Connect with us

Today News

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی چشمہ یونٹ 5 کے حفاظتی معاہدے کی منظوری

Published

on



بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز نے چشمہ یونٹ 5 کے حفاظتی معاہدے کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔

نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ چشمہ یونٹ 5 کے لیے آئی اے ای اے کی جانب سے حفاظتی معاہدے کی منظوری پاکستان کے توانائی کے مستقبل کے لیے اہم سنگ میل ہے، یہ منظوری پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے بڑی پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے پرامن جوہری پروگرام اور عدم پھیلاؤ کے معیارات سے وابستگی پر عالمی برادری کے اعتماد کا اظہارہے اور چشمہ یونٹ 5سے 1200 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر 2030 تک فعال ہونے کی توقع ہے۔

 بیان میں کہا گیا کہ منصوبے کے مکمل ہونے پر قومی گرڈ کو کاربن سے پاک بجلی کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوگا، پاکستان اس وقت کل 3,530 میگاواٹ صلاحیت کے 6 جوہری پاور پلانٹس چلا رہا ہے۔

اسی طرح گزشتہ سال جوہری توانائی نے قومی بجلی پیداوار میں 18.3 فیصد اور مجموعی کاربن سے پاک بجلی میں 34 فیصد حصہ ڈالا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پیدائش اورموت (پہلا حصہ) – ایکسپریس اردو

Published

on


ڈرنے کی ضرورت نہیں یہ ہم اس ’’ملا‘‘کی بات نہیں کررہے ہیں جسے آپ جانتے ہیں بلکہ ہم اس ملا کی بات کررہے ہیں جسے ہم جانتے ہیں ،پہچانتے ہیں اورمانتے بھی ہیں ، یہ وہ ملاتھا جسے ہندوپاک میں ملادوپیازہ ، تین پیازہ اورچارپیازہ کہاجاتا تھا ، ایران میں اسے ملانصیرالدین کہا جاتاتھا لیکن جب ترکی میں گیا تو وہاں خواجہ نصیرالدین بن گیا اورجب شاعروں کے ہاتھ چڑھا تو انھوں نے اس کے پرزے اڑاکر رکھ دیے ، شیخ سعدی، حافظ شیرازی اورعمرخیام نے تو اسے اتنا کوسا، اتنا کوسا کہ بیچارا کہیں عدم پتہ ہوگیا ، پھرتے پھراتے جب اردو شاعری میں آگیا تو اکبرالہ آبادی ،علامہ اقبال اورکئی دوسرے شاعروں نے اس کے وہ لتے لیے کہ توبہ تائب ہوکر ’’بوئے اگے ،چک تان لئی‘‘

 یہ ملادراصل اس خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس میں شیخ واعظ زاہد اورناصح بھی گزرے تھے اوردیر و حرم میں رندوں کے پیچھے پڑے رہتے تھے اور میخانوں پرچھاپے مارتے اور ورغلاتے تھے اوربیچارے رندوں سے نالاں رہتے تھے

دیر وحرم میں رہنے والو

رندوں میں پھوٹ نہ ڈالو

 پشتو میں بھی خوشحال خان خٹک اوررحمان بابا بھی کبھی کبھی اس کے ساتھ لات مکا کرلیتے تھے لیکن غنی خان نے تو اس کی وہ درگت بنائی کہ روپڑا، اس کے بعد تو غنی خان کے تابعین نے اسے مستقل ہدف بنالیا ، یہیں سے پھروہ موڑ آیا جہاں وہ اپنا ’’ملا‘‘ کا نام چھوڑ آیا اورعالم بن گیا ، تب کہیں جاکر اسے کہیں سکون ملا ۔

یہ قصہ اس وقت سے شروع ہوگیا تھا جب بنوامیہ کے اشراف نے اپنا منصب دوبارہ چھین لیا اورنام بدل کر پرانے فراعین نمرودوں کو شدادوں کاسلسلہ پھر شروع کردیا، کام تو وہی تھا لیکن نام کچھ اورہوگئے تھے، اوران ناموں کو مقدس بنانے کے لیے ایک خاص طبقہ بھی تشکیل دیا گیا ۔ یہ طبقے حکمرانوں کے لیے عقلی جوازات ڈھونڈتے اوربناتے رہتے اورداد پاتے رہتے تھے یعنی وہ مشاغل کرتے تھے اور یہ ان کے ’’کتاب‘‘ سے مسئلہ نکال دیا کرتے تھے اورکھینچ کھانچ کر اسے تحفظ دیتے تھے ، اصطلاح میں اسے ’’تاویل‘‘ کہتے تھے جیسے علامہ اقبال نے کہا ہے

