Today News
بحرہند میں ایران کے جنگی جہاز کو غرق کردیا؛ امریکی وزیر دفاع کا دعویٰ
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں ایک ہنگامی پریس بریفنگ میں ایران جنگ سے متعلق ایک بڑا دعویٰ کردیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکا کے وزیر دفاع نے پینٹاگون میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا نے بحر ہند میں تیرتے ایران کے ایک جنگی جہاز کو غرق کر دیا۔
امریکی وزیر دفاع نے مزید بتایا کہ ایرانی جہاز کو تارپیڈو کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تاہم پیٹ ہیگستھ نے اس ایرانی جہاز کا نام نہیں لیا۔
امریکا کی جانب سے ایرانی بحری جہاز کی تفصیلات تو نہیں بتائی گئیں لیکن سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جہاز ڈوب گیا ہے جس میں تقریباً 180 افراد سوار تھے۔
سری لنکا کے سیکرٹری برائے وزیر دفاع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سمندر میں ڈوبنے والے ایرانی جہاز پر سوار 80 افراد کی لاشیں مل گئی ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران 30 سے زائد افراد کو بحفاطت بھی نکالا گیا جب کہ بقیہ کی تلاش کا کام جاری ہے۔
دوسری جانب بھارتی بحریہ کی مشرقی کمان کے مطابق یہ جہاز بحری مشق آئی آر ایف اینڈ میلان 2026 میں شرکت کے لیے خطے میں موجود تھا۔
تاحال ایران کی جانب سے اپنے بحری جہاز سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی امریکا نے تصدیق کی آیا یہ وہی جہاز ہے جس کو غرق کرنے کا دعویٰ امریکی وزیر دفاع نے کیا۔
یاد رہے کہ سری لنکا میں ڈوبنے والے ایرانی بحری جہاز کے غرق ہونے کی کوئی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔
جس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ سری لنکا میں ڈوبنے والا ایرانی جہاز وہی ہے جسے امریکی دفاع نے نام لیے بغیر غرق کا دعویٰ لیا ہے۔
سری لنکا میں ممکنہ امریکی حملے میں سمندر برد ہونے والے ایران کے جنگی بحری جہاز کی تفصیلات درج زیل ہیں۔
حادثے کا شکار بحری جہاز ’آئی آر آئی ایس دینا‘ تھا
حادثے کا شکار ہونے والا جہاز آئی آر آئی ایس دینا ایران کی بحریہ کے 86ویں بیڑے کا حصہ تھا۔ یہ مکمل طور پر ایرانی ساختہ جنگی جہاز ہے۔
نور اور قدر اینٹی شپ میزائلوں سے لیس اس بحری جہاز کی لمبائی تقریباً 95 میٹر اور وزن قریباً 1500 ٹن ہے جب کہ اس میں 76 ایم ایم فجر 27 نیول گن اور 30 ایم ایم ہتھیار نصب تھے۔
یہ جہاز 2022 سے 2023 کے دوران تقریباً 65 ہزار کلومیٹر کا عالمی بحری سفر کر چکا ہے اور اسے ایرانی بحری طاقت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔
حادثہ کیسے پیش آیا؟
سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے پارلیمان کو بتایا کہ آج صبح جہاز سے ہنگامی سگنل موصول ہوئے جس کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ تاہم جہاز ڈوبنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں کی گئیں۔
اپوزیشن کے ایک رکنِ پارلیمنٹ نے سوال اٹھایا کہ آیا ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں اس جہاز کو نشانہ بنایا گیا؟ اس سوال پر حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
Today News
خود مختاری کا احترام لیکن امریکا کو جواب دینا ضروری تھا؛ ایران کا خلیجی ممالک کو پیغام
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جنگی صورت حال پر ہمسایہ خلیجی ممالک کے نام ایک خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ہمارے پاس امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
سوشل میڈیا پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے بیان میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے پڑوسی ممالک سے کہا ہے کہ ایران نے جنگ سے بچنے کی بہت کوشش کی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ان حملوں نے ایران کے پاس اپنے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا۔
صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران اپنے پڑوسیوں کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے لیکن وہاں موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ناگزیر ہوگیا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ خطے کی سلامتی اور استحکام صرف علاقائی ریاستوں کی اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں۔ اور ان کا ماننا ہے کہ خطے کے ممالک کو ہے خطے میں امن کو یقینی بنانا چاہیے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کرکے آیت اللہ خامنہ ای، ان کے اہل خانہ اور اہم ترین دفاعی شخصیات کو شہید کردیا تھا۔
