Connect with us

Today News

جنوبی پنجاب میں کمزور طبقات کا مقدمہ

Published

on


عمومی طور پر پنجاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں دیگر صوبوں کے مقابلے میں سیاسی،سماجی ،انتظامی اور معاشی ترقی زیادہ ہوئی ہے جو ایک حد تک درست بات ہے ۔ لیکن اس بات کو بنیاد بنا کر ہم پورے پنجاب کی منصفانہ اور شفاف ترقی کی بات نہیں کرسکتے کیونکہ یہاں یعنی پنجاب میں بھی جو بھی حکمران طبقات رہے ہیں ان کی ترقی کا پیمانہ بھی طبقاتی تقسیم اور اس کی بنیاد پر ترقی سے جڑا ہوا ہے ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ پنجاب میں بھی ہمیں ترقی سے جڑے سرکاری اعداد وشمار کی بنیاد پر محرومی ، تعصبات اور تفریق پر مبنی سیاست اورترقی کے پہلو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ان میں ایک بڑا علاقہ جنوبی پنجاب کا بھی ہے ۔ہمارے جو اعداد وشمار ہیں اس میں جنوبی پنجاب کی ترقی کی بنیاد پر بیشتر سنجیدہ مسائل جن میں حکمران طبقات کی ترجیحات، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سمیت کمزور طبقات کو نظرانداز کرنے کی پالیسی نمایاں نظر آتی ہے ۔

 جنوبی پنجاب کی سطح پر دیکھیں تو وہاں لوگوں کی سیاسی ،انتظامی ،معاشی ترقی سمیت ان کے بنیادی مسائل اور حقوق کی جنگ لڑنے میں بعض سماجی تنظیموں کا بڑا مثبت کردار ہے ۔اسی مضبوط اور مثبت کردار کی وجہ سے نہ صرف یہ سماجی تنظیمیں مقامی سطح پر اپنی سیاسی ساکھ کو شفافیت کی بنیاد پر قائم رکھی ہوئی ہیں بلکہ مقامی لوگ ان کے کاموں اور اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ان تنظیموں میں ایک بڑا اور نیک نام ’’لودھراں پائلٹ پراجیکٹ‘‘ یعنی ایل پی پی کا ہے۔  اس تنظیم کے روح رواں اور سرپرست جہانگیر خان ترین ہیں جو جنوبی پنجاب کی سطح پر سیاسی اور سماجی شہرت میں بڑا نام رکھتے ہیں ۔

لودھراں پائلٹ پراجیکٹ بنیادی طور پر کراچی کی سطح پر شروع ہونے والے ایک معروف سطح کے ادارے اور ڈاکٹر اختر حمید خان مرحوم کی سربراہی میں چلنے والے ’’ اورنگی پائلٹ پراجیکٹ ‘‘ اوپی پی کی بنیاد پر ملکی اور عالمی سطح پر اپنی بڑی شہرت رکھتا ہے۔ لودھراں پائلٹ پراجیکٹ بنیادی طور پر جہانگیر خان ترین کی سربراہی میں جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں مختلف سماجی شعبوں میں کام کرتا ہے ۔اس ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالصبور خان ہیں جب کہ پروگرام کی معاونت میں عالیہ سندس سمیت اقصی خان ہیں ۔ یہ ادارہ بنیادی طور پر مقامی سطح پر لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں اپنا جہاں کردار ادا کرتا ہے وہیں سماجی شعور اور بیداری کی بنیاد پر لوگوں کو علم اور معلومات بھی فراہم کرتا ہے جن میں مختلف نوعیت کے تربیتی پروگرامز بھی شامل ہوتے ہیں ۔