احکام ترے حق ہیں مگر میرے مفسر

تاویل سے قرآں کو بنادیتے ہیں پاژند

پاژند پارسیوں کی کتاب ’’ژند‘‘ کی تشریح وتفسیر تھی لیکن اتنی مشکل اورناقابل فہم تھی کہ لوگ اسے سمجھنے کے لیے ’’ژند ‘‘ سے مدد لیتے تھے ،حافظ نے بھی اس دورکے بارے میں کہا ہے

 ’’سترفرقوں سے معذرت کہ جب حقیقت سمجھ میں نہیں آتی تو افسانے بنانے لگتے ہیں‘‘

 اس دورمیں مال غنیمت کی بھی فراوانی تھی ،فتوحات سے بے پناہ اموال آرہے تھے چنانچہ فراغت، خوشحالی اورسب کچھ کی بہتات نے ایک اشرافیہ کو جنم دیناشروع کیاجو پرانی اشرافیاؤں کی نئی شکل تھی چنانچہ یہ اشراف بھی حکومت کی طرح اپنے لیے اہل دلیل پالنے لگے جو ان کی عیاشیوں، اوباشیوں ،گمراہیوں اوربدکاریوں کے لیے جوازات نکالتے، حرام کاریوں ، حرم کاریوں اورنکاحوں، طلاقوں کی سہولتیں فراہم کرتے ۔

ظاہرہے کہ علمائے حق تو ایسا نہیں کرتے تھے ،اس لیے مساجد سے علمائے حق یا خود درکنار ہوگئے یانکال دیے گئے اوران کی جگہ اپنے من پسند کے لوگوں کو بٹھا دیا گیا ، حافظ نے اس کا ذکر یوں کیا ہے

شد آں کہ اہل نظر درکنارہ می رفتند

ہزار گونہ سخن دردہان ولب خاموش

 ترجمہ، پھرہوا یوں کہ اہل نظر درکنار ہوگئے، منہ میں ہزار باتیں لیے ہوئے لیکن لب بند کیے ہوئے ، یہی وہ دورتھا جس میں دو طبقے وجود میں آئے ۔ ایک طبقے والے حکمرانوں ، برسراقتداروں ، سرمایہ داروں اوراشراف کے ساتھ ہوگئے اور دوسرے طبقے والے حق کے ساتھ رہے تھے ۔

 یہی حافظ کی وہ غزل ہے جس کا مقطع بڑا مشہورہے کہ

امور مملکت خویش خسرواں دانند

گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش

 ترجمہ، مملکت کے امورحکمران جانتے ہیں تم تو ایک گوشہ نشیں فقیر ہوحافظ ، اس لیے آرام سے بیٹھ ۔۔سنی نہ بات کسی نے تو مرگئے چپ چاپ۔

جب علماء حق اوردین کے صحیح علمبردار درکنار ہوگئے یا کردیے گئے تو ان کی جگہ چھڑے اوراخوند آگئے جن کا شان نزول یوں ہے کہ چھڑے اوراخوند کون تھے ،کہاں سے آئے تھے اورکیاکرتے تھے ، یہ قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے ۔اگلے زمانوں میں کوہستانوں سے ، دیہات سے اورغربت زدہ علاقوں سے لوگ مزدوری کے لیے اتر آتے تھے ، کچھ تو مستقل روزگار پا لیتے تھے جیسے گڑ گھانیوں یا بڑے زمینداروں کے ہاں ، لیکن زیادہ تر روزانہ یاکبھی کبھی کی مزدوری اوردیہاڑی پر گزارہ کرتے تھے اوران لوگوں کا ٹھکانہ مساجد کے قریب ہوتا تھا ،اس زمانے کی غریب اورمٹی کی مساجد میں ایک کوٹھڑی الگ سے ہوا کرتی تھی جس میں مسافروں اوران لوگوں کا ٹھکانہ ہوتا تھا یا اگر امام کسی دوسرے علاقے کا ہوتا تھا تو وہ بھی اس میں رہتا تھا۔ ان مسافروں کو پشتو میں ’’چنڑی‘‘ کہا جاتا تھا ، اردو اورپنجابی میں ’’چھڑے‘‘ بمعنی کنوارے یا بے گھر بار۔ ایک پنجابی گانے میں بھی ان کا ذکر ہے

