیادی کام ہی یہ ہے کہ وہ سپریم لیڈر کی وفات یا استعفے کی صورت میں نئے جانشین کا انتخاب کرے۔ جب تک یہ مجلس کسی ایک نام پر حتمی فیصلہ نہیں کر لیتی، ملک کا انتظام ایک عبوری کونسل کے سپرد کر دیا جاتا ہے، جس میں صدرِ مملکت، چیف جسٹس اور پارلیمنٹ کا اسپیکر شامل ہوتے ہیں۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ایران کا یہ نظام عوامی شرکت اور مذہبی اتھارٹی کا ایک انوکھا امتزاج ہے۔ ایران میں ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں عوامی شرکت عموماً 40 سے 70 فیصد کے درمیان رہی ہے، جو اس سیاسی ڈھانچے پر عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
اس وقت جانشینی کے لیے چند بڑے نام زیرِ بحث ہیں: پہلے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، جو نظامِ حکومت میں گہرا اثر و رسوخ رکھتے ہیں، تاہم وراثتی جانشینی کی مخالفت ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے. دوسرے امام خمینی کے پوتے حسن خمینی۔ اسی طرح علی رضا عرفی جو ملک بھر کے مدارس کے ڈائریکٹر اور عبوری کونسل کے رکن ہیں، ایک مضبوط امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں۔
تاہم، ایران کا آئین واضح ہے کہ نیا رہبر وہی بنے گا جس کے پاس بلند ترین مذہبی درجہ یعنی ‘مرجع’ کا مقام اور سیاسی بصیرت ہوگی۔
ایران کے اس نظام میں تین اہم ستون متوازی کام کرتے ہیں۔ پہلا عوامی ستون ہے جس میں پارلیمنٹ اور صدر شامل ہیں۔ دوسرا مذہبی ستون ہے جس کی سربراہی سپریم لیڈر کرتے ہیں، اور تیسرا دفاعی ستون ہے جس کی ذمہ داری پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے پاس ہے، جو نہ صرف ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ پورے خطے میں ایران کے نظریاتی اثر و رسوخ کی محافظ بھی ہے۔
یہی وہ ادارہ جاتی استحکام ہے جس کی وجہ سے قیادت کی اچانک تبدیلی کے باوجود ایران کے ریاستی ڈھانچے میں انتشار کا خطرہ کم سے کم رہتا ہے کیونکہ وہاں فیصلے افراد نہیں بلکہ ایک مکمل نظام کرتا ہے۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition