Connect with us

Today News

ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں شامل ٹیمیں اور آفیشلز رل گئے، چوتھی بار مقام تبدیل

Published

on



پی سی بی کے کمالات کا سلسلہ جاری ہے، چوتھی مرتبہ قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کا مقام تبدیل کر کے دوبارہ پشاور میں منعقد کرانے کا اعلان کر دیا، ایونٹ میں شریک ٹیمیں اور آفیشلز رل گئے۔

قبل ازیں ٹورنامنٹ پشاور سے راولپنڈی منتقل کرنے کا فیصلہ ہونے پر ٹیمیں اپنی منزل پر پہنچنا شروع ہو گئی تھیں،ان میں کراچی وائٹس اور پشاور زون کی ٹیمیں بھی شامل تھیں۔

گزشتہ روز ایونٹ ملتان میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا،تاہم رات گئے ہونے والے اجلاس میں ٹورنامنٹ کو لاہور میں منعقد کرانے کا فیصلہ ہوا،مذکورہ فیصلے کی روشنی میں کراچی بلوز کی ٹیم بھی بدھ کو پروگرام کے مطابق کراچی سے لاہور پہنچ گئی لیکن اچانک ٹورنامنٹ دوبارہ پشاور منتقل کرنے کا فیصلہ آگیا۔

دوسری جانب پی سی بی نے بیک وقت قومی ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ اور دورہبنگلہ دیش کے لیے پاکستان کے 15 رکنی اسکواڈ کے کھلاڑیوں کا ناموں کا اعلان کیا، حیرت انگیز طور پع ٹورنامنٹ میں کراچی بلوز کے وکٹ کیپر کپتان محمد غازی غوری کا نام بھی دونوں ٹیموں میں شامل ہے۔

دریں اثنا پاکستان کرکٹ کلب سے تعلق رکھنے والے غازی غوری کی قومی کرکٹ ٹیم میں شمولیت کے بعد رمیز عزیز کو کراچی بلوز کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کالجوں میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے معاملے پر جامعہ کراچی اور کالج پرنسپلز کے مابین ڈیڈ لاک

Published

on



کراچی کے سرکاری کالجوں میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے معاملے پر جامعہ کراچی اور کالج پرنسپلز کے مابین شدید ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا ہے، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے اکیڈمک خدوخال طے کرنے کے معاملے پر بلایا گیا اجلاس شدید اختلافات کے نذر ہوگیا ہے اور اختلاف رائے سامنے آنے پر کالج پرنسپلز نے وائس چانسلر جامعہ کراچی کی زیر صدارت جاری اجلاس کا بائیکاٹ کردیا کالج پرنسپل اجلاس کا بائیکاٹ کرکے سماعت گاہ سے باہر آگئے اور اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔

واضح رہے کہ جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات نے کراچی کے ڈگری کالجوں کے پرنسپلز کا اجلاس وائس چانسلر کی زیر صدارت بدھ کی صبح طلب کیا تھا یہ اجلاس سلیبس اور اسکیم آف اسٹڈیز کے حوالے سے مختلف ابہامات کے ضمن میں بلایا گیا تھا تاہم اس موقع پر کالج پرنسپلز نے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام میں "بائے اینوول" اور "سیمسٹر سسٹم " کا معاملہ اٹھادیا اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کو بتایا کہ ریجنل ڈائریکٹر کالجز کی جانب سے اس معاملے پر ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس کے اراکین بھی یہاں موجود ہیں۔

اس کمیٹی کے کنوینر اور آدم جی سائنس کالج کے پرنسپل پروفیسر ناصراقبال نے "ایکسپریس " کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہم نے اجلاس میں یہ بات باور کرانے کی کوشش کی کہ ایچ ای سی کے مطابق یہ پروگرام سیمسٹر سسٹم پر چلنا ہے اور جامعہ کراچی نے سیمسٹر سسٹم کے بجائے اسے بائے اینوول کردیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ بائے اینول کو مزید ایک سال کے لیے ملتوی کیا جائے اور ازاں بعد اس پروگرام کو سیمسٹر سسٹم پر منتقل کیا جائے تاکہ 50 فیصد مارکس کے سیمسٹر امتحانات خود کالجز لے سکیں لیکن وائس چانسلر ہماری بات سنیے کو تیار نہیں تھے اور ہماری ہر بات پر انکار کیا جاتا رہا۔

