Connect with us

Today News

ایران امریکا جنگ کے باعث فضائی نظام درہم برہم ، ملک بھر کے ایئرپورٹس پر سامان کے انبار لگ گئے

Published

on



ایران امریکا جنگ نے فضائی نظام درہم برہم کردیا، علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک بھر کے ایئرپورٹس کے گوداموں میں سیکڑوں ٹن سامان کے انبار  لگ گئے جبکہ بڑی ایئر کار گو سروس فرام کرنے والی کمپنیوں نے چارجرز ڈبل ٹرپل کر دیے۔

تفصیلات کے مطابق ایران امریکا جنگ نے مسافروں کے ساتھ ساتھ ایئر کاگو سروس بھی شدید متاثر کر دی، مشرقی وسطی کے لیے کھانے پینے کی اشیاء سے لیکر پھل سبزیاں گوشت سمیت دیگر سامان گزشتہ پانچ روز سے روانہ نہ ہو سکا۔

 پاکستان کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسلام آباد، کراچی، ملتان، فیصل آباد اور سیالکوٹ سے ایئر کارگو کے ذریعے جانے والا سامان بھی ایئرپورٹ کے گوداموں میں پڑا ہوا ہے جو کمپنیاں لے کر جا رہی ہیں انہوں نے اپنے ریٹ بھی ڈبل کر دیے ہیں، سب سے زیادہ متاثر گوشت پھل سبزیوں بھجوانے والے ایکسپورٹر ہو رہے ہیں۔

 لاہور ایئرپورٹ کی بات کریں تو روزانہ 200 سے 300 ٹن کے قریب سامان ایئر کاگو کے ذریعے دبئی، ابوظیبی، شارجہ، بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو جاتا تھا لیکن  ایران امریکا جنگ کے باعث فضائی آپریشن معطل ہونے کی وجہ سے سامان نہیں پہنچ پا رہا، ایکسپورٹر بھی پریشان ہیں  جبکہ کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ بھی بے روزگار ہو چکے ہیں۔

 لاہور علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہ 60 سے 70 کے قریب کلیئرنگ ایجنٹ ہیں جو روزانہ 200 سے 300 ٹن  کے قریب بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ سامان کلیئر کراتے تھے، کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ ریاض کے مطابق گزشتہ پانچ روز سے ایک بھی شپمنٹ نہیں گئی نہ کوئی شپمنٹ آئی نہ کوئی شپمنٹ  گئی ۔

روزانہ اس آس پر آتے ہیں کہ شاید آج فضائی روٹس بحال ہو جائیں اور کچھ سامان چلا جائے تو دو وقت کی روٹی کما لیں مگر ایران امریکا جنگ شدت اختیار کر گئی ہے اور دور دور تک کوئی چانس بھی نظر نہیں آرہا۔

دوسری طرف ایئر کارگو سروس فراہم کرنے والی کمپنی کے ڈائریکٹر منصور  کے مطابق ان کا مال ان کے دفاتر اور ایئرپورٹ کے شیڈ میں گزشتہ پانچ روز سے پڑا ہے بکنگ ہو چکی تھی لیکن پروازیں عین ٹائم پہ منسوخ ہو گئیں جس کی بنا پر سامان نہ تو سعودی عرب جا سکا نہ عرب امارات جو تھوڑی بہت فضائی کمپنیاں  ایئر کارگو سروس فرام بھی کر رہی ہیں تو انہوں نے بھی اپنے ریٹس میں ڈبل ٹرپل   اضافہ کر دیا ہے ان کے ریٹ اس قدر زیادہ ہو گئے ہیں کہ اس پر سامان بھجوانا ممکن ہی نہیں رہا یعنی کہ سامان کی قیمت سے بھی زیادہ ریٹ ہو چکے ہیں ۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے کم از کم ایئر کارگو سروس کو بحال کیا جائے تاکہ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر ایئرپورٹ پر ہزاروں ٹن کے حساب سے جو سامان پڑا ہے وہ روانہ ہو سکے اگر یہ سامان نہ گیا جس میں پھل سبزیاں کھانے پینے کی دیگر اشیاء سمیت کپڑے اور دیگر اشیاء شامل ہیں نہ گیا تو  ان کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوگا۔

 انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد سے جلد ایئر لائن کے ساتھ مشاورت کر کے کارگو سروس کو بحال کیا جائے تاکہ ایئر  کارگو سے جڑے ہزاروں خاندان بے روزگار ہونے سے بچ سکیں۔

 منصور کے مطابق صرف یورپ کے کچھ ممالک اور امریکا کینیڈا شپمنٹ گئی ہیں اور وہ بھی ڈبل ریٹس پر مجبوری میں بھجوائیں ہیں، اگر چند روز میں صورتحال ٹھیک نہ ہوئی تو حالات  بہت زیادہ خراب ہو جائیں گے جہاں نقصان ایئرلائن ایئر کارگو سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ہو رہا ہے وہیں کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز کی مد میں حکومت کو بھی اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، گارمنٹس اور دیگر اشیاء تو ایک دو ہفتے روکی جا سکتیں ہیں مگر پھل سبزیوں اور گوشت کا کیا کریں گے، گوشت کو شپمنٹ سے پہلے دس سے بارہ گھنٹے کے لیے خصوصی ٹمپریچر پر رکھا جاتا ہے مگر یہاں تو بات گھنٹوں سے نکل کر دنوں تک پہنچ گئی ہے، سبزیاں، گوشت، پھل تو سڑ جائیں گے۔

 ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ پانچ روز سے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک بھر سے ملکی وغیر ملکی ایئر لائینز کی سات سو سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور زیادہ تر سامان ان پروازوں کے ذریعے ہی کار گو ہوتا تھا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

خود مختاری کا احترام لیکن امریکا کو جواب دینا ضروری تھا؛ ایران کا خلیجی ممالک کو پیغام

Published

on


ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جنگی صورت حال پر ہمسایہ خلیجی ممالک کے نام ایک خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ہمارے پاس امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

سوشل میڈیا پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے بیان میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے پڑوسی ممالک سے کہا ہے کہ ایران نے جنگ سے بچنے کی بہت کوشش کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ان حملوں نے ایران کے پاس اپنے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا۔

صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران اپنے پڑوسیوں کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے لیکن وہاں موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ناگزیر ہوگیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ خطے کی سلامتی اور استحکام صرف علاقائی ریاستوں کی اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں۔ اور ان کا ماننا ہے کہ خطے کے ممالک کو ہے خطے میں امن کو یقینی بنانا چاہیے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کرکے آیت اللہ خامنہ ای، ان کے اہل خانہ اور اہم ترین دفاعی شخصیات کو شہید کردیا تھا۔

جس کے جاب میں ایران نے اپنے پڑوسی عرب ممالک پر سیکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے جن کا ہدف امریکی فوجی اڈّے اور مفادات تھے۔

ایران نے اب تک متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان سمیت خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں اور شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا ہے۔

پینٹاگون نے تصدیق کی ہے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈّوں پر ایرانی حملے میں 4 سے زائد فوجی مارے گئے ہیں۔

تاحال امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایرانی صدر کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ خطے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

عراق میں بجلی کا مکمل بریک ڈاؤن؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو ملک سے نکل جانے کی ہدایت

Published

on


عراق میں بجلی کی طویل بندش کے باعث پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق وزارت بجلی نے بتایا کہ اس وقت ایک ساتھ پورا ملک بجلی کی مکمل بندش سے متاثر ہے۔

عراقی وزارت بجلی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تمام صوبوں میں پاور گرڈ مکمل طور پر بند ہوگئے ہیں۔

وزارت بجلی نے بتایا کہ ملک بھر میں ہونے والے بجلی کے تعطل کے بعد بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے لیکن اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بجلی کی بندش کی تاحال کوئی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی ہے البتہ تحقیقات کا آغاز کردیا۔

دوسری جانب بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے نے عراق میں موجود تمام امریکی شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو محفوظ طریقے سے عراق سے نکل جائیں۔

امریکی سفارتخانے نے مزید کہا کہ جب تک عراق سے نکلنے کے لیے حالات سازگار نہ ملیں اُس وقت تک کسی محفوظ جگہ پر پناہ لے لیں۔

خیال رہے کہ امریکا کے ایران پر حملوں کے بعد دنیا بھر اور بالخصوص خلیجی عرب ممالک سے امریکی شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایران نے بھی خلیجی عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈّوں اور مفادات کو نشانہ بنایا ہے جس میں 4 امریکیوں کی ہلاکت تصدیق پینٹاگون نے بھی کی ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

امریکا نے ایران پر حملے سے قبل 13 معدنیات کیلیے کان کن کمپنی سے رابطہ کیا تھا؛ رائٹرز

Published

on


ایران پر حملے سے محض ایک روز قبل امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے 13 اہم معدنیات کی فراہمی بڑھانے کے لیے کان کنی کی کمپنیوں سے تعاون طلب کیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ان کے نمائندے نے وہ دستاویز دیکھیں جن میں یہ اہم معلومات درج تھیں۔

رائٹرز کے بقول ان دستاویز میں 13 اہم معدنیات کی فراہمی بڑھانے کے لیے مانگا گیا تعاون جنگی اور دفاعی ضروریات کے تناظر میں طلب کیا گیا تھا۔

پینٹاگون نے دفاعی صنعتی بنیاد کنسورشیم سے وابستہ کمپنیوں، جامعات اور دیگر اداروں سے کہا کہ وہ 20 مارچ تک ایسے منصوبوں کی تجاویز جمع کرائیں۔

جن کے ذریعے نکل، گریفائٹ، ریئر ارتھ عناصر اور دیگر اہم معدنیات کی کان کنی، پراسیسنگ یا ری سائیکلنگ کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ معدنیات سیمی کنڈکٹرز، جدید اسلحہ، مواصلاتی نظام اور دیگر دفاعی مصنوعات کی تیاری میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

دستاویز کے مطابق یہ درخواست ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایک روز قبل جاری کی گئی۔

رائٹرز کے بقول وائٹ ہاؤس سمیت دفاعی صنعتی بنیاد کنسورشیم اور پینٹاگون نے فوری طور پر اس خبر پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

یاد رہے کہ ان معدنیات کے بارے میں رائے کی طلبی کے اگلے روز ہی اسرائیل نے ایران میں ایک زیر زمین بنکر پر بمباری کی تھی۔

 جہاں ایران کے سپریم لیڈر ایک اہم سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ اس حملے میں آیت اللہ سمیت وزیر دفاع، آرمی چیف، مشیر قومی سلامتی اور پاسداران انقلاب کے سربراہ شہید ہوگئے تھے۔

 





Source link

Continue Reading

Trending