Today News
امن کی اپیل پر تنقید، نورا فتیحی نے ناقدین کو دو ٹوک جواب دے دیا
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور رقاصہ نورا فتیحی کو عالمی امن کے حق میں آواز بلند کرنے پر سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے ناقدین کو واضح اور سخت جواب دیا ہے۔
34 سالہ کینیڈین نژاد اداکارہ نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دنیا بھر میں امن اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔
View this post on Instagram
نورا کے اس بیان کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، خصوصاً مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے کے الزام پر انہیں ٹرول کیا گیا۔
اس تناظر میں نورا فتیحی نے ایک نئی ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے ان افراد کو مخاطب کیا جو ان کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کر رہے تھے۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ لوگوں نے بات سننے اور سمجھنے کی صلاحیت کھو دی ہے، حالانکہ تنقیدی سوچ وہ بنیادی چیز ہے جو ہم سب نے تعلیم کے دوران سیکھی ہوتی ہے۔
اداکارہ نے واضح کیا کہ ان کا امن اور اتحاد کا پیغام کسی ایک قوم، ملک یا مذہب کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ ان کے مطابق اگر امن کی اپیل کسی کو مشتعل کرتی ہے تو اسے اپنے طرزِ فکر پر غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ افراتفری کے خلاف آواز اٹھانا کسی کو دشمن نہیں بناتا۔
View this post on Instagram
روزے کے دوران اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے نورا فتیحی نے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں امن کی بات کرنا بھی بعض لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے۔ ویڈیو کے کیپشن میں انہوں نے لکھا کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور اگر عالمی امن اور اتحاد کا پیغام کسی کو اشتعال دلاتا ہے تو اسے مدد حاصل کرنی چاہیے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اداکارہ نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلسل دل دہلا دینے والی خبروں اور مناظر نے انہیں جذباتی طور پر متاثر کیا ہے۔
Source link
Today News
آبنائے ہرمز، تیل کی درآمد کرب سے دوچار
جدید معاشیات کا سب سے بڑا المیہ یہ کہ ہم نے ترقی کو چند فی صد جی ڈی پی گروتھ اور اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں قید کردیا ہے جب کہ حقیقت ان محنت کشوں کے پسینوں اور غریب لوگوں کے سامنے سے غائب ہوتی روٹی میں پنہاں ہے جو غربت کی گھاٹی میں مسلسل گرتے چلے جا رہے ہیں اور پاکستان کا مستقبل بڑھتے ہوئے قرضوں ، سود کی ادائیگی اور مہنگائی، بے روزگاری کی اونچی ترین شرح کی شکل میں نظر آ رہا ہے۔
ان میں کچھ بیانیے ایک جیسے نظر آتے ہیں حکومت اور اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی میکرو استحکام کی بات کرتی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹیں یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ غربت بڑھ رہی ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے، ایک عجیب قسم کا معاشی استحکام آ رہا ہے جو خوشی لانے کی بجائے ایک چکر میں ڈالتا چلا جا رہا ہے جہاں سے ابھی تک نکل نہیں سکے۔ ہم بحران میں پھنسے ہوئے ہیں اور آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ ملتا ہے وقتی سکون پھر تنزلی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ہم کسی بھی قسم کے اصلاحات کرنے میں آئی ایم ایف کے محتاج ہیں، دوسری طرف سے اتنی شرائط کو پورا کرتے کرتے غربت کا بڑھ جانا، مہنگائی کا بڑھتے رہنا، مسلسل بے روزگار رہنے کا عذاب سہتے رہنا، اب غریب عوام کا مقدر بن گیا ہے۔
