Connect with us

Today News

کالجوں میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے معاملے پر جامعہ کراچی اور کالج پرنسپلز کے مابین ڈیڈ لاک

Published

on



کراچی کے سرکاری کالجوں میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے معاملے پر جامعہ کراچی اور کالج پرنسپلز کے مابین شدید ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا ہے، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے اکیڈمک خدوخال طے کرنے کے معاملے پر بلایا گیا اجلاس شدید اختلافات کے نذر ہوگیا ہے اور اختلاف رائے سامنے آنے پر کالج پرنسپلز نے وائس چانسلر جامعہ کراچی کی زیر صدارت جاری اجلاس کا بائیکاٹ کردیا کالج پرنسپل اجلاس کا بائیکاٹ کرکے سماعت گاہ سے باہر آگئے اور اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔

واضح رہے کہ جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات نے کراچی کے ڈگری کالجوں کے پرنسپلز کا اجلاس وائس چانسلر کی زیر صدارت بدھ کی صبح طلب کیا تھا یہ اجلاس سلیبس اور اسکیم آف اسٹڈیز کے حوالے سے مختلف ابہامات کے ضمن میں بلایا گیا تھا تاہم اس موقع پر کالج پرنسپلز نے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام میں "بائے اینوول" اور "سیمسٹر سسٹم " کا معاملہ اٹھادیا اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کو بتایا کہ ریجنل ڈائریکٹر کالجز کی جانب سے اس معاملے پر ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس کے اراکین بھی یہاں موجود ہیں۔

اس کمیٹی کے کنوینر اور آدم جی سائنس کالج کے پرنسپل پروفیسر ناصراقبال نے "ایکسپریس " کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہم نے اجلاس میں یہ بات باور کرانے کی کوشش کی کہ ایچ ای سی کے مطابق یہ پروگرام سیمسٹر سسٹم پر چلنا ہے اور جامعہ کراچی نے سیمسٹر سسٹم کے بجائے اسے بائے اینوول کردیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ بائے اینول کو مزید ایک سال کے لیے ملتوی کیا جائے اور ازاں بعد اس پروگرام کو سیمسٹر سسٹم پر منتقل کیا جائے تاکہ 50 فیصد مارکس کے سیمسٹر امتحانات خود کالجز لے سکیں لیکن وائس چانسلر ہماری بات سنیے کو تیار نہیں تھے اور ہماری ہر بات پر انکار کیا جاتا رہا۔

سلیبس کے حوالے سے بھی ہمارے پرنسپلز کو کبھی ایفیلیشن کبھی ڈین آفس اور کبھی چیئرمین شعبہ جات کے پاس بھیج دیا جاتا ہے لیکن مسائل حل نہیں ہوتے لہٰذا ہمیں مجبورا اجلاس کا بائیکاٹ کرنا پڑا اور کالج پرنسپلز اجلاس چھوڑ کر باہر آگئے، انھوں نے بتایا کہ ہم نے اپنی سفارشات رجسٹرار جامعہ کراچی کو جمع کرائی ہیں تاکہ یہ مسائل حل ہوسکیں۔

ادھر بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں کچھ ایسے کالج اساتذہ بھی شامل ہوگئے تھے جو کالج پرنسپلز تھے ہی نہیں بلکہ جس پر جامعہ کراچی نے شدید اعتراض بھی کیا، وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی سے جب اس معاملے پر رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ کالج  ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے کہنے پر ہم نے گزشتہ برس بائے اینوول امتحانی نظام کو ایک سال کے لیے موخر کیا تھا اب کالج پرنسپل اس سال بھی اسے موخر کرانا چاہتے تھے کالجز انتظامیہ نے ایک کمیٹی بنائی جس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ جامعہ کراچی نے بائے ایننول متعارف کرواکے ایچ ای سی کی وائیلیشن کی ہے۔