جنوبی پنجاب میں بنیادی صحت کی فراہمی اور اس سے جڑی سہولیات اہم مسئلہ ہے ۔عام اور کمزور لوگوں کی صحت سے جڑی بنیادی نوعیت کی سطح پر سہولیات تک رسائی بھی آسان نہیں ہے ۔اسی بنیاد پر ایل پی پی مختلف طبی کیمپ کی مدد سے مسلسل نہ صرف غریب لوگوں کے لیے علاج کی سہولتیں فراہم کررہا ہے بلکہ علاقے کے سب سے کمزورطبقات میں امید ،اعتماد اور وقار بھی پیدا کررہا ہے ۔پچھلے ایک برس میں ایل پی پی نے 45مختلف آنکھوں کے کیمپوں کا انعقاد کیا جن میں کل 73,924مریضوں کو طبی امداد دی گئی ۔ان میں36623مرداور 37301 عورتیں سمیت کچھ خواجہ سرا بھی شامل ہیں۔یہ سارا عمل ظاہر کرتا ہے کہ ایل پی پی مقامی سطح پر مقامی افراد یا کمیونٹی کے ساتھ کس قدر مضبوط سطح کے روابط رکھتی ہے یا لوگ مقامی سطح پر ان کے کاموں پر کتنا اعتماد کرتے ہیں۔اسی طرح اب تک ان کے ادارے نے آنکھوں کی بیماری کی بنیاد پر 10296آپریشن کیے ہیں جن میں 5194مرد اور 5362عورتیں شامل ہیں۔

ان بیماریوں میں بیشتر بیماری موتیا جیسے مرض کی بھی سامنے آئی تھیںاور مریضوں کو آپریشن کے بعد کے تمام ضروری اقدامات کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں ۔اس کام کے سلسلے میں اس ادارے نے ماہر ڈاکٹرز اور دیگر عملہ کی ٹیموں کی خصوصی خدمات حاصل کی ہوئی ہیں۔اس ادارے کا مقصد مقامی لوگوں تک بہتر علاج کی رسائی کو ممکن بنانا ان کی اولین ترجیحات کا حصہ ہے اور اس عمل میں کسی بھی سطح پر نہ تو کسی بھی قسم کی تفریق کی جاتی ہے اور نہ ہی لوگوں کو سہولیات کی فراہمی سے انکار کیا جاتا ہے ۔اس وقت لودھراں ،رحیم یار خان،بہاولپور،مظفر گڑھ اور ڈی جی خان سمیت خانیوال میں ان کا کام بخوبی چل رہا ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ سارا کام کمیونٹی کی شراکت اور ان کو ہر عمل میں شریک کرکے کیا جائے تاکہ ان کی عز ت و نفس کا بھی پوری طرح خیال رکھا جائے۔

اسی طرح لودھراں پائلٹ پراجیکٹ نے انکھوں کے کیمپ کے علاوہ حال ہی میں بیس دن پر مشتمل مصنوعی اعضا کیمپ کا بھی انعقاد کیا جس کا مقصد مقامی سطح پر معذور افراد کی بحالی کے عمل کو ممکن بنانا تھا جس میں ان کو مصنوعی اعضا کی فراہمی اور بحالی میں مدد فراہم کرنا اور ان کو معذور کی بجائے خود سے خود مختاری کے قابل بنانا ہے۔یہ سار ا کام جہانگیر ترین کی سربراہی میں ہوا اور وہ خود اس عمل کی ذاتی طور پرنگرانی کے عمل میں شریک رہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کیمپوں میں معذور افراد کو دی جانے والی سہولتوںکی بنیاد پر ان کو سائیکل چلانے ،موٹر سائیکل کو چلانے اور یہاں تک کہ ٹریکٹر چلانے کی تربیت بھی فراہم کی۔اب تک 1327افراد کو مصنوعی اعضا فراہم کیے گئے ہیں ۔میں نے ذاتی طور پر ان کے مختلف پورگرامز فیلڈ میں جاکر دیکھے ہیں اور واقعی ان کا کام جہاں شاندار ہے وہیں یہ کام مقامی آبادی میں مقامی لوگوں میں ایک بڑی خود اعتمادی کو بھی پیدا کررہا ہے ۔ان کی کوشش ہوتی ہے کہ معذور افراد کو مختلف سماجی اور غیر نصابی سرگرمیوں سمیت کھیلوں کے عمل میں شامل کیا جائے جہاں وہ مثبت ذہن کے ساتھ اپنے آپ کو ایک مثبت کردار کے طور پر شریک کرسکیں اور اپنی معذوری کو مجبوری بنانے کی بجائے بہتر طور پر اپنی زندگی گزارسکیں ۔