پاکستان شرح ترقی کے معاملے میں کبھی منفی اورکبھی 2 سے 3 فی صد پر اکتفا کر بیٹھتا ہے جو دراصل لاکھوں افراد کو مسلسل بے روزگار رکھنے کے مترادف ہے، جہاں مسلسل مہنگائی کا عذاب سہنا مقدر بن گیا ہے۔ ان سب باتوں سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ پاکستان مسلسل مستقل اور مستقبل کے لیے ایک ایسے خطرناک چکر میں گھوم رہا ہے جہاں آئی ایم ایف اپنے اصلاحی پروگرام، شرائط و ضوابط اور قرض کا جال بچھا کر امید دلاتا ہے، وقتی سکون حاصل ہوتا ہے لیکن پھر وہی بے چینی پھر معیشت کا اسی طرح سے چکر میں گھومتے چلے جانا۔ اس مسئلے کے حل کا سرا اسی وقت ہاتھ میں آئے گا جب ہم ان دیکھی طاقتوں اور دوسروں کے مشوروں کو چھوڑ کر اپنا راستہ خود منتخب کریں گے۔ اب بھی وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سمت درست کریں کیونکہ ایک عالمی جنگ ہمارے دہانے پر کھڑی ہے اگرچہ یہ ایران، امریکا کی جنگ ہے لیکن یہاں عالمی سپلائی چین کی شہ رگ ’’آبنائے ہرمز‘‘ پر لٹکتی تلوار کا معاملہ ہے۔
تادم تحریر عملی طور پر یہ راستہ بند نہیں ہوا، لیکن اس کے خدشات کے پیش نظر تیل مہنگا ہونا شروع ہو گیا ہے۔ آبنائے ہرمز سے روزانہ دنیا کی ضرورت کا 20 تا 25 فی صد تیل گزرتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں ’’برینیٹ کروڈ آئل‘‘ کی قیمت راتوں رات 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔ اگرچہ اوپیک نے کہا ہے کہ مارکیٹ استحکام کے لیے پیداوار 2 لاکھ بیرل تک بڑھائی جائے گی۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ تیسرے اقتصادی جائزے پر مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔ دوسری طرف مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر نظر رکھنے کے لیے دفتر خارجہ کا کرائسز مینجمنٹ یونٹ فعال کر دیا ہے۔
پاکستان اپنی تیل کی درآمدات کے لیے خلیجی ممالک پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور یہ تمام سپلائی ’’آبنائے ہرمز‘‘ کے راستے پاکستان پہنچتی ہے۔ جولائی تا دسمبر 2025 ان 6 ماہ کے دوران مجموعی درآمدی بل 27 ارب 84 کروڑ ڈالر رہا جوکہ گزشتہ سال کے اسی مدت کے مقابلے میں 6.52 فی صد زیادہ تھا اور ان 6 ماہ کے دوران پٹرولیم گروپ کی درآمدات ایک فی صد اضافے کے ساتھ 8 ارب 8 کروڑ ڈالر رہیں۔ البتہ خام تیل کی مجموعی مقدار میں 16.15 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال کے 4.29 ملین ٹن کے مقابلے میں 4.98 ملین ٹن ہو گئی۔ اگر تمام پٹرولیم مصنوعات کی بات کی جائے تو 6 ماہ کی مجموعی مقدار 52 لاکھ 40 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ایل این جی کی درآمدات میں 1.95 فی صد اور ایل پی جی کی درآمدات میں 54.15 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اب ان تمام اعداد و شمار اور مزید تازہ ترین اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو بڑے پیمانے پر فوری تیل کی درآمد کا انتظام کرنا پڑے گا۔ بصورت دیگر اس وقت ہم ’’آبنائے ہرمز‘‘ کے سائے میں تیل کی درآمد کی سانسیں بحال کرنے کی کوشش میں ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافے کے ساتھ پاکستانی معیشت کا منظرنامہ ابھی سے لرز رہا ہے اور سچی بات یہ ہے کہ اس وقت آبنائے ہرمز کے سائے میں تیل کی درآمد کرب سے دوچار ہے۔