سلیبس کے حوالے سے بھی ہمارے پرنسپلز کو کبھی ایفیلیشن کبھی ڈین آفس اور کبھی چیئرمین شعبہ جات کے پاس بھیج دیا جاتا ہے لیکن مسائل حل نہیں ہوتے لہٰذا ہمیں مجبورا اجلاس کا بائیکاٹ کرنا پڑا اور کالج پرنسپلز اجلاس چھوڑ کر باہر آگئے، انھوں نے بتایا کہ ہم نے اپنی سفارشات رجسٹرار جامعہ کراچی کو جمع کرائی ہیں تاکہ یہ مسائل حل ہوسکیں۔

ادھر بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں کچھ ایسے کالج اساتذہ بھی شامل ہوگئے تھے جو کالج پرنسپلز تھے ہی نہیں بلکہ جس پر جامعہ کراچی نے شدید اعتراض بھی کیا، وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی سے جب اس معاملے پر رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ کالج  ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے کہنے پر ہم نے گزشتہ برس بائے اینوول امتحانی نظام کو ایک سال کے لیے موخر کیا تھا اب کالج پرنسپل اس سال بھی اسے موخر کرانا چاہتے تھے کالجز انتظامیہ نے ایک کمیٹی بنائی جس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ جامعہ کراچی نے بائے ایننول متعارف کرواکے ایچ ای سی کی وائیلیشن کی ہے۔

ہم نے انھیں بتایا کہ ایچ ای سی جامعات کو صرف گائیڈ لائن دیتی ہے، جامعات ان گائیڈ لائنز پر کوئی بھی فیصلہ اپنی اکیڈمک کونسل اور سینڈیکیٹ کی منظوری سے کرتی ہے ہم نے پرنسپلز کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر سلیبس میں کچھ مشکلات ہیں تو پرنسپلز براہ راست مجھ سے رابطہ کریں میں خود اس مسئلے کو حل  کراؤں گا لیکن جب یہ سننے کو تیار ہی نہیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے؛ اسرائیل کی نئی دھمکی

Published

on


فضائی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد اسرائیل نے تمام عالمی قوانین اور اخلاقی ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک اور دھمکی دیدی۔ 

اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے جانشینوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد جو بھی شخص ایران کی قیادت سنبھالے گا اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

یسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اسرائیلی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران کی نئی قیادت کے خلاف کارروائی کے لیے تیار رہیں۔

ان کے بقول اسرائیل ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا۔ امریکا کے ساتھ مل کر ایرانی حکومت کے خلاف آپریشن جاری رکھیں گے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل ایران کی عسکری اور اسٹریٹیجک صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے مربوط اقدامات کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل اسرائیل نے ایک ایک زیر زمین بنکر کو فضائی حملے میں تباہ کردیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود تھے۔

حملے کے وقت ایرانی سپریم لیڈر اہم سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کررہے تھے جس میں وزیر دفاع، آرمی چیف، مشیر قومی سلامتی اور پاسداران انقلاب کے سربراہ شریک تھی۔

اسرائیلی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای، اہلیہ، خاندان کے دیگر افراد اور اجلاس میں شامل تمام شخصیات شہید ہوگئی تھیں۔

ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل ابھی ہونا ہے جس کے لیے مضبوط ترین امیدواروں میں آیت اللہ کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بھی شامل ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

ایران امریکا جنگ کے باعث فضائی نظام درہم برہم ، ملک بھر کے ایئرپورٹس پر سامان کے انبار لگ گئے

Published

on



ایران امریکا جنگ نے فضائی نظام درہم برہم کردیا، علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک بھر کے ایئرپورٹس کے گوداموں میں سیکڑوں ٹن سامان کے انبار  لگ گئے جبکہ بڑی ایئر کار گو سروس فرام کرنے والی کمپنیوں نے چارجرز ڈبل ٹرپل کر دیے۔

تفصیلات کے مطابق ایران امریکا جنگ نے مسافروں کے ساتھ ساتھ ایئر کاگو سروس بھی شدید متاثر کر دی، مشرقی وسطی کے لیے کھانے پینے کی اشیاء سے لیکر پھل سبزیاں گوشت سمیت دیگر سامان گزشتہ پانچ روز سے روانہ نہ ہو سکا۔

 پاکستان کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسلام آباد، کراچی، ملتان، فیصل آباد اور سیالکوٹ سے ایئر کارگو کے ذریعے جانے والا سامان بھی ایئرپورٹ کے گوداموں میں پڑا ہوا ہے جو کمپنیاں لے کر جا رہی ہیں انہوں نے اپنے ریٹ بھی ڈبل کر دیے ہیں، سب سے زیادہ متاثر گوشت پھل سبزیوں بھجوانے والے ایکسپورٹر ہو رہے ہیں۔