اسی طرح ادارے کی سطح پر معاونین کے لیے ایک تربیتی مہارت کا سینٹرز بھی قائم کیا ہوا ہے جہاں مختلف لوگوں کو مختلف مہارتوں کی بنیاد پر تربیت دے کر ان کو معاشرے میں خود کفیل بنانا ہے ۔اصل میں ایسے علاقے جہاں محرومی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی کمزور بنیادوں پر ہو اور جہاں مقامی ڈھانچہ بھی کمزور ہو وہاں اس طرح کے سماجی اداروں اور ان کے کاموں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔ایل پی پی نے اپنے کاموں کی مدد سے ماڈل ترقی کے مختلف منصوبوں کو پیش کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ اگر مقامی سطح پر مقامی لوگوں کی درست ترجیحات یا ان کے مسائل کی درست نشاندہی کی بنیاد پر مقامی ترقی کا جامع منصوبہ ہو اور مقامی لوگوں کو اس ترقی کے عمل میں سہولت کار یا ان کی معاونت کے طور پر شامل کیا جائے تو مقامی ترقی کا عمل نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے ۔بنیادی مسئلہ یہ ہی ہے کہ ہمارا حکمرانی کا نظام عام لوگوں کے مسائل سے مختلف ہے اور یہ مختلف طاقت ور طبقات کے گرد یا ان کے مفادات کے تابع رہتا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے ہمارے یہاں جو سرکاری یا غیر سرکاری سماجی شعبہ کی سطح پر اعداد وشمار ہیں وہ حالات کی سنگینی کو نمایاں کرتے ہیں۔یہ جو ہم عالمی اور قومی سطح پر 2015-30پائیدار ترقی کے اہداف مقرر کیے تھے اس میں بھی اب تک ہماری کارکردگی اور نتائج وہ نہیں جو اصولی طور نظر آنے چاہیے تھے ۔اسی بنیاد پر مختلف عالمی اداروں کی پاکستان کے سماجی شعبوں کی درجہ بندی پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔

میرا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ ایسی ریاست اور کمزور حکمرانی کے نظام میں اس طرح کی سماجی تنظیموں اور بالخصوص لودھراں پائلٹ پراجیکٹ جیسی تنظیوں کی موجودگی اور تواتر کے ساتھ مقامی سطح پر مقامی ترقی کو بنیاد بنا کر کام کرنے کی ہمیشہ پزیرائی کی جانی چاہیے۔لیکن ساتھ ساتھ اس طرز کی تنظیموں کو اپنی ایڈوکیسی پر مبنی سرگرمیوں کی بنیاد پر حکومتی نظام پربھی نہ صرف سوالات اٹھانے چاہیے بلکہ مقامی سطح پر حکومتوں کے کام کی نگرانی اور ان کی جوابدہی کے نظام کو بھی موثر بنانا ہوگا تاکہ مقامی ترقی میں جو وسائل حکومتی سطح پر آتے ہیں ان کو موثر بنایا جائے اور ایک ایسا جامع منصوبہ مقامی ترقی کا ہو جہاں حکومت اور سماجی تنظیمیں مل کر ترقی کے عمل کو آگے بڑھاسکیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

دہشت گردی اور ملکی سلامتی کو چیلنجز

Published

on


وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے تصدیق کی ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں افغان طالبان کے بڑے پیمانے پر کیے گئے متعدد حملوں کو مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا ہے۔ آپریشنل اپ ڈیٹ فراہم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے آپریشن غضب للحق کی پیش رفت کے بارے میں بتایا اور انکشاف کیا کہ ان جھڑپوں کے دوران کم از کم 67 افغان کارندے ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان جھڑپوں میں ایک فوجی جوان شہید اور5 دیگر زخمی ہوئے۔