ہم نے انھیں بتایا کہ ایچ ای سی جامعات کو صرف گائیڈ لائن دیتی ہے، جامعات ان گائیڈ لائنز پر کوئی بھی فیصلہ اپنی اکیڈمک کونسل اور سینڈیکیٹ کی منظوری سے کرتی ہے ہم نے پرنسپلز کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر سلیبس میں کچھ مشکلات ہیں تو پرنسپلز براہ راست مجھ سے رابطہ کریں میں خود اس مسئلے کو حل  کراؤں گا لیکن جب یہ سننے کو تیار ہی نہیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ہرمز کی لہروں سے اٹھتا ہوا 25 ارب ڈالرکا سرخ طوفان

Published

on


بیرونی تجارت سے متعلق تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جولائی تا فروری 2006 کے پہلے 8 ماہ میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالر کی دہلیز پار کر چکا ہے۔ برآمدات 20.46 ارب ڈالر تک محدود رہیں اور درآمدات 45.50 ارب ڈالر تک جا پہنچیں۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں 25 فی صد تجارتی خسارہ زیادہ ہے۔ یہ قرض محض ہندسوں کا نہیں، یہ ابھی ابتدا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی لہروں سے جو پیغام آ رہا ہے، اسے نہ سمجھے تو 25 ارب ڈالر سے بڑا سرخ طوفان آ سکتا ہے کیونکہ خلیجی ممالک پاکستان کیلیے صرف تیل کے کنویں نہیں بلکہ برآمدات کے دروازے بھی ہیں۔ پاکستان پٹرولیم مصنوعات کا بہت بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے درآمد کرتا ہے۔

خام تیل کی قیمت میں چند ڈالر کا بھی اضافہ ہمارے لیے اربوں ڈالر کے برابر ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق آٹھ ماہ میں برآمدات 7.3 فی صد کمی کے ساتھ مجموعی طور پر 20 ارب 46 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں۔ رواں مالی سال کے 8 ماہ میں درآمدات 8.1 فی صد بڑھیں، اس کے علاوہ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کی لاگت بڑھتی ہے اور پھر کرایہ بڑھ جاتا ہے جس کے ساتھ ہی ہر شے کی قیمت میں اضافہ ہو کر آبنائے ہرمز کی لہروں کی بلندی سے متاثر ہو کر پاکستان میں مہنگائی کی لہر آسمان سے باتیں کرتی نظر آئے گی۔پاکستان کی ترسیلات زر کی کہانی بھی اسی سمندری راستے سے جڑی ہوئی ہے۔ وہاں اوور ٹائم کم ہونے کی صورت میں نوکری ختم ہو جانے کی صورت میں وطن بھیجے جانے والی رقوم میں کمی آ سکتی ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ دس فی صد کمی بھی 3 سے 4 ارب ڈالر کی کمی لا سکتی ہے۔ اسی طرح ان ملکوں سے جو آرڈرز آنے ہیں یا آ چکے ہیں ان کی منسوخی کا پیغام بھی برآمدات کو سخت ترین دھچکا پہنچا سکتا ہے۔