رناں والیاں دے پکن پروٹھے

تے چھڑیاں دی اگ نہ بلے

ان چھڑوں کے کھانے پینے کا سلسلہ یوں تھا کہ اگر کسی کی دیہاڑی لگ جاتی تھی تو اس کے لیے کھانا اس زمیندار کے گھر سے آجاتا تھا لیکن جن کی نہیں لگتی، تو اس صورت میں ایک چھڑا ایک خاص ٹوکری اپنے کاندھے سے لٹکا کر اورہاتھ میں ایک بڑا سا کاسہ لے کر نکل جاتا، ہرگھر کے دروازے میں آواز لگاتا تھا ۔۔وظیفہ لاؤ خدا تمہیں بخشے… ساتھ میں سالن بھی، اس کو وظیفہ کہتے تھے ، روٹی کے جو ٹکڑے لوگ دیتے وہ ٹوکری میں ڈالے جاتے کہ روٹیاں تو سب ایک جیسی ہوتی تھیں لیکن سالن تو گھروں میں ایک نہیں ہوتا جب کہ برتن ایک ہوتا چنانچہ اس ایک ہی برتن میں سب کچھ ڈالا جاتا، ساگ سبزی دال وغیرہ ۔

(جاری ہے)





Source link

Continue Reading

Today News

کارکردگی میں بہتری کیلیے ایف آئی اے امیگریشن عملے کا طبی معائنہ

Published

on



کراچی:

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ترجمان نے کہا ہے کہ امیگریشن اسٹاف کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ان کی صحت کو بھی اولین ترجیح دی جا رہی ہے، کیونکہ قومی خدمات کی مؤثر انجام دہی کے لیے افسران و اہلکاروں کی جسمانی فٹنس اور تندرستی ناگزیر ہے۔

ترجمان کے مطابق فیلڈ یونٹ اسٹاف کی اسکریننگ کے بعد ابن سینا اسپتال کی ماہر طبی ٹیم نے ایف آئی اے امیگریشن عملے کا تفصیلی طبی معائنہ مکمل کیا۔

یہ اقدام ادارے کی فلاحی اور ذمہ دارانہ سوچ کا عملی مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ اس طبی معائنے کا مقصد افسران کو مکمل صحت اور توانائی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دینے کے قابل بنانا ہے تاکہ وہ قومی خدمت کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھ سکیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

جنوبی پنجاب میں کمزور طبقات کا مقدمہ

Published

on


عمومی طور پر پنجاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں دیگر صوبوں کے مقابلے میں سیاسی،سماجی ،انتظامی اور معاشی ترقی زیادہ ہوئی ہے جو ایک حد تک درست بات ہے ۔ لیکن اس بات کو بنیاد بنا کر ہم پورے پنجاب کی منصفانہ اور شفاف ترقی کی بات نہیں کرسکتے کیونکہ یہاں یعنی پنجاب میں بھی جو بھی حکمران طبقات رہے ہیں ان کی ترقی کا پیمانہ بھی طبقاتی تقسیم اور اس کی بنیاد پر ترقی سے جڑا ہوا ہے ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ پنجاب میں بھی ہمیں ترقی سے جڑے سرکاری اعداد وشمار کی بنیاد پر محرومی ، تعصبات اور تفریق پر مبنی سیاست اورترقی کے پہلو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ان میں ایک بڑا علاقہ جنوبی پنجاب کا بھی ہے ۔ہمارے جو اعداد وشمار ہیں اس میں جنوبی پنجاب کی ترقی کی بنیاد پر بیشتر سنجیدہ مسائل جن میں حکمران طبقات کی ترجیحات، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سمیت کمزور طبقات کو نظرانداز کرنے کی پالیسی نمایاں نظر آتی ہے ۔

 جنوبی پنجاب کی سطح پر دیکھیں تو وہاں لوگوں کی سیاسی ،انتظامی ،معاشی ترقی سمیت ان کے بنیادی مسائل اور حقوق کی جنگ لڑنے میں بعض سماجی تنظیموں کا بڑا مثبت کردار ہے ۔اسی مضبوط اور مثبت کردار کی وجہ سے نہ صرف یہ سماجی تنظیمیں مقامی سطح پر اپنی سیاسی ساکھ کو شفافیت کی بنیاد پر قائم رکھی ہوئی ہیں بلکہ مقامی لوگ ان کے کاموں اور اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ان تنظیموں میں ایک بڑا اور نیک نام ’’لودھراں پائلٹ پراجیکٹ‘‘ یعنی ایل پی پی کا ہے۔  اس تنظیم کے روح رواں اور سرپرست جہانگیر خان ترین ہیں جو جنوبی پنجاب کی سطح پر سیاسی اور سماجی شہرت میں بڑا نام رکھتے ہیں ۔

