Today News
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی گھن گرج
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ خطہ جس نے گزشتہ ایک صدی میں سامراجی تقسیم، سرد جنگ، علاقائی تنازعات اور داخلی خلفشار کے کئی ادوار دیکھے،آج ایک نئی اور ممکنہ طور پر زیادہ خطرناک کشمکش کے دہانے پر ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ عسکری تناؤ نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کو بھی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کشیدگی میں اسرائیل براہِ راست کردار ادا کر رہا ہے جب کہ عرب ریاستیں ایک پیچیدہ اور غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ سوال اب یہ نہیں رہا کہ جنگ ہو رہی ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ تصادم کس سمت جائے گا اور اس کے اثرات کہاں تک پھیلیں گے۔
ایران کے خلاف حالیہ حملوں نے ایران کے اندر ایک غیر متوقع داخلی اتحاد کو جنم دیا ہے۔ بیرونی حملے نے قومی بیانیے کو مضبوط کر دیا۔ تہران میں اب اس جنگ کو قومی خودمختاری اور بقا کی جنگ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ امریکا کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ نئی ایرانی قیادت مذاکرات کی طرف مائل ہو سکتی ہے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ ایران کی حکمت عملی دوہری ہے ایک طرف بھرپور عسکری ردعمل، دوسری طرف مکمل ہمہ گیر جنگ سے گریز کا عندیہ ہے تاہم میدانِ عمل میں بڑھتی ہوئی کارروائیاں اس توازن کو کیسے برقرار رکھتی ہیں یہ وقت فیصلہ کرے گا۔خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور اسرائیل کی سلامتی کا معاملہ اس کشمکش کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ ایران نے حملوں کا دائرہ خلیجی ممالک تک وسیع کر دیا ہے ۔ یہ پیش رفت عرب دنیا کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ حکمران سفارتی توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر عوامی اضطراب واضح ہے۔
اس جنگ کا ایک نہایت اہم پہلو عالمی معیشت سے جڑا ہوا ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کی شہ رگ ہیں۔ ایران نے اس گزرگاہ کو بند کر دیا ہے جس نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اگر یہ راستہ مستقل طور پر متاثر ہوتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، عالمی تجارت میں سست روی اور مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ یورپ اور ایشیا کی توانائی کی ضروریات بڑی حد تک اسی خطے سے وابستہ ہیں اس لیے اس بحران کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ عالمی طاقتوں کا ردعمل بھی قابلِ غور ہے۔ برطانیہ نے براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کا عندیہ دیا ہے جب کہ چین اور روس، جو خطے کے اہم سٹیک ہولڈرز ہیں بظاہر محتاط خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ چین کی ایران میں بڑی سرمایہ کاری اور توانائی کے مفادات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ اس جنگ کو محدود دیکھنا چاہتا ہے۔ روس بھی خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اگر یہ تصادم پھیلتا ہے تو عالمی طاقتوں کی صف بندی ایک نئی سرد جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
اسرائیل کا زاویہ نظر واضح ہے وہ ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور پیشگی حملے کی حکمت عملی پر یقین رکھتا ہے۔ شام، لبنان اور دیگر علاقوں میں ایران کے اثر و رسوخ کو بھی وہ اپنی سلامتی کے خلاف سمجھتا ہے۔ چنانچہ حالیہ جنگی کارروائیاں اسی سوچ کا تسلسل معلوم ہوتی ہیں۔ تاہم براہِ راست ایرانی ردعمل نے اس تصادم کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے جہاں روایتی فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ سائبر وار، ڈرون ٹیکنالوجی اور غیر روایتی حربے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔امریکا کی پوزیشن نہایت نازک ہے۔ واشنگٹن اپنے اتحادیوں کی سلامتی کو یقینی بنانا چاہتا ہے مگر وہ ایک طویل اور مہنگی جنگ سے بھی گریزاں ہے۔ داخلی سیاسی دباؤ، معاشی ترجیحات اور عالمی ساکھ اس کی حکمت عملی کو متاثر کر رہے ہیں۔ اگرچہ امریکا مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی بات کرتا ہے لیکن اس کی عملی عسکری موجودگی اور حمایت اسرائیلی کارروائیوں کو تقویت دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری اور عسکری طاقت کے درمیان توازن قائم رکھنا سب سے بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ایران کے اندرونی حالات بھی اس منظرنامے میں اہم ہیں۔ بیرونی دباؤ وقتی طور پر قومی اتحاد کو مضبوط کرتا ہے مگر طویل جنگ اور اقتصادی پابندیاں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کو بڑھا سکتی ہیں۔ تہران کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں کہ وہ کہاں سختی دکھائے اور کہاں پسپائی اختیار کرے۔ تاہم موجودہ ردعمل سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ایران فوری طور پر دباؤ میں آنے والا نہیںہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی جنگیں اکثر محدود حملوں اور غلط اندازوں سے شروع ہوتی ہیں۔ ایک میزائل، ایک ڈرون یا کسی فوجی اڈے پر حملہ پورے خطے کو بھڑکا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سفارت کار پسِ پردہ رابطوں میں مصروف ہیں۔ کوئی بھی طاقت نہیں چاہتی کہ یہ تصادم تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کرے کیونکہ اس کے اثرات عالمی طاقتوں کے توازن کو بدل سکتے ہیں۔
مسلم دنیا کے لیے یہ لمحہ جذباتی نعروں سے زیادہ سنجیدہ تدبر کا متقاضی ہے۔ فی الوقت یہ کہنا مشکل ہے کہ فریقین کب اور کیسے سفارتی میز پر آئیں گے۔ مگر ایک بات واضح ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں میں گھرا ہوا ہے۔ اگر تحمل، حکمت اور سنجیدہ سفارت کاری کو ترجیح نہ دی گئی تو یہ آگ سرحدوں سے نکل کر عالمی استحکام کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ دنیا کی نظریں تہران، واشنگٹن اور تل ابیب پر مرکوز ہیں۔ آنے والے دن طے کریں گے کہ تاریخ ایک اور خونریز باب رقم کرتی ہے یا دانش مندانہ سفارت کاری ممکنہ تباہی کو ٹال دیتی ہے۔
Today News
ڈوین جانسن کی افطار میں شرکت کی ویڈیو وائرل، کیا اسلام قبول کرلیا؟
ہالی ووڈ کے معروف اداکار ڈوین جانسن ’’دی راک‘‘ کی مبینہ افطار تقریب میں شرکت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے، جس پر صارفین کے متنضاد تبصرے سامنے آرہے ہیں۔
ڈوین کی افطار کرنے کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ اداکارہ نے اسلام قبول کرلیا ہے جبکہ کئی سوشل میڈیا صارفین اس منظر کو رمضان کے احترام کی علامت قرار دے ہے ہیں۔ بعض افراد نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ یہ ویڈیو حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد صارفین نے ویڈیو کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے جعلی قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ یہ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو ہے اور اسے جعلی خبر کہا۔ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ یہ دراصل انڈونیشیا سے بنائی گئی اے آئی ویڈیو معلوم ہوتی ہے۔
View this post on Instagram
بعض صارفین نے اس سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والا شخص دراصل ڈوین جانسن نہیں ہے۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ یہ وہ نہیں ہیں بلکہ انہیں غلط انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔ اس طرح کے تبصروں کے بعد ویڈیو کی حقیقت کے بارے میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
تاہم خود ڈوین جانسن کی جانب سے اس وائرل ویڈیو پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ ویڈیو اصلی ہے یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔
Source link
Today News
پاکستان کا ڈرون حملے کے بعد آذربائیجان کے ساتھ اظہار یکجہتی
وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ٹیلیفونک گفتگوکی اور ناخچیوان پر ہونے والے ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور ناخچیوان پر ہونے والے ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