بعض اندازوں کے مطابق خلیجی ریاستوں کو بھیجی جانے والی برآمدات میں 10 فی صد کمی آئے تو بھی ڈھائی سے تین ارب ڈالر کا دھچکا لگ سکتا ہے اور برآمدات مزید سکڑ سکتی ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے درآمدات کی مالیت برآمدات کی مالیت سے دگنی یا تگنی کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ یہ سب مل کر 25 ارب 4 کروڑ ڈالر کے تجارتی خسارے کو ایک عدد سے بڑھا کر معاشی طوفان کی شدت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس قسم کے معاشی بحرانوں سے پاکستان اس لیے زیادہ متاثر ہوگا کیونکہ ملک کی برآمدی صورتحال انتہائی نازک ہے۔ آبنائے ہرمز کے راستوں کے علاوہ دیگر بہت سے ممالک بہت سی سمندری گزرگاہیں ایسی ہوں گی جہاں سے پاکستان کے برآمدی جہازوں کا گزر نہ ہوا ہوگا، انھیں تلاش کرنا ہوگا اور ہمیں اپنی برآمدات کو بہت زیادہ فوکس کرتے ہوئے برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا۔حکومت کو چاہیے کہ برآمدات میں اضافے کیلیے فوری طور پر تاجروں کی میٹنگ بلائے کیونکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خلیجی ریاستوں کی مجموعی صورت حال فی الوقت پاکستان کے تجارتی خسارے اور کم ہوتی ہوئی برآمدات کو مستقبل قریب میں خراب کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ تاجروں اور حکومت کی ایک دن کی بھرپور میٹنگ کراچی میں بلائے کیونکہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے۔ مقصد واضح ہے ہرمز کے علاوہ دیگر تجارتی راستوں کی تلاش۔ ہرمز کا دباؤ ختم نہیں ہو سکتا لیکن اثرات بہت حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ آئندہ کیلیے 25 ارب ڈالر کے خسارے کو کم کرنے اور برآمدات بڑھانے کی ایک کوشش ہوگی۔حکومت کو چاہیے کہ تاجروں کو اپنی معلومات دے۔ برآمدات کے نئے راستے نئے ممالک میں برآمدات بڑھانے کی خاطر وہاں کے سفارتخانوں کو کیسے فعال کرنا ہے، ان ملکوں میں تاجروں کو جا کر کیسے کام کرنا ہے، مالی تحفظ کیلیے حکومتی کارکردگی کیا ہوگی، تاجروں کا کام ہے کہ حکومتی تعاون کس طرح انھیں درکار ہے۔

نئے راستے، نئی سوچ، نئی برآمدات اس قسم کی تقریب ایک دن والی نہیں بلکہ پاکستان کی برآمدات کی نئی صبح کی امید ہوگی۔ اب ہمیں خسارے کی گونج سے نکلنا ہوگا۔ نئی راہوں کی تلاش سے خسارے کی کہانی کو بدلنا ہوگا۔ ہرمز کی لہریں ہمیں آگاہ کر رہی ہیں کہ وہاں کا ہلکا سا ارتعاش کراچی کی بندرگاہ تک پہنچ رہا ہے اور یہ تجارتی خسارہ اعداد و شمار میں نہیں بلکہ ہرمز دور کی محنت، ہر تاجر کی فکر، ہر صنعتی کارخانے کی دھڑکن میں محسوس ہوتا ہے۔پاکستان کو زبردست طریقے سے مضبوط ترین معیشت بنانا ہوگا تاکہ کسی قسم کے خدشات سے چھٹکارا ممکن ہو۔ امریکا ایران کشیدگی ہمارے لیے ایک چھپا ہوا پیغام ہے جس سے ہم نظریں نہیں چرا سکتے لہٰذا پاکستان کی برآمدات کو ہر ممکن طریقے سے دگنا سے تین گنا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہرمز کی لہروں سے اٹھتا ہوا 25 ارب ڈالر کا سرخ طوفان سمندر میں ہی رک جائے۔ اس کا رخ موڑنے کیلیے حکومت اور تاجروں کو مل کر ایسا لائحہ عمل بنانا ہوگا کہ ہم خسارے سے نکل آئیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

’’معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق‘‘ غزوۂ بدر

Published

on


قریش مکہ جزیرۃ العرب کے تمام قبائل میں خود کو سب سے زیادہ ذی مرتبہ اور عالی وقار سمجھتے تھے۔ اﷲ کی وحدانیت اور روز قیامت پر ایمان لانا نیز اسلام کے مساویانہ نظام عدل کو قبول کرنا، ان کے متکبّرانہ سوچ کے خلاف تھا۔