لودھراں پائلٹ پراجیکٹ بنیادی طور پر کراچی کی سطح پر شروع ہونے والے ایک معروف سطح کے ادارے اور ڈاکٹر اختر حمید خان مرحوم کی سربراہی میں چلنے والے ’’ اورنگی پائلٹ پراجیکٹ ‘‘ اوپی پی کی بنیاد پر ملکی اور عالمی سطح پر اپنی بڑی شہرت رکھتا ہے۔ لودھراں پائلٹ پراجیکٹ بنیادی طور پر جہانگیر خان ترین کی سربراہی میں جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں مختلف سماجی شعبوں میں کام کرتا ہے ۔اس ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالصبور خان ہیں جب کہ پروگرام کی معاونت میں عالیہ سندس سمیت اقصی خان ہیں ۔ یہ ادارہ بنیادی طور پر مقامی سطح پر لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں اپنا جہاں کردار ادا کرتا ہے وہیں سماجی شعور اور بیداری کی بنیاد پر لوگوں کو علم اور معلومات بھی فراہم کرتا ہے جن میں مختلف نوعیت کے تربیتی پروگرامز بھی شامل ہوتے ہیں ۔

جنوبی پنجاب میں بنیادی صحت کی فراہمی اور اس سے جڑی سہولیات اہم مسئلہ ہے ۔عام اور کمزور لوگوں کی صحت سے جڑی بنیادی نوعیت کی سطح پر سہولیات تک رسائی بھی آسان نہیں ہے ۔اسی بنیاد پر ایل پی پی مختلف طبی کیمپ کی مدد سے مسلسل نہ صرف غریب لوگوں کے لیے علاج کی سہولتیں فراہم کررہا ہے بلکہ علاقے کے سب سے کمزورطبقات میں امید ،اعتماد اور وقار بھی پیدا کررہا ہے ۔پچھلے ایک برس میں ایل پی پی نے 45مختلف آنکھوں کے کیمپوں کا انعقاد کیا جن میں کل 73,924مریضوں کو طبی امداد دی گئی ۔ان میں36623مرداور 37301 عورتیں سمیت کچھ خواجہ سرا بھی شامل ہیں۔یہ سارا عمل ظاہر کرتا ہے کہ ایل پی پی مقامی سطح پر مقامی افراد یا کمیونٹی کے ساتھ کس قدر مضبوط سطح کے روابط رکھتی ہے یا لوگ مقامی سطح پر ان کے کاموں پر کتنا اعتماد کرتے ہیں۔اسی طرح اب تک ان کے ادارے نے آنکھوں کی بیماری کی بنیاد پر 10296آپریشن کیے ہیں جن میں 5194مرد اور 5362عورتیں شامل ہیں۔

ان بیماریوں میں بیشتر بیماری موتیا جیسے مرض کی بھی سامنے آئی تھیںاور مریضوں کو آپریشن کے بعد کے تمام ضروری اقدامات کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں ۔اس کام کے سلسلے میں اس ادارے نے ماہر ڈاکٹرز اور دیگر عملہ کی ٹیموں کی خصوصی خدمات حاصل کی ہوئی ہیں۔اس ادارے کا مقصد مقامی لوگوں تک بہتر علاج کی رسائی کو ممکن بنانا ان کی اولین ترجیحات کا حصہ ہے اور اس عمل میں کسی بھی سطح پر نہ تو کسی بھی قسم کی تفریق کی جاتی ہے اور نہ ہی لوگوں کو سہولیات کی فراہمی سے انکار کیا جاتا ہے ۔اس وقت لودھراں ،رحیم یار خان،بہاولپور،مظفر گڑھ اور ڈی جی خان سمیت خانیوال میں ان کا کام بخوبی چل رہا ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ سارا کام کمیونٹی کی شراکت اور ان کو ہر عمل میں شریک کرکے کیا جائے تاکہ ان کی عز ت و نفس کا بھی پوری طرح خیال رکھا جائے۔