گفتگو کے دوران وزیرِ اعظم نے آذربائیجان کے علاقے ناخچیوان میں ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا جو قابلِ افسوس ہے۔
انہوں نے الہام علیوف کو یقین دلایا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں آذربائیجان کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت میں کھڑا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر الہام علیویف کو ایران اور خلیجی خطے میں جاری بحران کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔
صدر الہام علیئیف نے وزیراعظم کے ٹیلیفونک رابطے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے مشکل وقت میں پاکستانی عوام کی جانب سے اظہارِ یکجہتی اور حمایت کے جذبات کو سراہا۔
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا اور مستقبل میں قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
Source link
Today News
نادیہ خان کے چہرے پر جھریاں، فلٹر کے بغیر وائرل ویڈیو پر تنقید
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف میزبان اور اداکارہ نادیہ خان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آ گئی ہیں، تاہم اس مرتبہ وجہ ان کا کوئی پروگرام یا بیان نہیں بلکہ فلٹر کے بغیر وائرل ہونے والی ویڈیو ہے جس پر مداحوں کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آرہے ہیں۔
نادیہ خان کئی برسوں سے پاکستانی ٹیلی ویژن انڈسٹری کا نمایاں نام ہیں۔ انہیں اصل شہرت ان کے مقبول مارننگ شو ’’دی نادیہ خان شو‘‘ سے ملی، جس کے بعد انہوں نے متعدد ڈراموں میں بھی اداکاری کی۔
نادیہ اس وقت رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کر رہی ہیں جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی ان کی بڑی فین فالوونگ موجود ہے۔ انسٹاگرام پر ان کے فالوورز کی تعداد 26 لاکھ سے زائد ہے جبکہ یوٹیوب پر بھی ان کے سبسکرائبرز کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے۔
حال ہی میں نادیہ خان نے یوٹیوب چینل ’’عرفانستان‘‘ کو ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ ماضی میں رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق ان کے والد انہیں ہمیشہ نصیحت کرتے تھے کہ مذہب اور سیاست جیسے موضوعات پر گفتگو سے احتیاط کریں کیونکہ ان کے بارے میں مکمل علم ہونا ضروری ہے۔
اس انٹرویو کی ایک ویڈیو کلپ، جو بغیر کسی فلٹر کے ریکارڈ کی گئی تھی، سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی۔ ویڈیو میں نادیہ خان کی آنکھوں کے اردگرد جلد کی خشکی اور جھریاں واضح دکھائی دیں جبکہ میک اپ کے باعث جلد پر کریز بھی نظر آئے۔ یہی مناظر سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئے۔
View this post on Instagram
کئی صارفین نے تبصرہ کرتے ہوئے نادیہ خان کو ماہرِ جلد سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ڈاکٹر شائستہ لودھی سے مشورہ لیں۔ ایک اور تبصرے میں کہا گیا کہ ان کا انڈر آئی کنسیلر درست انداز میں نہیں لگایا گیا جس کی وجہ سے وہ پہلے سے زیادہ عمر رسیدہ دکھائی دے رہی ہیں۔
دوسری جانب کئی سوشل میڈیا صارفین نے نادیہ خان کا دفاع بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قدرتی انداز میں عمر بڑھنا ایک فطری عمل ہے اور لوگوں کو بغیر فلٹر کے چہروں کو دیکھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ کچھ صارفین نے لکھا کہ سوشل میڈیا پر فلٹرز اور بوٹوکس سے بدلے ہوئے چہروں کے عادی لوگ اب قدرتی چہرہ دیکھ کر تنقید کرنے لگتے ہیں۔
Source link
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech2 weeks ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Entertainment2 weeks ago
Meri Zindagi Hai Tu Episode 31 Disappoints Fans
-
Tech2 weeks ago
Business Line Awarded SAP Partnership in Pakistan, Strengthening Regional Footprint
-
Tech2 weeks ago
DIFC’s Dubai FinTech Summit Expands Globally with Pakistan Digital Authority