 لاہور ایئرپورٹ کی بات کریں تو روزانہ 200 سے 300 ٹن کے قریب سامان ایئر کاگو کے ذریعے دبئی، ابوظیبی، شارجہ، بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو جاتا تھا لیکن  ایران امریکا جنگ کے باعث فضائی آپریشن معطل ہونے کی وجہ سے سامان نہیں پہنچ پا رہا، ایکسپورٹر بھی پریشان ہیں  جبکہ کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ بھی بے روزگار ہو چکے ہیں۔

 لاہور علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہ 60 سے 70 کے قریب کلیئرنگ ایجنٹ ہیں جو روزانہ 200 سے 300 ٹن  کے قریب بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ سامان کلیئر کراتے تھے، کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ ریاض کے مطابق گزشتہ پانچ روز سے ایک بھی شپمنٹ نہیں گئی نہ کوئی شپمنٹ آئی نہ کوئی شپمنٹ  گئی ۔

روزانہ اس آس پر آتے ہیں کہ شاید آج فضائی روٹس بحال ہو جائیں اور کچھ سامان چلا جائے تو دو وقت کی روٹی کما لیں مگر ایران امریکا جنگ شدت اختیار کر گئی ہے اور دور دور تک کوئی چانس بھی نظر نہیں آرہا۔

دوسری طرف ایئر کارگو سروس فراہم کرنے والی کمپنی کے ڈائریکٹر منصور  کے مطابق ان کا مال ان کے دفاتر اور ایئرپورٹ کے شیڈ میں گزشتہ پانچ روز سے پڑا ہے بکنگ ہو چکی تھی لیکن پروازیں عین ٹائم پہ منسوخ ہو گئیں جس کی بنا پر سامان نہ تو سعودی عرب جا سکا نہ عرب امارات جو تھوڑی بہت فضائی کمپنیاں  ایئر کارگو سروس فرام بھی کر رہی ہیں تو انہوں نے بھی اپنے ریٹس میں ڈبل ٹرپل   اضافہ کر دیا ہے ان کے ریٹ اس قدر زیادہ ہو گئے ہیں کہ اس پر سامان بھجوانا ممکن ہی نہیں رہا یعنی کہ سامان کی قیمت سے بھی زیادہ ریٹ ہو چکے ہیں ۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے کم از کم ایئر کارگو سروس کو بحال کیا جائے تاکہ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر ایئرپورٹ پر ہزاروں ٹن کے حساب سے جو سامان پڑا ہے وہ روانہ ہو سکے اگر یہ سامان نہ گیا جس میں پھل سبزیاں کھانے پینے کی دیگر اشیاء سمیت کپڑے اور دیگر اشیاء شامل ہیں نہ گیا تو  ان کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوگا۔

 انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد سے جلد ایئر لائن کے ساتھ مشاورت کر کے کارگو سروس کو بحال کیا جائے تاکہ ایئر  کارگو سے جڑے ہزاروں خاندان بے روزگار ہونے سے بچ سکیں۔

 منصور کے مطابق صرف یورپ کے کچھ ممالک اور امریکا کینیڈا شپمنٹ گئی ہیں اور وہ بھی ڈبل ریٹس پر مجبوری میں بھجوائیں ہیں، اگر چند روز میں صورتحال ٹھیک نہ ہوئی تو حالات  بہت زیادہ خراب ہو جائیں گے جہاں نقصان ایئرلائن ایئر کارگو سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ہو رہا ہے وہیں کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز کی مد میں حکومت کو بھی اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، گارمنٹس اور دیگر اشیاء تو ایک دو ہفتے روکی جا سکتیں ہیں مگر پھل سبزیوں اور گوشت کا کیا کریں گے، گوشت کو شپمنٹ سے پہلے دس سے بارہ گھنٹے کے لیے خصوصی ٹمپریچر پر رکھا جاتا ہے مگر یہاں تو بات گھنٹوں سے نکل کر دنوں تک پہنچ گئی ہے، سبزیاں، گوشت، پھل تو سڑ جائیں گے۔

 ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ پانچ روز سے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک بھر سے ملکی وغیر ملکی ایئر لائینز کی سات سو سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور زیادہ تر سامان ان پروازوں کے ذریعے ہی کار گو ہوتا تھا۔



Source link

Continue Reading

Trending