اس لیے وہ اسلام سے سخت بے زار اور اسلام کے خاتمے کے در پہ تھے۔ جب تک مسلمان مکہ میں رہے وہ انہیں ہر طرح کی ایذائیں دیتے رہے لیکن جب مسلمان مدینے چلے گئے تو انہیں اپنی دیرینہ خواہش چکنا چُور ہوتی نظر آنے لگی۔ مدینے میں مسلمانوں کے جمتے قدم اور اسلام کا تیزی سے فروغ ان کے لیے سوہان روح سے کم نہ تھا۔ انھوں نے مدینہ منورہ کے یہودیوں اور اسلام قبول نہ کرنے والے اوس و خزرج کے لوگوں کو دھمکی دی کہ مکے کے مسلمانوں کو اپنے شہر سے نکالو ورنہ ہم تم پر حملہ آور ہوکر مردوں کو قتل اور عورتوں کو لونڈیاں بنالیں گے لیکن ان کی یہ دھمکی رائیگاں گئی جس پر انھوں نے مدینہ اور اس کے اطراف و اکناف کے مشرک قبائل سے ساز باز کا سلسلہ شروع کیا۔ اس وجہ سے حضور اکرم ﷺ نے اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کی تدابیر اختیار کیں۔

ابُوجہل نے مشہور کردیا کہ قریش کے اس قافلے کو جو شام سے آرہا ہے اور جس کا سرمایہ پچاس ہزار دینار ہے، مسلمان لوٹنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا قافلے کی حفاطت کے لیے جلد آگے بڑھنا چاہیے۔ اس کی تدبیر زود اثر ثابت ہوئی اور ایک ہزار کا عظیم لشکر جس میں تین سو گھوڑے اور سات سو اونٹ تھے، روانہ ہُوا۔ ابُوجہل مکے سے چار پانچ منزل پر تھا کہ اسے اطلاع مل گئی کہ وہ قافلہ بہ خیریت مکہ پہنچ گیا ہے۔ اہل لشکر نے ابُوجہل سے کہا کہ اب ہم کو واپس چلنا چاہیے لیکن ابُوجہل نے اتفاق نہ کیا اور کہا کہ یہ تو اچھا ہُوا، لیکن بہتر یہ کہ ہم مدینے کے قرب و جوار تک پہنچیں اور مسلمان ہماری کثرت اور شان و شوکت سے مرعوب ہوجائیں گے۔

ابُوجہل کا ارادہ جاننے کے بعد نبی کریم ﷺ نے سرداران مہاجرین اور انصار کی شوریٰ طلب کی جس میں سب سے پہلے حضرت ابُوبکر صدیق ؓ پھر حضرت عمرؓ نے نہایت جاں نثارانہ تقاریر کیں۔ لیکن آپؐ انصار کا عندیہ لینا چاہتے تھے۔ حضرت سعد بن عبادہؓ نے انصار کی طرف سے عرض کیا: ’’آپؐ جہاں تشریف لے جائیں گے، ہم آپؐ کے ساتھ ہیں، آپؐ جس سے قطع تعلق کرنا چاہیں کیجیے، جس سے قائم رکھنا چاہیں قائم رکھیں، ہم دونوں کے لیے حاضر ہیں، اگر آپ ﷺ برکِ غم دان (یمن کا ایک مقام) تک بھی جائیں گے تو ہم آپ ﷺ کے ساتھ ہیں، اگر آپ ﷺ ہمیں سمندر میں کود پڑنے کا حکم دیں گے تو ہم کود پڑیں گے۔‘‘

اس کے بعد انصار ہی کی طرف سے حضرت مقداد بن عمرؓ نے کہا: ’’ہم موسیٰؑ کی امت کی طرح نہیں ہیں، جس نے موسیٰؑ سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جاکر لڑو۔ ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم آپؐ کے دائیں بائیں، آگے پیچھے آپ ﷺ کے ساتھ رہیں گے۔‘‘

