Connect with us

Today News

پاکستان کا سیاحتی تجارتی نمائش آئی ٹی بی برلن 2026 میں متحدہ قومی موجودگی کا مظاہرہ

Published

on


پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کی سب سے بڑی سیاحتی تجارتی نمائش آئی ٹی بی برلن 2026 میں مضبوط اور متحدہ قومی موجودگی کا مظاہرہ کیا ہے جو 3 مارچ 2026 کو برلن، جرمنی میں شروع ہوئی۔

پاکستان کی شرکت پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) نے وزارتِ بین الصوبائی رابطہ (آئی پی سی) کے تحت، صوبائی محکمہ جاتِ سیاحت پنجاب، سندھ اور گلگت بلتستان، اور نجی شعبے کے 16 ممتاز ٹور آپریٹرز اور مہمان نوازی کی کمپنیوں کے اشتراک سے منظم کی ہے۔

پاکستان پویلین کا باضابطہ افتتاح اسلامی جمہوریہ پاکستان کے جرمنی میں ہیڈ آف چانسری جناب سرور حسین نے کیا، جو یورپی منڈی میں پاکستان کی سیاحت کے فروغ اور سیاحتی سفارت کاری کو مضبوط بنانے کے لیے حکومتِ پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان پویلین میں ملک کی متنوع سیاحتی کششوں کو اجاگر کیا جا رہا ہے، جن میں پہاڑی اور ایڈونچر سیاحت، ثقافتی و تاریخی سیاحت، مذہبی سیاحت، ایکو ٹورازم اور سیاحتی انفراسٹرکچر میں ابھرتے ہوئے سرمایہ کاری کے مواقع شامل ہیں۔

پاکستان کی یہ متحدہ شرکت وفاقی و صوبائی ہم آہنگی اور سرکاری و نجی شراکت داری کی ایک مضبوط مثال پیش کرتی ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر ثقلین سیداہ نے کہا کہ پاکستان قدرتی حسن، قدیم تہذیبوں اور رنگا رنگ ثقافت کا ایک شاندار امتزاج پیش کرتا ہے۔

آئی ٹی بی برلن 2026 میں ہماری شرکت سیاحتی شراکت داریوں کو فروغ دینے اور پاکستان، جرمنی نیز وسیع تر یورپی خطے کے درمیان عوامی روابط کو مضبوط بنانے کے ہمارے عزم کی غماز ہے۔

منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی ڈی سی، آفتاب الرحمان رانا نے اپنے پیغام میں کہا کہ آئی ٹی بی برلن 2026 میں ہماری موجودگی عالمی سطح پر پاکستان کی سافٹ امیج کو ایک سیاح دوست ملک کے طور پر اجاگر کرنے کی مربوط قومی کوشش کی نمائندگی کرتی ہے۔

صوبائی محکمہ جاتِ سیاحت اور نجی شعبے کے اشتراک سے ہم پاکستان کو بین الاقوامی سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ، خوش آمدید کہنے والا اور بلند امکانات کا حامل سیاحتی مقام کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

نمائش کے دوران پاکستانی وفد بی ٹو بی ملاقاتوں، نیٹ ورکنگ سیشنز اور اسٹریٹجک روابط میں بھرپور انداز میں مصروف ہے، تاکہ بین الاقوامی ٹور آپریٹرز، سرمایہ کاروں، میڈیا نمائندگان اور سفری تنظیموں کے ساتھ روابط بڑھا کر آنے والی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے اور تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔

آئی ٹی بی برلن میں پاکستان کی مسلسل شرکت عالمی سطح پر سیاحتی روابط کے فروغ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول اور پاکستان کو عالمی سیاحتی نقشے پر ایک لازمی سیاحتی منزل کے طور پر متعارف کرانے کے اس کے اسٹریٹجک عزم کی عکاس ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سکیورٹی الرٹ، امریکا نے پاکستان سے غیر ضروری سفارتی عملہ واپس بلا لیا

Published

on


اسلام آباد: امریکا نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر پاکستان میں تعینات اپنے غیر ہنگامی سفارتی عملے کو واپس بلانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پاکستان میں امریکی سفارتخانے کے اعلامیے کے مطابق لاہور اور کراچی میں قائم امریکی قونصل خانوں کے غیر ضروری عملے کو بھی پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور ضروری سفارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

امریکی سفارتخانے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بعد خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کے ممکنہ خطرات موجود ہیں، جس کے باعث یہ احتیاطی اقدام اٹھایا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

سینیٹ قائمہ کمیٹی میں ایف بی آر ترمیمی بل بحث کے بعد منظور

Published

on



اسلام آباد:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایف بی آر  ترمیمی بل بحث کے بعد منظور کرلیا۔

چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت  سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں سینیٹر رانا ثنااللہ کی طرف سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ترمیمی بل پر غور  کیا گیا۔

اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر نے  کہا کہ سپریم کورٹ نے مصطفی امپکس کیس میں وزیراعظم سے اختیار وفاقی کابینہ کو دیا گیا۔ اسکے تحت ایف بی آر ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت ہے ۔ ٹیکس پالیسی بورڈ بھی وزارت خزانہ کو منتقل کر دیا گیا ۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ترمیم سے سارا اختیار چیئرمین ایف بی آر کو دیا جا رہا ہے۔ موجودہ چیئرمین ایف بی آر کا ٹیکس شعبے میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔ ایف بی آر ایک ٹیکنیکل محکمہ ہے،  اسکے محکمہ کا ہی فرد چیئرمین مقرر ہونا چاہیے۔ اس ترمیم سے موجودہ چیئرمین کو لامحدود اختیارات مل جائیں گے۔ چیئرمین ایف بی آر جس کو چاہے گا ممبر مقرر کر دے گا اور جس کو چاہے گا تبدیل کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے افسران کے اثاثے ان کی تنخواہ کے مطابق نہیں ہیں۔ ٹیکس وصولی میں کمی ہو رہی ہے  ۔ لوگ 10 لاکھ روپے ٹیکس دینے کی بجائے 20 لاکھ دے کر ایف بی آر سے جان چھڑاتے ہیں۔ ملک میں ٹیکس نظام کو ٹیکس دہندہ دوست بنانا چاہیے ۔ میں اس مجوزہ ترمیمی بل کی مخالفت کروں گا ۔

وزیر خزانہ نے اجلاس کو بتایا کہ ٹیکس پالیسی بورڈ کو ایف بی آر سے نکال کر وزارت خزانہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ سارے افسران اس سال سے اپنے اثاثے ڈکلیئر کریں گے ۔ اگر کسی سینیٹر کے پاس کسی ٹیکس حکام کیخلاف شکایات ہیں تو سامنے لائیں کارروائی کی جائے گی۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایف بی آر کے ممبران کے تقرر کا اختیار چیئرمین ایف بی آر کو دیا گیا ہے ۔

چیئرمین ایف بی آر نے اس موقع پر کہا کہ یہ 2007 سے ایسا ہی ہے۔ ایف بی آر کا اپنا قانون ہے ۔

سینیٹر شاہزیب درانی نے کہا کہ یہ انتظامی معاملہ ہے۔ اس میں وفاقی وزیر خزانہ کو شامل نہ کیا جائے۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ایف بی آر میں 78 سے زیادہ گریڈ 21 کے افسران ہیں جن کا اکثر ٹرانسفر ہوتا رہتا ہے۔ ایف بی آر میں ایسا ماضی سے ہوتا چلا آ رہا ہے ۔

سینیٹر ضمیر گھمرو نے کہا کہ میں ٹیکس پالیسی بورڈ کا ممبر ہوں، مگر اس کا اجلاس نہیں ہوا۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ میں بھی اس کا ممبر رہا مگر اجلاس کبھی نہیں ہوا۔

بعد ازاں قائمہ کمیٹی نے مجوزہ ایف بی آر ترمیمی بل 2026ء کو منظور کرلیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

سرحدی چیک پوسٹس پر حملوں کے بعد سی ٹی ڈی کیلیے بلٹ پروف گاڑیاں

Published

on



لاہور:

سرحدی چیک پوسٹس پر حملوں کے بعد پنجاب میں سی ٹی ڈی کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سرحدی چیک پوسٹوں پر دہشت گردوں کے حملوں کے پیش نظر سی ٹی ڈی پولیس کے لیے 4 بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق یہ گاڑیاں 12 کروڑ روپے کی لاگت سے حاصل کی جائیں گی۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ گاڑیوں کی خریداری پنجاب پولیس کے آئی جی کی لاجسٹک برانچ کرے گی اور یہ عمل آئندہ چند ہفتوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔

خریدی جانے والی بلٹ پروف گاڑیاں میانوالی، ڈی جی خان سمیت دیگر سرحدی اضلاع میں تعینات اعلیٰ افسران کو فراہم کی جائیں گی تاکہ سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔





Source link

Continue Reading

Trending