افغانستان کی طالبان حکومت اور وہاں موجود دہشت گرد گروپوں کے حوالے سے دنیا کو تشویش ہے،بلاشبہ خطرہ حقیقی اور فوری نوعیت کا ہے۔ پاکستان کی حالیہ عسکری کارروائیاں اپنے دفاع میں کی گئی ایک ردعمل ہے، نہ کہ جارحیت۔ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے مختلف گروہوں جن میں حافظ گل بہادر گروپ، ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور داعش خراسان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، کیونکہ افغانستان کی طالبان حکومت بھارت کی پراکسی جنگ لڑ رہی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی تاریخ برصغیر اور وسطی ایشیا کی سیاسی حرکیات کا ایک اہم باب ہے۔ یہ تعلقات کبھی برادرانہ قربت، مذہبی ہم آہنگی اور ثقافتی اشتراک کی علامت رہے توکبھی بد اعتمادی، سرحدی تنازعات اور عالمی طاقتوں کی مداخلت کے باعث کشیدگی کا شکار ہوئے۔ آج جب پاک افغان سرحد پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان کو آپریشن’’ غضب للحق‘‘ شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے تو یہ محض ایک وقتی عسکری ردعمل نہیں بلکہ ایک گہرے اور مسلسل سیکیورٹی بحران کی علامت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں افغانستان کے ساتھ جس سطح کی خیرسگالی، انسانی ہمدردی اور سیاسی تعاون کا مظاہرہ کیا، وہ خطے کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔افغانستان میں سوویت یونین کی حمایت یافتہ حکومت کے قیام اور بعدازاں افغانستان کی حکومت کی درخواست پر سوویت یونین کی افواج کی آمد کے بعد امریکا کے حمایت یافتہ افغان مجاہدین کی قیادت بھاگ کر پاکستان آ گئی ۔ اس وقت پاکستان پر ضیاء الحق اور اس کے ساتھی حکومت کررہے تھے ، اس حکومت نے افغانستان کی دائیں بازو کی مذہبی قیادت کو پناہ دی اور ان کے ساتھ ساتھ افغان باشندوں کے لیے سرحد کھول دی، یوں لاکھوں افغان شہری پاکستان میں پناہ گزین ہوگئے۔ پاکستان نے نہ صرف اپنی سرحدیں کھولیں بلکہ انھیں تعلیم، صحت، کاروبار اور آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت بھی فراہم کی۔ عالمی اداروں کی امداد اپنی جگہ، مگر عملی بوجھ پاکستانی ریاست اور معاشرے نے برداشت کیا۔ یہ میزبانی چند سال نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط رہی۔ اس طویل عرصے میں پاکستان نے بارہا عالمی برادری کو یہ باور کرایا کہ افغانستان میں استحکام پورے خطے کے مفاد میں ہے۔آخر کار امریکا کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں سوویت افواج افغانستان سے واپس چلی گئیں، پھر سوویت حمایت یافتہ افغان حکومت کا خاتمہ ہوگیا، مجاہدین کا اقتدار قائم ہوا لیکن وہ آپس میں لڑتے رہے جس کے بعد طالبان نے اپنا اقتدار قائم کرلیا۔اسی دوران القاعدہ کے لوگ افغانستان آگئے، طالبان حکومت نے انھیں پناہ دے دی۔

نائن الیون کا الزام القاعدہ کی لیڈر شپ پر لگا، اس وقت کی ملا عمر کی سربراہی میں قائم طالبان حکومت نے القاعدہ کی قیادت کو پناہ دیے رکھی، یوں امریکا نے افغانستان پر حملہ کرکے طالبان حکومت کا خاتمہ کردیا۔یوں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھایا۔ اس تناظر میں پاکستان کی یہ توقع فطری تھی کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی صورت اس کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، مگر حالیہ برسوں میں صورت حال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔افغانستان میں طالبان کی موجود حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے پوری کوشش کی کہ یہ حکومت عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے اور دوحہ معاہدے پر عمل کرے ۔ پاکستان کا مؤقف واضح تھا کہ افغانستان میں امن اور سیاسی استحکام ہی خطے کے مفاد میں ہے۔ تاہم عملی طور پر ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی افغانستان میں موجودگی، ان کی تنظیم نو اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حملوں میں اضافہ ایک سنگین تشویش کا باعث بنا۔ متعدد حملوں کی تحقیقات میں یہ شواہد سامنے آئے کہ حملہ آور سرحد پار سے آئے یا انھیں وہاں سے معاونت حاصل تھی۔ یہ صورتحال کسی بھی خود مختار ریاست کے لیے ناقابل قبول ہے۔