یہ تقریریں سن کر آپؐ کا چہرۂ مبارک وفور مسرت سے چمک اٹھا۔ آپ ﷺ تین سو تیرہ مسلمانوں کے ہم راہ روانہ ہوئے۔ اسلامی لشکر میں صرف ستّر اونٹ، تین گھوڑے اور آٹھ تلواریں تھیں۔ اس درمیان میں قریش کا لشکر جس میں ہزار پیدل اور سو سوار تھے۔ عقبہ بن ربیعہ کی قیادت میں مدینہ کے قریب پہنچ کر مناسب جگہوں پر قبضہ کرچکا تھا۔ آنحضرت ﷺ کو چاہ بدر کے قریب اس کی اطلاع ملی۔ آپ ﷺ وہیں ٹھہر گئے اور صف آرائی شروع کی۔ آپ ﷺ نے اصول جنگ کے مطابق فوجیں مرتب کیں۔ مہاجرین کا علم حضرت معصبؓ کو عنایت فرمایا۔ خزرج کا علم بردار حضرت خباب بن منذر ؓ اور اوس کے حضرت سعد بن معاذ ؓمقرر ہوئے۔ اب دو صفیں آمنے سامنے مقابل تھیں۔ حق و باطل، نور و ظلمت، کفر و اسلام، یہ عجیب منظر تھا اتنی بڑی دنیا میں اسلام کی بقاء چند نفوس پر منحصر تھی۔ اس وقت نبی کریم ﷺ پر گریہ طاری تھا۔ دونوں ہاتھ پھیلا کر فرماتے تھے: ’’یااﷲ! تُونے مجھ سے وعدہ کیا ہے آج پورا کر دے۔‘‘ محویت اور بے خودی کے عالم میں چادر کندھے سے گر پڑتی تھی اور آپ ﷺ کو خبر تک نہ ہوتی تھی۔ آپ ﷺ کبھی سجدے میں گر پڑتے تھے اور فرماتے تھے: ’’یااﷲ! اگر یہ چند نفوس آج مٹ گئے تو قیامت تک کوئی تیرا نام لیوا نہ ہوگا۔‘‘ قریش کی فوجیں اب بالکل قریب آگئیں۔ تاہم آپ ﷺ نے صحابہؓ کو پیش قدمی سے روکا اور فرمایا کہ جب دشمن پاس آجائیں تو تیر سے روکو۔ یہ بڑے امتحان و آزمائش کا موقع تھا۔ جب دونوں فوجیں مقابل ہوئیں تو مسلمانوں نے دیکھا کہ خود ان کے بزرگ اور ان کے قلب و جگر کے ٹکڑے تلواروں کے سامنے ہیں لیکن اسلام کی محبت نے تمام رشتوں کو بُھلا دیا تھا۔ چناں چہ میدان جنگ میں حضرت ابُوبکرؓ کی تلوار اپنے لخت جگر عبدالرحمٰن کے مقابلے میں بے نیام ہوئی۔ حضرت عمرؓ کی تلوار اپنے ماموں کے خون سے رنگین ہوئی۔ حضرت حذیفہؓ کو اپنے والد عقبہ کے مقابلے میں آنا پڑا۔ پہلے فرداً فرداً مقابلہ ہوا اور دونوں فوجوں میں سے ایک ایک آدمی میدان میں آیا۔ مقتول عمرو حضرمی کے بھائی کو حضرت عمرؓ کے غلام نے قتل کیا۔ قریش کے سپہ سالار عتبہ کا کام حضرت حمزہؓ اور حضرت علیؓ نے تمام کیا اس کے بھائی شیبہ کو حضرت علیؓ کی تلوار نے ختم کیا۔ عبیرہ بن سعید کو حضرت زبیرؓ نے مارا اس کے بعد عام جنگ شروع ہوگئی۔ دو انصاری بچے معاذ اور معوذ بن عفراءؓ ابُوجہل کی تاک میں تھے اس پر نظر پڑتے ہی انھوں نے اس کو زخموں سے چور کرکے لاچار کردیا۔ ابُوجہل کے قتل سے قریش میں بَد دلی پھیل گئی مگر ابھی ایک اور سردار امیہ بن خلف باقی تھا۔ اتفاق سے حضرت بلالؓ نے جو مکہ میں اس کے مشق ستم رہ چکے تھے اسے دیکھ لیا۔ انھوں نے انصار کو خبر کردی وہ ہر طرف سے ٹوٹ پڑے اور اسے جہنم رسید کردیا۔ امیہ کے قتل ہوتے ہی کفار نے میدان چھوڑ دیا۔

