Connect with us

Today News

ایران پر حملے کیلیے فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی؛ یورپی یونین کا ردعمل

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسپین کو تجارتی اور معاشی دھمکیوں پر یورپی یونین کا بڑا بیان سامنے آگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔

اس گفتگو سے متعلق انتونیو کوسٹا نے بتایا کہ ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز کو یورپی یونین کی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین اپنے رکن ممالک کے مفادات کے مکمل تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔

یورپی کونسل کے صدر کے بقول یورپی بلاک بین الاقوامی قانون اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کے اصولوں کے ساتھ اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے ایران پر حملوں کے لیے اپنے یورپی اتحادیوں سے لاجسٹک اور عسکری تعاون طلب کیا تھا تاہم اسپین نے اپنی سرزمین اور فوجی اڈوں کو دینے سے انکار کر دیا تھا۔

جس پر صدر ٹرمپ نے اسپین کو خبردار کیا تھا کہ اگر اسپین نے ایران پر حملوں کے لیے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو اس کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کرسکتے ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کیلئے بجلی مزید مہنگی کردی گئی

Published

on



حکومت نے کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے بعد ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر مزید ایک روپے 63 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگیولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی مہنگی کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق بجلی جنوری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی صارفین سے مارچ کے بلوں میں اضافی وصولی ہوگی اور اس اضافے کا اطلاق کے-الیکڑک صارفین پر بھی ہوگا۔

لائف لائن صارفین الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز پر اطلاق نہیں ہو گا، نیپرا نے جنوری کی فیول پرائس پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

خیال رہے کہ نیپرا نے گزشتہ روز سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی بجلی مہنگی کی تھی، سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 35 پیسے یونٹ مہنگی کی گئی تھی۔



Source link

Continue Reading

Today News

دہشتگردی کیخلاف ریاستی بیانیے کو مضبوط اور واضح بنانا ناگزیر ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان

Published

on



بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ معاشرے میں ریاستی رٹ مستحکم ہو رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ریاستی بیانیے کو مزید مضبوط اور واضح بنانا ناگزیر ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا 21 واں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکیورٹی اداروں کے اعلیٰ افسران، کمانڈر کوئٹہ کور اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کی شدید مذمت کی گئی اور اسے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔

 شرکاء نے مؤثر دفاعی حکمت عملی اور بروقت جوابی کارروائیوں پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا، محکمہ داخلہ کی جانب سے امن و امان کی مجموعی صورتحال اور جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ کے مطابق بلوچستان سے 7 لاکھ 21 ہزار افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جا چکا ہے جبکہ مجموعی طور پر بلوچستان کے راستے تقریباً 10 لاکھ افغان مہاجرین کی واپسی عمل میں لائی گئی ہے۔ غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور مستند اطلاع دینے والوں کے لیے 50 ہزار روپے انعام مقرر کیا گیا ہے اور پوست کی کاشت میں ملوث عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ 330 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں۔

ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث 9 افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور انہیں برطرف کرنے کے لیے شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔اپیکس کمیٹی نے دہشت گردی میں ملوث عناصر کے اہل خانہ کی جانب سے اظہار لاتعلقی کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔

 ایف آئی اے کی بلوچستان میں حوالہ ہنڈی اور بھتہ خوری کے خلاف مؤثر کارروائیوں پر بریفنگ دی گئی۔24 ملزمان گرفتار کیے گئے جبکہ 16 کو سزائیں دلوائی گئیں۔ ایف آئی اے کی کارکردگی میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی۔

تعلیمی شعبے میں پیش رفت کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایک سال کے دوران 2 لاکھ آؤٹ آف اسکول بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخل کیا گیا ہے۔ صوبے کی 12 جامعات میں سے 10 میں بائیو میٹرک حاضری نظام نصب کر دیا گیا ہے۔

اپیکس کمیٹی نے آئندہ مرحلے میں کالجز اور اسکولوں میں بھی یہ نظام یقینی بنانے کی ہدایت کی، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیٹرنس کے مؤثر نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور معاشرے میں ریاستی رٹ مستحکم ہو رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ریاستی بیانیے کو مزید مضبوط اور واضح بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور کا بچہ مزدور نہیں رہے گا،تعلیم اور میرٹ کے ذریعے نئی منزلیں حاصل کرے گا۔

رواں سال 5 مزدوروں کے بچوں کا پاکستان ایئر فورس میں منتخب ہونا صوبے کے لیے قابل فخر اعزاز ہے،انہوں نے مزید کہا کہ 28 ہزار بلوچ نوجوان پاکستان آرمی اور فرنٹیئر کور میں خدمات انجام دے رہے ہیں جو بلوچستان کی حب الوطنی کا واضح ثبوت ہے۔ امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام ریاستی ادارے ایک صفحے پر ہیں اور کسی کو صوبے کا امن سبوتاژ نہیں کرنے دیا جائے گا، بلوچستان میں ترقی، تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھانا ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے۔