Today News
پیدائش اورموت (پہلا حصہ) – ایکسپریس اردو
ڈرنے کی ضرورت نہیں یہ ہم اس ’’ملا‘‘کی بات نہیں کررہے ہیں جسے آپ جانتے ہیں بلکہ ہم اس ملا کی بات کررہے ہیں جسے ہم جانتے ہیں ،پہچانتے ہیں اورمانتے بھی ہیں ، یہ وہ ملاتھا جسے ہندوپاک میں ملادوپیازہ ، تین پیازہ اورچارپیازہ کہاجاتا تھا ، ایران میں اسے ملانصیرالدین کہا جاتاتھا لیکن جب ترکی میں گیا تو وہاں خواجہ نصیرالدین بن گیا اورجب شاعروں کے ہاتھ چڑھا تو انھوں نے اس کے پرزے اڑاکر رکھ دیے ، شیخ سعدی، حافظ شیرازی اورعمرخیام نے تو اسے اتنا کوسا، اتنا کوسا کہ بیچارا کہیں عدم پتہ ہوگیا ، پھرتے پھراتے جب اردو شاعری میں آگیا تو اکبرالہ آبادی ،علامہ اقبال اورکئی دوسرے شاعروں نے اس کے وہ لتے لیے کہ توبہ تائب ہوکر ’’بوئے اگے ،چک تان لئی‘‘
یہ ملادراصل اس خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس میں شیخ واعظ زاہد اورناصح بھی گزرے تھے اوردیر و حرم میں رندوں کے پیچھے پڑے رہتے تھے اور میخانوں پرچھاپے مارتے اور ورغلاتے تھے اوربیچارے رندوں سے نالاں رہتے تھے
دیر وحرم میں رہنے والو
رندوں میں پھوٹ نہ ڈالو
پشتو میں بھی خوشحال خان خٹک اوررحمان بابا بھی کبھی کبھی اس کے ساتھ لات مکا کرلیتے تھے لیکن غنی خان نے تو اس کی وہ درگت بنائی کہ روپڑا، اس کے بعد تو غنی خان کے تابعین نے اسے مستقل ہدف بنالیا ، یہیں سے پھروہ موڑ آیا جہاں وہ اپنا ’’ملا‘‘ کا نام چھوڑ آیا اورعالم بن گیا ، تب کہیں جاکر اسے کہیں سکون ملا ۔
یہ قصہ اس وقت سے شروع ہوگیا تھا جب بنوامیہ کے اشراف نے اپنا منصب دوبارہ چھین لیا اورنام بدل کر پرانے فراعین نمرودوں کو شدادوں کاسلسلہ پھر شروع کردیا، کام تو وہی تھا لیکن نام کچھ اورہوگئے تھے، اوران ناموں کو مقدس بنانے کے لیے ایک خاص طبقہ بھی تشکیل دیا گیا ۔ یہ طبقے حکمرانوں کے لیے عقلی جوازات ڈھونڈتے اوربناتے رہتے اورداد پاتے رہتے تھے یعنی وہ مشاغل کرتے تھے اور یہ ان کے ’’کتاب‘‘ سے مسئلہ نکال دیا کرتے تھے اورکھینچ کھانچ کر اسے تحفظ دیتے تھے ، اصطلاح میں اسے ’’تاویل‘‘ کہتے تھے جیسے علامہ اقبال نے کہا ہے
احکام ترے حق ہیں مگر میرے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنادیتے ہیں پاژند
پاژند پارسیوں کی کتاب ’’ژند‘‘ کی تشریح وتفسیر تھی لیکن اتنی مشکل اورناقابل فہم تھی کہ لوگ اسے سمجھنے کے لیے ’’ژند ‘‘ سے مدد لیتے تھے ،حافظ نے بھی اس دورکے بارے میں کہا ہے
’’سترفرقوں سے معذرت کہ جب حقیقت سمجھ میں نہیں آتی تو افسانے بنانے لگتے ہیں‘‘
اس دورمیں مال غنیمت کی بھی فراوانی تھی ،فتوحات سے بے پناہ اموال آرہے تھے چنانچہ فراغت، خوشحالی اورسب کچھ کی بہتات نے ایک اشرافیہ کو جنم دیناشروع کیاجو پرانی اشرافیاؤں کی نئی شکل تھی چنانچہ یہ اشراف بھی حکومت کی طرح اپنے لیے اہل دلیل پالنے لگے جو ان کی عیاشیوں، اوباشیوں ،گمراہیوں اوربدکاریوں کے لیے جوازات نکالتے، حرام کاریوں ، حرم کاریوں اورنکاحوں، طلاقوں کی سہولتیں فراہم کرتے ۔
ظاہرہے کہ علمائے حق تو ایسا نہیں کرتے تھے ،اس لیے مساجد سے علمائے حق یا خود درکنار ہوگئے یانکال دیے گئے اوران کی جگہ اپنے من پسند کے لوگوں کو بٹھا دیا گیا ، حافظ نے اس کا ذکر یوں کیا ہے
شد آں کہ اہل نظر درکنارہ می رفتند
ہزار گونہ سخن دردہان ولب خاموش