اسی طرح لودھراں پائلٹ پراجیکٹ نے انکھوں کے کیمپ کے علاوہ حال ہی میں بیس دن پر مشتمل مصنوعی اعضا کیمپ کا بھی انعقاد کیا جس کا مقصد مقامی سطح پر معذور افراد کی بحالی کے عمل کو ممکن بنانا تھا جس میں ان کو مصنوعی اعضا کی فراہمی اور بحالی میں مدد فراہم کرنا اور ان کو معذور کی بجائے خود سے خود مختاری کے قابل بنانا ہے۔یہ سار ا کام جہانگیر ترین کی سربراہی میں ہوا اور وہ خود اس عمل کی ذاتی طور پرنگرانی کے عمل میں شریک رہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کیمپوں میں معذور افراد کو دی جانے والی سہولتوںکی بنیاد پر ان کو سائیکل چلانے ،موٹر سائیکل کو چلانے اور یہاں تک کہ ٹریکٹر چلانے کی تربیت بھی فراہم کی۔اب تک 1327افراد کو مصنوعی اعضا فراہم کیے گئے ہیں ۔میں نے ذاتی طور پر ان کے مختلف پورگرامز فیلڈ میں جاکر دیکھے ہیں اور واقعی ان کا کام جہاں شاندار ہے وہیں یہ کام مقامی آبادی میں مقامی لوگوں میں ایک بڑی خود اعتمادی کو بھی پیدا کررہا ہے ۔ان کی کوشش ہوتی ہے کہ معذور افراد کو مختلف سماجی اور غیر نصابی سرگرمیوں سمیت کھیلوں کے عمل میں شامل کیا جائے جہاں وہ مثبت ذہن کے ساتھ اپنے آپ کو ایک مثبت کردار کے طور پر شریک کرسکیں اور اپنی معذوری کو مجبوری بنانے کی بجائے بہتر طور پر اپنی زندگی گزارسکیں ۔

اسی طرح ادارے کی سطح پر معاونین کے لیے ایک تربیتی مہارت کا سینٹرز بھی قائم کیا ہوا ہے جہاں مختلف لوگوں کو مختلف مہارتوں کی بنیاد پر تربیت دے کر ان کو معاشرے میں خود کفیل بنانا ہے ۔اصل میں ایسے علاقے جہاں محرومی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی کمزور بنیادوں پر ہو اور جہاں مقامی ڈھانچہ بھی کمزور ہو وہاں اس طرح کے سماجی اداروں اور ان کے کاموں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔ایل پی پی نے اپنے کاموں کی مدد سے ماڈل ترقی کے مختلف منصوبوں کو پیش کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ اگر مقامی سطح پر مقامی لوگوں کی درست ترجیحات یا ان کے مسائل کی درست نشاندہی کی بنیاد پر مقامی ترقی کا جامع منصوبہ ہو اور مقامی لوگوں کو اس ترقی کے عمل میں سہولت کار یا ان کی معاونت کے طور پر شامل کیا جائے تو مقامی ترقی کا عمل نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے ۔بنیادی مسئلہ یہ ہی ہے کہ ہمارا حکمرانی کا نظام عام لوگوں کے مسائل سے مختلف ہے اور یہ مختلف طاقت ور طبقات کے گرد یا ان کے مفادات کے تابع رہتا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے ہمارے یہاں جو سرکاری یا غیر سرکاری سماجی شعبہ کی سطح پر اعداد وشمار ہیں وہ حالات کی سنگینی کو نمایاں کرتے ہیں۔یہ جو ہم عالمی اور قومی سطح پر 2015-30پائیدار ترقی کے اہداف مقرر کیے تھے اس میں بھی اب تک ہماری کارکردگی اور نتائج وہ نہیں جو اصولی طور نظر آنے چاہیے تھے ۔اسی بنیاد پر مختلف عالمی اداروں کی پاکستان کے سماجی شعبوں کی درجہ بندی پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔

میرا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ ایسی ریاست اور کمزور حکمرانی کے نظام میں اس طرح کی سماجی تنظیموں اور بالخصوص لودھراں پائلٹ پراجیکٹ جیسی تنظیوں کی موجودگی اور تواتر کے ساتھ مقامی سطح پر مقامی ترقی کو بنیاد بنا کر کام کرنے کی ہمیشہ پزیرائی کی جانی چاہیے۔لیکن ساتھ ساتھ اس طرز کی تنظیموں کو اپنی ایڈوکیسی پر مبنی سرگرمیوں کی بنیاد پر حکومتی نظام پربھی نہ صرف سوالات اٹھانے چاہیے بلکہ مقامی سطح پر حکومتوں کے کام کی نگرانی اور ان کی جوابدہی کے نظام کو بھی موثر بنانا ہوگا تاکہ مقامی ترقی میں جو وسائل حکومتی سطح پر آتے ہیں ان کو موثر بنایا جائے اور ایک ایسا جامع منصوبہ مقامی ترقی کا ہو جہاں حکومت اور سماجی تنظیمیں مل کر ترقی کے عمل کو آگے بڑھاسکیں۔





Source link

Continue Reading

Trending