Connect with us

Today News

خود مختاری کا احترام لیکن امریکا کو جواب دینا ضروری تھا؛ ایران کا خلیجی ممالک کو پیغام

Published

on


ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جنگی صورت حال پر ہمسایہ خلیجی ممالک کے نام ایک خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ہمارے پاس امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

سوشل میڈیا پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے بیان میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے پڑوسی ممالک سے کہا ہے کہ ایران نے جنگ سے بچنے کی بہت کوشش کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ان حملوں نے ایران کے پاس اپنے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا۔

صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران اپنے پڑوسیوں کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے لیکن وہاں موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ناگزیر ہوگیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ خطے کی سلامتی اور استحکام صرف علاقائی ریاستوں کی اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں۔ اور ان کا ماننا ہے کہ خطے کے ممالک کو ہے خطے میں امن کو یقینی بنانا چاہیے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کرکے آیت اللہ خامنہ ای، ان کے اہل خانہ اور اہم ترین دفاعی شخصیات کو شہید کردیا تھا۔

جس کے جاب میں ایران نے اپنے پڑوسی عرب ممالک پر سیکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے جن کا ہدف امریکی فوجی اڈّے اور مفادات تھے۔

ایران نے اب تک متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان سمیت خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں اور شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا ہے۔

پینٹاگون نے تصدیق کی ہے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈّوں پر ایرانی حملے میں 4 سے زائد فوجی مارے گئے ہیں۔

تاحال امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایرانی صدر کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ خطے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کے لیے شپس ایجنٹس ایسوسی ایشن نے ایف بی آر کو خط لکھ دیا

Published

on



کراچی:

پاکستان شپس ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد اے راجپر نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر ریجنل ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کے لیے قوانین میں ہنگامی بنیادوں پر تبدیلی کی جائے تاکہ موجودہ عالمی صورتحال سے معاشی فائدہ اٹھایا جا سکے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث سمندری تجارت متاثر ہو رہی ہے اور کئی ممالک کا کارگو محفوظ متبادل بندرگاہوں کی تلاش میں ہے۔

 

ایسے میں پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث خطے کا اہم ٹرانس شپمنٹ مرکز بن سکتا ہے اور اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتا ہے۔

چیئرمین محمد اے راجپر نے نشاندہی کی کہ موجودہ قوانین کے تحت ٹرانس شپمنٹ کارگو کو آف ڈاک ٹرمینلز پر رکھنے کی اجازت نہیں، جبکہ بندرگاہوں کے اپنے ٹرمینلز پر سامان رکھنے کی گنجائش بھی محدود ہے۔ اس وجہ سے ممکنہ کاروباری مواقع ضائع ہو رہے ہیں۔

خط میں ایف بی آر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایس آر او کے ذریعے عالمی کارگو کو آف ڈاک ٹرمینلز پر رکھنے کی فوری اجازت دی جائے۔

مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف بندرگاہوں پر دباؤ کم ہوگا بلکہ ملک کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہوگا اور پاکستان علاقائی تجارتی سرگرمیوں کا اہم مرکز بن کر ابھر سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بحرین، ایران کی حمایت میں سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپلوڈ کرنے پر مزید گرفتاریاں

Published

on



MANAMA:

بحرین میں ایران کے حملوں سے متعلق ویڈیوز شیئر کرنے اور مبینہ طور پر ان سے ہمدردی ظاہر کرنے پر مزید چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

حکام کے مطابق اب تک 8 افراد کو سوشل میڈیا پر ایرانی حمایت یافتہ مواد اپلوڈ کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسے مواد کی اشاعت عوامی رائے کو گمراہ کرنے اور شہریوں و رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن سکتی ہے، جو ملکی سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کے لیے نقصان دہ ہے۔

حکام نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی سرگرمیوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

یہ گرفتاریاں اس وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں جس میں حکام ایسے مواد کو ایرانی جارحیت کی حمایت قرار دے رہے ہیں۔ سرکاری مؤقف کے مطابق اس طرح کی پوسٹس قوم سے غداری کے مترادف ہیں۔

واضح رہے کہ بحرین میں سنی حکومت قائم ہے جبکہ آبادی کی اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے، جس کے بعض حلقے شیعہ اکثریتی ملک ایران کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

حملہ نہ کرتے تو 2 ہفتوں میں ایران ایٹمی ہتھیار بنا لیتا، ٹرمپ

Published

on



واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف حالیہ کارروائیوں کا بھرپور دفاع کیا اور دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ حملہ نہ کرتا تو ایران دو ہفتوں کے اندر ایٹمی ہتھیار بنانے کی پوزیشن میں آجاتا۔

امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اقتدار میں آتے ہی امریکی افواج کو مضبوط بنانے پر کام کیا اور آج انہیں اپنی فوج کی کارکردگی پر فخر ہے۔

ان کے بقول ایران کے خلاف کارروائی میں طاقت کا بہترین مظاہرہ کیا گیا اور ایرانی میزائلوں و لانچرز کو تباہ کر دیا گیا۔

ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اوباما نے ایران کے ساتھ بدترین نیوکلیئر ڈیل کی تھی جسے انہوں نے چار سال قبل ختم کر دیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں نے ایران کو جوہری پروگرام میں کافی پیچھے دھکیل دیا ہے اور اب امریکہ ایران میں مستحکم پوزیشن میں ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران طویل عرصے سے اپنے پڑوسیوں اور اتحادیوں کو نشانہ بناتا رہا، تاہم امریکی کارروائی نے اس سلسلے کو روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاگل لوگوں کے پاس ایٹم بم ہونا دنیا کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے وینزویلا میں امریکی آپریشن کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہاں حالات بہتر ہو رہے ہیں عوام کی زندگی میں بہتری آئی ہے اور امریکہ کو وہاں سے تیل کی فراہمی بھی جاری ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں میں کئی ایرانی رہنما مارے جا چکے ہیں اور جنگ میں امریکہ کو برتری حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو صورتحال کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتی تھی۔





Source link

Continue Reading

Trending