ترجمہ، پھرہوا یوں کہ اہل نظر درکنار ہوگئے، منہ میں ہزار باتیں لیے ہوئے لیکن لب بند کیے ہوئے ، یہی وہ دورتھا جس میں دو طبقے وجود میں آئے ۔ ایک طبقے والے حکمرانوں ، برسراقتداروں ، سرمایہ داروں اوراشراف کے ساتھ ہوگئے اور دوسرے طبقے والے حق کے ساتھ رہے تھے ۔
یہی حافظ کی وہ غزل ہے جس کا مقطع بڑا مشہورہے کہ
امور مملکت خویش خسرواں دانند
گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش
ترجمہ، مملکت کے امورحکمران جانتے ہیں تم تو ایک گوشہ نشیں فقیر ہوحافظ ، اس لیے آرام سے بیٹھ ۔۔سنی نہ بات کسی نے تو مرگئے چپ چاپ۔
جب علماء حق اوردین کے صحیح علمبردار درکنار ہوگئے یا کردیے گئے تو ان کی جگہ چھڑے اوراخوند آگئے جن کا شان نزول یوں ہے کہ چھڑے اوراخوند کون تھے ،کہاں سے آئے تھے اورکیاکرتے تھے ، یہ قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے ۔اگلے زمانوں میں کوہستانوں سے ، دیہات سے اورغربت زدہ علاقوں سے لوگ مزدوری کے لیے اتر آتے تھے ، کچھ تو مستقل روزگار پا لیتے تھے جیسے گڑ گھانیوں یا بڑے زمینداروں کے ہاں ، لیکن زیادہ تر روزانہ یاکبھی کبھی کی مزدوری اوردیہاڑی پر گزارہ کرتے تھے اوران لوگوں کا ٹھکانہ مساجد کے قریب ہوتا تھا ،اس زمانے کی غریب اورمٹی کی مساجد میں ایک کوٹھڑی الگ سے ہوا کرتی تھی جس میں مسافروں اوران لوگوں کا ٹھکانہ ہوتا تھا یا اگر امام کسی دوسرے علاقے کا ہوتا تھا تو وہ بھی اس میں رہتا تھا۔ ان مسافروں کو پشتو میں ’’چنڑی‘‘ کہا جاتا تھا ، اردو اورپنجابی میں ’’چھڑے‘‘ بمعنی کنوارے یا بے گھر بار۔ ایک پنجابی گانے میں بھی ان کا ذکر ہے
رناں والیاں دے پکن پروٹھے
تے چھڑیاں دی اگ نہ بلے
ان چھڑوں کے کھانے پینے کا سلسلہ یوں تھا کہ اگر کسی کی دیہاڑی لگ جاتی تھی تو اس کے لیے کھانا اس زمیندار کے گھر سے آجاتا تھا لیکن جن کی نہیں لگتی، تو اس صورت میں ایک چھڑا ایک خاص ٹوکری اپنے کاندھے سے لٹکا کر اورہاتھ میں ایک بڑا سا کاسہ لے کر نکل جاتا، ہرگھر کے دروازے میں آواز لگاتا تھا ۔۔وظیفہ لاؤ خدا تمہیں بخشے… ساتھ میں سالن بھی، اس کو وظیفہ کہتے تھے ، روٹی کے جو ٹکڑے لوگ دیتے وہ ٹوکری میں ڈالے جاتے کہ روٹیاں تو سب ایک جیسی ہوتی تھیں لیکن سالن تو گھروں میں ایک نہیں ہوتا جب کہ برتن ایک ہوتا چنانچہ اس ایک ہی برتن میں سب کچھ ڈالا جاتا، ساگ سبزی دال وغیرہ ۔
(جاری ہے)
Today News
کارکردگی میں بہتری کیلیے ایف آئی اے امیگریشن عملے کا طبی معائنہ
کراچی:
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ترجمان نے کہا ہے کہ امیگریشن اسٹاف کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ان کی صحت کو بھی اولین ترجیح دی جا رہی ہے، کیونکہ قومی خدمات کی مؤثر انجام دہی کے لیے افسران و اہلکاروں کی جسمانی فٹنس اور تندرستی ناگزیر ہے۔
ترجمان کے مطابق فیلڈ یونٹ اسٹاف کی اسکریننگ کے بعد ابن سینا اسپتال کی ماہر طبی ٹیم نے ایف آئی اے امیگریشن عملے کا تفصیلی طبی معائنہ مکمل کیا۔
یہ اقدام ادارے کی فلاحی اور ذمہ دارانہ سوچ کا عملی مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اس طبی معائنے کا مقصد افسران کو مکمل صحت اور توانائی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دینے کے قابل بنانا ہے تاکہ وہ قومی خدمت کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھ سکیں۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech2 weeks ago
PTA Ties Mobile Network Expansion to $15 Million in Guarantees
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report