جس کے جاب میں ایران نے اپنے پڑوسی عرب ممالک پر سیکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے جن کا ہدف امریکی فوجی اڈّے اور مفادات تھے۔
ایران نے اب تک متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان سمیت خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں اور شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا ہے۔
پینٹاگون نے تصدیق کی ہے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈّوں پر ایرانی حملے میں 4 سے زائد فوجی مارے گئے ہیں۔
تاحال امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایرانی صدر کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ خطے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
Today News
عراق میں بجلی کا مکمل بریک ڈاؤن؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو ملک سے نکل جانے کی ہدایت
عراق میں بجلی کی طویل بندش کے باعث پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق وزارت بجلی نے بتایا کہ اس وقت ایک ساتھ پورا ملک بجلی کی مکمل بندش سے متاثر ہے۔
عراقی وزارت بجلی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تمام صوبوں میں پاور گرڈ مکمل طور پر بند ہوگئے ہیں۔
وزارت بجلی نے بتایا کہ ملک بھر میں ہونے والے بجلی کے تعطل کے بعد بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے لیکن اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بجلی کی بندش کی تاحال کوئی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی ہے البتہ تحقیقات کا آغاز کردیا۔
دوسری جانب بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے نے عراق میں موجود تمام امریکی شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو محفوظ طریقے سے عراق سے نکل جائیں۔
امریکی سفارتخانے نے مزید کہا کہ جب تک عراق سے نکلنے کے لیے حالات سازگار نہ ملیں اُس وقت تک کسی محفوظ جگہ پر پناہ لے لیں۔
خیال رہے کہ امریکا کے ایران پر حملوں کے بعد دنیا بھر اور بالخصوص خلیجی عرب ممالک سے امریکی شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایران نے بھی خلیجی عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈّوں اور مفادات کو نشانہ بنایا ہے جس میں 4 امریکیوں کی ہلاکت تصدیق پینٹاگون نے بھی کی ہے۔
Today News
امریکا نے ایران پر حملے سے قبل 13 معدنیات کیلیے کان کن کمپنی سے رابطہ کیا تھا؛ رائٹرز
ایران پر حملے سے محض ایک روز قبل امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے 13 اہم معدنیات کی فراہمی بڑھانے کے لیے کان کنی کی کمپنیوں سے تعاون طلب کیا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ان کے نمائندے نے وہ دستاویز دیکھیں جن میں یہ اہم معلومات درج تھیں۔
رائٹرز کے بقول ان دستاویز میں 13 اہم معدنیات کی فراہمی بڑھانے کے لیے مانگا گیا تعاون جنگی اور دفاعی ضروریات کے تناظر میں طلب کیا گیا تھا۔
پینٹاگون نے دفاعی صنعتی بنیاد کنسورشیم سے وابستہ کمپنیوں، جامعات اور دیگر اداروں سے کہا کہ وہ 20 مارچ تک ایسے منصوبوں کی تجاویز جمع کرائیں۔
جن کے ذریعے نکل، گریفائٹ، ریئر ارتھ عناصر اور دیگر اہم معدنیات کی کان کنی، پراسیسنگ یا ری سائیکلنگ کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ معدنیات سیمی کنڈکٹرز، جدید اسلحہ، مواصلاتی نظام اور دیگر دفاعی مصنوعات کی تیاری میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔
دستاویز کے مطابق یہ درخواست ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایک روز قبل جاری کی گئی۔
رائٹرز کے بقول وائٹ ہاؤس سمیت دفاعی صنعتی بنیاد کنسورشیم اور پینٹاگون نے فوری طور پر اس خبر پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
یاد رہے کہ ان معدنیات کے بارے میں رائے کی طلبی کے اگلے روز ہی اسرائیل نے ایران میں ایک زیر زمین بنکر پر بمباری کی تھی۔
جہاں ایران کے سپریم لیڈر ایک اہم سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ اس حملے میں آیت اللہ سمیت وزیر دفاع، آرمی چیف، مشیر قومی سلامتی اور پاسداران انقلاب کے سربراہ شہید ہوگئے تھے۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech2 weeks ago
PTA Ties Mobile Network Expansion to $15 Million in Guarantees
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report