 ریاست کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں شرکاء نے صوبے میں امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے اور ترقیاتی اقدامات پر اتفاق کیا اور فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا عزم دہرایا۔



Source link

Continue Reading

Today News

کالجوں میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے معاملے پر جامعہ کراچی اور کالج پرنسپلز کے مابین ڈیڈ لاک

Published

on



کراچی کے سرکاری کالجوں میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے معاملے پر جامعہ کراچی اور کالج پرنسپلز کے مابین شدید ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا ہے، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے اکیڈمک خدوخال طے کرنے کے معاملے پر بلایا گیا اجلاس شدید اختلافات کے نذر ہوگیا ہے اور اختلاف رائے سامنے آنے پر کالج پرنسپلز نے وائس چانسلر جامعہ کراچی کی زیر صدارت جاری اجلاس کا بائیکاٹ کردیا کالج پرنسپل اجلاس کا بائیکاٹ کرکے سماعت گاہ سے باہر آگئے اور اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔

واضح رہے کہ جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات نے کراچی کے ڈگری کالجوں کے پرنسپلز کا اجلاس وائس چانسلر کی زیر صدارت بدھ کی صبح طلب کیا تھا یہ اجلاس سلیبس اور اسکیم آف اسٹڈیز کے حوالے سے مختلف ابہامات کے ضمن میں بلایا گیا تھا تاہم اس موقع پر کالج پرنسپلز نے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام میں "بائے اینوول" اور "سیمسٹر سسٹم " کا معاملہ اٹھادیا اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کو بتایا کہ ریجنل ڈائریکٹر کالجز کی جانب سے اس معاملے پر ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس کے اراکین بھی یہاں موجود ہیں۔

اس کمیٹی کے کنوینر اور آدم جی سائنس کالج کے پرنسپل پروفیسر ناصراقبال نے "ایکسپریس " کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہم نے اجلاس میں یہ بات باور کرانے کی کوشش کی کہ ایچ ای سی کے مطابق یہ پروگرام سیمسٹر سسٹم پر چلنا ہے اور جامعہ کراچی نے سیمسٹر سسٹم کے بجائے اسے بائے اینوول کردیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ بائے اینول کو مزید ایک سال کے لیے ملتوی کیا جائے اور ازاں بعد اس پروگرام کو سیمسٹر سسٹم پر منتقل کیا جائے تاکہ 50 فیصد مارکس کے سیمسٹر امتحانات خود کالجز لے سکیں لیکن وائس چانسلر ہماری بات سنیے کو تیار نہیں تھے اور ہماری ہر بات پر انکار کیا جاتا رہا۔

سلیبس کے حوالے سے بھی ہمارے پرنسپلز کو کبھی ایفیلیشن کبھی ڈین آفس اور کبھی چیئرمین شعبہ جات کے پاس بھیج دیا جاتا ہے لیکن مسائل حل نہیں ہوتے لہٰذا ہمیں مجبورا اجلاس کا بائیکاٹ کرنا پڑا اور کالج پرنسپلز اجلاس چھوڑ کر باہر آگئے، انھوں نے بتایا کہ ہم نے اپنی سفارشات رجسٹرار جامعہ کراچی کو جمع کرائی ہیں تاکہ یہ مسائل حل ہوسکیں۔

ادھر بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں کچھ ایسے کالج اساتذہ بھی شامل ہوگئے تھے جو کالج پرنسپلز تھے ہی نہیں بلکہ جس پر جامعہ کراچی نے شدید اعتراض بھی کیا، وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی سے جب اس معاملے پر رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ کالج  ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے کہنے پر ہم نے گزشتہ برس بائے اینوول امتحانی نظام کو ایک سال کے لیے موخر کیا تھا اب کالج پرنسپل اس سال بھی اسے موخر کرانا چاہتے تھے کالجز انتظامیہ نے ایک کمیٹی بنائی جس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ جامعہ کراچی نے بائے ایننول متعارف کرواکے ایچ ای سی کی وائیلیشن کی ہے۔

ہم نے انھیں بتایا کہ ایچ ای سی جامعات کو صرف گائیڈ لائن دیتی ہے، جامعات ان گائیڈ لائنز پر کوئی بھی فیصلہ اپنی اکیڈمک کونسل اور سینڈیکیٹ کی منظوری سے کرتی ہے ہم نے پرنسپلز کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر سلیبس میں کچھ مشکلات ہیں تو پرنسپلز براہ راست مجھ سے رابطہ کریں میں خود اس مسئلے کو حل  کراؤں گا لیکن جب یہ سننے کو تیار ہی نہیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Trending