لڑائی کے خاتمے پر رسول اکرم ﷺ نے حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓ سے ابُوجہل کی موت کا پوچھا۔ جس پر حضرت عبداﷲؓ نے مُردوں کو معائنہ کرتے ہوئے ابوجہل کو فرش خاک پر پڑا دیکھا، وہ زخموں سے چور تھا۔ آپ نے تلوار نکالی اور اس کے سینے پر رکھ دی۔ گردن کاٹنے کے بعد حضرت عبداﷲ ؓ نے آنحضرت کو اس کی موت کی خبر دی۔ آپ ﷺ نے مسرت کا اظہار کیا اور فرمایا: ’’اﷲ کا شُکر ہے جس نے اسے رسوا کیا۔ یہ امت کا فرعون تھا۔‘‘ قریش کے بہت سے نام ور سرداروں کے ساتھ ستّر آدمی ہلاک ہوئے۔ مسلمانوں کے کل چودہ آدمی شہید ہوئے۔ کفار قریش کے ستر آدمی گرفتار ہوئے۔ اس کے بعد رسول اکرم ﷺ نے صحابہؓ سے اسیران جنگ کے بارے میں مشورہ کیا اور حضرت ابوبکرؓ کی رائے کو پسند فرماتے ہوئے فدیہ لے کر سب کو رہا کردیا جو لوگ ناداری کی وجہ سے فدیہ ادا نہ کرسکتے تھے اور لکھنا جانتے تھے ان کے متعلق حکم ہوا کہ دس دس لڑکوں کو لکھنا سکھا دیں تو وہ رہا کر دیے جائیں گے۔

کفار مکہ میدان جنگ سے ایسے بھاگے تھے کہ انھوں نے اپنی فوج کے مردوں کا بھی کچھ انتظام نہ کیا۔ حضور اکرم ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جہاں کہیں کسی انسان کی لاش بلا تدفین دیکھتے دفن کرنے کا حکم دیتے۔ بدر میں آنحضرت ﷺ نے ایسا ہی کیا۔ بعد ازاں حضور اکرم ﷺ کفار کے ایک ایک سردار کا نام لے کر یوں مخاطب ہوئے: ’’کیا تم نے اس وعدہ کو جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا (یعنی تمہاری شکست کا وعدہ) سچا پایا ؟ بے شک! میں نے اس وعدے کو سچا پایا ہے جو میرے رب نے مجھ سے کیا تھا۔‘‘ جنگ کا نتیجا انتہائی حیرت انگیز تھا۔ اغیار مسلمانوں کی فتح ماننے کے لیے بالکل تیار نہ تھے لیکن جب مسلمانوں کا فاتح لشکر قیدیوں اور کثیر مال غنیمت کے ہم راہ مدینہ میں داخل ہوا تو حاسد مشرکوں، منافقوں اور یہودیوں کی حیرت کی انتہاء نہ رہی۔ فتح بدر کی شہرت نے جزیرۃ العرب کے طول و عرض میں اسلام کی صداقت کا سکہ بٹھا دیا۔ بہت سے کفار قریش نے فرشتوں کے نزول اور آسمانی امداد کا پہنچنا دیکھا تھا اب ان کے دل میں اسلام کی صداقت سے متعلق کوئی شک باقی نہ رہا۔ چناں چہ ان میں سے متعدد مدینہ میں دربار نبوی ﷺ میں حاضر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے۔

غزوۂ بدر کو دیگر غزوات پر جو امتیاز حاصل ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خود خدا نے اس غزوہ کو ’’یوم الفرقان‘‘ کہا۔ غزوۂ بدر کی یہ فضیلت بھی بڑی اہم ہے کہ تمام صحابہؓ میں بدری صحابہؓ افضل ترین ہیں۔ یوم الفرقان کے بعد شہدائے محترم کی رفعت کا اظہار خود اﷲ نے بہت معظم و مکرم الفاظ میں یوں فرمایا ہے: ’’اور جو اﷲ کی راہ میں مارے گئے انھیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں۔ اپنے رب سے رزق پاتے ہیں۔ شاد ہیں اس پر جو کچھ اﷲ نے انہیں دیا ہے۔‘‘

بے سر و سامانی کے باوجود جنگ بدر میں جو فتح مسلمانوں کو حاصل ہوئی وہ کسی معجزے سے کم نہ تھی اس جنگ نے جزیرہ نمائے عرب پر مسلمانوں کی دھاک بٹھا دی تھی۔ اس فتح کے نتیجے میں یہ طے ہوگیا تھا کہ اسلام کو زندہ رہنا ہے اور کفر کو شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

جنگ بدر میں نوجوانوں کا کردار

Published

on


مسلمانوں اور کفار کے درمیان جو پہلی جنگ ہوئی اس کا نام جنگ بدر ہے۔ کفار نے یہ جنگ مسلمانوں پر زبردستی مسلط کی تھی اور وہ اس لیے کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ صرف ایک معبود حقیقی کی عبادت کی جائے۔ وہ تو بس یہ چاہتے تھے کہ مکہ میں بت پرستی زوال پذیر نہ ہو اور پوری عرب قوم بت پرست ہی رہے۔ کیوں کہ یہی ان کے آباء و اجداد کا مذہب تھا۔

دعوت توحید دینے کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہوگئے۔ یہ صورت حال دیکھ کر آنحضور ﷺ نے اﷲ کے حکم سے امت مسلمہ کو ہجرت کرنے کا حکم فرمایا۔ چناں چہ مکہ سے تمام مسلمان ہجرت کرکے مدینہ پہنچ گئے۔ مدینہ پہنچے کے بعد بھی کفار نے مسلمانوں کو چین سے نہ رہنے دیا اور ابھی انہیں نئی سرزمین پر منتقل ہوئے دو سال بھی نہ گزرے تھے کہ کفار مکہ نے مسلمانوں کی مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کردیا۔

حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ آنحضرتؐ نے لوگوں کو جنگ کے لیے تیار کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق مسلمانوں کا مختصر سا قافلہ جس کی کل تعداد313 تھی، ان میں انصار اور مہاجر سب شامل تھے اور قبائل میں اوس اور خزرج بھی شامل تھے۔ اس قافلے کے ساتھ60 اونٹ، 3 گھوڑے، 60 زرہیں اور چند تلواریں تھیں۔ جب کہ دشمن کی تعداد 1000نفوس پر مشتمل تھی اور وہ ہر طرح سے لیس تھے۔ ان کے پاس 700 زرہیں، 70 گھوڑے، لاتعداد اونٹ، بے شمار تلواریں اور نیزے تھے۔ ان دونوں افواج کا آمنا سامنا 17رمضان المبارک2ھ بدر کے مقام پر ہُوا۔ 313 مسلمانوں کا یہ قلیل لشکر اس جنگ میں جس جوش و خروش کے ساتھ لڑا وہ قابل دید تھا۔ انھوں نے اپنے سے تین گنا بڑے لشکر کو ایک ہی دن میں شکست فاش سے دوچار کیا۔

اس جنگ میں جہاں بڑے اپنا جوش اور ولولہ دکھا رہے تھے وہاں جوان اور بچے بھی ان سے کسی طرح پیچھے نہ تھے۔ بچوں نے محاذ جنگ پر بڑوں ہی کی طرح کارنامے سرانجام دیے۔ یہ بچے اپنے بڑوں کے شانہ بہ شانہ وسط میدان پہنچے اور ایک ایسا لاثانی اور لافانی کارنامہ انجام دیا جو شاید بڑوں کے لیے بھی ناممکن ہوتا۔ کیوں کہ ابوجہل تلواروں کے سائے میں تیروں اور نیزوں کی باڑھ میں تھا، اس کے ساتھی کہتے جاتے تھے کہ دیکھو ابو الحکم (ابوجہل کا لقب) کو کوئی گزند نہ پہنچے۔ اتنے پہرے کے باوجود دو نوجوان اس تک پہنچنے اور اسے جہنم واصل کرنے میں کام یاب ہوگئے۔

اس جنگ میں شریک ایک برگزیدہ صحابی جناب عبدالرحمن بن عوفؓ بیان کرتے ہیں کہ میں جنگ کے روز صف کے اندر تھا کہ دیکھا دائیں اور بائیں دو نوجوان کھڑے ہیں، ان کی موجودی سے میں بہت حیران ہُوا، اتنے میں ایک نوجوان نے دوسرے سے چھپتے ہوئے مجھ سے آہستہ سے پوچھا:

چچا جان! ابوجہل کہاں ہے۔۔۔ ؟

میں نے جواب میں کہا: تمہیں ابوجہل سے کیا سروکار ؟

اس نے کہا: مجھے پتا چلا ہے کہ ابوجہل آنحضور ﷺ کو گالیاں دیتا ہے، اس ذات کی قسم! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو زندہ نہیں چھوڑوں گا خواہ اس میں میری جان ہی چلی جائے۔

مجھے اس نوجوان کی بات پر تعجب ہُوا، ابھی چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ دوسرے نوجوان نے بھی اسی انداز سے پوچھا۔ میری نظریں میدان کار زار ہی پر مرکوز تھیں کہ اچانک مجھے ابوجہل نظر آیا تو میں نے ان نوجوانوں سے مخاطب ہوکر کہا:

 وہ رہا دشمن اسلام اور تمہارا شکار۔

یہ دیکھتے ہی ان دونوں نے شیر کی طرح اس پر حملہ کر دیا، پھر اسے خون میں لت پت چھوڑا اور آنحضرت ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر میدان جنگ کا واقعہ بیان کیا۔

آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: تم دونوں میں سے کس نے ابوجہل کو قتل کیا۔۔۔ ؟

دونوں بہ یک وقت بولے: میں نے۔

 آپ ﷺ نے پھر فرمایا: اچھا ذرا اپنی اپنی تلوار دکھاؤ۔

دونوں نے تلواریں دکھائیں جن پر خون لگا ہوا تھا۔

 پھر آپؐ فرمایا: واقعی! تم دونوں نے ہی اسے جہنم رسید کیا ہے۔

 تاریخ اسلام اور کتب احادیث میں دونوں بچوں کا نام معاذ بن عمرو بن جموع اور معاذ بن عفرا ہے۔ تاریخ ابن ہشام میں دوسرا نام معوذ بن عفرا لکھا ہے۔ (صحیح بخاری، مشکوٰۃ)

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ ابوجہل کو میں نے نشانے پر لیا، اس کی پنڈلی کا نشانہ لے کردو ٹکڑے کیے، ایک حصہ دور جاگرا، ادھر میں نے ابوجہل کی ٹانگ کاٹی، ادھر اس کے بیٹے عکرمہ نے میرا بازو کاٹا جو چمڑی سے لٹک کر رہ گیا تھا، لیکن میں اسی طرح محاذ جنگ پر ڈٹا رہا۔ آخر جب تکلیف بڑھی تو میں نے اس بازو کو زمین پر رکھا اور ایک ٹانگ سے دبا کر دوسرے ہاتھ سے زور دار جھٹکا لیا، جس کی وجہ سے وہ بازو میرے جسم سے الگ ہوگیا اور تکلیف میں کمی ہوگئی۔ اس کے بعد معوذؓ اس کے پاس پہنچے اور کاری ضربیں لگا کر اسے نیم مردہ کردیا، بس صرف سانس چل رہی تھی اس کے بعد معوذ بھی بے جگری کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اور ابوجہل کا سر حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ نے کاٹ کر آنحضورؐ کی خدمت میں پیش کیا جسے دیکھ کر آپؐ نے فرمایا: ’’یہ آج کے فرعون کا سر ہے۔‘‘

روایت میں آیا ہے کہ حضرت معاذ ؓ اپنے ایک ہاتھ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے رہے۔ وہ خلیفہ سوئم حضرت عثمان ؓ کے دور خلافت تک زندہ رہے جب کہ معوذؓ میدان بدر ہی میں شہادت کے منصب پر فائز ہوگئے تھے۔ اس لیے ابوجہل کا جنگ کے میدان میں چھوڑا ہوا مال حضرت معاذ بن عمروؓ کو پورا ملا مگر تلوار حضرت عبداﷲ ابن مسعودؓ کو ملی، جنہوں نے اس کا سر تن سے جدا کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد)





Source link

Continue Reading

Trending