پاکستان نے اپنی سرحد کے تحفظ کے لیے باڑ لگانے اور جدید نگرانی کے نظام قائم کرنے کی پالیسی اپنائی۔ اس اقدام کا مقصد دراندازی اور غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنا تھا۔ افغان طالبان کی جانب سے اس باڑ پر اعتراضات یا حملے کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے۔ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہر ریاست کو اپنی سرحد کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ اس حق کو چیلنج کرنا دراصل ریاستی خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔افغانستان کی داخلی صورتحال بھی اس بحران کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ طویل جنگ، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران نے افغان ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر مکمل سفارتی تسلیم نہ کیے جانے اور پابندیوں کے باعث معیشت شدید دباؤ میں ہے۔ ایسے میں مختلف مسلح گروہوں کا اثرورسوخ برقرار رہنا ایک حقیقت ہے۔ تاہم یہ دلیل کسی بھی صورت اس امر کا جواز نہیں بن سکتی کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود عناصر کو ہمسایہ ممالک کے خلاف کارروائی کی اجازت دے۔علاقائی جغرافیائی سیاست بھی اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہے۔ افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے، افغان طالبان اور اس کے اتحادی دیگر مسلح گروہ اس کا فائدہ یوں اٹھا رہے کہ افغانستان کے وسائل کی لوٹ سیل لگا کر پیسہ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے افغانستان میں سسٹم قائم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ دہشت گردی اور بلیک میلنگ کو بطور پالیسی اختیار کرلیا۔افغان طالبان اور اس کے اتحادی مسلح گروہوں اور ان سے فوائد سمیٹنے والے دیگر غیرملکی وائٹ کالر کریمنلز نے یہ بیانیہ فروخت کرنا شروع کردیا کہ اگر افغانستان ایک بار پھر عسکریت پسند گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔لہذا طالبان حکومت کی مسلسل مالی مدد کی جائے۔پاکستان میں موجود بلیک اکانومی کے سٹیک ہولڈرز بھی اس بیانئے کو دن رات آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی داخلی حکمت عملی کو مزید مضبوط کرے۔ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف مسلسل آپریشن جاری رکھنا ضروری ہے، انتہا پسند بیانیے کا توڑ کیا جائے۔ انٹیلی جنس کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سرحدوں کی نگرانی کا عمل سخت کرکے امیگریشن قوانین کو ایسے بنایا جائے کہ پیدل یا روڈ ٹرانسپورٹ کے ذریعے سرحدی آمدورفت بند ہوجائے۔اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ سرحد پر غیر قانونی آمد و رفت پر سخت سزائیں رکھی جائیں۔سفارتی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مکالمے کی ضرورت ہے۔ اعتماد سازی کے اقدامات، مشترکہ سرحدی کمیشن، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دہشت گرد عناصر کے خلاف مشترکہ کارروائی جیسے اقدامات کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں۔ طاقت کا استعمال وقتی دباؤ تو پیدا کر سکتا ہے مگر مستقل حل مذاکرات اور تعاون ہی سے نکلتا ہے۔ دونوں ممالک کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ جغرافیہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا؛ انھیں ساتھ رہنا ہے۔پاکستان کے لیے یہ لمحہ آزمائش ہے کہ وہ ایک طرف اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے اور دوسری طرف خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے۔ افغانستان کے لیے بھی یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے کہ وہ عالمی برادری کو یہ پیغام دے کہ اس کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ اگر افغان قیادت اس ذمے داری کو سنجیدگی سے نہیں لیتی تو نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر اس کی تنہائی میں بھی اضافہ ہوگا۔

عوامی سطح پر ذمے دارانہ طرز عمل بھی ضروری ہے۔ میڈیا اور سیاسی حلقوں کو اشتعال انگیزی سے گریز کرنا چاہیے۔ قوم پرستی کے جذبات کو بھڑکانا آسان ہے مگر اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ اصل دشمن دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم استحکام ہے، نہ کہ دونوں ممالک کے عوام جو صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور خاندانی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔

تاریخ نے پاکستان اور افغانستان کو ہمسایہ بنایا ہے۔ یہ رشتہ نہ وقتی ہے نہ اختیاری۔ دونوں ممالک کی سلامتی، معیشت اور سماجی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ایک ملک عدم استحکام کا شکار ہوگا تو اس کے اثرات دوسرے پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس لیے دانشمندی کا تقاضا ہے کہ سرحدی کشیدگی کو مستقل تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جائے اور تعاون، اعتماد اور مشترکہ مفاد کی بنیاد پر ایک نیا باب رقم کیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو خونریزی کے دائرے کو توڑ کر خطے کو امن، ترقی اور استحکام کی سمت لے جا سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

فضائی حدود کی بندش سے کراچی سمیت ملک بھر سے کتنی پروازیں منسوخ ہوئیں؟

Published

on



کراچی:

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور متعدد ممالک کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث کراچی سمیت ملک بھر کے مختلف ہوائی اڈوں سے مزید 162 پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جس کے بعد پانچ روز کے دوران منسوخ پروازوں کی مجموعی تعداد 578 تک پہنچ گئی۔

ذرائع کے مطابق فضائی حدود کی بندش کے باعث جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی سمیت اسلام آباد، لاہور، پشاور، ملتان، سیالکوٹ اور فیصل آباد کے ہوائی اڈوں سے یو اے ای، قطر، بحرین، کویت اور دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک جانے والی پروازیں متاثر ہوئیں۔

کراچی ایئرپورٹ سے دبئی، ابوظہبی، دوحہ، شارجہ، کویت اور بحرین کی 40 پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ اسلام آباد سے 38، لاہور سے 28، پشاور سے 24، ملتان سے 18، سیالکوٹ سے 8 اور فیصل آباد سے 6 پروازیں منسوخ کی گئیں۔

منسوخ پروازوں میں امارات، اتحاد ایئرویز، ایئر عربیہ، پی آئی اے، ایئر بلیو، فلائی دبئی اور قطر ایئرویز سمیت ملکی و غیر ملکی ایئرلائنز شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 28 فروری سے یو اے ای، قطر، بحرین، کویت اور ایران سمیت متعدد ممالک کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث ایئرلائنز کو پروازیں منسوخ کرنا پڑ رہی ہیں، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

عراق کے بعد کیوبا بھی اندھیرے میں ڈوب گیا، معمولات زندگی مفلوج

Published

on



HAVANA:

کیوبا کے بیشتر علاقے اچانک بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کے باعث تاریکی میں ڈوب گئے جس سے دارالحکومت ہوانا سمیت ملک کے طول و عرض میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے۔

سرکاری بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے مطابق یہ وسیع بلیک آؤٹ اس وقت پیش آیا جب ہوانا سے تقریباً 100 کلومیٹر مشرق میں واقع انتونیو گوئتریس تھرمو الیکٹرک پلانٹ اچانک بند ہو گیا۔ اس غیر متوقع خرابی کے بعد مغربی صوبے پینار ڈیل ریو سے لے کر مشرقی لاس توناس تک بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔

ریاستی میڈیا کے مطابق ملک پہلے ہی شدید ایندھن بحران کا شکار ہے جبکہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے تیل کی ترسیل محدود کیے جانے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قلت نے پاور پلانٹس کی کارکردگی کو کمزور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نظام بار بار دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق ہوانا میں اچانک لائٹس بجھنے سے ٹریفک جام ہو گیا، اسپتالوں اور سرکاری دفاتر میں ہنگامی جنریٹرز چلانے پڑے جبکہ متعدد علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہوئی۔

حکومت نے بحالی کا عمل شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم شہریوں میں خدشات پائے جا رہے ہیں کہ اگر ایندھن کی فراہمی بہتر نہ ہوئی تو ملک کو مزید طویل بلیک آؤٹس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل عراق میں بجلی کی طویل بندش کے باعث پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق وزارت بجلی نے بتایا کہ اس وقت ایک ساتھ پورا ملک بجلی کی مکمل بندش سے متاثر ہے۔

عراقی وزارت بجلی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تمام صوبوں میں پاور گرڈ مکمل طور پر بند ہوگئے ہیں۔

وزارت بجلی نے بتایا کہ ملک بھر میں ہونے والے بجلی کے تعطل کے بعد بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے لیکن اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending