Today News
ورلڈ کپ میں ناکامی سے دوچار کونسے کرکٹ اسٹارز قومی ٹی ٹوئنٹی میں ایکشن کیلیے تیار؟
عالمی ٹی ٹوئنٹی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2026 میں ناکامی سے دوچار ہونے والے اسٹار کرکٹرز قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ میں ایکشن میں نظر آئیں گے، اچانک وینیو تبدیل کرنے سے شریک ٹیموں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑگیا۔
دوسری مرتبہ مقام کی تبدیلی کے بعد 6 مارچ سے ملتان میں شروع ہونے والے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے لیے کراچی وائٹس کی ٹیم راولپنڈی پہنچ گئی، پشاور ریجن نے بھی پریکٹس کر ڈالی، ایونٹ میں ٹیسٹ کرکٹر سعود شکیل کراچی وائٹس کی قیادت کریں گے۔
عالمی ٹی ٹوئنٹی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے صائم ایوب اور خواجہ محمد نافع ڈومیسٹک ایونٹ میں کراچی وائٹس کا حصہ ہوں گے جبکہ قومی ٹیسٹ کپتان شان مسعود، میر حمزہ اور سہیل خان کے ساتھ ،دانش عزیز ،عمیر بن یوسف ،ہارون ارشد،عثمان خان ،ثاقب خان،محمد عمر،محمد حمزہ سہیل،عبداللہ فضل،محمد اصغر ،رضوان اللہ،عارف یعقوب ،طارق خان،سہیل خان،حظیفہ احسان،ابرار احمد،اسد عمر،اسد اللہ حمزہ اور سیف اللہ بنگش بھی اسکواڈ میں شامل ہیں۔
مظہر اعوان منیجر،اقبال امام ہیڈ کوچ،طاہر محمود اسٹنٹ کوچ،واجد علی فیلڈنگ کوچ،شان اللہ اینلسٹ اوراحمد خان فزیو کی ذمہ داری ادا کریں گے، کوالیفائر ایونٹ کے فائنل میں بہاولپور سے مقابلہ کرنے والی کراچی بلوز کے کپتان غازی غوری ہوں گے۔
مرزا سعد بیگ،رمیز عزیز،محمد طحہ، احسان علی،سید شاہ رضا، وہاج ریاض ،اسد اختر،جہانزیب سلطان،رحمان غنی،شاہ نواز دھانی،خلیل احمد،مہران ممتاز،جہانداد خان،سیف اللہ، محمد عثمان رحیم،محمد مکی،عارش علی خان،نقاب شفیق اور حظیفہ منیر بھی اسکواڈ کا حصہ ہوں گے، خالد نفیس منیجر،سعید بن ناصر، ہیڈ کوچ،فرازاحمد خان اسٹنٹ کوچ،اویس احمد رحمانی فیلڈنگ کوچ اور عمران خلیل فزیو ہیں۔
واضح رہے کہ قبل ازیں پشاور میں شیڈول ایونٹ کو ناگزیر حالات کے سبب راولپنڈی اور پھرملتان منتقل کردیا گیا ہے جو اب ایک دن کی تاخیر سے 5 کی بجائے 6 مارچ سے شروع ہوگا، قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ میں پی سی بی کے 8 ریجن کی 10 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں، ان میں کراچی اور لاہور کی وائٹس اور بلوز، فیصل آباد،ایبٹ آباد، سیالکوٹ،بہاولپور، پشاور اور ملتان شامل ہیں۔
Source link
Today News
وزیراعظم کا ترک صدر سے رابطہ، ایران پر حملوں کی مذمت، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار
وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے ایران پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جمہوریہ ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوس ناک حملوں کی شدید مذمت کی۔
وزیراعظم نے صدر اردوان کو برادر خلیجی ممالک کی قیادت سے اپنے حالیہ روابط سے آگاہ کیا، جن میں پاکستان کی جانب سے ان کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اعادہ اور بحران کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی تیاری سے متعلق پیغام شامل تھا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔
وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
Source link
Today News
اڈیالہ جیل میں عمران خان سے بشریٰ بی بی کی ملاقات
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ملاقات کرادی گئی۔
ایکسپریس نیوز کو جیل ذرائع نے بتایا کہ بشریٰ بی بی بی کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرادی گئی ہے۔
جیل ذرائع نے کہا کہ بشری بی بی اور عمران خان کی ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی جہاں دونوں 40 منٹ تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے اور بشریٰ بی بی نے بانی پی ٹی آئی سے ان کی متاثرہ آنکھ کے بارے میں دریافت کیا۔
جیل ذرائع نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات جیل مینول کے تحت کرائی گئی ہے۔
Source link
Today News
ہانیہ عامر کا ڈرامہ پُرتشدد مردوں کو رومانوی انداز میں پیش کرنے پر تنقید کا نشانہ
پاکستانی ڈرامہ شائقین اس وقت بحث میں مصروف ہیں کہ اسکرین پر دکھایا جانے والا ’’صحت مند محبت‘‘ کا تصور آخر کیسا ہونا چاہیے۔ ایسے میں ڈرامہ سیریل ’’میری زندگی ہے تو‘‘ اپنی کہانی اور کرداروں کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔
سیریل میں مرکزی کردار بلال عباس اور ہانیہ عامر ادا کر رہے ہیں کہانی ایک بااصول میڈیکل اسٹوڈنٹ آئرا کے گرد گھومتی ہے، جس کی زندگی میں ایک امیر اور بااثر نوجوان کامیار داخل ہوتا ہے۔ کامیار محبت کو اختیار اور ضد کے امتزاج کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں انکار کو چیلنج سمجھا جاتا ہے۔
ناظرین کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ ڈرامے میں وہی پرانا فارمولا دہرایا گیا ہے: ایک طاقتور اور مالدار مرد مسلسل کسی خاتون کا تعاقب کرتا ہے، اس کے انکار کو نظرانداز کرتا ہے، بغیر اجازت اس کی زندگی میں مداخلت کرتا ہے، مگر کہانی اسے رومانوی رنگ میں پیش کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ آئرا کی مزاحمت کمزور پڑتی دکھائی جاتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ کامیار کی طرف مائل ہوجاتی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ضد اور مسلسل دباؤ ہی محبت کا ثبوت ہیں۔
سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ مسئلہ صرف ایک کردار کے رویے تک محدود نہیں بلکہ ڈرامے کی تحریر اور آئرا کے کردار کی محدود نشوونما بھی سوالیہ نشان ہے۔ ان کے مطابق سیریل نہ صرف زہریلے رویوں کو دکھاتی ہے بلکہ انہیں معمول اور قابلِ قبول بنا کر پیش کرتی ہے۔
کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ کہانی میں ایک ایسے شخص کو، جو جارحانہ مزاج اور نشے کی عادت کا حامل دکھایا گیا ہے، کسی نہ کسی انداز میں جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض مناظر میں مذہبی حوالوں کو بھی اخلاقی برتری ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس پر بھی اعتراض اٹھایا جا رہا ہے۔
’’میری زندگی ہے تو‘‘ نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہمارے ڈرامے غیر صحت مند تعلقات کو محبت کا نام دے کر نئی نسل کے ذہنوں میں غلط تصورات کو تقویت دے رہے ہیں؟
Source link
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition